کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 21

کچا چِٹھّا وزیر آغا اور میری خط و کتابت کا (۱)
(گذشتہ سے پیوستہ)

اگر میں یہ کہوں کہ ڈاکٹر وزیر آغا سے میرے تعلقات ایک بے حد خوشگوار سطح مرتفح پر استوار میری واشنگٹن ڈی سی میں آمد کے بعد ہوئے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ اب چونکہ دونوں طرف فون کی سہولیت میسر تھی، اس لیے ہفتے میں ایک دو بار میں آسانی سے بات کر لیا کرتا تھا۔ وہ کہیں آتے جاتے تو تھے نہیں، فون اٹھا کر نہائت شیریں آواز میں کہتے، ”جی۔۔۔ ”ہیلو، یا آداب، یا السلام علیکم“ بالکل نہیں کہتے تھے۔ صرف ”جی“ کہنے پر اکتفا کرتے۔

سعودی عرب کے تین برس کے قیام کے بعد جب میں پہلے امریکا، پھر کینیڈا،اورپھر امریکا میں اقامت پذیر ہوا تو فون کا رابطہ بڑھ گیا اور خطوط کا سلسلہ آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا گیا۔ میں عادتاً بے حد محنتی، مستعد اور سرگرم کار واقع ہوا ہوں۔ ان کے سب خطوط میرے ریکارڈ میں ہیں۔ ان سے فون پر ہوئی بات چیت کا ریکارڈ، لفظ بلفظ تو نہیں، لیکن مختلف ادبی مسائل اور موضوعات پر ان کے خیالات اور افکار کے حوالے سے، میری اپنی اختراع کردہ اردو ’شارٹ ہینڈ‘ میں، میری تاریخ وار ڈائریوں میں محفوظ ہے۔

ان کی بیگم کی وفات کے بعد اور انگلیوں میں آرتھرائیٹس کا ورم آ جانے کے بعد خطوط کا سلسلہ کم ہوتے ہوتے بالکل منقطع ہو گیا، لیکن فون پر بات چیت کا چلن جاری رہا۔ یہاں تک کہ میرا فون آنے پر، اگر کوئی ادبی دوست ان کے پاس بیٹھا ہوتا تو اسے بھی گفتگو میں شریک کر لیتے۔۔۔

آج یہ خطوط اور ڈائریاں میرا قیمتی سرمایہ ہیں۔ کچھ ایک خطوط میں ان کی اور میری ہم عصر شخصیات کے بارے میں جو کچھ درج ہے، اس میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے، جس سے کسی کی تضحیک یا دل شکنی مقصود ہو، تو بھی میں کچھ ایسے خطوط کو فی الحال منظر عام پر لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ان کے ”جی“ کہنے کے بعد لا متناہی باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ گپ شپ کم اور سنجیدہ باتیں زیادہ ہوتی تھیں۔ انہیں یہ دھن ہمیشہ سوار رہتی تھی کہ مجھ سے پوچھیں، ”کیا کچھ نیا پڑھا ہے؟“

ایک بار میں نے صرف دو دنوں کے اندر ہی دوسرا فون کیاتو انہوں نے عادتاً ہی پوچھا، ”ڈاکٹر صاحب، کیا کچھ نیا پڑھا ہے؟“

میں ہنس پڑا، میں نے کہا، ”ابھی پرسوں تو آدھ گھنٹہ میں بولتا رہا تھا اور آپ سنتے رہے تھے کہ پروفیسر احتشام حسین نے ترقی پسند تحریک کی گرم بازاری کے دنوں میں گراہم گرین اور دو دیگر قد آور یورپی ادبا کے مابین خط و کتابت پر مبنی ایک کتاب کے بارے میں کیا کچھ لکھا ہے۔۔اب دو دنوں میں اور کیا پڑھ لیا ہو گا، میں نے؟“۔

بو لے،”آپ کا کیا بھروسہ؟ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آپ نے Rapid Reading کی ٹریننگ لی ہوئی ہے اور جو کتاب باقی لوگ چھ  گھنٹوں میں پڑھتے ہیں، آپ ایک گھنٹے میں پڑھ کر پرے مارتے ہیں!“

ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کے بارے میں کئی مضامین لکھ چکا ہوں اور انہیں یہاں دہرانا مناسب نہیں ہے، تو بھی کوشش کرتا ہوں کہ ان میں سے کچھ مواد اس کتھا میں بھی شامل ہو جائے، کہ اس کے بغیر یہ کچھ ادھوری لگے گی۔ چونکہ میری اس خود نوشت سوانح کا بنیادی مقصد ہی یہ بتانا ہے کہ میں نے کس کس سے کیا کیا کچھ سیکھا، یا ہندی میں کہیں تو ایسے کہیں گے، کیا کچھ گرہن کیا، تو کیا یہ عجیب نہیں لگے گا کہ ڈاکٹر وزیر آغا پر بات کو مختصر کر دیا جائے؟

دنیا کی چار دِشاؤں سے، ایک درجن سے بھی زیادہ زبانوں میں لکھنے والوں سے،میں نے ایک لالچی بھکشو کی طرح گیان کی بھکشا پائی ہے تو اس مرّبی کا ذکر ادھورا چھوڑ دوں جس کی بھکشا میرے کمنڈل میں اب تک پڑی ہوئی ہے؟

وہ تو خود اتنے ”اُدار ہردے“ یعنی فراخدل واقع ہوئے تھے کہ کہا کرتے تھے، میں ستیہ پال آنند سے بات چیت میں بہت کچھ سیکھتا ہوں، لیکن مجھ ہیچمداں کو علم ہے، کہ میں کتنا گیانی یا اگیانی ہوں۔ گیان چکھشو (گیان کی آنکھ) ضرور کھلی رکھتا ہوں کہ جو کچھ دیکھوں اسے اپنے ذہن میں محفوظ کر لوں۔ یہ سلسلہ منشی تلوک چند محروم سے شروع ہوا، جب میں چودہ پندرہ برس کا تھا اور آج بیاسی برس کی عمر تک جاری ہے۔جوش ملسیانی، پروفیسر سنت سنگھ سیکھوں، راجندر سنگھ بیدی، اختر الایمان، کرشن چندر، ملک راج آنند، پروفیسر وی کے گوکک تو سب میرے بزرگوں میں سے تھے، لیکن اپنے ہمعصروں سے بھی، جن میں گوپی چند نارنگ، بلراج کومل سر فہرست ہیں، میں نے بہت کچھ پایا ہے۔کسی نوجوان نے مجھ سے کچھ سیکھا بھی ہے کہ نہیں، اس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر وزیر آغا کی طرف لوٹوں۔

تین فروری 2000ء کا تحریر کردہ ان کا خط یہ ہے:
”یہاں کی ادبی برادری کو اس قسم کے خطوط میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ تو اپنی چوہا دوڑ میں لگے ہوئے ہیں جس میں انہوں نے کردار شکن جوڑ توڑ اور مارا ماری ایسے مہلک ہتھیاروں کا اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت میں بھی اردو ادب کی صورتحال اس سے بہتر نہیں ہے۔ آپ نے فاروقی کے رویّے کا ذکر کیا ہے۔ اور ٹھیک تجزیہ کیا ہے۔مگر ایسے ہی کچھ اور لوگ بھی ہیں جو ادب سے کم اور ادبی لڑائیوں سے زیادہ لطف اندوز ہونے لگے ہیں۔ ایسے میں جینوئن ادیب گھبرا جاتے ہیں کہ کب تک اندھیرے میں قاری کو آوازیں دیتے رہیں گے۔۔“

میں اپنے خطوط کی نقول نہیں رکھتا۔ ہاتھ سے تحریر کردہ خط ڈاک میں ڈال دیے جاتے ہیں۔اور بعد میں یہ یاد تک نہیں رہتا کہ کیا لکھا تھا۔ اس لیے، جیسے کہ پہلے لکھ چکا ہوں، میں اپنی ڈائری میں کچھ نوٹس لکھ لیتا ہوں جنہیں پڑھنے سے ساری باتیں یاد   آ جاتی ہیں۔ میری ڈائری کے ستّر صفحے آغا صاحب کو لکھے ہوئے خطوط اور ان سے فون پر ہوئی باتوں سے متعلق ہیں۔ کچھ انگریزی میں ہیں اور کچھ میری اپنی ایجاد کردہ اردو شارٹ ہینڈ میں ہیں۔ میرے جس مکتوب کے جواب میں آغا صاحب نے یہ خط لکھا، اس کے notes کا خلاصہ یہ ہے۔
Referred to Duncan William’s book Trousered  Apes (Sick Literature in a Sick
Society…) Again, I referred to the first chapter of the book that begins with a
quotation from Ezra Pound’s poem “High Selwyn Mauberley”….Caliban casts out Ariel. What a traversity, I wrote, the etherial spirit has been replaced by the animal spirit. The lurid topicality of the themes that poets use today is not relevant to the age.

انڈیا کے دورے سے واپسی پر میں لندن رُکا تھا اور اپنے پرانے haunts کو باری باری سے سلام کرتا ہوا جب اِسلنگٹن میں کتابوں کی پرانی دکان پر پہنچا تو بوڑھے جیکب نے مجھے پہچان لیا۔ ”بڑے برسوں کے بعد آئے ہو، پروفیسر!”اس نے کہا، او رمیں اس سے ہاتھ ملاتاہوا لٹریچر کے سیکشن میں گھس گیا۔ چند کتابیں جو میں نے ایک ایک دو دو پاؤنڈ میں خریدیں ان میں ڈنکن ولیمز کی 1971ء میں چھپی ہوئی یہ کتاب بھی تھی۔ امریکا پہنچ کر میں نے اس کتاب کو دو بار پڑھا، کچھ پیراگراف رنگین پنسل سے ’ہائی لائٹ‘ کیے۔۔۔آغا صاحب کو تین صفحات پر مشتمل خط لکھتے ہوئے یہ پیراگراف بہت کام آئے، میں نے انہیں جوں کا توں نقل کیا۔ فاروقی صاحب (شمس الرحمن فاروقی) کا ذکر بر سبیل تذکرہ اس ضمن میں آیا کہ وہ ہر لکھنے والے کو اس کے ادبی قد سے نہیں ماپتے، صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ انڈیا کی ادبی سیاست میں ان کے ساتھ ہے یا نہیں، اور اگر انہیں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ سے اس شخص سے تعلقات کا شک ہو جائے تو پھر جو چور کی سزا وہ اس کی سزا۔ میرے ساتھ بھی کچھ برسوں تک یہی ہوتا رہا اور محترم فاروقی صاحب اور ان کے حواریوں نے مجھے لعن طعن کا نشانہ بنایا۔

میں نے آغا صاحب سے درخواست کی کہ اگر میرے ان خطوط کہ بجنسہ ”اوراق“ میں شامل اشاعت کر لیا جائے، تو کیسا رہے گا۔ آغا صاحب کا جواب تھا کہ یہاں لاہور میں کسی کو ان باتوں سے دلچسپی نہیں ہے کہ موجودہ دور میں ادب کا کیا کردار ہونا چاہیے۔ لوگ تو ’چوہا دوڑ‘ میں مصروف ہیں۔ خط ملنے کے بعد فون پر جو بات چیت ان سے ہوئی اس میں انہوں نے کھل کر کہا، ”حکومت کے مختلف اداروں سے ایوارڈ لینے اور نقد انعام پانے کی اس چوہا دوڑ میں وہ لوگ بھی مصروف ہیں جو اپنے وقتوں میں ترقی پسند تھے اور جن کی ایمانداری پر کبھی شک نہیں کیا جا سکتا تھا۔۔۔“

اشارہ تو صاف تھا لیکن میں در گذر کر گیا اور میں نے بات کو آگے نہیں بڑھایا۔ فاروقی صاحب کے بارے میں انہیں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں چونکہ ایک غیر ملک میں ہوں اور میرے ادبی، تدریسی اور تحقیقی کام پر انگلی اٹھانے کی کسی کو بھی جرآت نہیں ہوتی، اس لیے میں اپنی دھن میں لگا   رہوں۔ میرے نوٹس کی رو سے جو انہوں نے کہا، اس کا لب لباب یہ ہے۔۔

”آپ باہر بیٹھے ہیں۔ اگر انڈیا میں ہوتے تو آپ سے یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ سیمیناروں، کانفرنسوں اور ادبی اجتماعوں میں شرکت نہ کریں، اور اگر شرکت کرتے تو آپ کے نام پر ٹھپّہ لگانے میں کسی کو دشواری نہ ہوتی۔ یہی حالت پاکستان میں ہے۔ میں گھر سے باہر کیوں نہیں نکلتا؟ ادبی اجتماعوں میں شرکت کیوں نہیں کرتا؟ بلانے پر بھی کسی نشست میں کیوں نہیں جاتا؟ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مجھ جیسے گوشہ نشین کو، چوہا دوڑ میں مصروف یہ لوگ اگر نہیں بخشتے تو آپ جیسے فعال، کھل کر بولنے والے سخن آرا کو کوئی کیسے بخش دیتا؟“

انہوں نے کچھ اس طرح بھی کہاکہ یہ بات دوسری ہے کہ آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل کے بمصداق آپ چاہے جتنا اچھا بھی کیوں نہ لکھ لیں، اگر آپ ملک سے باہر ہیں تو آپ کو وہ ادبی رتبہ نہیں دیا جائے گا، جس کے آپ مستحق ہیں۔“

اکادمی ادبیات کی چھپی ہوئی ضخیم کتاب ”مزاحمتی ادب۔اردو“، شاید جناب ماجدؔ سرحدی کے توسط سے مجھ تک 1996ء میں پہنچی تھی۔ اس کتاب کے مختصر پیش لفظ میں فخر زماں صاحب نے تحریر کیا تھا۔ ”1977ء کا مارشل لاء اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ہماری قومی تاریخ کے دو ایسے بڑے المیے ہیں جنہوں نے ہر سطح پر ہماری قومی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ فکری اورتخلیقی سطح پر ان کا گہرا رد عمل ہوا ہے اور مزاحمتی ادب کے حوالے سے ایک نئی سوچ اور فکر سامنے آئی ہے۔ ہماری ادیبوں کی اکثریت نے اپنی تاریخی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف اس دور سیاہ کو ریکارڈ کیا ہے، بلکہ اس کے خلاف اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی ادب کو ایک نئے شعور سے متعارف کروایا ہے۔۔۔“ شاعروں کی فہرست میں چھیاسی نام تھے۔
ڈاکٹر وزیر آغا اس میں شامل نہیں تھے!

فون پر بات ہوئی تو میں نے اس کتاب کا ذکر کیا۔ کہنے لگے، ”خدا جانے کیسے میرا نام رہ گیا۔۔۔“ پھر کچھ سوچ کر بولے، ”۔۔لیکن،ڈاکٹر صاحب، میں بھی تو اس قماش کا شاعر نہیں ہوں، جو ادب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ شاید میں
نے کوئی نظم لکھی ہی نہ ہو۔“

یہ بھی پڑھیں :کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط20

میں نے عرض کیا، ”یا، شاید آپ کی کسی علامتی نظم میں اس طرح کے معانی تلاش کرنے کی کسی نے کوشش ہی نہ کی ہو۔۔۔“، بولے، ”نہیں، اب یاد آتا ہے کہ میں نے لکھی ہی نہیں!“ میں نے عرض کیا، ”کیا واقعی کسی ملک کے سیاسی بحران میں جینوئن آرٹسٹ کو کوئی ایسا مسئلہ بھی درپیش آتا ہے، جب وہ محسو س کرتا ہے، کہ اس کو اس مسئلے پر لکھنا چاہیے۔“

کہنے لگے. میری نظر سے یہ مجلہ نہیں گذرا، لیکن آپ اتنا تو بتائیں کہ مشمولات کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟“

میں نے عرض کیا،”بہت سے افسانے اور نظمیں یا غزلوں کے اشعار اچھے ہیں، لیکن چونکہ ان کے نیچے سن ِ تالیف یا کس رسالے میں شامل ِ اشاعت ہوئے،اس کا اندراج نہیں ہے، یہ معلوم کرنا واقعی نا ممکن ہے کہ آیا برسوں پہلے وہ اس دور میں لکھے بھی گئے یا نہیں۔ اس بات سے قطع نظر بھی مضامین نظم و نثرمیں بہت سے ایسے بھی ہیں جن سے یہ ظاہر ہی نہیں ہوتا کہ وہ پاکستان میں آمریت کے کس کے دور کے بارے میں ہیں، کیونکہ۔۔۔“

میری بات کاٹ کر بولے، ”چھوڑئیے اس بات کو، معاف کر دیجئے،مجھے یہ تو بتائیں، کہ مزاحمتی ادب یا پروٹسٹ لٹریچر کو وقتی یا short-lived کیوں کہتے ہیں آپ؟“

میں نے عرض کیا، ”اگر استعاراتی سطح پر اس سے کچھ یوینورسل معانی بھی اخذ کیے جا سکیں اور تاریخ کے دھارے میں بہتے ہوئے چالیس پچاس برس کے بعداسے صرف ان واقعات کے حوالے سے ہی نہ پڑھا جائے، تو شاید اس کی عمر لمبی ہو سکے۔“

بولے، ”یہ شرط لازمی ہے۔۔آپ مجھے اس بارے میں تفصیل سے ایک خط لکھ دیں تو میں ممنون ہوں گا۔“

تب میں نے انہیں ایک خط لکھا اور ایک تاریخی واقعے کی بابت بتایا۔ میرے اس خط کی نقل۔ جو میں نے اپنے کمپیوٹر میں رکھ لی تھی، حسب ذیل ہے۔

مکرمی و محبی ڈاکٹر صاحب۔ آداب۔ آپ سے فون پر جو بات ہوئی تھی، چاہیے تو یہ تھا کہ آج میں فون پر ہی آپ سے بات کرتا، لیکن کیا کروں،بسیار کوشش کے باوجود آپ کا نمبر نہیں ملا۔ ہر بار ایکسچینج سے یہ ریکارڈنگ ملی کہ یہ نمبر غلط ہے۔ پھر ڈاکٹر انور سدّید صاحب کا نمبر ڈائل کیا تو بھی فون پر یہی جواب ملا۔یقین ہو گیا کہ ایکسچینج میں ہی کچھ خرابی ہے۔یہاں امریکا میں یہ بات شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔
لیکن ہمارے ملکوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔
آپ نے مجھے تفصیل سے فون پر بتانے کے لیے کہا تھا۔ امید ہے، میرا یہ مکتوب اس واقعے کو تحریر میں لا کر زیادہ آسانی سے اس کی اہمیت بیان کر سکے گا۔ویتنام کی جنگ میں جب امریکی ہوائی جہاز اس چھوٹے سے ملک پر نہ صرف ’کارپٹ بامبنگ‘ کر رہے تھے اور قدم قدم پر گرتے ہوئے بم انسانی زندگی کا خاتمہ کر رہے تھے، بلکہ وہ کیمیکل بھی چھڑک رہے تھے جن سے سب درخت، پودے، جھاڑیاں، فصلیں، گھاس پھوس مر جاتے ہیں اور اس زمین پر آنے والے برسوں میں کچھ نہیں اگتا، تو فرانس کے شہرہ آفاق فلسفی ادیب ژاں پال سارترؔ نے ایک خط ہو چی مِنھ کے نام تحریر کیا تھا جس میں اس نے اپنے ویتنام آنے اور ویتنامی فوجیوں کے دوش لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس خط کے سلسلے میں جو رد عمل فرانس کے دوسرے ادیبوں نے کیا تھا اس سے ظاہر تھا کہ کسی جذباتی لمحے میں سارترؔ اپنا سارا
فلسفہ بھول گیا اور جلدی میں یہ خط تحریر کر دیا۔ اخباروں کے ادبی ضمیموں اور ادبی رسائل کے اداریوں میں شدید رد ِ عمل ہواتھا جس میں کسی بھی قومی یا بین الاقوامی واقعے یا حادثے کے بارے میں ایک آرٹسٹ کے فرائض پر بحث کی گئی تھی.یہ بات بھی کچھ مضحکہ خیز سی لگتی ہے کہ چند ہفتوں کے بعد سارترؔ نے اپنا دفاع کچھ عجیب الفاظ میں کیا۔ اس نے کہا کہ وہ جہاں ایک مصنف، دانشور اور فلسفی ہے، وہاں ایک جذباتی انسان بھی ہے۔ دانشور اور مصنف ہونے کی حیثیت میں اسے یقیناً  یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ ایک ایسے بین الاقوامی سیاسی مسئلے پر اپنا رد عمل اس طرح کھل کر ظاہر کرتا جو نہ صرف صدیوں کے انسانی سفر میں ایک لمحے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا بلکہ چند برسوں میں ہی بھلا دیا جائے گا۔ صلیبی جنگیں دو تین صدیوں تک جاری رہیں اور ان کے بارے میں یورپ کی مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں، لیکن آج انہیں کون یاد کرتا ہے، جبکہ انقلاب فرانس کے بارے میں کارلائلؔ کی ضخیم کتاب کو بھلا دیا گیا ہے لیکن اس پس منظر میں لکھا گیا چارلس ڈِکنزؔ کا لکھا ہوا ناول A Tale of Two Cities آج تک ایک مکمل دستاویز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ میں نے وہ مکتوب ایک جذباتی انسان کے طور پر تحریر کیا تھا جسے ہوچی مِنھ کے کمیونزم سے کوئی ہمدردی نہیں، لیکن جسے شہریوں کے قتل عام سے اور ماحول کو تباہ کرنے والے مہلت ہتھیاروں سے نفرت ہے۔۔۔میں نے وزیر آغا صاحب سے کہا، ”وہی ویتنام ہے، جس کی فیکٹریوں میں آج سرمایہ دار ملکوں، خصوصاً امریکا کی کمپنیوں کو در آمد کر نے کے لیے قمیضوں اور پتلونوں کی سلائی ہوتی ہے، سویٹریں ان مشینوں پر بُنی جاتی ہیں جو ِ ان امریکن کمپنیوں کی ارسال کردہ ہیں۔ اس کمیونزم کا کیا ہوا، جس کا خواب ہو چی مِنھ نے دیکھا تھا اور جس کے استحکام کے لیے چین کی مدد سے اس نے امریکہ کے خلاف لڑائی نہ صرف برقرار رکھی تھی بلکہ اس میں فتح حاصل کی تھی؟“ میں نے یہ بھی کہا کہ ویتنام کی جنگ کے خلاف جو نظمیں ان برسوں میں یہاں امریکا میں لکھی گئیں ان کی تعدا د ہزاروں میں ہے۔ صر ف ڈراموں کی تعداد ہی تین سو سے زیادہ ہے۔ یہ سب کتابیں شاید اس وقت شوق سے پڑھی بھی جاتی رہیں تھیں، لیکن اب یہ نا پید ہیں۔ لائبریریوں نے انہیں فاضل اور فضول سمجھ کر کوڑے دانوں میں پھینک دیا ہے۔ادب کے نصاب سازوں نے اس دور کی اس موضوع پر لکھی گئی تحریروں کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ عصری ادب کی تاریخوں میں پورے دور کا ذکر ایک دو پیراگرافوں میں کر دیا جاتا ہے، اور بس۔تو کیا اس اڈنبر کا جسے پاکستان میں ”مزاحمتی ادب“ کا نام دیا گیا ہے، وہی حشر ہو گا؟۔۔۔احباب کو آداب۔ نیاز مند: ستیہ پال آنند!

جای ہے۔۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *