حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی۔۔خرم خان

قرآن مجید میں بڑی صراحت سے اللہ رب العزت نے اپنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان ایک مکالمہ نقل کیا ہے جو کہ روزِ جزا کے دن پیش آئے گا۔ اس مکالمے میں اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام کی تقریباً پوری زندگی کا نا صرف خلاصہ پیش کر رہے ہیں بلکہ ان سے یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم نے کہا تھا کہ خدا کے سوا اُن کو اور اُن کی ماں کو معبود بنا لو۔ جس کے جواب میں مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انھوں نے وہ ہی تبلیغ کی جو ان سے مطلوب تھی جب تک وہ لوگوں کے درمیان حیات رہے۔ یہ وہ موقع ہے جہاں پر سب سے زیادہ موزوں تھا کہ اس کا ذکر ہوتا کہ وہ دوبارہ آئے تھے اور انھوں نے کیا تعلیمات دیں اور کیا اعمال دین کی خاطر انجام دیے۔

قرآن مجید میں مندرجہ ذیل آیات میں بیان ہوا تفصیلی مکالمہ ملاحظہ ہو، خاص طور پر آخری  آیات جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جواب نقل ہوا ہے:

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اُس دن کو یاد رکھیں، جب اللہ سب رسولوں کو جمع کرے گا، پھر پوچھے گا کہ تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ کہیں گے: ہمیں کچھ علم نہیں، تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔

جب اللہ کہے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، میری اُس عنایت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری ماں پر کی تھی، اُس وقت، جب میں نے روح القدس سے تمہاری مدد کی، تم گہوارے میں بھی کلام کرتے تھے اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔ اور اُس وقت، جب میں نے تمہیں قانون اور حکمت سکھائی، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دی۔ اور اُس وقت، جب تم میرے حکم سے پرندے کی ایک صورت مٹی سے بناتے تھے، پھر اُس میں پھونکتے تھے اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔ اور اُس وقت، جب تم مُردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور اُس وقت، جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ تم سے روک دیے، جب تم کھلی ہوئی نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے اور اُن کے منکروں نے کہا کہ کچھ نہیں، یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

اور اُس وقت، جب میں نے حواریوں کو ایما کیا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ تو اُنھوں نے کہا:ہم ایمان لائے اور آپ گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں۔

اُس وقت، جب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ ابن مریم، کیا تمہارا پروردگار یہ کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے کا) ایک خوان اتارے؟ عیسیٰ نے کہا: خدا سے ڈرو، اگر تم سچے مومن ہو۔ اُنھوں نے جواب دیا: ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ اِس خوان سے کھائیں اور اِس کے نتیجے میں ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم یہ جان لیں کہ تونے ہم سے سچی بات کہی تھی اور ہم اِس پر گواہی دینے والے بن جائیں۔ اِس پر عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی: اے اللہ، اے ہمارے پروردگار، تو ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر دے جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے ایک یادگار بن جائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ ہم کوعطا فرما اور تو بہترین عطا فرمانے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا: میں اِس کوتم پر ضرور نازل کر دوں گا، مگر اِس کے بعد جو تم میں سے منکر ہوں گے، اُنھیں ایسی سخت سزا دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی۔

اور یہ بھی کہ جب اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔

اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ  رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ زمین و آسمان اور اُن کے اندر تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
قرآن ۵ : ۱۰۹ ۔ ۱۲۰

حضرت عیسٰی علیہ السلام کا جواب غور طلب ہے کہ کہیں سے بھی اس بات کا شائبہ نہیں  ملتا کہ اگر وہ دوسری دفعہ  آئے تو ان کی زندگی کیسی تھی؟ انھوں نے کیا تعلیمات دیں؟ انھوں نے کیا اعمال انجام دیے؟ حالانکہ وہ سارے اعمال جو انھوں نے اپنی پہلی زندگی میں انجام دیے ان سب کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے خود کر دیا۔ تو دوسری دفعہ  آنے پر کچھ بھی قابلِ تذکرہ کام نہیں کیےتھے جب کہ دنیا میں دوسری دفعہ  آئے تھے تو کسی وجہ سے ہی آئے تھے۔ حالانکہ ہمارے مسلمانوں میں جو باتیں بہت مشہور ہیں وہ یہ کہ وہ آئیں گے تو “صلیب توڑیں گے” اور “تثلیث کا خاتمہ کریں گے” ۔ اس میں سے کسی بات کا وہ ذکر  نہیں  کرتے کہ  آکر انہوں نے انجام دیں، حالانکہ اس سے زیادہ کلیدی کام اور کیا ہو سکتا تھا کہ جن شرکیہ کاموں میں عیسائی ہزاروں سال سے پڑے ہوئے تھے انھوں نے آکر اس کا خاتمہ کیا اور اس کا کوئی تذکرہ تک نہیں۔

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسی مکالمہ میں یہ عرض کرنا کہ،

فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
ٌپھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیںٌ ۔ قرآن ۵: ۱۱۷

اس میں عربی کا لفظ ”  تَوَفَّيْتَنِيٌ ” استعمال ہوا ہے جس کے معنیٰ وفات پانے کے یا انتقال کر جانے کے ہوتے ہیں۔ مگر مختلف مفسروں نے اردو اور انگریزی تراجم کرتے ہوے ٌوفاتٌ کے لفظ کی جگہ کچھ اور الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے جیسے مثال کے طور پر ابوالاعلی مودودی نے ” واپس بلا لیاٌ “، جالندھری نے “دنیا سے اٹھا لیا “، طاہر القادری نے ” تو نے مجھے اٹھا لیا “، اور مولانا وحید الدین نے انگریزی میں ٌYou took my soulٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ کچھ لوگ یہی مختلف الفاظوں کے استعمال کو دلیل بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ وفات نہیں  پائے مگر زندہ “اٹھا لیے گئے”۔ حالانکہ یہی تمام اسلوب ہم بھی اپنی زندگیوں میں استعمال کرتے ہیں جب ہمارے کوئی عزیز وفات پا جاتے ہیں۔ جیسے کہ  میرے والدین انتقال کر گئے ہیں ،اگر میں ان میں سے کوئی بھی اسلوب استعمال کرتے ہوئے مثال کے  طور پر یہ کہوں کہ میرے والدین کو اللہ نے   واپس بلا لیا  یا دنیا سے اٹھا لیا، تو کیا اس کا ہم مطلب یہ لیں گے کہ ان کو زندہ اٹھا لیا ہے اور وہ واپس آینگے؟؟

حضرت عیسٰی علیہ السلام کا واپس آنا کوئی معمولی بات ہے کہ قرآن مجید میں یاجوج ما جوج کے قیامت سے پہلے دنیا میں پھیل جانے کا  ذکر ملتا ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واپس آنے کا نہیں ۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں ختم نبوت کے بعد کوئی پیغمبر نہیں  آئے گا اور دین مکمل کر دیا گیا ہے، تو ان کے آنے کی ضرورت کیوں ہے باقی؟؟ اگر ضرورت ہوتی تو اس کی پیشگی اطلاع بھی دی جاتی جیسے کہ  رسولوں کے بارے میں دی جاتی رہی۔ مثال کے طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ  رسالت مآب ﷺ کے آنے کی پیشگی اطلاع بھی اللہ کی کتابوں میں ملتی ہے اور یہاں تک کہ  خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، یہود کے صحیفوں میں، مگر یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے سے انکار کر دیا جب وہ آگئے اور آج تک اپنے مسیحا کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اور عیسائی بھی ان کے دوبارہ آنے کا انتظار کر رہے ہیں جو کہ ان کے مذہب کے عقائد میں سے ہے، مگر ہم مسلمان کیوں انتظار کر رہے ہیں اس کا کوئی خاطر خواہ جواب مجھ طالب علم کو اب تک تو نہیں  مل سکا۔

Avatar
خرم خان
شعبہ سوفٹوئیر انجئینیرنگ سے تعلق ہے میرا۔ مذہب کے فہم کو بڑھانے کے لئے قرآن کا مطالعہ کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ اسلام کے مختلف اہل علم کی رائے اور فہم کو پڑھ اور سن کر اپنا علم بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ مذہب میں تقلیدی رویے کی شدید مذمت کرتا ہوں، اور عقل کے استعمال کو فروغ دیتا ہوں جیسا کہ قرآن کا تقاضہ ہے، اور کسی بھی فرقے سے تعلق نہی رکھتا، صرف مسلمان کہلانا پسند کرتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *