جنازہ گاہ میں ایک جنازہ لایا گیا تو مرنے والے کے وکیل نے اس کی خواہش کے مطابق وصیت پڑھنا شروع کی. میرے بھائیو !میں شرف الدین مرحوم آپ سے مخاطب ہوں میں نے آپ لوگوں میں زندگی گذاری لیکن← مزید پڑھیے
اصل ناول تو تامل زبان میں ’’مادھروبھاگن‘‘ کے نام سے بھارت میں 2010 میں شائع ہوا تھا جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ 2015 میں’’ون پارٹ وومن‘‘ یعنی ’’ ایک حصہ عورت‘‘کے عنوان سے پینگوئن بکس نے شائع کیا جسے گزشتہ← مزید پڑھیے
پیل ہام ایک رات پہنچا تو اپنے پلنگ کے برابر ایک ننگ دھڑنگ آدمی کوغراتے پایا۔ کمرے میں روشنی کم تھی لیکن اس کی آنکھوں نے پھر بھی کاندھے سے کلائی تک اس آدمی کا ایک بازو، کسی جلتی شے← مزید پڑھیے
سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔ جنگ سے پہلے میخائل ولڈامیر کا بڑا بھائی آئیون ولڈامیر ایک خوش مزاج اور خوش باش شخص تھا مگر جنگ میں اپاہچ← مزید پڑھیے
سڑیل کون ہوتا ہے؟ وہی جو قہقہوں بھری محفل میں بھی اچانک اٹھ کر کہہ دیتاہے’’معاف کیجئے! زیادہ ہنسنا منافقت کی نشانی ہے‘‘ یقیناًاس جملے کے بعد نہ ہنسنے کا جواز باقی رہتا ہے نہ محفل کا۔ سڑیل لوگ خداداد← مزید پڑھیے
وزیر آغا (مرحوم) سے خط و کتابت! دو تین ہفتوں کے تعطل کے بعد میں نے فون کیا، انہیں میرا خط مل گیاتھا اور وہ میرے فون کے انتظار میں تھے، لیکن کسی خانگی وجہ سے پریشان سے تھے، زیادہ← مزید پڑھیے
ایک روز ریلوے پھاٹک پر گاڑی گزرنے کے انتظار میں کھڑے دیر ہوگئی تو گاڑی سے نکل کر ترے سروِ قامت سے ایک قدِ آدم قسم کی انگڑائی لی۔ قریب گیلے چھولے بیچنے والے ایک کابلی بھڑبھونجے سے بیس روپے← مزید پڑھیے
اس کی طبعیت کچھ بوجھل تھی۔اور گھر کا ماحول میں جھجھک ہونے کی وجہ سے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس بوجھل پن کی وجہ ماں کو کیسے بتائے۔۔۔۔ وہ ایک مقامی لیڈی ڈاکٹر کے پاس گئی← مزید پڑھیے
چمکدار لکیریں بنتی تھیں، دور دور تک آسمان کا سینہ چیرتی ہوئی نکل جاتی تھیں۔ پھر ایک ایسی زوردار آواز پیدا ہوتی تھی کہ ہر ذی روح کپکپا کر رہ جاتا تھا۔ آسمان کی گرج دھاڑ شام سے جاری تھی۔ایک← مزید پڑھیے
اس کا اصل نام کچھ اور تھا لیکن اکثر لوگ اسے ملک صاحب کے نام سے جانتے تھے۔ وہ علاقے کا ایک جانا پہچانا اور معتبر نام تھا۔ اس کی عمر پینسٹھ سال کے قریب تھی لیکن قابل رشک صحت← مزید پڑھیے
وہ ہر رات وہیں کھڑی ہوتی جہاں اس وقت تھی۔ سردی ہو یا گرمی، نکھری نکھری چاندنی ہو یا دھند کے بادل چھائے ہوں حتیٰ کہ بارش بھی ہو رہی ہوتی تو وہ اِسی چوک میں مچھلی والی دکان کے← مزید پڑھیے
میرے پوچھے گئے سوال کا سائز شائد چھوٹا تھا یا دوست کے نقصان کا وزن زیادہ اسی لئے مجھے جواب دینے کی بجائے اس نے چہرے پر گرد کی طرح جمی افسردگی جھاڑتے ہوئے کہا . چل یارچھوٹی سی رقم← مزید پڑھیے
میں جب اپنے گھر سے دفتر کے لیے نکلتا ہوں تو مین روڈ پر آنے کے لیے مجھے دو سڑکیں کراس کرنا پڑتی ہیں۔ یہ اصل میں دو گلیاں ہیں لیکن بہت کشادہ ہیں۔آخری والی گلی کے بائیں جانب ایک← مزید پڑھیے
منتظر فیضؔ تھے جن لمحوں کے حد سے زیادہ آن پہنچا ہے وہی دن کہ تھا جس کا وعدہ ! ساٹھ سالوں سے میرا مان کچلنے والے جان لے اب کہ ترا یوم جزا دور نہیں وہ نفس، سلب کیا← مزید پڑھیے
نوعمر میخائل کا گاؤں روس میں بہتے دریائے وولگا کے کنارے آباد ایک چھوٹے سے شہر سمبرسک کی بالکل آخری حد پر واقع تھا، اس گاؤں کی سرحد کی نشانی ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی جس پر لگے شاہ بلوط← مزید پڑھیے
اتوار کی ٹھنڈی اور مہکتی صبح تھی۔۔۔۔صحن کی طرف کھلنے والی کھڑکی میں نصب شیشے کے سامنے ایک بلبل مسلسل اپنے پھیکے عکس سے لڑ رہی تھی۔ چونچ اور شیشے کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی آواز کے سبب جویریا← مزید پڑھیے
اے بلاک دے بنگلیاں وچکار بڑی شاندار سڑک سی ۔ دوہاں پاسے اُچے اُچے رکھ، سنگھنے بوٹے تے ساوا ساوا گھاہ۔ نرم نرم ساوا ساوا گھاہ ویکھ کے اوہنوں بڑا ہرکھ ہویا پئی کدی جے اوہ گھاہ کھا سکدا یا← مزید پڑھیے
کچا چِٹھّا وزیر آغا اور میری خط و کتابت کا (۱) (گذشتہ سے پیوستہ) اگر میں یہ کہوں کہ ڈاکٹر وزیر آغا سے میرے تعلقات ایک بے حد خوشگوار سطح مرتفح پر استوار میری واشنگٹن ڈی سی میں آمد کے← مزید پڑھیے
سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔ سب اپنا اپنا کام چھوڑے، سانس روکے کھڑے اس کے ڈگمگاتے پیروں کی طرف دیکھ رہے تھے، غلے کا بھاری بنڈل اس← مزید پڑھیے
سرکاری بس صبح کے اُس سمے خالی تھی ، میں اُن کے ساتھ تھا، ہم نے ایک خالی سیٹ دیکھی اور اُس پر بیٹھ گئے، میں کھڑکی کی جانب بیٹھا تھا، موسم میں خُنکی تھی، وہ میرے برابر میں بیٹھ← مزید پڑھیے