شہادت۔۔آدم شیر/افسانہ

وہ ہر رات وہیں کھڑی ہوتی جہاں اس وقت تھی۔ سردی ہو یا گرمی، نکھری نکھری چاندنی ہو یا دھند کے بادل چھائے ہوں حتیٰ کہ بارش بھی ہو رہی ہوتی تو وہ اِسی چوک میں مچھلی والی دکان کے ساتھ نیم تاریکی میں کھڑی رہتی، جہاں سڑک پر جلنے والے بجلی کے بڑے بڑے قمقموں کی تھوڑی تھوڑی روشنی اُس تک پہنچتی رہتی تاکہ چوک کے چاروں  جانب سے نظر آ سکے ،لیکن واضح طور پر دیکھنے کے لیے اُس کے پاس جانا پڑے۔ وہاں کھڑے ہونے کی ایک وجہ تو  تلی ہوئی  مچھلی بیچنے والوں کی دکان تھی، جہاں بھری جیب والے ہی آتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ اسی چوک میں بسیں بھی غیر قانونی طور پر رکتیں، جن میں اِکا دُکا مسافر سوار ہوتے اور اترتے تھے۔

مَیں ہر رات اخبار کے دفتر سے دس بجے چھٹی کے بعد اُس جگہ پہنچ جاتا۔ مچھلی والی دکان کے اُس طرف وہ کھڑی ہوتی اور اِس طرف میں ،چھپڑ ہوٹل کی فٹ پاتھ پر پڑی میزوں میں سے ایک پر بیٹھتا۔ پہلے کھانا کھاتا، پھر چائے پیتا، آخر میں ایک سگریٹ سلگا لیتا، جس سے مزید کئی سگریٹ سلگ جاتے، اور چوری چوری اُسے دیکھتا رہتا۔ مَیں اُس سے ایک انجانی سی اپنائیت محسوس کرتا تھا۔ اُس کے احساس کا مجھے علم نہیں۔ کبھی تو کوئی جلد اُسے ساتھ لے جاتا اور کبھی خریدار کی آمد میں دیر ہو جاتی۔ گاہک نہ ملنے کی صورت میں وہ انتظار کی طویل گھڑیاں عام لڑکیوں کی طرح اِدھر اُدھر ٹہل کر کاٹتی نہ کہیں بیٹھ ہی جاتی تھی بلکہ بند دُکان کے جستی دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی رہتی تھی۔ اس طرح بت بنی وہ بڑی سخت جان معلوم ہوتی  تھی۔ اُسے یوں ساکت دیکھ کر میرے پاؤں دُکھنے لگتے تھے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوتی، یونہی کھڑی رہتی کالا دوپٹہ اوڑھے۔۔۔

کالے دوپٹے کے ساتھ اُس کا گورا مگر سپاٹ چہرہ بڑا بھلا لگتا تھا لیکن اُس کی بھوری بھوری آنکھیں، جن پر کالی ہونے کا گماں ہوتا تھا، گہرے گڑھوں جیسی تھیں،جنہیں دیکھ کر رگ و پے میں سرد لہر دوڑتی محسوس ہوتی۔ اُس کے کالے دوپٹے کے علاوہ اور بھی سیاہ رنگ چیزیں تھیں جو کبھی نہ بدلیں۔۔۔ شلوار اورقمیص۔۔۔ جیسے ابھی ماتم سے اُٹھ کر آئی ہو۔ خبر نہیں کہ اُسے کالے رنگ سے کیوں محبت تھی حالانکہ وہ خود گوری تھی۔ اُس کا پرس بھی سیاہ تھا، جس پر وہ ہر وقت ایک ہاتھ ٹکائے رکھتی، جیسے اِس میں سونا ہویا اُس سے بھی قیمتی شے۔۔۔ جیسے خطرہ ہو کہ کوئی چھین کر بھاگ نہ جائے۔ اُس کا بڑا سا کالا پرس دیکھ کر مجھے عرصہ پہلے پڑھے ہوئے جاسوسی ناولوں کی وہ فاحشائیں یاد آ جاتیں، جو ہر وقت اپنے پرس میں پستول رکھتی تھیں۔

اُس رات بھی میں معمول کے مطابق فٹ پاتھ پر پڑی میز پر بیٹھا سگریٹ کے دھوئیں میں پریشانیاں اڑانے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ بھی حسب معمول اپنی جگہ پر کھڑی ‘پیٹ کا ایندھن بھرنے کیلئے خریدار کا انتظار کر رہی تھی کہ ایک کار اُس کے پاس آ کر رکی جس میں سے دو چٹ کپڑئیے اُترے۔ وہ چند لمحے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اُس کے پاس گئے اور تینوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ تکرار نے طول پکڑا تو آوازیں بھی بلند ۔۔۔ اور بلند ہوتی گئیں۔ پل بھر میں کچھ لوگ اُن کے گرد جمع ہو گئے لیکن وہ سب سے بے پروا اس قدر چلا رہے تھے کہ فراٹے بھرتی گاڑیوں کا شور بھی کہیں گم ہو گیا۔
مفت کا مال نہیں، منتھلی دیتی ہوں، ساری عمر سڑتی رہو گی، بک بک کرتی ہے کتیا، پکڑو۔۔۔ اور یاد نہیں کیا کیا ایک کان میں گھُستا اور دوسرے سے نکلتا رہا لیکن جب وہ اُسے کار میں ڈالنے لگے تو میں کانپتی ٹانگوں کے ساتھ خود کو گھسیٹتے ہوئے تماشائیوں میں سے آگے بڑھا اور پوری ہمت مجتمع کرکے بولا۔
’’زبردستی کیوں کرتے ہو، کوئی اور ڈھونڈ لو۔‘‘
اُن میں سے ایک کے چہرے پر حقارت سے بھرپور مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ ایسے بڑبڑایا جیسے گالی دی ہو۔ دوسرے نے قہقہہ لگاتے ہوئے ہولسٹر میں اڑسا پستول نکال کر نال میرے ماتھے پر رکھی، منہ سے تھوک سڑک پر یوں پھینکا جیسے  گولی ہو، پھر اُس نے پستول کو چاروں اور گھمایا اور دوبارہ میری طرف تان لیا۔
’’تتر ہو جاؤ ورنہ یہیں ڈھیر کر دوں گا۔‘‘۔۔۔۔

تماشائی تیز ہوا میں چھٹتے بادلوں کی طرح سرکنے لگے اور وہ اُسے لے کر غائب ہو گئے۔ میرے بھی اوسان بحال ہوئے تو وسوسوں کے گھیرے میں گھر آگیا اور طرح طرح کی سوچیں ذہن میں لیے   سو گیا۔ دوسرے دن بھی بہت بے چینی رہی ۔ دفتر میں دھیان بٹا رہا مگر کچھ کچھ فکر بھی لاحق رہی۔ چھٹی ہونے پر جلدی جلدی وہاں پہنچا لیکن وہ وہاں نہیں تھی۔ میں دیر تک انتظار کرتا رہا، پہلو بدلتا رہا، چائے کی سرکیاں اور سگریٹ کے کش لیتا رہا مگر اُسے آنا تھا نہ آئی۔۔ البتہ کھانے چائے کا بل دیتے وقت دوپہر کے اخبار میں دو اہلکاروں کی شہادت اور ورثا کے لیے نقد امداد اور ملازمتیں دینے کی خبر ضرور آئی تھی لیکن اِس میں اُس کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *