ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 59 )

گمانِ محبت(3)-جمیل آصف

دن بدن  بھڑکتے سیاسی آتش فشاں نے معاشرے کو اپنی تپش کی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ہر شخص کا سیاسی شعور اپنے من پسند راہنما کے دفاع کے لئے تاویلات گھڑتا، مختلف مباحث اور محافل میں دفاع کے لیے←  مزید پڑھیے

مجھے یاد ہے (قسط نمبر 5)۔۔۔حامد یزدانی

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) قسط نمبر 5۔۔۔۔ چھوٹا بھائی راشد اور میں والدصاحب کے لیےرات کا کھانا لے کر روزنامہ سیاست کے دفتر آئے ہوئے ہیں جہاں والدصاحب نیوزایڈیٹر ہیں۔بیدار سرمدی، وجیہہ شاہ، حسین←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین /مسٹی شاعروں کا ایک اور اہم شاعر گوچنگ(قسط31) -سلمیٰ اعوان

گوچنگ Gu chengدوسرا بڑا ماڈرن نامور شاعر ہے جس نے ناول نگاری اور مضمون نگاری میں بڑا نام پیدا کیا۔مسٹی شاعروں میں وہ بہت خصوصی اہمیت کا حامل شاعر سمجھا جاتا ہے جسے کئی بار نوبل انعام کے لیے بھی←  مزید پڑھیے

ٹھہرے موسم میں بکھرتی ہوئی نظم/حامد یزدانی

ٹھہرے موسم میں بکھرتی ہوئی نظم باغ کیا ہے نِرا بیاباں ہے شاعری حرف سے خفا ٹھہری آنکھ شاید ہے خواب سے گہری چاندنی چاند سے گریزاں ہے اک مگر جگمگا رہا ہے کوئی گوشۂ ضبط کی نمی سے پرے←  مزید پڑھیے

میرا داغستان/سراجی تھلوی

“بازار کی زینت ہوتے ہیں وہ رنگین و منقش برتن جو اطراف میں بکھری مٹی سے کمہار بنایا کرتے ہیں ہاں یونہی وہ اشعار جنہیں سُن سُن کے زمانہ جھوم اُٹھے ہر لب پہ مچلتے لفظوں سے فنکار تراشا کرتے←  مزید پڑھیے

“اگر مجھے ریٹائر کر دیا گیا “/وقاص آفتاب

 زیر نظر کتاب” اگر مجھے ریٹائر کر دیا گیا “  جسٹس بابا رحمت کی خود نوشت رودادِ حیات، عدالتی زندگی کی گواہ اور ان کے رشحاتِ  فکر کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ  جج صاحب کو ظاہری طور پرریٹائر ہوۓ چار سال←  مزید پڑھیے

مجھے یاد ہے(قسط نمبر 4)۔۔۔حامد یزدانی

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) (قسط نمبر 4) یونیورسٹی گراونڈ میں محلے کی کرکٹ ٹیم پریکٹس کررہی ہے۔ گیارہ کھلاڑیوں میں سے چار تو ایک ہی گھرانے سے ہیں یعنی شاہد یزدانی، حامدیزدانی، راشد یزدانی←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین / چین کے مسٹی شاعر اور ان کی انقلابی شاعری(قسط30) -سلمیٰ اعوان

اب خلش تو تھی نا۔ڈاکٹر ارشد نے اس باب کو کھولنے کی کوشش ہی نہ کی جو The Private Life of chairman Maoپر بات چیت کے دوران ماؤ کے ثقافتی انقلاب پر عوامی ردّعمل جیسے سوال کے نتیجے میں سامنے←  مزید پڑھیے

’’جاوید دانش‘‘ کی جگر پاشیاں (مہجری ڈرامے ’’ہجرت کے تماشے‘‘)-فیصل عظیم

زلفِ ’’نیم دراز‘‘ اور بالوں میں کبھی کبھی چھوٹی سی چوٹی کے باوجود جاوید دانش صاحب کے بارے میں بعض اوقات خواتین بدگمانی کے سے انداز میں پوچھتی ہیں کہ ’’جاوید دانش مجھے ’جگر‘ کیوں لکھتے ہیں‘‘ تو قہقہہ لگانے←  مزید پڑھیے

مورکھ من/شاہین کمال

وہ  انسان کسی کو سمجھنے کا دعویٰ کیا کرے جو خود ہی کو نہ جان پایا ہو۔ مجھے یاد ہے میں بر دِکھوّئے پر زینت کے گھر گیا تھا۔ زینت کے بیٹھک میں داخل ہوتے ہی، ہر چیز گویا کھل←  مزید پڑھیے

ادبی محبت نامہ۔۔ڈاکٹر خالد سہیل /حامد یزدانی

ادبی محبت نامہ از :ڈاکٹر خالد سہیل قبلہ و کعبہ و چند دیگر مقدس مقامات حامد یزدانی صاحب! آپ ایک پارسا ہیں اور میں ایک پاپی ہوں۔ ایک ایسا پاپی جس نے نہ صرف ایک پارسا کو دوست بنایا ہے←  مزید پڑھیے

مرا انگوٹھا کہاں لگے گا؟-ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مرا انگوٹھا کہاں لگے گا؟ میں ایک ناخواندہ شخص لایا گیا ہوں جکڑا ہوا سلاسل سے اُس عدالت میں ۔۔ جس کا قانون، ضابطہ، دھرم شاستر شرع و شریعت ۔۔ مرے لیے حرف معتبر ہے! مگر میں جاہل گنوار، اس←  مزید پڑھیے

اے حسن کے خدا/سیّد محمد زاہد

اے حسن مغرور، اے حسن کے خدا! آ، نیل کے اس پار چلیں جہاں تیری حسن آرائی کے سامنے طاقتور نہنگ و گھڑیال، ریت پر سر پٹختے قطرہ قطرہ ٹپکتی جیون کی مدرا کو ترستے ہیں۔ آ، اے جوانی کے←  مزید پڑھیے

قبرستان سے پوسٹ پیڈ خیر مبارک/مسلم انصاری

کہنے لگی : اب کی بار عید پر تمہاری کیا رائے ہے کیا اب بھی بچے نقلی گولیوں والی بندوق سے چوک چوراہوں اور گلیاروں میں لگے نارنجی بلب اڑا دیں گے؟ کیا ایسا ہوگا کہ بستی کا سب کا←  مزید پڑھیے

مجھے یاد ہے(قسط نمبر 3)۔۔۔حامد یزدانی

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) قسط نمبر 3۔۔۔۔ جمعۃالوداع کی نماز اِس بار والد صاحب کے ساتھ نورشاہ روڈ والی دومنزلہ مسجد  میں ادا کی ہے۔امّی جان نے اس بار ہم سب کے لیے پڑوسن←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین / آنا چی سے ملاقات(قسط29) -سلمیٰ اعوان

میں دبے پاؤں نکل آئی تھی۔سعدیہ گروسری کے لیے گئی ہوئی تھی۔بچے اسکول اور نسرین کچن میں۔سچی بات ہے میں RQCکے اِس سنسان سے علاقے کے واحد سٹور کی خاتون سے باتیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ انگریزی میں بڑی←  مزید پڑھیے

” ھل من ناصر ینصرنا” محمد نصیر زندہ کی رباعیات۔۔ اظہر نقوی

محمد نصیر زندہ صاحب کے اس شعری مجموعے کا عنوان “ھل من ناصر ینصرنا “ ہے جو کہ واقعہ کربلا سے نسبت رکھتا ہے ۔ یہ جملہ بزبان حضرت امام حسین  علیہ لسلام دس محرم الحرام سن اکسٹھ ھجری اتمام←  مزید پڑھیے

رشتہ داروں کی ہر کل ٹیڑھی/ محمد علی افضل

یوسفی نے دشمنوں کے حسب ِعداوت تین درجے گنوائے ہیں۔ دشمن ، جانی دشمن اور رشتے دار۔ ہم سورج کو چراغ دکھائے دیتے ہیں کہ رشتے داروں کی فہرست میں موجودگی سے بقیہ دونوں اقسام خواہ مخواہ ولی اللہ معلوم←  مزید پڑھیے

سٹرابری/تحریر ؛ربیعہ سلیم مرزا

سمیرا کہنے لگی “مردوں کے پاس ایک کہانی کو چھپانے کیلئے کتنی کہانیاں ہوتی ہیں ۔اور ہم عورتوں کے پاس ہزار درد چھپانے کا بس ایک ٹوٹکا ۔ ” اینویں ۔۔امی یادآگئی تھیں ” میں سمیرا کی بات سُن کر←  مزید پڑھیے

مجھے یاد ہے (قسط نمبر 2)۔۔۔حامد یزدانی

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) (قسط: ۲) ’’میں اوپر کی منزل پر بیٹھوں گا، سب سے اگلی سیٹ پر۔ آجائے جس جس نے میرے ساتھ آنا ہے۔‘‘   لال رنگ کی ذرا سابائیں طرف جھکی←  مزید پڑھیے