منٹو اور میرے ذہن کا گند۔۔روبینہ فیصل

میرے ایک بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے،سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا ۔روز کا ساتھ تھا اورروح کا تعلق تھا،اس لئے آج بھی وہ ہر وقت میرے دماغ میں رہتے ہیں۔ ان کے لئے دعائے مغفرت کرتی ہوں، اور ان کی روح سے کبھی کبھار دل کی باتیں کر لیتی ہوں۔ آج جب میڈیا میں چاہے پاکستانی ہو یا کینیڈا کا، ہر طرف جنسی سیکنڈل اور جنسی زیادتیوں کی خبریں پڑھ رہی ہوں تو دل کر رہا ہے اپنے اس دوست سے پو چھوں بتاؤ جو تم کہتے تھے کہ گندا معاشرہ نہیں بلکہ گند منٹو کے ذہن میں تھا اور تم منٹو پڑھ پڑھ کر اتنا ہی گندا سوچتی ہو۔

کاش! گند صرف منٹو اور میرے ذہنوں میں ہو تا تو آج زینب پارکوں میں تتلیوں کے پیچھے زندہ سلامت بھاگ رہی ہوتی، اس کے قہقہے فضاؤں کا حصہ ہو تے۔ اور وہ کچرا کنڈی جس سے سبز آنکھوں والی پری کی زیادتی کے بعد لاش ملی ہے، اس کا کہیں وجود نہ ہوتا بلکہ وہاں ایک پینگھ  ہوتی، جس پر بیٹھ کر زینب،کثافت سے پاک ہواؤں میں اڑتی،اور اسے جھولا دینے والے ہاتھ، کسی بھی رشتے دار یا محلے دار انکل کے ہوتے۔

کاش! گند صرف میرے اور منٹو کے ذہنوں میں ہوتا تو آج قصور کے 300  بچوں کی گندی ویڈیوز دنیا کی ڈارک ویب سائٹ کا حصہ نہ ہو تیں۔ بلکہ ان بچوں کی ضرورتیں پوری کر نے کے لئے یہ صاف ستھری دنیا،اکٹھی ہو کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتی اور کہتی۔۔آؤ بچو!سنو کہانی ایک تھا راجہ ایک تھی رانی۔۔۔۔ اور ان بچوں کو ان کے خوابوں کی قیمت جو ایک چھوٹی سی ٹافی سے لے کرایک بڑا آدمی بننے تک ہو تی ہے، اپنے لہولہان جسم سے ادا نہ کر نی پڑتی۔

میں ایف ایس کی طالبہ تھی، جب پہلی دفعہ منٹو کی وہ کہانی پڑھی جس میں سگا باپ، ماں کے مرنے کے بعد اپنی ہی بیٹی کے ساتھ جنسی تعلق رکھتا ہے، تو پڑھ کر لگا جیسے کسی نے جسم سے روح کھینچ لی ہو، یہ بوجھ اکیلی نہ اٹھا سکی، 25 لڑکیوں کی کلاس میں،بائیولوجی کی کلاس شروع ہو نے سے پہلے،ڈائس پر کھڑے ہو کر یہ کہانی سب کو سنا ڈالی، بغیر یہ سوچے کہ کون کیا سوچے گی۔۔ٹیچر نے داخل ہو تے ہو تے شاید ، کچھ حصہ یا میرا بے لاگ تبصرہ سن لیا، بظاہر خاموش رہی، لیکن کلاس شروع ہو تے ہی، مجھ پر ایسی نگاہ ڈالی جیسے میں نے کو ئی بہت شرمناک حرکت کی ہو،اور میں بھی سولہ سال کی بچی ہی تو تھی، اندر تک سہم گئی۔ اسی الزام دیتی نظر کے ساتھ ٹیچر نے مجھ سے کوئی سوال کیا، میں گھبرا گئی، جواب آتا بھی تھا، مگر دے نہ سکی، نتیجتاً کلاس سے نکال دی گئی اور بعد میں میری بیسٹ فرینڈ جو کہ گرلزہائی سکول کی پرنسپل کی بیٹی تھی، اسے بلا کر کہا کہ اس لڑکی سے فوراً  دوستی چھوڑ دو۔۔ اُس دوپٹے میں لپٹی بائیو جیسا مضمون پڑھاتی ٹیچر کو بھی، میرے مرحوم دوست کی طرح لگا کہ فحش منٹو کو پڑھنے اور اس کی جنسی آلودگی میں ڈوبی کہانی کو، کلاس میں سنا کر، اور اپنی حیرت اور پریشانی اپنی ہم عمروں سے شئیر کر نے والی لڑکی سب کا ذہن گندا کر دے گی۔میں یہ توہین، سالوں تک نہ بھول سکی، اور میرے کچے ذہن نے یہ اثر قبول کیا کہ، ایسی باتیں پڑھنا، سوچنا یا ان کی آگاہی دوسروں کو دینا ایک ایسی بری حرکت ہے جس کی سزا سنگساری بھی ہو سکتی ہے۔

عمران نامی درندہ، جس نے اس پھول کو نوچا، وہ ایسے ہی denialمیں ڈوبے معاشرے کا فائدہ اٹھانے والے اُن psychopathsجیساہے، جو اپنے چہرے پر درویشی اور معصومیت کا ماسک لگائے نہ جانے کتنے معصوم جسموں اور روحوں کو لہولہان کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پیارے پیغمبر ؐ کی نعتیں پڑھتا،یہ نعت خواں کبھی  بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکتا اگر حالت ِ انکار میں رہنے والا ہمارا معاشرہ،ایسے لوگوں کو بے نقاب کر نے اور ان کا بائیکاٹ کر نے کے قابل ہو تا، مگر افسوس صد افسوس، ہم سب جانتے ہو ئے بھی، آنکھیں بند کیے،  حقیقت سے نظریں چراتے اپنے کسی بھی ذاتی مطلب یا خوف کے ہاتھوں مجبور ہو کر خاموش رہتے ہیں۔ اسی منافقت کا نتیجہ ہے کہ مغرب کی مخالفت کر نے والے مولویوں کی اولادیں مغرب کے ہی تعلیم یافتہ ہیں۔فوجیوں کی اولادیں امریکہ یا انڈیا کی ایجنٹ ہیں۔ کبھی نہ بکنے والے صحافیوں کی اولادیں مہنگے داموں بکتی ہیں۔مصلحت کے نام پر دھوکہ معمول بن چکا ہے اور سیاست دان ہی نہیں سب کے سب بے شرمی سے ہر قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکا ر ہیں۔ کیوں کے دامن کون پکڑے۔۔؟ سب کے سب داغ دار دامن والی قمیضیں پہنے فخر سے گھومتے ہیں؟ کون بچا ہے جس کے دامن پر داغ نہ ہو؟ زینب کے لٹنے کی،مرنے کی کہانی، دھڑا دھڑ بک رہی ہے ایک کالمنسٹ نے اس پر لکھا۔اس ہو شربا کہانی کا اگلا حصہ اگلے کالم میں پڑھیں۔

کاش گند صرف منٹو اور میرے ذہن میں ہو تا تو، آج امریکہ کا اولمپکس ڈاکٹر LARRY NASSARٹین ایج بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا انہیں ہراساں کرنے کی ٍ75  سال کی سزا نہ پا تا۔ امریکہ جیسا ملک، ڈاکٹر جیسا عہدہ,اگر وہاں یہ سب ہو سکتا ہے تو کہاں نہیں ہو سکتا۔2000 اولمپکس برونز میڈلسٹDantzscher جو کہ اب 35سال کی ہے نے عدالت میں جو کچھ کہا وہ دھیان سے سننے اور یاد رکھنے کے قابل ہے۔ جس سے ہم اپنی معصوم بچیوں، ٹین ایجرز لڑکیوں اور جاب کرتی خواتین کو،عمران جیسے گھناؤنے کرداروں سے بچا سکتے ہیں۔

“اسے یہ لگا کہ ڈاکٹر اس کا guardian angel ہے۔
اپنے بیان میں اس نے مزید  کہا:کہ ڈاکٹربہت مہربان،ہمدرد اور ہر وقت مدد کے لئے تیا ر نظر آتا تھا، اور اولمپکس کے abusiveاور سخت ماحول میں، وہ ایک ایسا فرشتہ نظر آتا تھا، جس پر میں نے بغیر کسی دقت کے اعتبار کیا۔ کیونکہ وہ دوست کی طرح تھا، ایک bright lightجب کہ اس وقت میں خوفزدہ رہتی تھی، کبھی اپنے زخمی ہو نے سے کبھی ہار جانے سے کبھی لوگوں کے رویوں سے۔۔ وہ مجھے ہنساتا تھا، اور مجھے لڑکپن میں لگتا تھا  کہ وہی ایک واحد انسان ہے جس پر میں اعتبار کر سکتی ہوں اور جو میرے خواب پو رے کرنے میں مدد کر ے گا۔ اور جو مجھے سمجھتا ہے اور ہر مشکل میں میرے ساتھ کھڑا ہو گا۔ وہ مجھے کہتا تھا All are  horrible۔میں اس پر اتنا اعتبار کرتی تھی کہ وہ گلوز کے بغیر میرے پرائیویٹ پارٹس کو چھوتا تھا،  تو  میں اس کی نیت پر تب بھی شک نہیں کرتی تھی۔ اور اسے میڈیکل طریقہ کار کا حصہ سمجھتی تھی۔۔ یہ تو بہت سال بعد  مجھے پتہ چلا کہ وہ جو کچھ میرے ساتھ چیک اپ کے نام پر کرتا رہا تھا، وہ سب غلط تھا۔
اور میں نے ان دو درجن خواتین جو اس درندے کے خلاف آگے آئی ہیں، ان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، جب میں نے تصور کی آنکھ سے اپنی بھانجیوں کو، ایسے ہی مہربان اور ہمدرد کا روپ بھرے بہروپیے  کے ہاتھوں molestہوتے دیکھا۔ میرے آگے آنے اورحقیقت بتانے کی صرف یہی وجہ ہے کہ میں معصوم اتھیلیٹ لڑکیوں کو ایسے شکاریوں سے بچانا چاہتی ہوں، جو آنکھوں میں خواب لئے آتی ہیں اور خاموشی سے یہ سمجھ بیٹھتی ہیں کہ اس سب عذاب سے گذرے بغیر ایتھلیٹ بننے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ ”

Dantzscherکا LARRY NASSAR کے خلاف یہ عدالتی بیان، اور زینب کے مجرم کا میڈیا میں پیش ہو نے والا کردار، ان میں مشابہت ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، وہ صاف ظاہر ہے۔
جذبات ہوں یا خواب یا چاکلیٹ، ان کا لالچ دے کر لوٹنے والے،sympatheticنہیں manipulativeہوتے ہیں۔ ہمدرد کے روپ میں ہی، لٹیرے اپنا کام باآسانی کر سکتے ہیں۔ اعتماد کی فصل بو کر ہی اپنی مرضی کا پھل اگاتے ہیں۔ میرے مرحوم دوست کی طرح۔۔DENIALمیں مت رہیں۔ اور آنکھیں بند کر کے یہ کہہ کر خود کو مطئمن نہ کر لیں کہ” گند منٹو کے اور تمھارے ذہن میں ہے، تم کس دنیا میں رہتی ہو، میری دنیا میں تو یہ نہیں ہوتا۔ ”
یہ بات وہی لوگ کہہ سکتے ہیں جو حالت ِ انکار میں ہیں یاشاید  خود بھی اسی کا ایک حصہ ہیں۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *