وحدت الوجود(اناالحق کی توجیہ)

بحیثیت مسلمان ہم سب کا خدا کی ذات پر کامل یقین ہے.توحید کا جوکامل تصور اسلام میں ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور مذہب میں ہو.اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے.توحید کے راستے سے ہٹنا صریحاًگمراہی اور ضلالت ہے.وحدت الوجود بھی اللہ تعالی ٰکی کاملیت کا اقرار ہے.اس کے سوا باقی سب فنا ہے۔بقا صرف اس وحدہ لاشریک ذات کو ہے. وحدت الوجود کے حوالے سے ایک مغالطہ رہا ہے۔ اسے توحید کے منافی کہا اور سمجھا گیا ہے اس ضمن میں منصور بن حلاج کا نام اوراس  کا مشہور زمانہ نعرہ انالحق لیا جاتا ہے. حق اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور انا الحق سے ظاہری معنی میں خدا ہوں کے بنتے ہیں.اس سے لوگ یہ تاثر لیتے ہیں کہ جیسے منصور نے اناالحق یعنی خدائی کا دعویٰ کر دیا.منصور کے انالحق سے مراد مخلوق اور خالق کے اتصال یاپھر خالق کے مخلوق میں حلول کو لیا جاتا رہا ہے،جو کہ غلط تصور ہے.اس سلسلہ میں منصور پر الزامات لگے۔اس وقت کے مولویوں نے منصور کو روکا،اہل کشف نے راز خداوندی آشکار کرنے سے منع کیا مگر منصور باز نہ آیا۔اس سب کے باوجود بزرگ اور اہل کشف منصور کے اناالحق کو خدائی کا دعویٰ نہیں سمجھتے۔
جو لوگ طریقت سے شغف رکھتے ہیں انہیں مراقبات کا علم بھی ہو گا.مراقبات عموما ًتحلیل نفسی کے لیے کیے جاتے ہیں.اللہ کا قرب حاصل کرنے اور نفس کو مارنے کے لیے کیے جاتے ہیں .مراقبات کی مختلف اقسام ہیں ان میں سے ایک قسم مراقبہ الموت بھی ہے۔اس مراقبہ کے بھی مختلف درجات اور منازل ہیں.اس مراقبہ کے دوران ایک درجہ یا منزل ایسی آتی ہے جب ہر چیر ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے.صرف ایک ذات کا شعور رہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے.اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہوتی محسوس ہوتی ہی.اسی چیز کا نام وحدت الوجود ہے….
وحدت الوجود ایک خاص کیفیت کا نام ہے جو اللہ کی محبت میں طاری ہو جاتی ہے.انسان کو جس سے محبت ہوتی ہے اسے اس کے سوا کچھ نہیں سوجھتا.عشق مجازی میں بھی جس سے محبت ہوتی ہے ہر دم اسی کا خیال رہتا ہے.مشہور ہے کہ مجنوں سے لیلیٰ کا پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں ہی لیلیٰ ہوں.ایسے ہی عشق حقیقی میں وہ درجہ بھی آتا ہے کہ جب ہر جا ہر سو وہی ذات دکھائی دیتی ہے.یہاں تک کہ اپنی ذات کا بھی ہوش نہیں رہتا.اسی لیے شاید عشق مجازی کو عشق حقیقی کی پہلی سیڑھی کہا گیا ہے.
منصور پر حلول و اتحاد کے بانی ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے مگر شیخ فریدالدین عطار اپنی شہرہ آفاق کتاب تذکرت الاولیا میں اس بات کا شدت سے انکار کرتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ جو لوگ منصور پر الزام لگاتے ہیں ان کو توحید کی الف ب کا بھی علم نہیں.جو ذرا بھی توحید سے واقف ہو گا وہ ایسا الزام نہیں لگائے گا.شیخ فریدالدین عطار مزید لکھتے ہیں کہ ” جولوگ درخت سے انی انا اللہ کی صدا کو تو جائز قرار دیتے ہیں اور اگر یہی جملہ منصور کی زبان سے نکلتا ہے تو خلاف شرع بتاتے ہیں۔”۔حضرت شبلی اس ضمن میں کہتے ہیں کہ جس وقت منصور کو پھانسی چڑھایا جانے لگا تو شیطان نے سامنے آ کر کہا کہ اے شیخ آپ نے انالحق کہا اور میں نے انالخیر،لیکن آپ کے اوپر رحمت ہوئی اور میرے اوپر لعنت…اس کی کیا وجہ ہے؟منصور نے فرمایا کہ تو نے انا کو اپنے لیے استعمال کیا اور میں نے خودی کو دور کرنے کے لیے انالحق کہا اسی لیے مجھ پر رحمت اور تجھ پر لعنت نازل ہوئی…
مولانا عبدالقدوس گنگوہی وحدت الوجود کے حوالے سے کچھ یوں لکھتے ہیں….
نیز مسئلہ وحدت الوجود مختلف فیہ مسئلہ ہے بعض کثرت وجود کے قائل ہیں تمام علما ظاہر اور اکثر زاہدین عابدین و مشائخ عظام اسی پر ہیں.بعض وحدت الوجود کے قائل ہیں.عارفان حقیقت و موحدین اس طرف ہیں اور یہ حضرات بھی بڑے بڑے علما تھے.دین کے معتقد اپنے وقت کے مجتہد تھے.اہل حق کا کشف بھی اس کی شہادت دیتا ہے.
پس یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے.نہ دین کے مخالف نہ آخرت میں مضر.یہ مسئلہ اسرار ربوبیت میں سے ایک راز ہے.حقیقت کی ایک بات ہے جو اپنے درجہ سے تعلق رکھتی ہے.ہر شخص کے لائق اور نہ ہر درجہ کے مناسب ہے.اسی لیے صوفیا نے کہا ہے الوہیت کے راز کو ظاہر کرنا کفر ہے.(یعنی عوام کے گمراہ ہونے کا خطرہ ہے) حق یہ ہے کہ منصور کی طرح اناالحق کہے اور دار پر پہنچ جائے۔
عزیز من معذور کا مسئلہ اور ہے،تندرست کا اور،مسافر اور مقیم کا اور ،عاقل و ہوشیار کا اور اسی پر قیاس کرنا چاہیے کہ ظاہرشریعت کا مسئلہ اور ہے طریقت کا اور حقیقت کا اور….
کلمہ طیبہ کے معنی ہیں لا معبود الااللہ شریعت کا مسئلہ ہے…
اور لامقصود الاللہ طریقت کا…
اور لا موجود الااللہ حقیقت کا…..
مولانا اشرف علی تھانوی صاب نے سیرت حلاج میں منصور کے انا الحق کی تاویل کچھ یوں بیان کی ہے.یاد رہے اشرف علی تھانوی کے نزدیک حلاج کی توحید پرستی پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جا سکتا….
“ایک تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت منصور کی زبان کلام حق کی ترجمان تھی.ان کی زبان سے انالحق اسی طرح نکلا تھا جیسے شجرہ موسٰی علیہ اسلام سے انی انااللہ رب العالمین کی آواز آئی تھی.ظاہر ہے کہ درخت نے تو اپنے آپ کو اللہ رب العالمین نہیں کہا تھا.بلکہ وہ اس وقت کلام الہیٰ کا ترجمان تھا.اسی طرح ابن منصور کے متعلق بھی یہی خیال کیا جا سکتا ہے اور غلبہ حالات و واردات میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عارف کی زبان سے اللہ تعالیٰ تکلم فرماتے ہیں جس کو سالکین اصحاب حال ہی سمجھ سکتے ہیں.پس یہ تو مسلم ہو سکتا ہے کہ منصور کی زبان سے انا الحق نکلا ہو مگر یہ مسلم نہیں کہ اس نے خود سے اناالحق کہا ہو….”
                  گفتہ او گفتہ اللہ بود
              گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
جن دنوں منصور بن ہلاج قید میں تھے.قید کی یہ مدت کم و بیش آٹھ سال بتائی جاتی ہے. اس قید کے دوران ابو العباس ابن عطا نے انہیں پیغام بھجوایا کہ وہ جو اناالحق کہتے ہیں اس سے توبہ کر لیں تو ان کی رہائی کی صورت نکل سکتی ہے.منصور نے کہا کہ “جس نے یہ بات کی اس سے کہو توبہ کرے” ابن عطار یہ جواب سن کر رو پڑے اور کہنے لگے کہ ہم تو خود منصور کے ادنی ٰغلام ہیں.ہماری کیا مجال اس معاملہ میں دخل دیں.اس واقعہ سے صاف پتا چلتا ہے کہ توبہ تو اس فعل کی ہوتی ہے جو خود سے سرزد ہو اور انا الحق میں نہیں کہتا کوئی اور کہتا ہے تو میں توبہ کیوں کروں.یعنی غلبہ حال کے وقت یہ لفظ اناالحق بلا اختیار ان کی زبان سے نکل جاتا تھا.
اسی مضمون کو پیر معین الدین اجمیری صاب نے اپنے اس کلام میں کیا خوب اور سادہ فہم میں بیان کیا ہے..
.
من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو
چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو
.
میں نہیں کہتا انا الحق ، یار کہتا ہےکہ کہہ
جب نہیں کہتا ہوں میں دلدار کہتا ہےکہ کہہ
.
ہر چہ می گفتنی بمن بار می گفتی مگو
من نمی دانم چرا ایں بار می گوید بگو
.
پہلے جو کہتا تھا وہ، تاکید کرتا تھا نہ کہہ
پھر نہ جانے کس لئے اس بار کہتا ہےکہ کہہ
.
آں چہ نتواں گفتن اندر صومعہ با زاہداں
بے تحاشا بر سر بازار می گوید بگو
.
جو نہ کہنا چاہئے تھا زاہدوں کے سامنے
بہ تحاشا برسرِ بازار کہتا ہےکہ کہہ
.
گفتمش رازے کہ دارم با کہ گویم در جہاں
نیست محرم با در و دیوار می گوید بگو
.
میں نے پوچھا اس جہاں میں رازِ دل کس سے کہوں
محرمِ دل جب تمیں دیوار کہتا ہےکہ کہہ
.
سر منصوری نہاں کردن حد چوں منست
چوں کنم ہم ریسماں ہم دار می گوید بگو
.
رازِ منصوری چھپانے کی نہیں ہے مجھ پہ حد
کیا کروں پھانسی کا پھندا دار کہتا ہےکہ کہہ
.
آتش عشق از درخت جان من بر زد عَلم
ہر چہ با موسیٰ بگفت آں یار می گوید بگو
.
عشق کی آتش نے جھنڈا کردیا دل پہ نصب
جو کہ موسیٰ نے کہا تھا یار کہتا ہےکہ کہہ
.
گفتمش من چوں نیم در من مدام می دمے
من نخواہم گفتن اسرار می گوید بگو
.
میں نہیں ویسا تو میری خاک میں ہے کیوں چمک
چاہتا ہوں نہ کہوں اسرار کہتا ہےکہ کہہ
.
اے صبا کہ پرسدت کز ما چہ می گوید معیں
ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو
.
اے صبا تجھ سے وہ پوچھیں کچھ معیں کہتا بھی تھا
دور کرنے کو دوئ غم خوار کہتا ہےکہ کہہ

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”وحدت الوجود(اناالحق کی توجیہ)

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *