• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلگت کے آخری بدھ مت حکمران شری بدت کی کہانی(3،آخری قسط)۔۔تحریر و تحقیق/اشفاق احمد ایڈوکیٹ

گلگت کے آخری بدھ مت حکمران شری بدت کی کہانی(3،آخری قسط)۔۔تحریر و تحقیق/اشفاق احمد ایڈوکیٹ

دوسری طرف گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے دانشور عزیز علی داد اپنے تحقیقی مقالہ بعنوان Cannibalism In Gilgit میں شری بدت کے افسانے کے متعلق لکھتے ہیں کہ” سب سے زیادہ امکان یہ ہے کہ اس کے دور حکومت میں یہاں قحط سالی پیدا ہوئی ہو ، جس نے لوگوں کو اپنی بقا کے لئے نربہ خوانی پر مجبور کیا ہو۔ ممکن ہے کہ قحط نے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی  ہو ،ایک ایسی خانہ جنگی کی صورتحال جہاں ہر ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار ہو جس نے اس ریاست کو تباہ کردیا ہو”۔

مشہور فلاسفر تھامس ہوبس اپنی شاہکار کتاب لیویتھن میں اس طرح کی صورتحال کے متعلق لکھتے ہیں کہ انسان کی فطری حالت جنگ اور تنازعات میں سے ایک ہے ، جب تک کہ معاشرتی زندگی کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا ہے ۔

tripako tours pakistan

بقول تھامس ہوبس معاشرتی معاہدہ کا عہد ختم ہونے کے ساتھ ہی ، معاشرے کا ٹکراؤ ہوجائے گا اور پھر ہر آدمی ہوگا ہر ایک کے خلاف, اور اس کا نتیجہ لامحالہ ایک ایسی حالت جنگ  ہوگا کہ “قانون کی حکمرانی کے بغیر ، انسان کی زندگی تنہائی ، غریب ، گندی ، سفاک اور مختصر ہوگی۔

شری بدت کا دور حکومت بلور ریاست کے ٹوٹنے کے صرف چار سال بعد یعنی 749 صدی عیسوی کا ہے یعنی یہ ایک جنگ سے تباہ حال معاشرہ  تھا اور ریاست بلور کی دستیاب تاریخ کے مطالعے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ درحقیقت گلگت کی وادیوں میں 740-747 صدی عیسوی میں لڑی گئی تبتی اور چینی جنگ کے نتیجے میں ریاست بلور ٹوٹ گئی تھی۔

لیٹل بلور پر قبضہ کرنے کے لئے گلگت کی وادیوں میں تبت اور چین نے 747 صدی عیسوی میں ایک خونی جنگ لڑی جس میں تبت کو چین نے شکست دی۔
گلگت کی وادیوں میں لڑی گئی اس تاریخی جنگ کے بارے میں Susan Whitfield نے اپنی کتاب ،بعنوان Life Along the Silk Road میں دلچسپ حقائق بیان کئے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے شائع شدہ اس کتاب میں The Soldier’s Tale
SEG LHATON , 747–790
کے عنوان سے اس جنگ کے بارے میں وہ رقم طراز ہے کہ سیگ لاتن تبت کی ان جنگی صفوں میں شامل تھے جنہوں نے چینی حملے  کا سامنا کیا تھا۔

وہ ایک اور دن اس جنگ کی کہانی یوں بیان کرتا ہے کہ “تبتیوں نے ان چھوٹی وادیوں کی سلطنتوں پر اپنا راج قائم کیا تھا جو ان راستوں کو کنٹرول کرتا ہے جو دریائے گلگت کے راستے سے شمالی ہندوستان کی طرف گامزن ہیں۔

740 صدی عیسوی کی دہائی کے اوائل میں تبتی فوج کو کئی بار ان وادیوں میں چینی فوج کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیشہ تبتی فوج فاتح رہی مگر 747 صدی عیسوی کے موسم گرما میں وہ اتنے خوش قسمت نہیں تھے کہ انہیں فتح حاصل ہو۔
سیگ Lhaton کو یہ جنگ واضح طور پر یاد ہے کہ ان کی فوج نو ہزار افراد پر مشتمل تھی جو ان پہاڑوں کے اندر چین کے ساتھ برسر پیکار تھے”۔

گلگت کی وادیوں میں 747 صدی عیسوی میں چین اور تبت کے درمیان لڑی جانے والی اس جنگ میں چین کی  دس ہزار افواج کو جنرل Gao کمانڈ کر رہا تھا اور تبت کے نو ہزار زرہ بکتر بند افواج نے اس جنگ میں حصہ لیا تھا یہ جنگ Little Balur میں لڑی گئی لیکن 747 صدی عیسوی کے موسم بہار میں لڑی گئی اس لڑائی میں تبتی اتنے خوش نصیب نہیں ٹھہرے کہ انہیں کامیابی ملے۔ اس جنگ میں چین نے تبت کو شکست دیا۔
( ریاست بلور کی اپنی ایک منفرد تاریخ ہے جس کے متعلق میرا مقالہ ریاست بلور کی گمشدہ تاریخ کے عنوان سے سر بلند نامی علمی مجلہ جلد اول میں شائع ہوا ہے اس علمی مجلہ کو ادارہ براۓ تعلیم و ترقی بحرین سوات نے شائع کیا ہے۔)

ان تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ عین ممکن ہے کہ ریاست بلور کا معاشی نظام اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گیا ہو اور ریاست قحط سالی کا شکار ہوئی ہو جس کے نتیجے میں معاشرہ فطری حالت جنگ کی لپیٹ میں آگیا ہو اور اندرونی خانہ جنگی نے معاشرے میں آدم خوری جیسے حالات پیدا کئے ہوں کیونکہ قانون کے بغیر انسان حیوان سے بھی بدتر ہے اور قانون کے اپنے وجود کا انحصار ریاست پر ہے۔

عزیز علی داد کے نقط نظر کے مطابق بیرونی مسلط شدہ جنگ اور قحط سالی نے اندرونی خانہ جنگی کو جنم دیا ہو اور شری بدت کے ظالمانہ طرز حکمرانی کی وجہ سے ریاست اور معاشرے کی داخلی کمزوریوں نے ایک نئی ریاست کے لیے بنیاد مہیا کی ہو اور خارجی طاقتوں کو اپنے مفاد میں ان کا استحصال کرنے کا موقع فراہم کیا ہو اور وہ معاشرہ اندرونی تنازعات اور سازشوں کے ذریعہ کرایہ پر دستیاب تھا چنانچہ شری بدت کی بیٹی اور اس کے وزیر نے اس کے قتل کی سازش میں اہم کردار ادا کیا۔

شری بدت کے قاتل شہزادے کے بارے میں جان بڈوولف لکھتے ہیں کہ” روایت کے مطابق شری بدت کے  ظلم و جبر کے دوران ایک سیاح وادی گلگت پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ اجنبی شخص پرشیا ( فارس) کی طرف سے آیا تھا جس کا نام آزر جمشید تھا، اس نے وادی گلگت کے لوگوں کو شری بدت کے خلاف اکسایا اور ایک کامیاب سازش کے  ذریعے شری بدت کا قتل کیا اور اس کی بیٹیMiyokhay سونی( شہزادی) کے ساتھ شادی کرکے خود گلگت کا حکمران بن گیا”۔

الغرض تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ شری بدت دراصل لیٹل بلور ریاست کا آخری مقامی بدھ مت حکمران تھا جس کا اصلی نام چندرا شری دیوا وکرما دیتہ تھا جس سے گلگت کے مقامی لوگ شری بدت کے نام سے جانتے ہیں۔

شری بدت کا افسانہ دراصل بدھ مت دور کا افسانہ ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے اپنی طرف سے مافوق الفطرت باتیں شامل کی ہیں –

جرمنی کی یونیورسٹی آف فریبرگ کے پروفیسر آسکر وان ہنبر کے بقول 745 صدی عیسوی میں پھیلتی ہوئی تبت کی سلطنت نے ریاست بلور پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں بلور ریاست ٹوٹ گئی۔
گلگت کی وادیوں میں 740-747 صدی عیسوی میں لڑی گئی تبتی اور چینی جنگ کے نتیجے میں معاشرہ فطری حالت جنگ کی لپیٹ میں آگیا تھا لہذا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ریاست بلور ٹوٹنے کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک کامیاب سازش کے تحت بیرونی افراد نے لیٹل بلور ( گلگت ) کے آخری مقامی حکمران شری بدت کو آدم خور قرار دیکر آبادی کو اس کے خلاف متنفر کرکے اپنے حق میں استعمال کیا اور مقامی حکومت کا خاتمہ کیا جس کے ثمرات نسل در نسل ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

نوآبادیاتی دور حکومت میں ہر اس بات کو فراموش کرنے اور مٹانے کی کوشش کی گئی جو اس خطے کے عوام میں باہمی ہم آہنگی اور اتحاد میں شدید دلچسپی اور محبت محسوس کروا سکتی تھی اس لئے مقامی افسانوں میں بھی مقامی حکمرانوں کو شیطان کی روپ میں پیش کیا گیا اور بیرونی حملہ آوروں اور قاتلوں کو مسیحا بنا کر پیش کیا گیا جو کہ نوآبادیاتی سوچ اور کردار کی عکاسی کرتی ہے اس لئے اس طرح کی سوچ , فلسفہ اور بیانیہ کو چیلنج کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اپنے خطے کی مشترکہ ہزاروں سال قدیم گمشدہ تاریخ کو از سر نو تشکیل دینا وقت کی اشد ضرورت ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply