۵ جولائی ۲۰۱۸ میرا جی کے بارے میں (وزیر آغا مرحوم کے نام میرے خطوط میں سے اقتباسات) (اقتباس۔ مکتوب 13.5.98) ڈاکٹر صاحب قبلہ…..آپ نے درست تحریر کیا ہے کہ دونوں کی رفاقت اور دوستی کو یگانگت کی وہ سطح← مزید پڑھیے
”چلو امجد جلدی سے گاڑی نکالو، آیان بابا کھیلتے میں چھت سے گر گئے”، آصف نے کہا “ارے ایسے کیسے گر گیا ناہنجار،الو کا پٹھا، دو لگاؤں سالے کے!!!” امجد اس گھر کا مالی، اردلی،ڈرایئور، چوکیدار سب تھا۔ بلا کا← مزید پڑھیے
سنو ذرا ایک ماچس تو دینا۔۔۔۔۔ دیکھو بھئی ادھر بھی دیکھ لو۔۔۔۔۔۔۔ توبہ ہے ، چھوٹی موٹی چیز لینی ہو ، تو پھر تو انتظار ہی کرتے رہو، کریانہ سٹور پر کھڑی چھوٹے قد اور کپڑوں سے باہر چھلکتے ،← مزید پڑھیے
ہر عہد اپنے ساتھ نئے مسائل اور نئے موضوعات لے کر آتا ہے۔ جب جب زمانے نے کروٹ لی ہے موضوعات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔۔۔ کچھ روایت پرست ادیب نئے موضوعات کو بہ آسانی قبول نہیں کرتے ہیں لیکن← مزید پڑھیے
پہلا منظر۔ “جوان بیٹی کو گھربٹھانے کا مطلب؟ بارود کے ڈھیر کو سلگتے انگاروں کی انگیٹھی پر رکھ دینا! بر تلاش کرو اور امانت حقدار کے حوالے کرو جلد از جلد!”۔ دوسرا منظر- “وہ نہیں مانتی! کہتی ہے اسے ابھی← مزید پڑھیے
20نومبر 1916 ء کو خوشاب کے ایک نواحی گاؤں انگہ کے ایک گھر میں خوشی منائی جا رہی تھی،غلام نبی کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا تھا،غلام نبی نے سجدہ شکر ادا کیا۔۔ وہ نومولود بچے کو لے کر خانقاہ← مزید پڑھیے
زندگی ایک طویل کہانی ہے، جس میں جھلساتی دھوپ بھی ہے، گھنی چھاؤں بھی ہے، اس کے پھیلے سایوں میں خوشی، غمی کے تانے بانے سے بُنی داستانیں بھی ہیں۔ یہ داستانیں کبھی ان سایوں سے بھی طویل ہو گئی← مزید پڑھیے
حضورِ والا برا نہ مانیں! کہ گُنگ صدیوں کا گُنگ ورثہ زبان ملتے ہی گستاخ ٹھہرا بجا جسارت بری ہے لیکن یہ باغی روحوں کی بھٹکی سوچوں کی پرکاہ برابر بھی وقعت نہیں ہے ہماری چپ کی زباں درازی شمارکیوں← مزید پڑھیے
مجھے ساب جی سے ملنا ہے ـ ایک غریب شخص ہیلتھ منسٹر کے دفتر کے سامنے گڑگڑا رہا تھا ـ اورمنسٹر کے ہرکارے اُسے اندر جانے کی اجازت نہیں د ے رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سوالی نے← مزید پڑھیے
ارشاد خان صغریٰ ہسپتال کے برآمدے میں بے صبری سے ٹہل رہا تھا ۔ بچے کی پیدائش کے بعد آج اس کی بیوی نے ڈسچارج ہونا تھا ۔ اور ضروری کاغذی کاروائی ہو رہی تھی ۔ ہسپتال کا آخری بل← مزید پڑھیے
انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ۔۔۔رشاد بخاری/قسط3 ایک اچھی خبر یہ ہے کہ دنیا سے جنگوں کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ تاریخ کے تمام ادوار میں جنگ ایک لازمی اور امن ایک عارضی حقیقت تھی۔ بین الاقوامی تعلقات← مزید پڑھیے
مجید امجد 29جون 1914کو جھنگ میں پید ا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا۔ ان کا خاندان پورے علاقے میں معزز و محترم تھا۔ ا ن کی عمر صرف دو سال تھی جب ان کی ماں اور← مزید پڑھیے
بمبئی سے ڈیڑھ ہزار میل دور۔ پندرہ بیس ہزار کی آبادی پر مشتمل قصبہ بلرام پور کی ایک سڑک کے سا تھ سرخ اینٹوں کی قد آدم دیواروں کا ایک احاطہ ہے۔ جس کے دونوں طرف لوہے کے پھاٹک مستعد← مزید پڑھیے
یابڑ گلی آج بہت عجیب پریشانی کا شکار تھا۔ کبھی سر پٹختا کبھی کان کھجاتا کبھی بنچ پر بیٹھتا تو کبھی گھاس پہ جا لیٹتا۔ پریشانی تھی کہ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔ دراصل ہوا یوں تھا کہ آج اخبار← مزید پڑھیے
دہر و آنات کے طلسم سے نکل کر وہ دونوں زمانی جکڑبندیوں کی آخری فصیل پر بیٹھے تھے۔ سرخ، بوسیدہ اینٹوں کی فصیل کے سب اطراف کو ایک ہلکا نیلگوں دود گھیرے ہوئے تھا اور اس میں فصیل پر پاوں← مزید پڑھیے
زیر سمندر واقع اس شاپنگ آرکیڈ کو عالمی شہرت حاصل تھی جہاں تک رسائی آبدوزوں کے ذریعے ممکن تھی۔ اس شاپنگ آرکیڈ میں ملبوسات کے مختلف النوع کے نمونے موجود تھے جبکہ بچوں اور نوجوانوں کی دلچسپی کی اشیاء کے← مزید پڑھیے
جب مجھے یہ احساس ہوا کہ مجھے واقعی اس سے محبت ہے تو ہماری طلاق کو 23 دن گزر چکے تھے۔ ان 23 دنوں میں مَیں خاصا مصروف رہا اور کچھ سوچنے کا وقت ہی نہ ملا۔ طلاق کے پیپرز← مزید پڑھیے
مملکت بھوٹان عسکری طور پہ زرخیز ہونے کے باعث محکمہ زراعت پہ خوب انحصار کرتا ہے۔ محکمہ زراعت زر کی آہٹ جہاں سنتا ہے، کھیتی ماڑی کرنے پہنچ جاتا ہے۔ اوکاڑہ میں محکمہ زراعت کے کھیت کھلیان پوری کیلا ریپبلک← مزید پڑھیے
بیشتر لڑکے ویسے ہی ہوتے ہیں، جیسا میں تھا، جیسے آپ ہوں گے۔ ہم سب کے کچھ دوست ہوتے ہیں جو بری صحبت میں بگڑ چکے ہوتے ہیں اور جن کی صحبت ہمیں بگاڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ہم← مزید پڑھیے
مائی کی باتیں: سڑک کے دائیں طرف گھاس کے چھوٹے سے میدان کنارے خیمے لگے تھے۔سڑک پہ ایک بُزرگ عورت اَور دو لڑکے کھڑے تھے۔اُنھوں نے ہماری گاڑیوں کو ہاتھ سے رُکنے کا اِشارہ کیا۔وقاص نے گاڑی تو نہ روکی← مزید پڑھیے