دوسرا گھر ۔۔زکریا تامر/ترجمہ آدم شیر

خالد الحلب نے درشت جج کے سامنے دوپہر تک ذلت آمیز انتظار کو بھولنے کا انتظام کیا۔ جج نے اسے کرایہ کا مکان خالی کرنے کا حکم دیا تھا جس میں خالد بچپن سے رہ رہا تھا۔ وہ اس وقت عاجزی اور مسرت سے بھر گیا جب اس نے دوپہر کی نماز کے بعد کسی کو کہتے سنا کہ جنت تمام ماؤں کے قدموں تلے ہے۔

خالد گھر لوٹتے وقت اپنے ساتھ کدال اور بیلچہ لایا اور دالان میں لکڑی کی کرسی پر بیٹھی اپنی ماں کے قدموں کے نیچے کھدائی شروع کر دی۔ ماں کی چیخیں کسی طرح رکنے کا نام نہ لے رہی تھیں مگر خالد کئی گھنٹے کھودتا رہا لیکن جب اسے سِلی مٹی کے سوا کچھ نہ ملا تو اس نے غصے کے ساتھ کدال اور بیلچہ پرے پھینک دیا۔

اس نے ماں کو میٹھی چائے کی پیالی دی جس میں نیند لانے والا برادہ انتہائی مقدار میں ملا ہوا تھا۔ خالد کی ماں چند منٹ کے اندر سو گئی تو خالد نے کھودے ہوئے گڑھے میں ایک قالین اور دو تکیے رکھ دیئے۔ اس نے ماں کو اٹھایا اور قالین پر لٹا دیا۔ پھر وہ تھکاوٹ سے ہانپتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا، بچی ہوئی چائے پی اور ماں کے ساتھ گڑھے میں لیٹ گیا۔ خالد نے ماں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور آنکھیں بند کر کے قبر کا اندھیرا فوری چھانے کی دعا شروع کردی۔۔۔

(مندرجہ بالا کہانی Another Home زکریا تامر کی کتاب الحصرم Sour Grapes مطبوعہ 2000ء میں شامل ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ ابراہیم مہوی نے کیا تھا)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *