تتھاگت نظم ۔۔18….ساکھشی، شرُوتی اور سمرِِتی

پیش لفظ
کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں بھی پہنچ پاؤں تو سمجھوں گا، میں سپھل ہو گیا۔ ایک گاؤں میں ایک سو لوگ بھی میری باتیں سن لیں تو میں ایک لاکھ لوگوں تک پہنچ سکوں گا۔ یہی اب میرا کام ہے ،فرض ہے ، زندگی بھر کا کرتویہ ہے۔ یہ تھا کپل وستو کے شہزادے، گوتم کا پہلا وعدہ … خود سے …اور دنیا سے۔ وہ جب اس راستے پر چلا تو چلتا ہی گیا۔اس کے ساتھ اس کا پہلا چیلا بھی تھا، جس کا نام آنند تھا۔ آنند نام کا یہ خوبرو نوجوان سانچی کے ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ تھا، لیکن جب یہ زرد لباس پہن کر بدھ کا چیلا ہو گیا تو اپنی ساری زندگی اس نے بدھ کے دستِ راست کی طرح کاٹ دی۔ یہی آنند میرا ، یعنی ستیہ پال آنند کے خاندانی نام ’’آنند‘‘ کی بیخ وبُن کی ، ابویت کی، پہلی سیڑھی کا ذوی القربیٰ تھا۔ اسی کی نسب خویشی سے میرے جسم کا ہر ذرہ عبارت ہے۔ مکالمہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان نظموں کے اردو تراجم اس میں بالاقساط شائع ہو رہے ہیں۔ اردو کے غیر آگاہ قاری کے لیے یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ ’’تتھا گت‘‘، عرفِ عام میں، مہاتما بدھ کا ہی لقب تھا۔ یہ پالی زبان کا لفظ ہے جو نیپال اور ہندوستان کے درمیان ترائی کے علاقے کی بولی ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ ’’ابھی آئے اور ابھی گئے‘‘۔ مہاتما بدھ گاؤں گاؤں گھوم کر اپنے ویا کھیان دیتے تھے۔ بولتے بولتے ایک گاؤں سے دوسرے کی طرف چلنے لگتے اور لوگوں کی بھیڑ ان کے عقب میں چلنے لگتی۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ جب کچھ دیر سے کسی گاؤں پہنچتے تو پوچھتے کہ وہ کہاں ہیں، تو لوگ جواب دیتے۔ ’’تتھا گت‘‘، یعنی ابھی آئے تھے اور ابھی چلے گئے‘‘۔ یہی لقب ان کی ذات کے ساتھ منسوب ہو گیا۔ میں نے ’’لوک بولی‘‘ سے مستعار یہی نام اپنی نظموں کے لیے منتخب کیا۔ ستیہ پال آنند – –
تتھاگت نظم۔۔۔۔ 18
ساکھشی، شرُوتی اور سمرِِتی
(چشم دید،سُنی سُنائی،اور یاداشت پر مبنی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساکھشی میں اور شُرُوتی میں، سِمرِتی میں
کس میں کتنا جھوٹ ہے، کتنی حقیقت؟
جب تتھا گت بُدھّ سے آنندؔ بھکشو نے یہ پوچھا
تو وہ بولے
’’تم تو، بھکشو، ساکھشی۰ بھی ہومری باتوں کے (ساکھشی : ناظر)
مجھ کو دیکھ کر پہچانتے ہو
اور ’شروتا‘ ۰ بھی ہو، میرے (شروتا : سامع)
کان دھر کی ہی مری باتوں کو سُنتے ہو ہمیشہ
اور اپنی ’ سِمرِتی ‘ میں (سمِرِتی : یاداشت)
ساری باتیں یاد بھی رکھتے ہو میری!‘‘

’’جی، تتھاگت! سچ ہے، میں تو
آپ کے مُکھ کی طرف ہی دیکھ کر سُنتا بھی ہوں
اور ساری باتیں یاد بھی رکھتا ہوں ۔۔۔‘‘

’’کل کلاں، میں چل بسوں گا ۔۔۔۔‘‘ بُدھّ بولے
تم مری باتوں کو اپنی یاد میں محفوظ رکھ کر چھوڑ دو گے
کچھ دنوں کے واسطے ماتم کرو گے
اور پھر جب
اپنے تبلیغی سفر پر
گاؤں گاؤں گھومتے پھرتے ہوئے
تم اپنے اُپدیشوں میں میرا نام لو گے (اُپدیش : خطبہ)
میری باتوں کو تم اپنے منہ سے دہراتے پھرو گے
تم کہو گے ۔۔۔ہاں ، تتھا گت پُنیہ کے اور پاپ کے بارے میں (کارِ خیر اور کارِ بد)
یوں فرما گئے ہیں
تم کہو گے۔۔۔ہاں تتھا گت جنّت و دوزخ کے بارے میں بھی
ایسے کہہ گئے ہیں
تم کہو گے ۔۔۔ ہاں، یقیناً ایشور کے ضمن میں ایسے کہا تھا
’’ایشور بس ایک مفروضہ ہے ، اک ہستی نہیں ہے!‘‘
تم کہو گے ۔۔۔ ہاں تتھا گت نے کہا تو تھا
قبولیت کی کوئی حد نہیں ہے
جو ملے دنیا میں، سب سویکار کر لو! (سویکار : قبول)
تم کہو گے …..
تم کہو گے …..!‘‘

دیکھشت ۰ آنند ، جیسے بُت سا بیٹھا ساری باتیں سن رہا تھا (دیکھشت : چیلا)

’’تم کبھی خود ہی کو دہراتے ہوئے یہ بھول جاؤ گے
کہ پہلے کیا کہا ہے
اور کبھی یاداشت پر مبنی تمہاری بات اس تعلیم کو جھُٹلا بھی دے گی
جس کو جھولی میں بھرے تم پھر رہے ہو
کل کلاں، اقوال میرے ، جوتمہاری یاد پر مبنی ہیں
کچھ کچھ سچ، بہت کچھ جھوٹ میں تبدیل ہوں گے!
یہ سمجھ لو
ساکھشی ہونے کا سچ ہی معتبر ہے!‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *