مولا کی دَین۔۔قرب ِ عباس/افسانہ

چمکدار لکیریں بنتی تھیں، دور دور تک آسمان کا سینہ چیرتی ہوئی نکل جاتی تھیں۔ پھر ایک ایسی زوردار آواز پیدا ہوتی تھی کہ ہر ذی روح کپکپا کر رہ جاتا تھا۔ آسمان کی گرج دھاڑ شام سے جاری تھی۔ایک تو سردی دوسرا رم جھم نے بھی زندگی کی رفتار کو سست کر رکھا تھا۔ولی پور کے لوگ دبک کر گھروں میں بیٹھے تھے۔
بوسیدہ مکان میں میاں بیوی نم آلود لکڑیوں کو مٹی کے کچے چولہے میں جھونک کر ہاتھ سینک رہے تھے۔ چولہے سے اٹھتا ہوا گاڑھا دھواں کمرے کی بالائی سطح کو ڈھانپے ہوئے تھا، بلب کی روشنی پھیکی سی پڑ چکی تھی سو منظر کچھ خواب ایسا دکھائی دے رہا تھا۔
جھریوں سے بھرے یہ اداس چہرے کافی دیر سے خاموش تھے آخر زینب نے باہر کی سردی جیسی یخ آہ بھر کر کہا؛
“میرو نہ مرتا میرا۔۔۔ مولا نے بہت بُرا کیا۔۔۔ خدا جانے کیا بیر تھا جو ایسے بھرے جلوس میں اسی کو آکر برچھی کا پھل لگا۔”
باسو نے سر اٹھا کر زینب کی جانب دیکھا اور پھر دھیمی سی آواز میں کہنے لگا؛
“کچھ خدا کا خوف کھایا کر۔۔۔ مولا کے جلوس میں گیا تھا وہ۔۔۔ کوئی تو اس کی رضا ہوگی اس میں بھی۔”
“بھلا اس میں کیا رضا ہوگی؟ میرا تو ایک ہی تھا منتوں مرادوں سے مانگا تھا۔۔۔ لینا ہی تھا تو دیا کیوں؟ ہم نہ کسی کا برا کریں ۔۔۔ کسی کا مال کھائیں نہ کسی کو گالی دیں۔۔۔ پھر بھی ہم سے امتحان لے۔۔۔ یہ کیسا مولا ہے؟”
“کفر بکتی جا رہی ہے۔” باسو کا لہجہ کچھ سخت ہوا۔ زینب پھر سے رونے لگی۔
” کیوں نہ بکوں؟ پال پوس کر اس دن کے لیے جوان کیا تھا کہ بکروں کی طرح کٹا ہوا دیکھوں۔۔۔؟ میرا تو سب کچھ تھا وہ۔۔۔
خدا تباہ کرے سیدوں کے اس لڑکے کو۔۔۔ کیا بگاڑا تھا میرے لعل نے ۔۔۔”
باسو نے گہری سانس لی؛
“مجھے تو اس وقت صغراء کی فکر ہے۔۔۔ کیسے منہ پھاڑ کر جہیز کا کہہ دیا ان لوگوں نے ۔۔۔ یہ بھی نہ سوچا کہ میرو کے بعد کوئی کام کرنے والا نہیں۔۔۔ پتا بھی تھا کہ میں بیمار ہڈیوں والا کسی کام کاج کے قابل نہیں۔۔۔ ” باسو کچھ چُپ ہوا پھر دوبارہ بولا؛
“اچھا سائیاں۔۔۔ تیرا ہی آسرا۔۔۔”
“سائیوں کے آسرے پر رہ کر اپنا جوان بیٹا گنوا دیا۔۔۔ میرا میرو۔۔۔”
زینب کی آواز بلند ہوئی اور وہ دھاڑیں مارنے لگی۔ ساتھ والے کمرے میں لیٹی صغراء کے بھی آنسو ٹپکنے لگے۔

میرو کچھ روز پہلے عاشورہ کے جلوس میں گیا تھا ، زنجیر زنی کے حلقے میں ایک طرف کھڑا ہو کر ماتمیوں کو دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں سیّدوں کے لڑکے کی برچھی کا ایک تیزدھار پھل جو گھوما تو میرو کی گردن پر چل گیا۔ جلوس میں ہلچل مچ گئی ، لوگ ارد گرد اکٹھے ہوئے۔۔۔ باسو بھی جلوس میں ہی تھا جیسے ہی اطلاع ملی وہ بھی گرتا اٹھتا وہاں پہنچ گیا۔۔۔ برچھی کا پھل اتنا تیز تھا کہ میرو نے چند ہی منٹوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔
اس طرح سے بھرے جلوس میں برچھی کا لگ جانا نہ تو کسی کے نزدیک کوئی جرم تھا نہ ہی قتل۔۔۔ سب نے باآواز بلند صلواۃ پڑھ کر کہہ دیا تھا کہ میرو تو جنتی ہے۔۔۔ عین شہداء کربلا کی شہادت والے دن برچھی لگی ہے۔۔۔ ایسی موت کسے نصیب ہوتی ہے۔۔۔؟
باسو بھی اس بات پر یقین تو رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود ایک باپ جس کا جوا ن بیٹا چلا جائے اور ہو بھی روزی روٹی کا اکلوتا ذریعہ، دکھ تو رہ جاتا ہے۔۔۔ زینب کا کرب تو ایک ماں ہی سمجھ سکتی تھی۔۔۔ جیسے اس پر پاگل پن کے دورے پڑنے لگےتھے۔۔۔ وہ چیختی چنگاڑتی چلاتی اور آسمان کی جانب منہ اٹھا اٹھا کر کہتی ؛
“توں نے اس دن کے لیے دیا تھا۔۔۔؟
میں جانتی تو کبھی جلوس میں جانے نہ دیتی۔۔۔”
عورتیں حوصلہ دینے کے لیے کہتیں؛
“یوں مت کہہ زینبے۔۔۔ دن تو دیکھ کیسا ملا تیرے بیٹے کو۔۔۔”
زینب کی چیخوں میں مزید شدت آجاتی؛
“ہائے میں نے کیوں بھیج دیا اپنا لعل۔۔۔ میں نے اسے روک کیوں نہ لیا۔۔۔ میں اب شام کو کس کی راہ دیکھوں گی۔۔۔؟ میری کچی روٹیوں پر اب کون لڑے گا۔۔۔؟ اٹھ جا میرو۔۔۔ اٹھ جا۔۔۔۔”

ادھر صغراء بھی بھائی کے لاشے کو دیکھ دیکھ غم سے نڈھال ہوئی جارہی تھی۔ باسو دھاڑیں مارتا تو مرد اسے کہتے مولا کہ یہی منظور تھا۔۔۔ کچھ ہوش و حواس میں تھا۔۔۔ سو صبر کر جاتا تھا۔۔۔اس نے آسمان کی طرف سر اٹھایا نہ ہی کوئی گلہ شکوہ کیا۔۔۔ اس کے دکھ بھرے مگر ٹھہرے جذبات میں تلاطم تو اس وقت پیدا ہوا جب اگلے ہی روز میرو کا دوست گھر چلا آیا؛
“چاچاباسو۔۔۔ میرو کو برچھی کا پھل سیدوں کے لڑکے نے جان بوجھ کر مارا ہے۔”
“جان بوجھ کر۔۔۔؟ کیوں؟ میرو کی اس سے بھلا کیا دشمنی”
“او چاچا جانے دے توں۔۔۔ میرو سیدانی ریشم کو چاہتا تھا اور وہ سیدوں کا لڑکا بھی۔۔۔ ایک دو باری اس نے روکا اور ان کی منہ ماری بھی ہوئی۔ مان نہ مان۔۔۔ یہ برچھی کا پھل ایسے ہی نہیں لگا۔۔۔”
باسو سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ پھر گاؤں کے لوگ افسوس کے لیے آتے گئے اور باسو بھی ایسے ہی بتاتا چلا گیا۔۔۔ خبر گاؤں میں پھیل گئی تو سنّی خیرخواہ بھی میرو کے قتل کا حساب سیدوں سے مانگنے کے لیے باسو کے برابر کھڑے ہوگئے۔ دو تین پنچایتیں ہوئیں۔۔۔ باسو نے روتے ہوئے، چنگاڑتے ہوئے کہا کہ یہ خون ہے۔۔۔ اور اسکی میں تھانے رپورٹ کروں گا۔ پورا گاؤں میرے ساتھ ہے یہ سُن کر سیدوں کے پاؤں بھی تھرانے لگے تھے۔ گاؤں والوں کی ہمدردی کو دیکھتے ہوئے وہ بھی کچھ ٹھنڈے سے پڑ گئے تھے۔ کھاتے پیتے تھے پیسے والے تھے۔۔۔ لیکن بات اب معمولی نہ رہی تھی کہ آدھا بازار گواہ تھا میرو اور ان کے لڑکے کی دو دن پہلے تو اچھی خاصی لڑائی ہوئی تھی۔ باسو بیمار نہ باہر جائے نہ کوئی خبر اس کے گھر آئے۔۔۔ سو وہ تو بے خبر رہا۔۔۔ لیکن میرو کے مرنے کے بعد تو پورا گاؤں جیسے اس کو قتل ہی کہنے لگا تھا۔ اب یہاں سید کیا کرتے۔۔۔ خاموشی سے پنچایتیں بھگت رہے تھے۔

تب سے صغراء، زینب اور باسو سب سیدوں کو بددعائیں دے رہے تھے اور میرو جو انکا واحد سہارا تھا کے قتل کا حساب مانگ رہے تھے۔ زینب کہتی تھی کہ میرے جوان بیٹے کو مارنے والا جب تک پھانسی پر نہیں چڑھ جائے گا میرا کلیجہ ٹھنڈا نہیں پڑے گا۔ باسو کہتا تھا میری کمر توڑنے والو خدا تمہاری کمر بھی توڑ ے گا۔۔۔ ادھر صغراء سسکیاں لیتی تھی اور کہتی تھی میرے بھائی کو مارنے والا نہ دنیا میں چین پائے گا نہ آخرت میں۔۔۔ مولا حساب لے گا۔۔۔ اور ضرور لے گا۔
میرو والا معاملہ ابھی بیچ میں ہی تھا کہ صغراء کے سسرال والوں نے محرم صفر کے بعد فوراً شادی کا پیغام پہنچا دیا۔ ساتھ ہی یہاں وہاں سے یہ بھی خبر پہنچا دی گئی کہ کچھ جہیز کا بدوبست کر لیں۔۔۔ برادری میں کچھ تو منہ دکھانا ہے۔۔۔ باراتیے زیادہ نہ ہونگے پر پچاس لوگوں کا کھانا تو بنتا ہے۔دکھ میں ڈوبے میاں بیوی میرو اور صغراء والی پٹری پر سر پاؤں رکھے لیٹے تھے۔۔۔ ایک کرب کی ٹرین انھیں کچل گئی تھی دوسری پلیٹ فارم پر کھڑی  سیٹی بجا رہی تھی۔ میرو کی موت کا صدمہ کچھ اور گہرا ہوگیا تھا، رہ رہ کر باسو کو احساس ہو رہا تھا کہ اگر اب میرو زندہ ہوتا تو اپنے بہادر انداز میں سینہ تان کر کہتا کہ ‘فکر کیوں کرتے ہو۔۔۔؟ میں ہوں نا’ اور پھر کچھ کرتا۔۔۔ دن رات محنت۔۔۔ دو دو جگہ نوکریاں۔۔۔ مگر پیسوں کا بندوبست ضرور کر لیتا۔ پر میرو تھا کہاں۔۔۔ ؟
زینب کی دھائیاں سن کر باسو کا بھی کلیجہ پھٹنے لگتا مگر وہ اس سے کہتا تھا؛
“خدا کی بندی توں ان بیبیوں کو نہیں دیکھتی جنہوں نے جوان بیٹے اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے میدان میں بھیجے ۔”
زینب بھڑک اٹھتی؛
“میں اتنا جگرا نہیں لا سکتی کہیں سے”
“جلوسوں میں بم دھماکے ہوتے ہیں، جوان مرتے ہیں۔۔۔ ان کی ماؤں کو بھی تو دیکھ۔۔۔”
“جوان مرتے ہیں تو ساتھ ان کی مائیں کہاں زندہ رہتی ہیں؟ مجھے پتا ہوتا تو کبھی جلوس میں جانے نہ دیتی۔۔۔”
زینب کے اندر عقیدت بغاوت کا روپ دھار رہی تھی۔۔۔ ہر لفظ پر باسو کا دل دھل کر رہ جاتا۔ وہ اس کے منکر لفظوں کے ڈر سے خاموش ہو رہتا۔

اگلے ہی دن پنچایت تھی۔ چودھریوں کی بیٹھک میں گاؤں کے باریش معززین، سیّد برادری اور باسو بیٹھے تھے۔ باسو مسلسل اپنی نظریں جھکائے خاموشی سے سب لوگوں کی باتیں سُن رہا تھا کہ سیّد وں میں سے لڑکے کا باپ اٹھا اور باسو کے سامنے ہاتھ باندھ کر کہنے لگا؛
“باسو تیرا بیٹا تو چلا گیا۔۔۔ میرا بھی ایک ہی ایک ہے دیکھنے کو۔۔۔ اسکی ماں مر جائے گی۔۔۔ کچھ خیال کر۔۔۔ کیا ملے گا ہم سے بیٹا چھین کر تجھے۔۔۔؟”
باسو نے کوئی جواب نہ دیا سر جھکائے رکھا۔۔۔ باسو کا بڑا بھائی اٹھا اور سیّد کے بندھے ہاتھ پیچھے کر دیئے؛
“نا سیّد بادشاہ نا۔۔۔ ایسے ناکر۔۔۔ تم لوگ تو ہمارے سائیں ہو۔ او باسو۔۔۔ جانے دے یار۔۔۔ یوں ہی سمجھ لے کہ مولا کی مرضی تھی یہ۔۔۔ اس میں بھی کوئی تیرا بھلا ہوگا۔۔۔”
باسو نے سر اٹھا کر اپنے بھائی کی طرف دیکھا، ذہن “بھلا” کا لفظ سُن کر جوان بیٹے کی موت کا جواز تلاش کرنے لگا۔۔۔ کہیں بھی کوئی بھی وجہ نظر نہ آئی تو باسو نے دوبارہ سر جھکا لیا۔
ایک اور آواز ابھری؛
“باسو۔۔۔ میں بھی یہی مشورہ دوں گا کہ میرے بھائی معاف کردے۔ جانے والا تو چلا گیا اب تجھے کیا ملے گا؟”
اتنے میں تلخ سی واقف آواز باسو کے کانوں میں پڑی؛
“اگر یہ خدا کی مرضی ہوتی تو باسو اور ہم چپ کر جاتے۔ پر یہ خون ہے۔۔۔ اسکا جوان بیٹا گیا ہے۔۔۔ بے چارہ پوری عمر اٹھنے جوگا نہیں رہا۔۔۔ کیوں معاف کردے؟”
بیٹھک میں طرح طرح کی آوازیں آپس میں گڈمڈ سی ہونے لگیں۔ باسو کی سمجھ میں کوئی آواز نہ آرہی تھی، اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کسی بھرے جلوس کے بیچ میں کھڑا ہے جہاں برچھیوں کے چھناکے ابھر ابھر کر اس کے جسم کو زخمی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کے لہولہان جسم میں ایک گرم سی لہر اٹھی اور وہ تھرتھرانے لگا؛

“معاف کر دوں۔۔۔؟ کیسے معاف کردوں۔۔۔؟ میرا جوان بیٹا چلا گیا ہے۔۔۔ میرے گھر میں اب فاقے ہیں۔۔۔ جوان بیٹی گھر میں بیٹھی ہے۔۔۔ او میرا تو سہارا ہی میرو تھا۔۔۔ اور ۔۔۔ اور تم کہتے ہو میں معاف کر دوں؟”
باسو کی آواز آخری الفاظ پر آکر اس کے جسم کی طرح کانپنے لگی تھی۔ بیٹھک میں بالکل خاموشی چھاگئی۔
پھر سیّد دوبارہ اٹھ کر باسو کے قریب آبیٹھا ، کمر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا؛
“باسو تُوں بچی کی فکر کیوں کرتا ہے؟ ہم ہیں نا۔۔۔ توں بول کتنا خرچہ ہوگا؟ ہم کریں گےاسکی شادی۔۔۔ تیری بچی ہماری بھی بچی ہے۔۔۔”
باسو نے سیّد کی جانب دیکھا ، ہونٹ لرزنے لگے آنکھیں پھڑکنے لگیں اور ماتھے پر پسینے کے کے قطرے ابھرے؛
“صرف بچی کی شادی۔۔۔؟ میرے میرو کی قیمت صرف صغراء کی شادی کر کے پوری کرو گے؟ اور جو میرے گھر میں فاقے ہیں وہ کون دور کرے گا؟”
سیّد پھر بول اٹھا؛
“تُوں اسکی بھی فکر نہ کر۔۔۔ ہماری زمینوں کا حساب کتاب دیکھ لیا کر تیری روزی روٹی بھی چلتی رہے گی۔۔۔ مگر میرے بیٹے کی زندگی بخش دے باسو یہ میرے بندھے ہاتھوں کو دیکھ۔۔۔”
باسو کی آنکھوں میں سے کرب اور اطمینان بیک وقت چھلکنے لگا۔۔۔
شام کو باسو چولہے کے قریب پیڑھی پربیٹھا تھا جہاں زینب پہلے سے سُلگتی لکڑیوں کو بہتی آنکھوں کے ساتھ کب سے دیکھ رہی تھی؛
“میں کہتا تھا نہ کہ مولا بہت مسبب الاسباب ہے۔۔۔ سارے کام سیدھے کر دیئے اس نے۔۔۔۔”
زینب نے سرخ اور گیلی آنکھوں کو اٹھا کر باسو کے چہرے پر دیکھا تو اسے سوالوں کا گھن چکر دکھائی دیا
“تکلیف سہہ کر پیدا کیا۔۔۔ محنت کر کے جوان کیا۔۔۔
اور۔۔۔ کٹنے کے لیے جلوس میں بھیج دیا۔۔۔
مسبب الاسباب۔۔۔؟”
آسمان غضب ناک ہوکر گرجا۔۔۔ زینب کو لگا جیسے آسمانی بجلی کی کوئی باریک تار اس کے حلق سے ہوتی ہوئی پیٹ میں اتر کر آنتوں کو کاٹتے ہوئے گزر گئی ہے۔۔۔ اس نے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے اور پیڑھی پر دوہری ہو کر رہ گئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *