ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 222 )

تتھاگت نظم 19۔۔۔انگلی مالا (2)

انگلی مالا(ا )میں اس ڈاکو کو کہانی بیان کی جا چکی ہے، جو جنگل میں لوگوں کو لوٹ کر ان کی انگلیاں کاٹ لیتا تھا اور پھر انہیں ایک ہار میں پرو کر اپنے گلے میں پہن لیتا تھا۔ تتھا←  مزید پڑھیے

بچپن کے پنگے اور نوجوانی کے دنگے ـ (قسط 3)

ایک دن چھٹی کے بعد ہم سکول سے گھر آ رہے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان سے کاغذ کے چکور ٹکڑے برس رہے ہیں۔ اوپر دیکھا تو ایک فوکر نما طیارہ یوں کاغذ برسا رہا تھا جیسے شادی کے←  مزید پڑھیے

دو نسلوں کا اختلاف

میرے ایک دوست نے مجھے ایک کہانی سنائی کہ ایک لڑکی ہوتی ہے ناول نگاراور ڈرامہ نگار ، جو نئی نسل سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے ابو جان ڈاکٹر ہوتے ہیں جو پرانی نسل یا اولڈ جنریشن سے←  مزید پڑھیے

امی جان کے نام ایک خط ( ہپی مدڑز ڈے)

پیاری امی جان مجھے یاد ہے آپ بتاتی تھیں کہ جب آپ کراچی سے لاہور بیاہ کر آئیں تو آپ نانی اماں کو کتنے خط لکھا کرتی تھیں ۔ اور فون پر بات کرنے کے لئے جو اس زمانے میں←  مزید پڑھیے

دم توڑتی علمی روایات

اب تو خیر زمانہ ہی بدل گیا ہے، گھر کے سودے میں سے پیسے بچا کر نیٹ پیکیج کرانے والے بچے فیس بک پر دانشور لگے ہوئے ہیں ۔ البتہ دو تین دہائیاں پہلے ایسا قحط الرجال نہیں تھا۔ پاک←  مزید پڑھیے

وحدت الوجود(اناالحق کی توجیہ)

بحیثیت مسلمان ہم سب کا خدا کی ذات پر کامل یقین ہے.توحید کا جوکامل تصور اسلام میں ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور مذہب میں ہو.اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے.توحید کے راستے سے ہٹنا صریحاًگمراہی اور ضلالت←  مزید پڑھیے

پارے سے آبپارے تک

جو ں جوں گرمی کا موسم اپنے جوبن کی طرف جا رہا ہے اور پارہ چڑھائی کا سفر طےکر رہا ہے، ساتھ ساتھ لوگوں کا مزاج بھی گرم اور پارہ چڑھ رہا ہے۔سیاسی درجہ حرارت بھی اتار چڑھاؤ کا شکار←  مزید پڑھیے

میکسم گورکی کے ناول “ماں “پر تبصرہ

گزشتہ کچھ دنوں سے میکسم گورکی کا ناول”ماں” میرے زیر مطالعہ تھا،بلکہ یوں کہیں تو بہتر ہوگا کہ اس ناول کا آغاز کرنے کے بعد میں اس ناول کے حصار میں قید ہو گیا تھا۔ اس قدر عمدہ اور اثرانگیز←  مزید پڑھیے

بیٹری والی کار

چھوٹے چھوٹے ہاتھ اُٹھا کر، ننھی گلابی ناک پُھلا کر، گردن اپنی کچھ گھما کر، دیکھ رہی ہے، بیٹی مجھ کو۔۔۔۔ ہاتھ میں اس کے ایک کھلونا، تھوڑا مہنگا اور نیارا، نظریں اس کی جمی ہیں مجھ پر، اب تو←  مزید پڑھیے

ادب کی رومانی تحریک

رومانی تحریک کے سلسلے میں ایف اے لوگاس اپنی کتاب Decline and fall of the Roman Empire میں لکھتا ہے کہ : ’’رومانیت کی گیارہ ہزار تین سو چھیانوے تعریفیں ہیں ، کسی نے اس کو تحیر کی نشاۃ الثانیہ←  مزید پڑھیے

علم اور عمل

میں جانتا ہوں نماز چھوڑنا گناہ ہے پھر بھی نماز نہیں پڑھتا۔ میں جانتا ہوں جھوٹ بولنا غلط ہے پھر بھی جھوٹ بولتا ہوں۔ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے پھر بھی پیتا ہوں۔ لڑکیوں سے دوستی کر کے←  مزید پڑھیے

زندہ تصویریں

پیشے کے اعتبار سے وہ فوٹو گرافر۔۔۔۔۔ اسے اسکا پیشہ کہنا غلط ہے،یہ اسکا جنون تھا,پاگل پن تھا, عشق تھا۔۔۔ مناظر ہوں یا انسان ۔۔۔۔وہ ایک ہی لمحے میں انہیں قید کر لیتا۔۔۔ پھر گھنٹوں بیٹھ کر ان تصاویر کو←  مزید پڑھیے

گنجوں کی مانگ میں اضافہ

ماں کا لاڈ پیار موسمی اثرات کے زیر اثر ہوتا ہے۔اماں موسم سرما میں ہمیں مٹھو،راجہ اور سوہنا کہتی تھیں اور جونہی گرمیاں آتیں تو ہم سارے بھائی ٹنڈیں کروا لیتے تولاڈبھی بدل جاتا۔گرمیوں میں ہم اماں کے ٹینڈے ،←  مزید پڑھیے

نہ ملے زہر تو اپنا لہو پیتے ہیں

شہر کے سب سے بڑے مقدس گھر میں جس چبوترے پر عظیم خدا زیوس کا مجسمہ کھڑا ہے وہاں یہ الفاظ کنندہ ہیں۔ “اپنی تقدیر پہچانو”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر یہ تقدیر ہے کیا؟ جسم پر سادہ سی چادر لپیٹے، ننگے پاؤں ایک شخص←  مزید پڑھیے

تفریق کا فرق

ایک دانشور جو انسانی تمدن و تاریخ کا ماہر تھا اور انسان و جانور کے ماحول پر خوب لکھتا تھا، کل رات کو سویا تو وہ ایک بندر بن چکا تھا۔ وہ شاید کانگو کے کسی جنگل میں تھا یا←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم ۔۔18….ساکھشی، شرُوتی اور سمرِِتی

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتلی

دل کا کیا مول چکا بیٹھے۔۔۔! بابا یہ تتلیاں کتنی پیاری ہوتیں ہیں نا۔۔۔۔ دس سال کی تھی جب لان میں بیٹھے بابا کی شرٹ کا کونہ پکڑ کے اس نے متوجہ کیا تھا انہیں۔۔ہاں۔۔۔وہ چونکے،پھر خفا خفا سی آنکھیں←  مزید پڑھیے

چنگچی رکشے اور اَن بلیوایبل دانشوری

نواں آیاں ایں سوہنیا؟،۔۔۔ “فاصلہ رکھیے ورنہ محبت ہو جائے گی”،” شرارتی لوگوں کے لیئے سزا کا خاص انتظام ہے”،”ساڈے پچھے آویں ذرا سوچ کے”،”دیکھ مگر پیار سے”،”پیار کرنا صحت کے لیئے مضر ہے”،” صدقے جاؤں پر کام نہ آؤں”،”←  مزید پڑھیے

ایک شام فلم انڈسٹری کے نام

پاکستان کلب آف کینیڈا کے زیر اہتمام فلم انڈسٹری کے ساتھ گزاری گئی اس شام میں رنگ و نور کی ایک کہکشاں تھی ۔نامور سماجی اور فلمی ہستیوں سے مزین اس شام کو یادگار بنانے کا سہرا سب کے ہر←  مزید پڑھیے

اختیار اور اعتبار کی راہیں

تمام انسانوں میں آزادی، ارادہ اور اختیار اصل ہے، اور اگر اس سلسلہ میں مختلف وسوسے نہ پائے جائیں تو سبھی انسان آزادی اور اختیار کے طرفدار ہوں گے۔ عام فکر وخیال اور فطرتِ انسانی ”نظریہ اختیار“ کی واضح دلیل←  مزید پڑھیے