جب آپ پہلی سیڑھی چڑھ لیتے ہیں تو آپ کو ایک فوری فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یا ایک قدم پیچھے پلٹ جائیں یا پھر سیڑھیاں چڑھتے چلے جائیں۔ “لباس فرد کا ذاتی معاملہ ہے” پہلی سیڑھی ہے۔ اگر آپ آج← مزید پڑھیے
امرتا پریتم کی لکھی ہوئی سوانح عمری”رسیدی ٹکٹ” کو آج پڑھ کر مکمل کیا ہے اور کمال کی بات تو یہ ہے کہ “رسیدی ٹکٹ” (اردو ترجمہ) اردو ادب کی وہ پہلی کتاب ہے جس کو میں نے ایک ہی ← مزید پڑھیے
اس تنازعے کے حل میں چار بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ۱۔ یروشلم ۲۔ مہاجرین ۳۔ سرحدیں ۴۔ سیکورٹی اس کے علاوہ دیگر اہم مسائل بھی ہیں جن کا تعلق معیشت یا ذرائع سے ہے، جیسا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ← مزید پڑھیے
چار نومبر 1995 کو اسحاق رابین تل ابیب میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کر کے واپس آ رہے تھے کہ انہیں ایک انتہاپسند اسرائیلی نے گولی مار کے قتل کر دیا۔ قاتل کو امن کے عمل پر غصہ تھا← مزید پڑھیے
اس نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو پاس بلایا اور بولا”مائی ڈیئر ینگ مین! جس کھیل میں آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے زمین نظروں سے اوجھل ہو جائے،وہ کھیل نہیں کھیلنا چاہتا“۔سیکرٹری نے اس جملے کے پیچھے چھپی کہانی پوچھی تو← مزید پڑھیے
میں بھی کبھی کسو کا سرِ پْر غرور تھا! محترمہ رفعت ناہید سجاد کے ناول ”چراغِ آخرِ شب“ کے بارے میں میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ آپ اس کو تہذیبی اقدار کے مٹتے نقوش کا نوحہ کہہ لیں، شہر← مزید پڑھیے
جن کا ملک ہے ،جو شہری ہیں انہیں کوئی خبر نہیں، چند تنخواہ دار حب الوطنی کا نام لے کر انکی قسمتوں کے فیصلے کر رہے ہیں ۔ریاست کو ان فیصلوں کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی ،فیصلے کرنے← مزید پڑھیے
لمحۂ تخلیق زمانِ خالص سے زمانِ متسلسل میں وارد ہوتاہے۔ یا یوں کہیے کہ عالمِ امرسے عالمِ خلق میں تبدیل ہوکر مشہود ہوجانے والی تخلیق کا عین وہ لمحہ کہ جب وہ اپنے خالق کے فعل میں درآئے یا وجدان← مزید پڑھیے
یہ کہانی ہے انڈیا کے 80 سالہ کاندھا پرساد کی ،جو اپنی بوڑھی بیوی کے ساتھ مل کر “بابا کا ڈھابہ” نام سے ایک ڈھابہ چلاتے تھے۔ اکتوبر 2020 میں ایک یوٹیوبر( گورو واسن) بابا کے ڈھابے پر ایک وڈیو← مزید پڑھیے
“انھے ہی ہوگئے ہیں ” ایک شریف آدمی نے فادرزڈے کے حوالے سے اپنے باریش سفید بالوں والے والد بزرگوار کی تصویر لگائی ۔ادھر حالت یہ ہے، کہ ہر بندے کو جلدی سکرول کرنے کی عادت ہے ۔کسی جلدباز نے← مزید پڑھیے
دوسری طرف گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے دانشور عزیز علی داد اپنے تحقیقی مقالہ بعنوان Cannibalism In Gilgit میں شری بدت کے افسانے کے متعلق لکھتے ہیں کہ” سب سے زیادہ امکان یہ ہے کہ اس کے دور حکومت← مزید پڑھیے
دہائیوں تک اسرائیلی اور فلسطینی ایک دوسرے سے بات کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔ فلسطینی لیڈر اسرائیل کا نام تک ادا نہیں کرتے تھے۔ اسرائیلی لیڈر فلسطینیوں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے، ان کو عرب کہا جاتا← مزید پڑھیے
میرے تایا زاد بھائی نے KE سے ڈاکٹری مکمل کی تو ایران چلے گئے۔جب وہاں سے واپس آئے تو باقی سامان کے ساتھ ساتھ فریج اور ٹی وی بھی لے آئے۔یہ غالباً 1976 کا سال تھا،ہمارے گاؤں (ٹبہ) پہ پہلی← مزید پڑھیے
عزیز الرحمن والا معاملہ چار پانچ دن پہلے سامنے آیا۔ اس سے چند دن پہلے گیارہ جون کو میں نے فیس بک پر ایک تحریر پوسٹ کی تھی “میرا تعارف،میرے نظریات” جس میں گستاخی کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر واضح← مزید پڑھیے
قدرے نئے “ادبی تنقیدی نظریے / کھیل کے نظریے ” پر 20 تا22 نومبر 2015 کو مجھے ایک کانفرس میں امریکہ کے نیو اولینز ، لوزیانہ/ لواٹا میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کانفرس میں دیگر بشری حوالے سے ادب← مزید پڑھیے
اسرائیلی قبضے کو دو دہائیاں گزر چکی تھیں۔ فلسطینیوں کی نئی جنریشن جوان ہو چکی تھی جس نے ملٹری قبضے کے سوال کچھ نہیں دیکھا تھا۔ آزادی اظہار پر پابندی تھی، فلسطینی جھنڈے کی نمائش پر پابندی تھی، پی ایل← مزید پڑھیے
ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر ، 1866 میں ، پہلا یورپی تھا جس نے شری بدت کی کہانی ریکارڈ کی تھی جس سے انہوں نے 1877 میں “تاریخی افسانوی تاریخ برائے گلگت” کے نام سے شائع کیا ۔ انہوں نے شری← مزید پڑھیے
پچھلے چند دنوں میں وفاق المدارس کو پے بہ پے بھرپور جھٹکے لگے پہلے تمام مکاتب فکر میں عسکری ادارے نے مزید وفاق قائم کر کے انہیں وہی حیثیت دے دی جو پہلے سے موجود وفاقوں نے طویل جدوجہد سے← مزید پڑھیے
یہ کہتے ہیں مفتی کو شرعی سزا دی جائے۔ ان سے کہو دل پہ ہاتھ رکھ کے بتاؤ یہ جو مطالبہ تم کر رہے ہو کیا یہ قابل عمل بھی ہے؟۔ کیوں ہوا میں تیر چلاتے ہو۔ یہ کہتے ہیں← مزید پڑھیے
یاداشت کا عمل خودکار ہے۔ اس کا تعلق بہت سی چیزوں کے ساتھ بیک ہوتاہے۔ تحت الشعور ( Sub-conscious) اور لاشعور (Unconscious) میں موجود یادوں کے ساتھ ، دماغ کے نیورانز کے ساتھ ، بیرونی مہیجات کے ساتھ، ہمارے منطقی← مزید پڑھیے