دمودر گپت کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔بس اس قدر معلوم پڑتا ہے کہ وہ آٹھویں صدی کے شاہ ِکشمیر جیا پیدا ونیا یادتیا کے دربار میں ایک اعلیٰ عہدے دار تھا۔ وہ کشمیر سے کاشی آ گیا، اور← مزید پڑھیے
شہر کا وہ علاقہ کبھی نواح میں سمجھا جاتا ہوگا مگر اب شہر اس سے کہیں آگے پھیل چکا تھا۔ وہاں متوسط طبقے کے لوگوں کی رہائش تھی۔ زیادہ گھر ایک منزلہ اور آگے لان رکھتے تھے۔ جنگلے بہت اونچے← مزید پڑھیے
پہلے حصّے کا لنک جبلت ِ مرگ (1)-احمر نعمان دوسرا حصّہ شکیب جلالی ڈاکٹر وزیر آغا نے شکیب کے آخری دنوں پر لکھا کہ وہ ان دنوں روز انکے پاس آ کر گھنٹوں بیٹھتے۔ بارہا موت کے بارے میں پوچھتے← مزید پڑھیے
خوبصورت لوگوں کے تذکرے پر مشتمل منفردکتاب نئی نسل کمپیوٹر کی زبان میں بات کرتی ہے۔ہیڈ فون کے ذریعے سنتی ہے۔کیمرے کی آنکھ سے دیکھتی ہے۔آئس پر چلتی ہے اورون ویلنگ کرتی ہے۔ ایسی مخلوق کے لیے لکھنا اور پھر← مزید پڑھیے
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا شمار عہد حاضر کے مستند نقادوں میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اردو میں مابعد نو آبادیاتی مطالعات کے بنیاد گزار ہیں، بلکہ جدید اور مابعد جدید تنقید سے لے کر لسانیات اور تنقید، متن← مزید پڑھیے
دریشہ اپنی ماں اور نانی کے ساتھ جب سمندر کنارے پہنچی تو سورج غروب ہو رہا تھا۔ گلاب کے رنگ میں نہائی کائنات سونے کی طرح چمک رہی تھی۔ سر پر تیرتے لال اور شوخ سرخ بادلوں کا رنگ بیان← مزید پڑھیے
اگر آپ ‘کچھ خاص” پڑھنا چاہتے ہیں تو مزاح نگر ہرگز نہ پڑھیں ۔اس میں کچھ بھی خاص نہیں ۔ مزاح نگر میں سب کچھ عام ہے مگر اس کا انداز تحریر بہت خاص ہے ۔ جو کرن کا خاصہ← مزید پڑھیے
وہ میٹھے بول،گیت یا باتیں جو ایک ماں اپنے لاڈلے بیٹے کو جگانے یا سلانے کے دوران دھیمی لے میں گنگناتی ہے ،اُسے لوری کہتے ہیں،ان میٹھے بولوں میں جہاں ایک ماں کے اپنے بیٹے کے لیے اپنے دل میں← مزید پڑھیے
تاریخ کی اکثر کتابوں میں کیانی یا گکھڑ”ڈانگ مار“مشہور ہیں اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے،لیکن سکرانہ کلر سیداں کے ہمارے بزرگ دوست،شاعر،محقق اوربراڈ کاسٹر یاسر کیانی بالکل بھی ”ڈانگ مار“ نہیں،لیکن یہ بات ضرور ہے کہ← مزید پڑھیے
سعید کے لیے بحران ،محض اس کی فلسطینی عرب کی شناخت پر مغربی طاقتوں کی اجارہ داری نہیں تھا،اس سے بڑھ کر تھا۔ اس کے بحران کا کچھ قصہ تقدیر نے بھی لکھا۔سعید نے اپنی آپ بیتی کا عنوانOut of← مزید پڑھیے
پہلی قسط کا لنک شری کٹاس راج مندر/ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری(1) کٹاس راج کمپلیکس طرزِ تعمیر ؛ اس پورے کمپلیکس میں ستگرہ (سات قدیم مندروں کا مجموعہ)، ایک بدھسٹ اسٹوپا کی باقیات، قرون وسطی کے پانچ دیگر مندر، ہندؤو← مزید پڑھیے
پہلے حصّے کا لنک کتاب تبصرہ(Think! Before It’s Too Late)/راجہ قاسم محمود(1) ڈی بونو کہتے ہیں کہ نئی سوچ کے پیدا نہ ہونے کی ایک وجہ ہماری زبان بھی ہے۔ دراصل ہماری زبان کی لغت محدود ہے۔ ہم کسی دوسرے← مزید پڑھیے
فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی ( شکیب جلالی) اردو کے جن بڑے شعراء نے سلویہ پلاتھ کی طرح اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، ان میں شکیب جلالی سرفہرست ہیں← مزید پڑھیے
چوتھی قسط سوزوکی ڈرائیور بڑا گرانڈیل جوان تھا۔ اس کا رنگ سرخ اور بال بھورے تھے۔ اس کی ٹوپی پر سجا تازہ پھول گویا خوش آمدید کہتا تھا۔ پتہ چلا تھا کہ اس کا تعلق داریل وادی سے ہے۔ داریل← مزید پڑھیے
ایڈورڈ ڈی بونو مالٹا سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے متعدد کتابیں لکھیں۔ Think! Before It’s Too Late ان کی ایک کتاب ہے جو کہ thinking کے بارے میں ہے۔ یہ کتاب دراصل ایڈورڈ ڈی بونو کی انسانی تاریخ کے← مزید پڑھیے
میں اچھا ہوں، برا ہوں، کس طرح کھل پائے گا مجھ پر ہزاروں چاہنے والے، مخالف بھی ہزاروں ہیں یہ تو وہ بات ہے جو رفیع الدین راز صاحب نے کہی لیکن راز صاحب کی شخصیت کچھ ایسی مرنجاں مرنج← مزید پڑھیے
پہلی قسط کا لنک چند جٹکی آلاتِ ضروریہ /کبیر خان( 1) ۳۔ موہلا گھریلو آلاتِ کشاورزی میں’موہلا‘نام کا ایک بد لحاظ آلہ بھی نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ یہ آلہ اُکھلی میں دئیے سر اور اناج کو کوُٹ← مزید پڑھیے
کوشلیہ کماراسنگھے کی کتاب “اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو” کا سنہالا سے اردو میں ترجمہ اجمل کمال نے کیا ہے،ترجمہ مصنف اور مترجم دونوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے،مصنف نے لفظ بلفظ کہانی سنہالا سے انگریزی میں مترجم← مزید پڑھیے
جب سعودی عرب اپنا 93واں قومی دن منا رہا تھا، اس وقت کویت کے معروف ناول نگار عادل الراشدی اپنا ناول (حینما یبتسم القدر) “When Fat Smiles” یعنی “جب قسمت مسکراتی ہے”، بطور ناول نگار شاہ عبدالعزیز کی سوانح عمری← مزید پڑھیے
یہ ستمبر کی ایک شام تھی مجھے یاد ہے ہوا میں تھوڑی سی خنکی اور نمی آ چکی تھی ایک کیفے کے چھت پر بیٹھے میں کچھ دوستوں کے ساتھ سگریٹ سلگا رہا تھا مجھے سگریٹ کا وہ برانڈ بھی← مزید پڑھیے