مجسمہ۔۔زکریا تامر / ترجمہ آدم شیر

عربی کے اہم ترین ادیبوں میں سے ایک زکریا تامر ہیں جو دو جنوری 1931عیسوی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں پیدا ہوئے۔ زکریا تامر نہ صرف افسانہ نگاری کے لئے مشہور ہیں بلکہ اُنھیں بچوں کا کہانی کار بھی کہا جاتا ہے۔ اُنھوں نے بچوں کے لیے کہانیوں کی کئی کتابیں لکھی ہیں اور بڑوں کے لیے ان کی ننھی منی کہانیاں معنویت کے لحاظ سے بہت بڑی تسلیم کی جا چکی ہیں جو مختصر ہونے کے باوجود کئی پرتیں لیے ہوتی ہیں۔ وہ طنزیہ مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔ وہ افسانوں کے لیے لوک داستانوں کو بنیاد بناتے ہیں اور ان کے افسانے انسانوں کی ایک دوسرے کے ساتھ غیر انسانی حرکات کو عیاں کرتے ہیں۔ ان کی کہانیاں جو دراصل فلیش فکشن کہلاتی ہیں، سہل ممتنع کی عمدہ مثالیں ہیں۔ اختصار اور جامعیت ان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ زکریا تامر کی کہانیاں پہلی بار 1957 عیسوی میں شائع ہوئی تھیں اور اب تک کہانیوں کے گیارہ مجموعے، مضامین کی دو کتب اور بچوں کے لئے متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی کہانیوں کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ زکریا تامر کی کہانیاں کئی ممالک میں بطور نصاب بھی پڑھائی جا رہی ہیں۔ زکریا تامر کے افسانے اپنے عہد سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ وہ سیاسی اور سماجی جبر کو اس فنکاری سے موضوع بناتے ہیں کہ ان کی کہانیاں شام کے ساتھ عالم عرب اور دنیا بھر کے عام افراد کی کہانیاں بن جاتی ہیں۔ زکریا تامر اب لندن میں رہتے ہیں اور عمر کے اِس حصے میں بھی اپنے عصر کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے شام میں بہتی خون کی ندی پر کھل کر لکھ رہے ہیں۔

مجسمہ!

ایک عمر رسیدہ عورت، جس کی کمر جھکی ہوئی تھی، باغ میں گئی جہاں سارے درخت ٹنڈ منڈ تھے۔ وہ کھردرے چہرے والے دراز قامت آدمی کے پتھر سے تراشے بڑے مجسمے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس آدمی کا دایاں ہاتھ ہوا میں یوں اٹھا ہوا تھاکہ احترام اور خوف آتا تھا۔ یوں معلوم دیتا تھا کہ وہ اپنے نظر نہ آنے والے عقیدت مندوں کوجو اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، اپنی رحمت سے نواز رہا ہے۔

ضعیف عورت اس کے سامنے بے پناہ خوف زدہ تھی، اتنی زیادہ کہ اس کی ٹانگوں میں ضعف آ گیا۔ وہ اس آدمی کو نظروں سے پاش پاش کر دینا چاہتی تھی جس نے اس کے شوہر اور بیٹوں کو قتل کیا تھا مگر اس کی آنکھوں میں موجود یاسیت اور سدا کی عاجزی نے ایسا نہ ہونے دیا۔

تب بوڑھی اماں کو محسوس ہوا کہ وہ سکڑ رہی ہے اور وہ سکڑتی رہی یہاں تک کہ نہ رہی۔ اس کے ارد گرد موجود ہر شے، عمارتیں اور لوگ بھی اتنے سمٹے کہ غائب ہو گئے۔ کچھ باقی نہ رہا مگر سخت گیر آدمی کا مجسمہ اور پرندے جو اس پر گندگی پھیلا کر خوش ہوتے ہیں۔

(یہ کہانی زکریا تامر کی کتاب تکسیر رکب سے لی گئی ہے جس کا انگریزی میں Breaking-Knees کے عنوان سے فلسطینی پروفیسر ابراہیم مہوی نے ترجمہ کیا۔)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *