تفریق کا فرق

ایک دانشور جو انسانی تمدن و تاریخ کا ماہر تھا اور انسان و جانور کے ماحول پر خوب لکھتا تھا، کل رات کو سویا تو وہ ایک بندر بن چکا تھا۔ وہ شاید کانگو کے کسی جنگل میں تھا یا غالبا ایمازان میں۔ اس نے دیکھا کہ جانوروں کو جو علوم یاد ہیں انسانوں کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی۔کلامی طرزتعلیم دیکھ کر وہ ششدر رہ گیا۔اس کی ملاقات ایک کچھوے سے ہوئی جسے انسانی تمدن کی مکمل تاریخ یاد تھی اور جو دنیا کے تمام ممالک کا تین مرتبہ سفر کر چکا تھا۔اسے ایک کوے نے ارنسٹ ہیمنگ وے کے سارے ناولوں کے نام بتائے اور انکشاف کیا کہ وہ مارٹن لوتھر کی تقریر سننے والے مجمعے میں شریک رہا ہے۔ اسے ایک چھپکلی نے ٹی ایس ایلیٹ کی تمام نظمیں سنائیں اور ہاتھی کا مابعدالطبعیاتی فلسفے پر عبور دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔اسے ایک ہرن نے بتایا کہ وہ جنگل کی میراتھن ریس میں چار مرتبہ چیمپئن رہ چکا ہے۔ گدھے اور زیبرے میں کچھ خاص فرق نا تھا، بس ایسے جیسے اوقیانوس اور اریبئن سمندر کی ساحلی پٹی کے انسان۔ دریائی گھوڑا جوڑوں کے درد کا مریض ایک تالاب میں زندگی کے آخری ایام کاٹ رہا تھا۔اس کے باقی ساتھی بندر انجینئرنگ اور کاسمولوجی کے ماہر تھے اور جنگل کے بہترین اداروں کے فارغ التحصیل تھے۔
وہاں ایک چڑیا گھر بھی تھا جس میں سفیدفام، کالے، نیم کالے، چھوٹی آنکھوں والے منگول اور گندمی رنگت والے ایشایائے کوچک کے باشندے پنجروں میں بند نظر آئے۔یہ چڑیا گھر عجیب تھا۔یہاں پنجروں میں بند عجوبوں کی خوراک مختلف تھی۔ اس نے پنجرے کے باہر تختی پر دیکھا تو جانور کی تفصیلات درج تھیں جو پنجرے میں قید تھا۔ یہاں انسان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا تھا جو انسانی معاشرے میں جانور کے ساتھ مگر تھوڑا اچھا۔اس نے جانوروں کی عالمی تہذیبی کانفرنس میں ایک پرچہ پڑھا جس میں انسان کی جاہلیت، بے وقعت مسائل میں الجھے رہنے اور بربریت کے اعدادو شمار کا جائزہ لیا۔اس نے جنگل کے باسیوں کو افضل و خوشحال قرار دیا اور یقین دہانی کروائی کہ انسان جو یہاں کا ایک سابقہ باغی جانور ہی ہے، عنقریب شکست کھا کر واپس لوٹ آئے گا۔
اس نے باقی بندروں کے ساتھ درختوں پر چھلانگیں لگائیں، کیلے توڑ کر کھائے، رات کو دیر تک شور مچایا، جنگل کی سیاست پر بڑے بندروں کے تجزیے سنے، موسمی حالات کے لئے کاکروچ سے رائے لی اور سو گئے۔صبح جب وہ اٹھا تو اسے اپنے بدن پر کپڑے محسوس ہوئے اور دم ناپید تھی، اسے یقین ہو گیا کہ وہ انسان ہے۔وہ جلدی سے اٹھا کیونکہ آج اسے کالج میں "انسان اور معاشرتی اقدار" کے موضوع پر لیکچر دینا تھا جس میں انسان کی ذہانت اور تسخیر کائنات کے دلائل دئیے جانے تھے۔۔۔۔۔۔

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *