تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔رفعت علوی/قسط2

نوعمر میخائل کا گاؤں روس میں بہتے دریائے وولگا کے کنارے آباد ایک چھوٹے سے شہر سمبرسک کی بالکل آخری حد پر واقع تھا، اس گاؤں کی سرحد کی نشانی ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی جس پر لگے شاہ بلوط کے دو بےڈھنگے سے درخت دور سے ہی جھومتے نظر آجاتے تھے، طویل العمری کی وجہ سے  ان دونوں درختوں کی شکلیں ہی بدل گئی تھیں، ایک درخت قد میں چھوٹا رہ گیا تھا بغیر پتوں کے تقریباً  تنڈ منڈ، اور دوسرا لمبا تڑنگا پتوں سے ڈھکا ہوا، دونوں ایک دوسرے میں مدغم ،ہم آغوش اور جھکے  آپس میں لپٹے، اس پہاڑی کی دوسری طرف برچ کے قد آور سفید تنوں والے کہیں چھدرے کہیں گھنے جنگلات تھے، جن پر سال کے آٹھ مہینے برف کی پھوار گرتی رہتی تھی اور جن کے فرش سال بھر خوش رنگ خوشبودار پھولوں سے پٹے رہتے اور جہاں پھرتیلی گلہیریاں دن رات بھاگم دوڑ میں لگی رہتیں۔

میخائل جس وسیع و عریض کھیت میں کام کر رہا تھا وہ بھی مشترکہ ملکیت کا کھیت تھا اور یہاں سیب، گنا، آلو اور مکئی کی کاشت ہوتی تھی، روس کے اس دور دراز علاقے میں زندگی کی سختیاں تھیں، بھوک تھی، غربت تھی اور جنگ تھی اس لئے عورتوں بچوں بوڑھوں سب سے کام لیا جارہا تھا۔ اردگرد کے سارے  سکول بند تھے اور ان کی بلڈنگوں میں اسلحہ بارود کا ذخیرہ تھا یا ان میں فوجی مقیم تھے، گاؤں اور قرب و جوار کے سارے علاقوں کے جوان لام پر تھے اور فسطائی فوجوں کے حملوں سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کر رہے تھے، اشتراکی پالیسی کے مطابق جو جوان بھی جنگ میں زخمی ہو کر گاؤں واپس آتا اسے بھی اجتماعی کاشتکاری میں جھونک دیا جاتا تھا۔ تیمور سمرونوف بھی انہی  جوانوں میں سے ایک تھا۔۔

سکول بند ھو نے کی وجہ سے میخائل کی طرح گاؤں کے دوسرے بچے بھی پڑھنے لکھنے کے بجائے اجتماعی کھیتوں میں کام کرتے، کھانے کے سامان پر راشنگ تھی، یہاں تک پھل بھی جو وہ خود اگاتے تھے ان پر بھی سرخ حکومت کا قبضہ تھا، ایک سیب خریدنے کے لئے بھی ہر شخص کو کوپن لینا پڑتا اور لمبی لمبی قطاریں لگانا پڑتی تھی، مگر پھر بھی میخائل ولڈامیر اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ خوش تھا، اس کا خاندان تھا بھی کیا؟ تین افراد کا گھرانہ، جس میں وہ خود، اس کا بڑا بھائی آئیون ولڈامیر، جو جنگ میں اپنا الٹا ہاتھ اور دایاں پیر کھو کر واپس آیا تھا، اور آئیون کی خوبصورت نازک ہاتھ پاؤں والی سنہری سی بیوی صوفیا پالینوف، یہ سب مل کر دن رات مشقت کرتے اور ان اچھے دنوں کے انتظار میں رہتے جس کا وعدہ انقلابی منشور میں کیا گیا تھا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میخائل نے کبھی بھی تیمور کی زندگی کریدنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کبھی اس سے بلاوجہ بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ یہ ضرور کرتا کہ دن میں دو بار اس کو کافی کا مگ ضرور پہنچادیتا اور یہ بھی کوئی خاص سلوک نہ تھا، اس وسیع کھیت کے آدھے کاشتکاروں کو دو وقت چائے ،کافی اور ووڈکا فراہم کرنا میخائل کی ذمہ داری تھی، کم عمر ہونے کی وجہ سے اس کے سپرد ایسے ہی چھوٹے موٹے کام لگائے گئے تھے، سب کاشتکار اس پر اپنا حکم چلاتے اور اسے دوڑ دوڑ کر سب کے کام کرنا پڑتے مگر تیمور نے کبھی اس سے کسی کام کی فرمائش نہ کی۔

اس دن بھی میخائل سب کو جلدی جلدی کافی کے مگ پکڑا رہا تھا بارش اور سردی کی وجہ سے سب محنت کش گرماگرم بھاپ اڑاتی کافی کی طلب میں بے صبرے ہو رہے تھے، چھوٹا میخائل ہانپتا کانپتا ٹھٹھرتا بارش میں بھیگتا اپنی سی کوشش کرتا جلدی کر رہا تھا کہ سب کسانوں کو وقت پر کافی مل جائے کہ اچانک سربیا کے گاؤں کا ایک بے صبرا کولکھوزنگ (دہقان ) اس پر برس پڑا، جانے وہ کس بات پر پہلے ہی سے تپا ہوا تھا، چڑچڑا کسان میخائل کو نکما، کام چور کہہ کر مارنے دوڑا، میخائل ڈر کر بھاگا، کسان گالیاں بکتا اس کے پیچھے لپکا، پھرتیلا میخائل اس کو چکر پہ چکر دیتا ہوا کھیت کے اس حصے میں جا پہنچا جہاں کچھ پرانے تناور درخت سر اٹھائے کھڑے تھے، ایک بڑے درخت کی جڑ سے ٹکرا کر گرنے  کے بعد ابھی وہ سنبھل ہی رہا تھا کہ سرخ چہرے والا مشتعل سرب کسان اس کے سر پر پہنچ گیا، میخائل نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیں، قبل اس کے کہ دہقان کا ہاتھ میخائل کےگریبان تک پہنچتا ایک مضبوط جسم آگے بڑھ کر ان دونوں کے درمیان حائل ہوگیا، سہمے ہوئے میخائل نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا!!! یہ تیمور تھا جو اس سرب دہقان کو سخت نگاہوں سے گھور رہا تھا، کسان کے بڑھے ہوئے ہاتھ رک گئے اس نے ایک خفت بھری نظر تیمور کے درشت اور منجمد چہرے پر ڈالی اور ایک نظر اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ کی طرف ۔۔پھر چپ چاپ واپس لوٹ گیا، اس دن سے میخائل اور تیمور میں پسندیدگی کا غیر محسوس اور ان کہا جذبہ پیدا ہوگیا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگ کے ہیبت ناک شعلے لپک رہے تھے ۔دھوئیں کے کالے مرغولوں سے فضا سیاہ پوش ہو رہی تھی، کیمپ کا نگراں چلا رہا تھا، عورتیں سہمی کھڑی تھیں اور مرد بالٹیوں میں پانی بھر بھر کر آگ کے شعلوں پہ ڈال رہے تھے، مگر یہ خشک بھوسے کی آگ تھی، جب تک سب کچھ خاک نہ کردیتی چین نہ پاتی، آگ کیسے لگی کسی کو کچھ معلوم نہ تھا مگر سب کا خیال تھا باہر سے آئے ہوئے ٹرک، چھکڑوں یا بگھیوں کے مزدوروں میں سے کسی نے بےخیالی میں ماچس کی جلتی تیلی زمین پر پھینکی ہوگی جو تیز ہوا کے جھونکے سے اڑ کر بھوسے کے ڈھیر پر جا گری تھی۔۔

اور اب کھیت کے دہقان تھے اور آگ کے بھیانک شعلے، اچانک میخائل نے صوفیا کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی تھی، پھر وہ میخائل کے قریب آئی اور چلا کے بولی “ننھے پشمینے” تو نے آئیون کو دیکھا ہے؟ وہ یہیں بھوسے کے ڈھیر کے پاس بیٹھا “ٹولا سماور” بنا رہا تھا ،وہ نظر نہیں آرہا، پھر وہ میخائل کا جواب سننے بغیر آئیون کو آوازیں دیتی ہوئی دوسری طرف بڑھ گئی۔

ذرا  ہی دیر میں سب طرف یہ خبر پھیل گئی کہ میخائل کا اپاہج بھائی غائب ہے اور چونکہ وہ بھاگ نہیں سکتا تو شاید آگ میں ہی پھنسا رہ گیا ہے، صوفیا روہانسی ایک طرف کھڑی منہ چھپائے سسکیاں بھر رہی تھی، اچانک ایک جانب کچھ ہلچل ہوئی اور شور کی آوازیں آئیں، عورتیں چلا چلا کر کچھ کہنے لگیں اور مرد شاباش۔۔۔۔ہمت کر۔۔۔۔۔ شوبک اوئے شوبک پانی اس پر پھینک، اس طرف سے نہیں پاگل ادھر کی صدائیں لگانے لگے، میخائل نے بھی لپک کر مٹی سے بھری بالٹی اٹھائی اور اس طرف دوڑ گیا جہاں شورہو رہا تھا، اس نے دیکھا دھوئیں کے مرغولوں کے پیچھے سے جھولتا ہوا کم گو اور بد دماغ تیمور نمودار ہو رہا تھا۔۔ اس کے کندھے پر ایک کمبل پوش پڑا تھا، دھوئیں اور آگ کے شعلے ان کے آس پاس رقص کر رہے تھے اور تیمور بےتحاشہ کھانس رہا تھا،
پانی کی کئی بالٹیاں ایک ساتھ دونوں پر گریں، آگ تو بجھ گئی مگر دھوئے کے مرغولے دیر تک ان کے اوپر چکراتے رہے، پھر ہوا کے تیز تھپیڑوں سے مرغولے صاف ہونے لگے، تیمور وہیں بےدم ہو کر دھوئیں میں لپٹی ہوئی جھاڑیوں پرگرا، لوگوں نے بھاگ کر دو کمبل ان پر ڈالے اور کھینچ کر صاف جگہ پر لیٹا  دیا،
تیمور کی پیٹھ پر لدا ہوا آدمی آئیون تھا، جو بیہوش تھا مگر سانس لے رہا تھا۔۔

جاری ہے!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *