منتخب تحریریں

طبقہ، طبقاتی جدوجہد اور سیاسی جماعتیں۔۔ضعیغم اسماعیل خاقان

طبقاتی جدوجہد کیا ہے؟، اس کو سمجھنے کے لیے طبقات کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ طبقات کیا ہیں؟، کیسے وجود میں آئے؟ اور مختلف ادوار میں مختلف سماجوں میں ان کا ارتقاکیسے ہوا ؟یہ چند ایک بنیادی سوالات ہیں جن کو←  مزید پڑھیے

جنگ بندی کی لکیر پر بسنے والے عوام کا امتحان کب ختم ہوگا؟۔۔اظہر مشتاق

پاکستانی  اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے درمیان  قریباً 740 کلومیٹر  پر پھیلی ایک ایسی پٹی موجود ہے جسے  پہلے دونوں ممالک نے جنگ بندی کی لکیر   کا نام دیا اور بعد میں اسے لائن آف کنٹرول کا۔ اگر←  مزید پڑھیے

امریکیوں کی پاکستان شناسی۔۔رشید یوسفزئی

پاک امریکہ تعلقات کے  تین ادوار میں پہلا  اور بنیادی دور 50 اور ساٹھ کی دہائی ہے، سرد جنگ کے  باقاعدہ آغاز پر عصر حاضر کے مؤرخین اور بین الاقوامی امور کے ماہرین متفق نہیں، تاہم عربی نژاد امریکی سکالر←  مزید پڑھیے

عمران خان، میاں بشیر اور شادیاں۔۔ عارف انیس ملک

آج جب عمران خان کی شادی کی خبر نے جہاں پاکستان بھر میں تہلکہ مچا رکھا ہے وہاں بہت کم افراد یہ بات جانتے ہیں کہ اس سیاسی اور حکمرانی کی شطرنج کے پیچھے ایک مرنجا مرنج سے افسانوی بابے←  مزید پڑھیے

اسلامی شریعت اور حلالہ۔۔عمار خان ناصر

جناب عمران شاہد بھنڈر نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں حلالہ کے متعلق درست سوال اٹھایا ہے کہ اس طریقے میں شوہر کی غلطی کی سزا بیوی کو کیوں دی جاتی ہے جو غیر منصفانہ بھی ہے اور عورت←  مزید پڑھیے

نیا جمہوری بیانیہ۔۔ناصر منصور

پاکستان کب بحران کا شکار نہیں رہا ، یہ اپنے وجود میں آنے سے لے کر آج تک مسلسل بحرانی کیفیت کا شکاررہا ہے ۔ گوہر بار اس کی وجوہات مختلف رہی ہیں لیکن بعض وجوہات ایسی ہیں جو مستقل←  مزید پڑھیے

خالق کا سراغ ۔۔ڈاکٹر طفیل ہاشمی

کائنات اور اس میں موجود اشیاء کی تخلیق کے اسباب کی نقاب کشائی کوانٹم تھیوری اور نطریہ ارتقاء کے ذریعے ہو گئی ہے. کچھ سائنس دان یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تخلیق سے تمام پردے سرکا دئیے ہیں اور←  مزید پڑھیے

عاصمہ جہانگیر کی یاد میں ۔۔داؤد ظفر ندیم

 یونیورسٹی کے زمانے سے  ہی میں نے اپنے استاد حامد قزلباش کے ساتھ تعلیم اور انسانی حقوق کے لئے رضاکارانہ کام شروع کیا تھا۔ اسی دوران مجھے مختلف اداروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا یہی وہ دور تھا←  مزید پڑھیے

امرتا پریتم جو ابھی تک امر ہے۔۔عظمٰی عارف/قسط1

ایسا لگتا ہے تاریخ نے اپنےا وارق پلٹے ہوں ، گھڑی کی سوئیاں  تھم  گئی ہوں ، ماضی کے دریچے پرت در پرت کھل رہے ہوں۔ وقت، امرتا کے لازوال استعارے کی طرح حیران و پریشان کہیں میرے کمرے میں←  مزید پڑھیے

الوداع عاصمہ۔۔۔انورسن رائے

عاصمہ جہانگیر کو وداع تم بھی چل دیں پیچھے کیا ہے اب کیا ہو گا ظلم جہالت کے اندھیارے پھیل رہے ہیں چار چوفیرے تم ہی تھیں جو دئیےکی مانند لڑتی تھیں کہ آئیں سویرے اب کیا ہو گا کون←  مزید پڑھیے

ہیجڑے : روایت،نوآبادیات اور لبرل ازم ۔سالار کوکب

ہندوستان کی تاریخ  میں ہیجڑوں کا ذکر ہندوؤں کی مقدس کتابوں مہابھارت اور رامائن دونوں میں ملتا ہے۔ مہابھارت میں پانڈو شرط ہار کر بارہ سال کی جلاوطنی اور تیرہویں  سال کی روپوشی اختیار کرتے ہیں۔ ارجن روپوشی کے لیے←  مزید پڑھیے

تاریخ تصوف از ڈاکٹر مصطفی حلمی مصری پر ایک نظر۔۔راجہ قاسم محمود/آخر ی حصہ

تصوف کے بطور ایک علمی نظم میں آنے کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اول اسلام میں احکام شرعیہ مدون اور منظم نہیں تھے بلکہ احکام عبادات،معاملات اور عقائد کی صورت میں ملے جلے ہوئے تھے۔پھر ہر شعبے پر توجہ←  مزید پڑھیے

اسی خاک میں دب گئی میری آگ ۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

میں نے دس ایکڑ زمین 40 ہزار روپے فی ایکڑ ٹھیکہ پہ لی تھی۔ چار لاکھ روپے ٹھیکہ ادا کرنا ہے۔ میری اوسط پیداوار 600 من فی ایکڑ رہی ہے. اس حساب سے 6000 من گنا پیدا کیا ہے. ابھی←  مزید پڑھیے

الوداع دلہن باجی۔۔انعام رانا

کئی برس ہوتے ہیں اک چار پانچ سال کا بچہ رو رہا تھا۔ بچے کا باپ کچہری سے گھر آیا تو پوچھا کیوں رو رہے ہو۔؟ بچے نے اٹھارہ برس بڑی اپنی تایا زاد کی طرف اشارہ کر کے کہا←  مزید پڑھیے

نظریہِ ارتقاء کے “ارتقائی” منکرین۔۔شاداب مرتضٰی

بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ ایک جاندار مخلوق کے طور پر انسان نے جانداروں کی کسی دوسری مخلوق سے ارتقاء نہیں کیا بلکہ انسان ہمیشہ سے جانداروں کی ایک مخصوص اور مستقل مخلوق کی حیثیت سے دنیا میں موجود←  مزید پڑھیے

سوویت یونین کا انہدام — مغالطے اور حقائق۔عمیر فاروق

 سوویت یونین کا انہدام عصر حاضر کی تاریخ کا تہلکہ مچا دینے والا واقعہ تھا۔ اس کے اسباب و وجوہات پہ اردو میں سنجیدہ بحث نہ ہونے کے برابر ہوئی بلکہ عالمی میڈیا میں بھی سوویت یونین کے انہدام کی←  مزید پڑھیے

منو بھائی کو مرنے کا کوئی حق نہیں ۔۔اسد مفتی

وجیہہ شخصیت،درمیانہ قد، گٹھا ہوا بدن، سفیدی مائل گندمی رنگ، شگفتہ مسکراتا کتابی چہرہ ،زندگی سے بھرپور آنکھیں ، آنکھوں تک پھیلی مسکراہٹ ،کلین شیو، اونچی لمبی ناک، پرکشش بڑی بڑی آنکھیں ، ان پر خوبصورت فریم کا چشمہ چہرہ←  مزید پڑھیے

کافی، دانش گھر اور فرضی سفر۔۔ انعام رانا

اسلام آباد ایک خاموش شہر ہے اور خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ جب کبھی اس شہر جانا ہوا تو یونہی لگا جیسے کائنات ٹھہر گئی ہے، خیر لاہور سے جانے والے کو ہر شہر میں کائنات ٹھہری ہوئی ہی←  مزید پڑھیے

اشفاق سلیم مرزا کا فلسفہِ تاریخ۔۔ شاداب مرتضی

اشفاق سلیم مرزا ،  جو بعض افراد کے نزدیک  “جدلیاتی مادیت پسند” ،یعنی کمیونسٹ، بھی ہیں،  اپنی تنقیدی کتاب “مکیاولی سے گرامچی تک” میں کہتے ہیں کہ مارکس کا تاریخی مادیت کا نظریہ محض ایک “مفروضہ” تھا۔ ان کی دانست←  مزید پڑھیے

پنجاب یونیورسٹی اور تشدد کی روایت۔۔۔ انعام رانا

لکھنا تو تھا اقبال لالہ پر جنھیں جانے کیوں ہر بار ایوب لالہ کہنے کو جی کرتا ہے، لکھنا تو تھا ایک سکرٹ پر جو منصف اعلی کو پریشان کرتا ہے، مگر لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا←  مزید پڑھیے