تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا ۔۔رفعت علوی/قسط 1

سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔
سب اپنا اپنا کام چھوڑے، سانس روکے کھڑے اس کے ڈگمگاتے پیروں کی طرف دیکھ رہے تھے، غلے کا بھاری بنڈل اس کی پیٹھ پر جھول رہا  تھا، وہ رکتا اپنے ایک پیر پر زور دیتا، دوسرے زخمی پیر پر سنبھلتا، ہانپتا، گہری سانس کھینچتا، اور ایک قدم آگے بڑھا دیتا، سانس اس کے منہ سے باہر آتی تو سرد ہوا میں دھواں بن کر جم جاتی!
ارے سنبھل پاگل ۔۔۔کھیتوں کا نگراں چلاتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔۔تیمور او دیوانے۔۔۔پاگل تیمور۔۔۔چھوڑ دے واپس آجا۔۔مگر وہ سب کی آوازوں سے بے نیاز لوڈنگ ٹرک کی طرف بڑھتا رہا!

غلے کے ذخیرے اور لوڈنگ ٹرک اور چھکڑوں کے درمیان ایک نالہ حائل تھا جس کو پار کرنے کے لئے لکڑی کے تختے بچھائے گئے تھے، اس نے ڈگمگاتے قدموں سے ان تختوں پر پیر رکھا، تختے اس کے بھاری بوجھ سے چرچرائے جیسے ابھی تڑخ کر ٹوٹ جائیں گے، تختوں کی لچک سے وہ خود بھی ایک طرف جھول گیا، سب دیکھنے والوں کے منہ سے ایک چیخ سی نکلی مگر وہ سب سے بے پرواہ ڈگمگاتا سنبھلتا جھولتا ایک ایک قدم آگے بڑھاتا رہا، اس کا سر آگے کی طرف جھکتا، تندرست اور توانا بدن دوہرا ہوجاتا، بڑے سے سر پر   بےترتیب بال تیز ہوا میں لہراتے، مشقت اور بھرپور قوت صرف کرنے کی وجہ سے اس کے گالوں کی ہڈیاں  ابھر آتیں ،دانت پر سختی سے دانت جمائے وہ اپنی چوڑی پیٹھ کا بوجھ برابر کرنے کے لئے ہاتھ اوپر کرتا تو پرانی فوجی وردی کی آستینوں سے اس کے بازوؤں کی مضبوط مچھلیاں بار بار ابھر آتیں۔
آخر کار اس نے لکڑی کا پل پار کیا، زور لگا کر پیٹھ پر لدا ہوا بنڈل ٹرک پر موجود مزدوروں کی  مدد سے ٹرک کے اندر پھینکا اور ہانپتا ہوا دوبارہ  اس طرف  بڑھ گیا جہاں بالشویک کسان عورتیں کٹے ہوئے غلے کے ڈھیر سے بنڈل بنا بنا کر ڈھیر کر رہی تھیں، اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھے حیرت اور تحسین بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔
نگراں گالیاں بکتا اور اسے برا بھلا کہتا ہوا اس کی طرف بھاگا
کیا سمجھا ہے تو نے۔۔۔۔۔ہیں؟! کیا ہم سب جانور ہیں۔۔۔ہیں۔۔؟ تجھے اتنا وزن اکیلے اٹھانے کی کیا ضرورت  تھی۔۔ہیں۔۔۔۔۔۔کسی کی مدد نہیں لے سکتا تھا۔۔ہیں؟۔۔۔۔۔۔اب سن لے اگر دوبارہ ایسا کیا تو پھر ہسپتال پہنچ جائے گا۔۔ پھر سے۔۔۔۔۔ہیں!

یہ بھی پڑھیں : سیاہ حاشیہ ۔۔رفعت علوی

سب ہی جانتے تھے نگراں دل کا برا آدمی نہیں وہ تیمور کو محبت میں ڈانٹ رہا ہے مگر وہ ڈھیٹ اور باغی سپاہی دوسری طرف منہ کیے چپ چاپ نگراں کی ڈانٹ سنتا رہا اس کی حرکات و سکنات میں کوئی پچھتاوا کوئی خوف یا پھر کوئی شرمندگی نہ تھی، اس نے منہ پھیر کر تھوک کی ایک پچکاری ماری اور بغیر کوئی جواب دیئے کسی کی طرف دیکھے بڑی بےغرضی اور بے نیازی سے نسبتاً  چھوٹے بنڈل کو اٹھانے کے لئے جھک گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے اور کم عمر میخائل نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر تازہ ہوا کے جھونکوں کو اپنے اندر جذب کیا اور سرخوشی کے عالم میں اپنے چاروں  جانب دیکھا، جہاں دور تک ہرے بھرے کھیت کھلیان اور سر سبز چراگاہیں پھیلی ہوئیں تھیں۔
انقلاب نیا نیا آیا تھا، نیا سماج تھا اور ہر طرف جوش تھا، ملک کے کروڑوں مزدوروں اور کسانوں نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی  جابرانہ حکمرانی کے خلاف بغاوت کرکے سیاسی اور معاشی قوت اپنے ہاتھ میں لی تھی، یہ وہ خواب تھا جو آنرایبل ٹراسکی اور کامریڈ ولڈی لینین نے دیکھا اور پھر سویت یونین کے لاکھوں کسانوں سپاہیوں جہازیوں جاروب کشوں، کان کنوں اور محنت کشوں کی آنکھوں میں رکھ دیا تھا، میخائل کو بتایا گیا تھا کہ سب روسی بولشویک اور کامریڈ ہیں۔

انقلاب سے پہلے میخائل کے خاندان کا اپنا چھوٹا سا گھر تھا، ذاتی زمین تھی جس پر میخائل اس کا بھائی آئیون اور آئیون کی بیوی صوفیا اپنے تین کارندوں کی مدد سے سیب اور سنگترے کی کاشت کرتے تھے، مگر اب حالات دوسرے تھے، اب سب کچھ ریاست کا تھا، جنگ خاتمے پر تھی، امن کے معاہدے ہو رہے تھے، فوجیں اپنے اپنے ملکوں کو واپس جا رہی تھیں، پورا سویت روس ایک نئے نظریئے کی لپیٹ میں تھا،
کہا یہ جارہا تھا کہ اب سرخ سویرا آگیا ہے اور اس میں اس کائنات اورانسانیت کی نجات ہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ نہ تو پت جھڑوں کے سلاسل ٹوٹے تھے اور نہ ہی الم کی زنجیریں پگھلی تھیں، وہی داغ داغ اجالا تھا اور وہی تاریک روزن زنداں تھے، یہاں گستاپو نہ تھے مگر چیکا تو تھی، نئے سویت میں حکومت اور فوج کی سرپرستی میں پلنے والی خفیہ پولیس چیکا، جرمن گستاپو سے  زیادہ بےرحم اور خونخوار۔۔۔!
یہ بھی پڑھیں: لڑکپن کا عشق یاد نمبر 87۔۔منصور مانی

سب کسانوں کو تیمور ایک تنہا اکھڑ بدمزاج اور دنیا سے بیزار شخص نظر آتا تھا، کیمپ میں اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اس کو ان سے کوئی دلچسپی نہ تھی، کام کے اوقات میں اس کو کبھی خالی بیٹھے نہیں دیکھا گیا، اس کی کوشش یہ ہوتی کہ مشکل سے مشکل کام بھی وہ اکیلا کرے، کوئی اس کی مدد کرنے کی کوشش بھی کرتا تو وہ اس کو کھانے کو دوڑتا، کھانے کے وقفے یا آرام کے دوران جب سب کسان اپنے دوستوں اور بال بچوں کے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہانکتے، انقلاب کے ثمر اور نقصانات پر بحثیں ہوتیں، وہ سب سے الگ تھلگ بیٹھا خاموشی سے کسی سوچ میں غرق رہتا، ایک ہفتے پہلے ہی وہ اس اجتماعی کھیت پر کام کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا، جانے کس گاؤں کا رہنے والا تھا، شروع شروع میں کچھ لوگوں نے اس سے بےتکلف ہونے کی کوشش کی مگر بہت جلد وہ دوسروں سے یہ کہتے پائے گئے کہ یہ شخص تو دیوانہ اور بددماغ ہے ، دو ستارے کندھے پر کیا لگ گئے ہیں کہ اتراتے نہیں بنتی بیچارے سے، بڑا فیلڈ مارشل سمجھتا ہے اپنے آپ کو۔
عورتیں اس سے کترا کر چلتیں اور بچے! وہ تو اس کے پاس پھٹکنے کے رودار بھی نہ تھے، مگر میخائل کا مسئلہ دوسرا تھا اسے اس خبطی اور اکھڑ جوان میں ایک پراسرار سی کشش محسوس ہوتی تھی،اس کے خیالات اس کا طرز زندگی سب میخائل کو بہت متاثر کرتے، میخائل کو اس کی شخصیت میں اپنا تصوراتی ہیرو نظر آتا تھا، جس طرح وہ سب سے الگ تھا اسی طرح اس کی شخصیت بھی الگ تھی

جاری ہے۔۔۔

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا ۔۔رفعت علوی/قسط 1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *