دم توڑتی علمی روایات

اب تو خیر زمانہ ہی بدل گیا ہے، گھر کے سودے میں سے پیسے بچا کر نیٹ پیکیج کرانے والے بچے فیس بک پر دانشور لگے ہوئے ہیں ۔ البتہ دو تین دہائیاں پہلے ایسا قحط الرجال نہیں تھا۔ پاک ٹی ہاؤس، لکشمی چوک، پرانی انارکلی اور دیگر کئی جگہوں پر ہونے والی محافل میں صاحبان علم نوجوانوں میں نہ صرف مطالعے کا ذوق پیدا کرتے تھے بلکہ ان کی ذہنی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے۔
غالباً 1994 کی بات ہے، اللہ غریق رحمت کرے جناب خالد احمد صاحب کو جن سے ایک سینئر دوست نے تعارف کرایا۔ خالد صاحب کو جنون کی حد تک شوق تھا کہ نوجوان مطالعے کی جانب راغب ہوں۔ تعارف کے فوراً بعد گویا ہوئے، “کاکا! کورس اور پورنوگرافی کے علاوہ اور کیا کچھ پڑھا ہے؟ میں اس غیر متوقع اور غیر شرعی سوال پر پہلے تو چونکا، پھر جھجکا اور ذرا ہچکچا کر عرض کیا کہ ان کے علاوہ بھی کچھ پڑھ رکھا ہے۔ اس پر مسکرا کر بولے پورنوگرافی خصوصاً کلاسیکی وکٹورین عہد کی، انگریزی سیکھنے کا اچھا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ عرض کیا کہ انگریزی پر عبور تو نہیں لیکن اس کا خوف کانونٹ ہی میں نکل گیا تھا۔
یہ سن کر انہوں نے چشمہ ماتھے سے کھسکا کر ناک کی نوک پر جمایا اور بولے کہ پھر اردو کا ڈر کیسے دور ہوا؟
اب تک میری جھجھک کافی کم ہوچکی تھی، اس لیےکچھ اعتماد کے ساتھ جواب دیا کہ یہ کراچی میں رہنے کا فیض ہے۔
دوران گفتگو خالد صاحب مسلسل گولڈ لیف کی ڈبی کو کھول اور بند کر رہے تھے۔ غالباً میرے جواب سے انہیں کچھ تسلی ہوئی اور انہوں نے ڈبی کھول کر ایک سگریٹ مجھے عنایت کیا اور دوسرا اپنے ہونٹوں میں دبایا جنہیں سلگانے کا فریضہ ایک اور دوست نے انجام دیا۔ سگریٹ کا کش لگا کر بولے، کاکا جی! یہ بتاؤ کہ تمہیں شاعر کون سا پسند ہے؟ جواب میں غالب اور اقبال کا نام لینے کی اجازت نہیں کیونکہ نناوے فیصد لوگ یہی نام لیتے ہیں خواہ انہوں نے انہیں پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ عرض کیا کہ فیض کے علاوہ اختر حسین جعفری پسند ہے۔
یہی جواب شاید انٹرویو ختم کرنے کا سبب بنا کیونکہ اس پر خالد صاحب چند لمحوں تک بظاہر میری آنکھوں میں لیکن حقیقتاً ماضی میں دیکھتے رہے۔ پھر گویا ہوئے، یار کیا نام بتایا تھا تم نے ۔۔۔ ہاں، اظہر ۔۔۔۔ میں شام (یعنی رات) کو یہیں ہوتا ہوں، تم اگر فارغ ہوتے ہو تو آجایا کرو، گپ شپ رہے گی۔
آج احساس ہوتا ہے کہ جسے وہ گپ شپ کہتے تھے، وہ کئی کتابوں پر بھاری ہوا کرتی تھی۔ برسوں تک باقاعدگی سے جاری رہنے والی اس گپ شپ نے کتنی کتابوں سے روشناس کرایا، کتنے نظریات کی پرتیں کھولیں، کتنے عقدے حل کیے، آج شمار کرنا بھی چاہوں تو ممکن نہیں۔ انہی محفلوں اور مجلسوں سے ہم نے گفتگو کے آداب سیکھے، اختلاف کرنا اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھا۔
آج جب سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں کو جن کا کل علمی سرمایہ اسی سوشل میڈیا کی چند سطری پوسٹس ہیں، کو دقیق موضوعات پر بلا جھجھک غلط اور احمقانہ رائے دیتے دیکھتا ہوں تو دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ان بچوں کو بھی اگر ایسی مجالس ملی ہوتیں تو شاید ان کی تربیت میں یہ کمی نہ رہتی۔ پھر خیال آتا ہے کہ سوشل میڈیا پر تو بے شمار علمی شخصیات موجود ہیں، پھر بھی یہ بچے کیوں نہیں سیکھتے؟
شاید اس کا تلخ لیکن حقیقی جواب یہی ہے کہ یہ بچے سیکھنے نہیں بلکہ سکھانے آتے ہیں۔

ژاں سارتر
ژاں سارتر
ہر شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *