کنارہ ہوٹل کے کنارے، ہم بیچارے۔۔عمران حیدر

آ ج کل فیس بک پر ٹرینڈ ہے کہ چار پانچ دانشور کسی ریسٹورنٹ میں اکٹھے ہوکر چائے، برگر، یا کھانا شانا کھاتے ہیں اور سیلفیاں بنا کر اپلوڈ کرتے ہیں.ہم جیسے سفید پوش لوگوں کی نظر ان سے زیادہ میز پہ رکھی چیزوں پر ہوتی ہے کہ کیا کھا رہے ہیں۔کئی دفعہ خیال آیا کہ ہم بھی دو چار دوستوں کو اکٹھا کرکے سیلفیاں اپلوڈ کریں کہ ٹرینڈ کے ساتھ ساتھ چلنا چاہیےمگر کچھ وجوہات کی بناء پر ارادہ ملتوی کردیتا ہوں کہ یہاں فیس بک   پر جو بھرم بنا ہوا ہے کہیں ایسا نہ  ہو وہاں کوئی علمی بحث چھڑ جائے اور کھانے کے …. کھلانے پڑ جائیں
دوسرا بڑا مسئلہ بِل کا سامنے آتا ہے کہ چار پانچ بندوں کا بِل کتنا بن جائے گا؟یہاں تو جو بھی تصویر دیکھتا ہوں میز پر منرل واٹر کی بوتلیں دیکھ کر ہی ارادہ ملتوی کردیتا ہوں کہ “نا وئی کاکا تیرے وس دا روگ نئی “۔۔

تیسرا بڑا مسئلہ جو سامنے آتا ہے وہ ہے ڈریسنگ کا۔تصاویر میں ہر کسی نے پینٹ کوٹ یا واسکٹ کے ساتھ زبردست ڈریسنگ کی ہوتی ہے،جبکہ ہماری تو ڈریسنگ ہی ایسی ہوتی ہے کہ کسی اچھے ہوٹل کا گارڈ اندر ہی نہیں  جانے دیتا۔ہم تو سفید پوش لوگ ہیں فرینڈ لسٹ میں موجود کوئی لاہوری دوست لاہوری سسٹم کے ساتھ کہیں دعوت کھانا چاہتا ہے تو انباکس میں رابطہ کرے۔ مگر شرط یہ ہے کہ کسی قسم کا بحث و مباحثہ یا علمی گفتگو نہی ہوگی اور اگر ہوئی بھی تو گوگل کرنے کی اجازت ہوگی۔ جس کا کیمرہ اچھا ہوگا صرف وہی تصاویر بنائے گا مگر ۔۔ میری تصاویر کہیں پوسٹ نہیں  کرے گا جب تک میں کچھ فلٹرز لگا کر ایڈیٹنگ نہ  کرلوں۔

لئو فیر جاندے جاندے اک سچا واقعہ وی سندے جاؤ۔۔کچھ سال پہلے اسلام آباد کے نیول انکریج میں کسی کزن نے کنسٹرکشن کا ٹھیکہ لے لیا اور کہیں آنے جانے کے لیے بائیک کی ضرورت تھی سو مجھے کہا کہ برائے مہربانی میرے گھر ( گوجرانوالہ ) سے موٹرسائیکل اسلام پہنچا دیں۔ایک دوست کو ساتھ لیا اور براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کو نکل پڑے گرمیوں کے دن تھے ابھی گجرات کے قریب ہی پہنچے تھے کہ بھوک لگ گئی اتفاقاً وہیں کنارہ ہوٹل نظر آیا تو سوچا کیوں نا کچھ پیٹ پوجا کرلی جائے،باہر کنارے کے ساتھ ہی ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے ۔ کچھ دیر بعد ویٹر نے منرل واٹر کی دو بوتلیں اور مینیو لاکر رکھ دیا،۔۔۔جب مینیو پر نظر پڑی تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
دوست کو قیمتیں پڑھ کر سنائیں تو وہ بھی پریشان ہوگیا کہ اب کیا ہوگا۔ دونوں کے پیسے ملا کر بھی ایک دال مکھنی کی پلیٹ بھی نہیں  آرہی تھی اور ہم جناب وہاں چکن کڑاہی کھانے کے لیے رکے تھے۔۔

اب ہمارے درمیان بحث ہونے لگی کہ ویٹر بھیا کو ” جواب ” کون دے گا۔۔۔
ہم دونوں ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے کہ جب وہ آئے گا تو یہ کہیں گے، وہ کہیں گے مگر اندر ہی اندر ڈر رہے تھے کہ پتا نہیں  اب کیا ہوگا۔ دل ہی دل میں دعا کرنے لگے کہ کاش ویٹر کبھی نہ  آئے مگر۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد ایک باادب ویٹر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا اور انتہائی ادب سے مسکراتے ہوئے مینیو پوچھا ۔ جی سر کچھ پسند آیا؟ کیا لیں گے آپ۔۔؟
اس کا یہ انداز دیکھ کر اور بھی شرمندگی ہونے لگی ۔۔ اور زبان گنگ ہوگئی۔ دل ہی دل میں کہنے لگے ۔ ویٹر بھائی جان ہمیں اتنی عزت نادیں کہ کچھ دیر بعد آپ سے دھکے کھاتے ہوئے اور بھی تکلیف ہو۔

میں نے جھٹ سے منرل واٹر کی بوتل منہ سے لگا لی اور گیند دوست کی طرف پاس کردی۔۔ٓوہ بیچارہ بھی احساسِ کمتری کے زبردست اٹیک سے بوکھلا چکا تھا
یار یہ پانی کی بوتل کتنے کی ہے۔۔؟ اچانک اس نے ڈرتے ڈرتے سوال داغ دیا۔۔
دَھت تیری۔۔۔۔میں اندر ہی اندر سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ جاہل انسان مینیو پر لکھا تو ہوا ہے۔۔۔ ویٹر “بھیا ” کیا سوچیں گے ؟ کہ ہمیں انگلش نہیں  آتی
سر ہنڈرڈ روپیز کی ہے۔۔ ویٹر نے پھر شائستگی سے جواب دیا
اس نے پھر میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
سو روپے۔۔۔۔ میں نے اس کی آنکھوں کا مطلب سمجھتے ہوئے پانی اور غصے کے دو گھونٹ پی کر جواب دیا
اچھا یار یہ لو دو سو روپے ہم بس پانی پینے اور سانس لینے کے  لیے ہی رکے تھے۔۔
اس نے ڈرتے ڈرتے شرمندگی سے مسکراتے ہوئے التجائیہ نظروں سے ویٹر کو پیسے پکڑا نے کی کوشش کی۔
سر آپ پیسے کاونٹر پر ادا کریں ۔۔ویٹر نے کاونٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم دونوں کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا جیسے من ہی من میں ہماری غربت کا مذاق اڑاتے ہوئے گالیاں دے رہا ہو۔
ہم بھی من ہی من میں ساری گالیاں سنتے رہے اور بظاہر مسکراتے ہوئے شکر ادا کیا اور بل ادا کرکے کنارہ ہوٹل سے کنارہ کرلیا۔

چلتے چلتے باہر ہری بھری گھاس اور زبردست ویو میں چند سیلفیاں لیں مگر محتاط نظروں سے ادھر ادھر بھی دیکھتے رہے کہ کہیں ویٹر صاحب پھینٹی ہی نہ  لگا دیں کہ اب ہماری گھاس خراب کررہے ہو۔
جب بائیک پر بیٹھے تو ہم دونوں کی ہنسی نہی رک رہی تھی مگر ہم بھی کہاں ماننے والے تھے کہ ہم یہاں کھانا افورڈ نہیں  کرسکتے۔یار بھٹی ان کا کھانا ہی دو نمبر ہے اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔
ہاں یار واقعی بس ڈیکوریشن اچھی کی ہے باقی کچھ بھی نہیں ۔ “اونچی دکان پھیکے پکوان” میں نے بھی حقیقت بیان کردی۔اور وہ ان کا پانی دیکھا تھا؟ سو روپے کی بوتل؟ اتنے میں بندہ گوشت کے ساتھ اچھی بھلی روٹی کھا لیتا ہے۔۔
ہاں واقعی میں نے بھی اسکی تائید کی۔ اور پانی بھی دو نمبر تھا حرامخوروں نے نلکے سے پانی بھر کے seal لگائی ہوئی تھی
ہاں ہاں واقعی مجھے بھی پانی کڑوا کڑوا محسوس ہورہا تھا۔اس نے ہاتھ میں پکڑی خالی بوتل لہراتے ہوئے تصدیق کی ۔
اچھا ہی کیا جو یہاں سے روٹی نہیں  کھائی ۔چور ہیں یہ سب۔۔
چل چھڈ ۔۔اس نے حقارت سے ہوٹل کی شاندار بلڈنگ دیکھتے ہوئے کہا
اگوں جاکے کسے” چج دے ” ہوٹل توں روٹی کھانے آں۔
تُوں گڈی(موٹرسائیکل) سٹارٹ کر۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *