دو نسلوں کا اختلاف

میرے ایک دوست نے مجھے ایک کہانی سنائی کہ ایک لڑکی ہوتی ہے ناول نگاراور ڈرامہ نگار ، جو نئی نسل سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے ابو جان ڈاکٹر ہوتے ہیں جو پرانی نسل یا اولڈ جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں ۔لڑکی کے ابو اس کو کہتے ہیں کہ ایسی کہانی لکھو جیسے پرانے ناول نگار لکھتے تھے چیکو وغیرہ ۔لڑکی ناول لکھتی ہے اور اپنے ابو جان کو دکھاتی ہے مگر وہ اس ناول کو نا مکمل کہہ کر واپس کر دیتے ہیں کہ اس کی ابتدا اور اس کا خاتمہ اچھی طرح نہیں ہے۔ لڑکی اپنے ابو جان کو خوش کرنے کے لئے بار بار کہانی لکھتی ہے لیکن وہ ہر بار اس کو نامکمل قرار دے کر اس کو دوبارہ لکھنے کے لئے بول دیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ اس کا شروع اور خاتمہ تفصیل سے لکھو ۔
لڑکی بار بار کوشش کرتی ہے اور پھر اپنے ابو کو سمجھاتی بھی ہے کہ ابو جان یہ جدید زمانہ ہے لو گ لمبی لمبی کہانیوں سے بور ہو جاتے ہیں اور اب کہانیوں میں ویسی شروعات اور خاتمہ نہیں ہوتا جیسا پہلے ہوتا تھا مگر اس کے ابو یہ بات ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور اپنی بیٹی کو ایک ناکام ڈرامہ نگار اور ناول نگار قرار دیتے ہیں ۔وہ اس کی بات سے متفق نہیں ہوتے۔
ٓاگر ہم اس کہانی کو ہی دیکھیں تو ہمیں ایک بات نظر آتی ہے کہ لڑکی جدید نسل کی اور اس کے ابو پرانی نسل یا اولڈ جنریشن سے ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کوسمجھ نہیں سکتے اور بس اپنا اپنا نقطہ نظر سمجھا سکتے ہیں مگر دونوں ایک دوسرے کی بات نہیں مانتے ۔
یہ ایک کہانی نہیں اس طرح کی کہانیاں آپ اپنے ارد گرد روز دیکھتے ہوں گے ۔جہاں بڑا کچھ کہتا ہے اور چھوٹا اس کی بات کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے ۔یہ سوچ کا اختلاف ہے جو دونسلوں کے درمیان ہے مگر کوئی بھی ہار ماننے کو یا ایک دوسرے کی سننے کو تیار نہیں ہوتا ہے ۔ہر کوئی اپنی بات پر بضد ہوتا ہے کہ وہ صحیح ہے اور دوسرے کہ غلط قرار دیتا ہے ۔آپ اپنے روز مرہ کے معاملات میں دیکھیں ہمارے بڑے ہر بات میں اپنی مرضی زبردستی بچوں پر ٹھونس دیتے ہیں اگر بچہ آگے سے کچھ بول دے یا کوئی رائے دینے کی کوشش کرے تو اس کو جواب دیا جاتا ہے کہ تم ابھی بچے ہو تم کو زمانے کا پتا ہی کیا ہے ،تم بدتمیز ہو،تمہیں بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ،تم کو زمانے کی کیا سمجھ ،ہم نے دنیا دیکھی ہے، تم ابھی نا سمجھ ہو مگر کوئی بھی اس کی بات پوری طر ح سننے کی زحمت نہیں کرتا ہے ۔
شائد اس کی بات زیادہ اچھی ہو مگر وہ بضد اس بات پر ہی رہیں گے کہ ہم ہی ٹھیک ہیں اور بچوں کی باتوں اور ان کی رائے کو بالکل بھی اہمیت نہیں دیتے ہیں جس کا نتیجہ بچے والدین سے یا اپنے بڑوں سے دور دور رہتے ہیں یا پھر کھل کر کوئی بات نہیں بتاتے ۔میرے خیال میں بہت سارے بچو ں کے بگڑنے کی وجہ بھی ایسے والدین ہی ہوتے ہیں جو ن ایک نسل کی کسی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اسی وجہ سے ہمارے بچوں میں ضدی پن آجاتا ہے اور وہ اپنے والدین کی بھی ہر بات کو رد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
میں اکثر کہتا ہوں کہ ایک باپ اورماں کو اپنے بچوں کا اچھا دوست ہونا چاہیے تا کہ وہ اپنی ہر اچھی بری بات پہلے ان سے شیئر کریں۔ دیکھیں اگر آپ کا بچہ آپ کے سامنے کوئی مسئلہ لے کر آیا اور آپ نے اس کو ڈانٹ دیا یا اس کی بات کو سنی ان سنی کر دیا تو اگلی بار وہ آپ کے پاس نہیں آئے گا وہ کوئی دوست ڈھونڈ لے گا جو اس کو غلط راہ پر بھی لگا سکتا ہے ۔جیسے آج کل ہوتا ہے اگر کوئی لڑکا یا لڑکی کوئی غلط کام کر لیں تو اگر وہ اپنے والدین کو بتائیں گے تو وہ ان کو پیار سے سمجھا سکتے ہیں کہ اس بات کے کیا کیا نقصانات ہیں اس بات کے مثبت اور منفی پہلو سمجھا کر اس کو اگلی دفعہ نا کرنے کا کہہ سکتے ہیں ۔سو وہ بچہ سمجھ جاتا ہے اور اگلی دفعہ ایسا نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ والدین سے کوئی بات شیئر کرے اور وہ اس کو سمجھانے کے بجائے ڈانتنا شروع کر دیں تو بچہ ایک تو اگلی بار ان کو بتاتا نہیں اور وہ اپنے کسی دوست کو بتانا شروع کر دیتا ہے۔ اگلا اس کا دوست اس کو اور ہمت دلانا شروع کر دے تو وہاں سے اس کی تباہی کا سفرشروع ہو جاتاہے ۔اسی طرح شادی بیاہ کے معاملات میں بھی ہوتا ہے والدین اپنے بچوں خاص طور پر لڑکیوں سے مشورہ کرنا گوارہ بھی نہیں کرتے سو اس کا نتیجہ ان کی زندگی بعض دفعہ سمجھوتہ ایکسپریس بن جاتی ہے
میں والدین سے بہتِ ہی ادب سے گزارش کروں گا کہ پلیز اپنے بچوں کو سمجھنے کی کوشش کریں ان کی رائے کو اہمیت دیں ان کی بات کو پوری طرح سنیں۔ پھر اگر وہ غلط ہوں تو ان کو باقاعدہ دلیل سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ اگر ہم آپ ﷺ کی زندگی کو دیکھیں تو ہمیں بے شمار مثالیں ملیں گی جہا ں آپ ﷺ نے صحابہؓ سے باقاعدہ مشورہ لیا اور ان کی رائے کے مطابق کام کیا اور ان کی بات مانی۔ اگر آپ ﷺ ایسا کر سکتے ہیں تو ہم کہاں اپنے آپ کو عقل کلُ سمجھنے لگ گئے ہیں ۔میں اپنے سب دوستوں، خاص طور پر نوجوانوں سے گزارش کروں گا کہ کوئی بھی بات بجائے والدین کو یہ جتلا کر کرنے کے کہ آپ کو زیادہ بہتر پتا ہے ان کو باقاعدہ اس بات کے مثبت اور مفید پہلو پیار سے سمجھا کر کریں تا کہ وہ آپ کے لیے دعا بھی کریں اور آپ کو جہاں مدد کی ضرورت ہو وہاں آپ کا ساتھ بھی دیں ۔اور اگر کبھی کچھ غلط ہو بھی جائے تو کوشش کریں اپنے والدین سے ہی مشورہ کریں وہ آپ کو غلط گایئڈ نہیں کریں گے ۔

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *