آدم شیر کی تحاریر

خاب وستیاں۔۔۔۔حمید رازی/تبصرہ۔آدم شیر

حمید رازی کی کتاب خاب وستیاں ہالینڈ، رومانیا، اٹلی، بلجیم اور فرانس کے تاریخی شہروں کا پنجابی میں لکھا گیا سفرنامہ ہے۔ یہ سفرنامہ دراصل ایک سرکاری معلوماتی دورے کا نتیجہ ہے جو حمید رازی اور ان کے دوستوں کو←  مزید پڑھیے

آئینہ نما۔۔۔۔ظفر عمران/تبصرہ۔آدم شیر

ظفر عمران کے افسانوں کی کتاب آئنہ نما میرے سامنے پڑی ہے اور یہ دو ماہ سے یہیں تھی مگر پڑھنے کی توفیق اس ہفتے ہوئی۔ گھنٹی والی ڈاچی اور فریب کار بانسری جنسی جبلت کی منہ زوری کا بیان←  مزید پڑھیے

گوجرانوالہ کے گیارہ بازار۔۔۔ آدم شیر

محمد سلیم الرحمن صاحب کے گھر سے دو گلیوں کے فاصلے پر میری سسرال ہے، سو سسرال جاؤ ں تو بیوی بچوں کو سسرال چھوڑ کر اُدھر پہنچ جاتا ہوں۔ اسی طرح خالد فتح محمد صاحب کے گھر سے چند←  مزید پڑھیے

اندھا۔۔زکریا تامر/ترجمہ آدم شیر

شیخ محمود نے نوجوان شاگردوں کو کھڑکی سے جھانک کر آسمان دیکھنے کے لئے کہا تو شاگرد کھڑکی کی جانب لپکے،اور شیخ محمود نے ان سے پوچھا۔ ”تم نے آسمان پر کیا دیکھا؟“ ”ایک جہاز۔“ شاگردوں نے جواب دیا۔ ”اچھی←  مزید پڑھیے

خاموش آدمی۔۔زکریا تامر/ترجمہ آدم شیر

زہیر صابری ایک عورت سے ملا۔ ہری شاخ پر کھلے سرخ پھول کی طرح خوبصورت عورت نے زہیر کو تھرتھراتی آواز میں کہا، ”میں تم سے پیار کرتی ہوں اور تمہارے سوا کبھی کسی کو چاہ نہیں سکتی۔“ مگر زہیر←  مزید پڑھیے

دوسرا گھر ۔۔زکریا تامر/ترجمہ آدم شیر

خالد الحلب نے درشت جج کے سامنے دوپہر تک ذلت آمیز انتظار کو بھولنے کا انتظام کیا۔ جج نے اسے کرایہ کا مکان خالی کرنے کا حکم دیا تھا جس میں خالد بچپن سے رہ رہا تھا۔ وہ اس وقت←  مزید پڑھیے

دریا کی خاموشی۔۔زکریا تامر/ترجمہ آدم شیر

اگلے وقتوں کی بات ہے کہ دریا باتیں کرتا تھا اور اسے بچوں سے گفتگو کرنا بہت پسند تھا جو پانی پینے اور ہاتھ منہ دھونے آتے تھے۔ وہ مذاق کرتا، ”کیا زمین سورج کے گرد چکر کاٹتی ہے یا←  مزید پڑھیے

مجسمہ۔۔زکریا تامر / ترجمہ آدم شیر

عربی کے اہم ترین ادیبوں میں سے ایک زکریا تامر ہیں جو دو جنوری 1931عیسوی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں پیدا ہوئے۔ زکریا تامر نہ صرف افسانہ نگاری کے لئے مشہور ہیں بلکہ اُنھیں بچوں کا کہانی کار بھی←  مزید پڑھیے

شہادت۔۔آدم شیر/افسانہ

وہ ہر رات وہیں کھڑی ہوتی جہاں اس وقت تھی۔ سردی ہو یا گرمی، نکھری نکھری چاندنی ہو یا دھند کے بادل چھائے ہوں حتیٰ کہ بارش بھی ہو رہی ہوتی تو وہ اِسی چوک میں مچھلی والی دکان کے←  مزید پڑھیے

دس ضرب دو برابر صفر ۔۔آدم شیر

لاہور کے شمال میں ایک پرانی بستی ہے جس کی ایک تنگ اور بند گلی میں موجود اکلوتے کمرے کے مکان میں بلو کرائے پر رہتی تھی۔ اِس شہر کی ٹیڑھی میڑھی تنگ گلیاں اندر سے بڑی کھلی ہوتی تھیں←  مزید پڑھیے