• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • مجید امجد:ہے جس کے لمس میں ٹھنڈک، وہ گرم لو ترا غم ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

مجید امجد:ہے جس کے لمس میں ٹھنڈک، وہ گرم لو ترا غم ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

مجید امجد 29جون 1914کو جھنگ میں پید ا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا۔ ان کا خاندان پورے علاقے میں معزز و محترم تھا۔ ا ن کی عمر صرف دو سال تھی جب ان کی ماں اور والد میں خاندانی تنازع کے باعث علیحدگی ہو گئی۔ ان کی والدہ انھیں لے کر اپنے میکے چلی آئی اور اپنے لخت جگر کی پرورش کرنے لگی۔ مقامی مسجد کے خطیب سے انھوں نے عربی اور فارسی زبان کی استعداد حاصل کی۔ ممتاز ماہر تعلیم رانا عبدالحمید خان کے ان کے خاندان سے قریبی مراسم تھے۔ مجید امجد کی تعلیم و تربیت ان کے ننھیال میں ہوئی۔ اسلامیہ ہائی سکول جھنگ صدر سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تاریخی تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج جھنگ میں داخل ہوئے اور یہاں سے انٹر میڈیٹ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج جھنگ کی علمی و ادبی فضا نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو صیقل کیا۔ جھنگ میں اس زمانے میں کوئی ڈگری کالج نہ تھا اس لیے وہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخل ہوئے اور 1934میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ جھنگ آ گئے اور یہاں کے مقامی مجلے ’’ ہفت روزہ عروج ‘‘ کی مجلس ادارت میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے 1939کے وسط تک بہ حیثیت مدیر ’’ ہفت روزہ عروج جھنگ ‘‘ میں خدمات انجام دیں ۔ اس زمانے میں پورا بر صغیر برطانوی استبداد کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ تاجر کے روپ میں آنے والے ایسٹ انڈیا کمپنی کے شاطر جو 1857سے تاج ور بن چکے تھے یہاں کے بے بس عوام کے چام کے دام چلا رہے تھے۔ 1939میں جب دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا تو غاصب برطانوی حکم رانوں نے اپنی جنگ میں بر عظیم پاک و ہند کے مظلوم عوام کو بھی جھونک دیا۔ یہاں کے بے بس عوام پہلی عالمی جنگ کے زخم خوردہ تھے۔ اب اس نئی افتاد سے ان پر جو کوہ الم ٹوٹا اس نے ان کو یاس و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ ہوائے جور و ستم کی اس مہیب رات میں بھی حریت فکر کے مجاہدوں نے رخ وفا کو بجھنے نہ دیا۔ مجید امجد نے ہفت روزہ عروج جھنگ کے مدیر کی حیثیت سے حریت فکر و عمل کا علم بلند رکھا اور حریت ضمیر سے جینے کے لیے ہمیشہ اسوۂ شبیر کو زاد راہ سمجھا۔ مجید امجد کی ادارت میں مجلہ عروج نے بہت ترقی کی اور اس کی اشاعت میں بھی بہت اضافہ ہوا۔ یہ مجلہ با ذوق قارئین ادب کے پاس ڈاک کے ذریعے جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شورکوٹ، چنیوٹ، کبیر والا، خانیوال، عبدالحکیم، مظفر گڑھ، فیصل آباد، بھکر، میاں والی، خوشاب، گڑھ مہاراجہ اور سرگودھا کے دور دراز مقامات تک ارسال کیا جاتا تھا اور اسے نہایت دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا۔ اس مجلے کی مقبولیت کا سبب یہ تھا کہ اس میں مجید امجد کے تجزیاتی اور تنقیدی مضامین، ادب پارے ، حالات حاضرہ پر تبصرے اور شاعری کی اشاعت کا سلسلہ مسلسل جاری تھا۔ مجید امجد نے تیشہ ء حرف سے فصیل جبر کو منہدم کرنے کی مقدور بھر کوشش کی۔ مجید امجد نے اپنی تحریروں سے قارئین میں عصری آگہی پیدا کی اور عوام میں حالات حاضرہ کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کی سعی کو اپنا نصب العین بنایا۔ خاص طور پر جلیاں والا باغ، موپلوں کی جد و جہد، بھگت سنگھ کے جذبۂ آزادی، حادثہ مچھلی بازار کان پور جیسے موضوعات پر عروج میں نظم و نثر کی جو تخلیقات شامل اشاعت ہوئیں ان سے جبر کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہو گیا۔ ظالم و سفاک، موذی و مکار استبدادی و استحصالی قوتیں اور مفاد پرست، ابن الوقت بیوروکریسی نے اس مجلے کی انتظامیہ کو اپنی انتقامی کارروائیوں سے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ دوسری عالمی جنگ میں جب برطانوی حکومت نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس خطے کے مظلوم اور بے بس و لاچار عوام کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تو مجید امجد نے اس کے خلاف ایک نظم لکھی جو عروج کے صفحہ اول پر شائع ہوئی۔ اس نظم میں انھوں نے اپنے رنج و غم اور عوامی غیظ و غضب کو اشعار کے قالب میں ڈھالا۔ اس نظم کی اشاعت پر مقتدر برطانوی حلقے بہت سیخ پا ہوئے اور مجید امجد کو عروج کی ادارت سے الگ ہونے پر مجبور کر دیا۔ ایک زیرک، فعال، مستعد اور حریت فکر کے مجاہد سے متاع لوح و قلم چھین کر اور آزادیِ اظہار پر قدغن لگا کر فسطائی جبر نے یہ سمجھ لیا کہ اب ان کے اقتدار کی راہ میں کوئی حائل نہیں ہو سکتا مگر وہ تاریخ کے مسلسل عمل سے بے خبر تھے۔ اگر زبان خنجر خا وش بھی رہے تو بھی آستین کا لہو پکار پکار کر ظلم کے خلاف دہائی دیتا ہے۔ مجید امجد نے ظلم کے سامنے سپر انداز ہونے سے انکار کر دیا اور کسی مصلحت کی پروا نہ کی اور عزت و وقار کے ساتھ مجلے کی ادارت سے علیحدگی کے بعد گھر چلے آئے۔ ایک بار پھر بے روزگاری کے جان لیوا صدمات اور جانگسل تنہائیوں کے ہولناک لمحات نے اس حساس تخلیق کار کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ کچھ عرصہ بعد انھیں ڈسٹرکٹ بورڈ جھنگ میں کلرک کی حیثیت سے نوکری مل گئی اور اس طرح انھوں نے اپنی انا پسندی، سفید پوشی اور خود داری کا بھرم بر قرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ در کسریٰ پہ صدا کرنا ان کے مسلک کے خلاف تھا وہ جانتے تھے کہ یہ جامد و ساکت کھنڈر اس قابل نہیں کہ انسانیت کے مسائل پر توجہ دے سکیں ۔ مجید امجد کی شادی 1939 میں اپنے چچا کی بیٹی سے ہوئی۔ یہ خاتون گورنمنٹ ہائی سکول برائے طالبات جھنگ صدر میں ایلیمنٹری سکول ٹیچر تھیں ۔ تقدیر کا المیہ یہ ہے کہ یہ قدم قدم پر انسانی تدبیروں کی دھجیاں اڑا دیتی ہے۔ مجید امجد کے ساتھ بھی مقدر نے عجب کھیل کھیلا۔ ان کی یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی اور اس کے بعد جدائی کا ایسا غیر مختتم سلسلہ شروع ہو ا جس نے مجید امجد کو خود نگر اور تنہا بنا دیا۔ مسلسل اٹھائیس سال تک ان کے درمیان ربط کی کوئی صور ت پیدا نہ ہو سکی۔ مجید امجد کی کوئی اولاد نہ تھی، انھوں نے اپنے بھائی عبدالکریم بھٹی (M.Sc. Math)کی بیٹی نوید اختر کی پرورش کی اور اس ہونہار بچی کو اپنی بیٹی قرار دیا۔ اب یہ خاتون فزکس میں M. Scکر کے ایک سرکاری ڈگری کالج میں بہ حیثیت پر نسپل خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ ا ن کے شوہر پروفیسر غلام عباس کا شعبہ کیمسٹری ہے۔ ان سے میری ملاقات ہوئی، نہایت خوش خصال، وضع دار، مہمان نواز اور شرافت کے پیکر اور توقیر کی مجسم صورت ہیں ۔ ان کے کمرے میں میز پر ایک گل دان رکھا تھا جس میں مختلف رنگوں کے گلاب کے پھول سجے تھے۔ سامنے دیوار پر ایک خوب صورت فریم میں مجید امجد کی تصویر اور ان کی نظم’’ گلاب کے پھول ‘‘ آویزاں دیکھ کر بے اختیار آنکھیں پر نم ہو گئیں ۔ یہ شعر پڑھا تو گریہ ضبط کرنا محال ہو گیا :

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

tripako tours pakistan

حکومت پاکستان نے 1944میں خوراک اور غذائی اجناس و ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے محکمہ خوراک کے قیام کا اعلان کیا۔ مجید امجد نے محکمہ خوراک کی بھرتی کا امتحان پاس کیا اور اس محکمے میں ملاز م ہو گئے۔ محکمہ خوراک میں ملازمت کے سلسلے میں وہ پاکستان کے جن اہم شہروں میں تعینات رہے ان میں لائل پور (موجودہ فیصل آباد)، مظفر گڑھ، گوجرہ، راول پنڈی، لاہور اور منٹگمری (موجودہ ساہیوال)شامل ہیں ۔ وہ جہاں بھی گئے وہاں علمی و ادبی محفلوں کے انعقاد میں گہری دلچسپی لی۔ مجید امجد کو ان کی زندگی میں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کے وہ یقینی طور پر مستحق تھے۔ ذرائع ابلاغ نے ان کو بالکل نظر انداز کر رکھا تھا۔ ادب کی ترویج و اشاعت پر مامور مقتدر حلقوں کی مجرمانہ غفلت نے کئی جوہر قابل گوشہ ء گم نامی کی جانب دھکیل دئیے۔ ہمارا معاشرہ قحط الرجال کے باعث بے حسی کا شکار ہو چکا ہے۔ یہاں جاہل کو تو اس کی جہالت کا انعام مل جاتا ہے مگر اہل کمال کی توہین، تذلیل، تحقیر اور بے توقیری کے لرزہ خیز، اعصاب شکن واقعات کو دیکھ کر وقت کے ان حادثات کو کوئی نام دینا بھی ممکن نہیں ۔ مجید امجد نے ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز رہتے ہوئے پرورش لوح و قلم کو اپنا نصب العین بنا یا۔ وہ حالات سے اس قدر دل برداشتہ اور مایوس ہو چکے تھے کہ ان کی توقع ہی اٹھ گئی۔ نہ وہ کوئی حکایتیں بیان کرتے اور نہ ہی کسی سے انھیں کسی قسم کی کوئی شکایت تھی۔ اپنے غم کا بھید انھوں نے کبھی نہ کھولا۔ ایک شان استغنا سے زندگی بسر کی اور ان کی زندگی کے دن کشمکش روزگار میں کٹتے چلے گئے ، موہوم بہاروں کی آرزو میں ان کا دم گھٹنے لگا ان کی کوئی امید بر نہ آئی اور نہ ہی انھیں اصلاح احوال کی کوئی صور ت دکھائی دی۔ زندگی کا زہر پی کر ایک پل کے رنج فراواں میں کھو جانے والے اس جری تخلیق کار کو زمانے نے بڑی بے دردی سے اپنی ناقدری کی بھینٹ چڑھا دیا۔ وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا اور پھر اس حساس شاعر نے اپنی محرومیوں ، تنہائیوں اور دکھوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا۔ صبر کی روایت میں انھوں نے لب کبھی وا نہ کیے۔ نامور ادیب اور دانش ور انتظار حسین نے ارباب اختیار کو مطلع کر دیا تھا کہ مجید امجد کے ساتھ روا رکھی جانے والی شقاوت آمیز نا ا نصافیاں اور بے رحمانہ غفلت اس کی زندگی کی شمع بجھا سکتی ہے۔ پھر حادثہ ہو کے رہا چشم کا مرجھا جانا۔ مجید امجد کو تنہائیوں نے ڈس لیا وہ ساہیوال میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے مگر کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔ مجید امجد نے 11مئی1974کو داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ اس کے ساتھ ہی جدید اردو نظم کا ایک تابندہ ستارہ افق ادب سے غروب ہو کر عدم کی بے کراں وادیوں میں اوجھل ہو گیا۔ اخلاقی، تہذیبی، ثقافتی اور انسانی اقدار کا عظیم ترجمان ہمیشہ کے لیے پیوند خاک ہو گیا۔ حیف صد حیف کہ ایک ایسا رباب اجل کے ہاتھوں ٹوٹ گیا جس نے ہجوم یاس میں بھی دل کو سنبھال کر سوئے منزل رواں دواں رہنے کی تلقین کی مگر اس سے پھوٹنے والے نغمے تا ابد دلوں کی دھڑکن سے ہم آہنگ ہو کر اردو نظم کو نئے امکانات سے آشنا کرتے رہیں گے۔ مجید امجد کی نظم گوئی ایک کھلا ہوا امکان ہے اس کے سوتے بے لوث محبت اور بے باک صداقت سے پھوٹتے ہیں ۔ ان کی شاعری دور غلامی سے لے کر طلوع صبح آزادی تک کی مسافت کی تمام راہوں کی آئینہ دار ہے۔ تخلیق فن کی یہ مسافت ایک درخشاں عہد کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مجید امجد نے اپنے ذاتی تجربات، احساسات اور مشاہدات کو ایک ذاتی تحریک کے اعجاز سے حدود زمان و مکاں سے آگے پہنچانے کی سعی کی ہے۔ یہ لہجہ مقامی نہیں بلکہ ایک آفاقی نوعیت کا حامل دکھائی دیتا ہے۔

کیا روپ دوستی کا، کیا رنگ دشمنی کا

کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

آخر کوئی کنارا، اس سیل بے کراں کا

آخر کوئی مداوا، اس درد زندگی کا

اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں

مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بے رخی کا

او مسکراتے تارو، او کھلکھلاتے پھولو

کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا

مجید امجد کا پہلا شعری مجموعہ ’’ شب رفتہ‘‘1958میں شائع ہوا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’شب رفتہ کے بعد ‘‘1976میں شائع ہوا۔ مجید امجد کی تمام شاعری پر مشتمل ’’کلیات مجید امجد ‘‘ کی اشاعت 1989میں ہوئی۔ مجید امجد کی شاعری کو علمی و ادبی حلقوں کی طرف سے زبردست پذیرائی ملی۔ انھیں تمام پاکستانی زبانوں کے علاوہ انگریزی، عربی، فارسی اور ہندی پر عبور حاصل تھا۔ وہ تراجم کے ذریعے دو تہذیبوں کے مابین ربط کی ایک صورت پیدا کرنے کے متمنی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ عالمی کلاسیک کے تراجم کے ذریعے تخلیق ادب اور زبان کی توسیع کے عمل کو مہمیز کیا جائے۔ اس تمام عمل کے معجز نما اثر سے وسعت نظر پیدا ہو گی اور ادب میں آفاقیت کا عنصر نمو پائے گا۔ انھوں نے عالمی ادبیات کا وسیع مطالعہ کیا تھا انھوں نے انگریزی ادب اور امریکی ادب کی نمائندہ شعری تخلیقات کو ترجمے کے ذریعے اردو کے قالب میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں ان کی مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اپنی شاعری کے ذریعے فلسفیانہ مسائل کی گہرائی اور وسعت سے قاری کو آشنا کرنے میں ان کے متنوع تجربات ان کی انفرادیت کے مظہر ہیں ۔ ان کی بات دل کی ا تھاہ گہرائیوں سے نکلتی ہے اور قاری کے قلب و نظر کو مسخر کر لیتی ہے۔ ان کی شاعری ان کے ذوق سلیم کی عکاس بھی ہے اور اس کے اعجاز سے تہذیب و تمدن کی بالیدگی کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اسے لا زوال بنا دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ان کی نظم مقبرہ ء جہانگیر فکر و نظر کے متعدد نئے دریچے وا کرتی ہے۔ اس نظم کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے اس میں شاعر نے نہایت خلوص اور دردمندی کے ساتھ زندگی اور اس کی مقتضیات کے بارے میں اپنے سوز دروں کا احوال بیان کیا ہے۔

مر مریں قبر کے اندر۔ ۔ تہہ ظلمات کہیں

کرمک و مور کے جبڑوں میں سلاطیں کے بدن !

کوئی دیکھے ، کوئی سمجھے تو اس ایواں میں ، جہاں

نور ہے ، حسن ہے ، تزئین ہے ، زیبائش ہے

ہے تو بس ایک بجھی روح کی گنجائش ہے

تم نے دیکھا کہ نہیں ، آج بھی ان محلوں میں

قہقہے ، جشن مناتے ہوئے نادانوں کے

جب کسی ٹوٹتی محراب سے ٹکراتے ہیں

مرقد شاہ کے مینار لرز جاتے ہیں

مجید امجد کی زندگی اور معمولات کا بہ نظر غائر جائزہ لینے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ ان کے نہاں خانۂ دل میں محبت کی کمی کے جذبات شدت اختیار کر گئے تھے۔ ان کے دل میں ایک تمنا تھی کہ وہ کسی سے ٹوٹ کر محبت کریں اور اس طرح اپنی نا آسودا خواہشات کی تکمیل کی کوئی صور ت تلاش کر سکیں ۔ در اصل وہ محبت کے وسیلے سے اپنی جذباتی تشنگی کی تسکین کے آرزومند تھے۔ انھیں یقین تھا کہ خلوص، ایثار، درد مندی، وفا اور بے لوث محبت کے ذریعے ایک فرد اپنی ذات کی تکمیل کر سکتا ہے اور زندگی کی حقیقی معنویت کی تفہیم پر قادر ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے سچی محبت کرنے والا بالواسطہ طور پر زندگی کی اقدار عالیہ کو فروغ دیتا ہے۔ مجید امجد نے محبت کو جذبہ ء انسانیت نوازی کے حوالے سے دیکھا۔ مجید امجد کی زندگی میں ایک جرمن خاتون ’’شالاط ‘‘نے محبت کے جذبات کو مہمیز کیا۔ یہ 1958کا واقعہ ہے جب شالاط ساہیوال آئی اس خاتون کو عالمی ادبیات، فنون لطیفہ اور آثار قدیمہ سے گہری دل چسپی تھی۔ وہ ساہیوال کے قریب واقع ہڑپہ کے کھنڈرات دیکھنے آئی تھی۔ اس موقع پر اس کی ملاقا ت مجید امجد سے ہوئی۔ مجید امجد کی شاعری اس کے قلب و روح کی گہرائیوں میں اتر گئی۔ مجید امجد اور شالاط کی یہ رفاقت 83دنوں پر محیط ہے مگر اس عرصے میں وہ دل کی بات لبوں پر لانے سے قاصر رہے۔ لفظ سوجھتے تو معانی کی بغاوت سد سکندری بن کر اظہار کی راہ میں حائل ہو جاتی۔ مجید امجد نے شالاط کو کوئٹہ تک پہنچایا اور اسے خدا حافظ کہا اس آس پر کہ جانے والے شاید لوٹ آئیں لیکن شالاط نے تو جا کر مستقل جدائی مجید امجد کی قسمت میں لکھ دی۔ تقدیر کے فیصلے بھی عجیب ہوتے ہیں انسانی تدبیر کسی طور بھی ان کو بدل نہیں سکتی۔ تقدیر اگر ہر لمحہ ہر آن انسانی تدابیر کی دھجیاں نہ اڑا دے تو اسے تقدیر کیسے کہا جا سکتا ہے۔ شالاط کی مستقل جدائی نے مجید امجد کی زندگی پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ ان کی شاعری پر بھی اس کا واضح پرتو محسوس ہوتا ہے مجید امجد کی یہ نظم جو 22نومبر 1958کو شالاط کی جدائی کے موقع پر کوئٹہ میں لکھی گئی لکھی گئی ایک حساس شاعر کے سوز دروں اور قلبی کیفیات کی مظہر ہے۔

برس گیا بہ خرابات آرزو، ترا غم

قدح قدح تری یادیں سبو سبو، ترا غم

ترے خیال کے پہلو سے اٹھ کے جب دیکھا

مہک رہا تھا زمانے میں کو بہ کو، ترا غم

غبار رنگ میں رس ڈھونڈتی کرن تری دھن

گرفت سنگ میں بل کھاتی آب جو، ترا غم

ندی پہ چاند کا پرتو ترا نشان قدم

خط سحر پہ اندھیروں کا رقص، تو، ترا غم

ہے جس کی رو میں شگوفے ، وہ فصل، تیرا دھیان

ہے جس کے لمس میں ٹھنڈک، وہ گرم لو، ترا غم

نخیل زیست کی چھاؤں میں نے بہ لب تری یاد

فصیل دل کے کلس پر ستارہ جو، ترا غم

طلوع مہر، شگفت سحر، سیاہیِ شب

تری طلب، تجھے پانے کی آرزو، ترا غم

نگہ اٹھی تو زمانے کے سامنے ، ترا روپ

پلک جھکی تو مرے دل کے رو بہ رو، ترا غم

مجید امجد کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ مجید امجد کے دل میں شالاط کے ساتھ قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کے جذبات مسلسل پروان چڑھتے رہے۔ مجید امجد کی شاعری میں اس دور کے تجربات، احساسات اور مشاہدات پوری قوت اور شدت کے ساتھ موجود ہیں وہ اپنی نفسی کیفیات اور محسوسات کو پورے خلوص اور دیانت سے اشعار کے قالب میں ڈھالتے چلے گئے۔ اپنی داخلی کیفیات اور سوز دروں کو وہ جس دردمندی کے ساتھ پیرایۂ اظہار عطا کرتے ہیں وہ قلب اور روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اثر آفرینی سے مزین ہے۔ ان کے کلام میں جذبات اور احساسات کی شدت قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ شالاط کے لیے مجید امجد نے پھول کا استعارہ کئی مقامات پر استعمال کیا ہے۔ ان کی شاعری میں شالاط کے حوالے سے متعدد مقامات پر نہایت خلوص اور دردمندی کے ساتھ لفظی مرقع نگاری کی گئی ہے۔ کہیں وہ اسے عنبر دیاروں کی پر جلی تتلی کی اڑان سے تعبیر کرتے ہیں تو کہیں گلاب کے پھول اس کا عکس بن جاتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں اس موضوع پر متعدد علامات کا استعمال ہوا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ تمام علامات ایک ایسے نفسیاتی کل کا روپ دھار لیتی ہیں جن کے اعجاز سے مجید امجد کے لا شعور کی تما م صلاحیتیں اشعار کے قالب میں ڈھل کر صفحۂ قرطاس پر منتقل ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر سفر درد، کھنڈر، نگاہ باز گشت، میونخ، سنگت، ریلوے سٹیشن، کوہ بلند، جیون دیس اور ایک شبیہ کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ شالاط کی جدائی مجید امجد کے لیے شام الم ثابت ہوئی جس نے ان کی روح کو زخم زخم اور پورے وجود کو کرچی کرچی کر دیا۔ جب مجید امجد کا سایہ بھی ان کا اپنا سایہ نہ رہا تو شالاط کی یادوں کی شمعیں فروزاں کر کے زندگی کے دن پورے کرنے کی کوشش میں مصروف رہے۔ ان کی زندگی کراہتے لمحوں میں ڈھل گئی موج اشک نے امید کی شمع کو گل کر دیا۔ ساز گلستاں کو مضراب خار سے چھیڑنے والوں نے انھیں حد درجہ آزردہ کر دیا۔ مہجور یادیں ان کے لیے سوہان روح بن گئیں ۔ مجید امجد کا غم ہستی ہر وقت درد محبت سے الجھتا رہا۔ جب بھی شالاط کی یاد آتی وہ ایام گزشتہ کی کتاب کے صفحات کی ورق گردانی میں مصروف ہو جاتے۔ جب بھی شالاط کی جدائی کے زخم بھرنے لگتے وہ کسی نہ کسی بہانے اس غم کی یاد تازہ رکھنے کی خاطر اسے کثرت سے یاد کرنے لگتے۔ محبت کے وسیلے سے خود کو فروغ دینے کی یہ انوکھی کاوش تھی۔ کسی کو چاہنے کی آرزو میں چاندنی راتوں میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومتے رہتے مگر بچھڑنے والے کب واپس آتے ہیں ۔ اس محبت نے ان کو کبھی نہ ختم ہونے والے غم و حزن کے جذبات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ان کی نظم ’’ کون دیکھے گا ‘‘جو 3جون 1966کو لکھی گئی اس کے پس منظر میں شالاط کی جدائی کے لاشعوری محرکات محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔

جو دن کبھی نہیں بیتا، وہ دن کب آئے گا

انھی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں ، کون دیکھتا ہے

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا

ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گا

مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا

سمے کے سم کے ثمر نے مجید امجد کی زندگی کو مسموم کر دیا اور محبت کی ناکامی نے ان کا سکون قلب معدوم کر دیا۔ اپنی سوچ کی بے حرف لو کو فروزاں کیے ہوئے نا آسودا خواہشات اور حسرتوں کی شعاعوں کے چیتھڑے زیب تن کیے نشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتے ہوئے یہ حساس شاعر لمحہ لمحہ وقت کی تہہ میں اتر گیا اور یوں قلزم خوں پا ر کر گیا۔ مجید امجد کی شاعری میں وقت کی برق رفتاری اور بدلتے ہوئے رویوں کا احوال بڑی مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ صحرائے زندگی کی کٹھن مسافت فرد کو تن تنہا طے کرنا پڑتی ہے۔ عمر بھر کوئی بھی تعلق نہیں نبھا سکتا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترجیحات اور خیالات میں تغیر و تبدل رونما ہوتا رہتا ہے۔ مجید امجد کی زندگی میں قناعت، اطاعت خداوندی اور چاہت کے جذبات کے امتزاج سے ایک دھنک رنگ منظر نامہ قلب و نظر کو مسحور کر دیتا ہے۔ شب فراق اور خلوت غم کی اعصاب شکن کیفیات میں وہ اپنے جذبات و احساسات کو پورے خلوص کے سا تھ اشعار کے قالب میں ڈھالتے ہیں :

گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر

سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر

یہ دوریوں کا سیل رواں ، برگ نامہ، بھیج

یہ فاصلوں کے بند گراں ، کوئی بات کر

آ ایک دن، مرے دل ویراں میں بیٹھ کر

اس دشت کے سکوت سخن جو سے بات کر

امجد نشاط زیست اسی کشمکش میں ہے

مرنے کا قصد، جینے کا عزم، ایک ساتھ کر

مجید امجد کی شاعری میں واقعہ کربلا کو حریت فکر کے ایک ایسے استعارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس نے قیامت تک کے لیے استبداد کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی راہ دکھائی۔ مقام شبیری کو وہ حقیقت ابدی قرار دیتے تھے جب کہ کوفی و شامی پیہم انداز بدلتے رہتے ہیں ۔ مجید امجد کے شعری تجربات میں کاروان حسینؓ کے مسافروں اور جاں نثاروں کا عظیم الشان کردار اور وفا ایک وجدانی کیفیت کی حامل ہے۔ مجید امجد کے روحانی اور وجدانی تجربات نے اس واقعہ کے بارے میں عقیدت اور تسلیم کی منفرد صورت پیش کی ہے۔ مجید امجد نے شام، دمشق، بصرے اور کوفے کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ کربلائے عصر میں ان شہروں کا وجود آج بھی قاری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ کاروان حسین ؓ کو آج بھی صعوبتوں کا سفر درپیش ہے جب کہ وقت کے شمر اور یزید آج بھی چین سے مسند نشین ہیں ۔ اس دشت ستم کو پھر کسی حسین ؓکا انتظار ہے تا کہ آگ انداز گلستاں پیدا کر سکے۔ معرکہ سامانی ء نمرود و خلیلؑ، فرعون و موسیٰؑ اور شبیرؓ و یزید سے یہ ظاہر ہوتا ہے قوت شبیری ہی حق کی بالادستی کی ضامن ہے۔ مجید امجد نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کو ہر دور میں لائق تقلید قرار دیا ہے۔ وہ ایک قطرۂ خوں جو رگ گلو میں ہے وہ حریت فکر کے مجاہدوں کو ہزار بار بھی مقتل وقت میں جانے پر آمادہ کرتا ہے۔ ان کی یہ نظم زندگی کی حقیقی معنویت کی مظہر ہے :

بستے رہے سب تیرے بصرے کوفے

اور نیزے پر، بازاروں بازاروں گزرا

سر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سرور کا

قید میں ، منزلوں منزلوں روئی

بیٹی ماہ عرب کی

اور ان شاموں کے نخلستانوں میں گھر گھر، روشن رہے الاؤ!

چھینٹے پہنچے ، تیری رضا کے ریاضوں تک، خون شہدا کے

اور تیری دینا کے دمشقوں میں بے داغ پھریں زر کار عبائیں !

چہرے فرشوں پر!

اور ظلموں کے درباروں میں ، آہن پو ش ضمیروں کے دیدے بے نم تھے !

مالک تو ہی اپنے ان شقی جہانوں کے غوغا میں

ہمیں عطا کر۔ ۔

زیر لب ترتیلیں ، ان ناموں کی، جن پر تیرے لبوں کی مہریں ہیں ۔

مجید امجد کی شاعری میں واقعہ کربلا کے بارے میں جو تاثر پیش کیا گیا ہے وہ تاریخ کے مسلسل عمل کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ان کا تاریخ اور تاریخ کے مسلسل عمل کے بارے میں تجزیہ بڑی اہمیت کا حامل، سیل زماں کی مہیب موجیں تخت و کلاہ و تاج کے سب سلسلوں کو خس و خاشاک کے مانند بہا کر لے جاتی ہیں مگر تاریخ اور تہذیب کی نشانیاں بہ ہر صورت باقی رہ جاتی ہیں ۔ واقعہ کر بلا در اصل تاریخ اور زندگی کی اقدار عالیہ اور درخشاں روایات کی بقا کی ایک جد و جہد سے عبارت ہے۔ یہ ایک ایسا معیار ہے جس کی بدولت پیمانہ ء تحقیق سے سرخوش ہو کر کلمہ ء توحید کی تمازت کو قلب و جگر میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مجید امجد نے اپنے اسلوب کی انفرادیت، تنوع، بو قلمونی اور ندرت کا لو ہا منوایا ہے۔ انھوں نے واقعہ کربلا کے تمام اہم کرداروں کے بارے میں حقیقت ابدی کا سراغ لگایا ہے۔ ان کی ایک نظم جو حضرت زینبؓ کے بارے میں ہے اسے پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ظلم کی میعاد کے دن ہمیشہ تھوڑے ہوتے ہیں ۔ صبح و مسا کی تیرہ شبی کے بعد طلوع صبح بہاراں کی روشنی اور امید فردا کی نوید کو کبھی روکا نہیں جا سکتا۔ مجد امجد کی متاع الفاظ سے طوفان حوادث میں بھی امید کا مژدۂ جانفزا نصیب ہوتا ہے۔ آباد ضمیروں کے لیے حضرت زینبؓ کا کردار، صبر، ایثار اور حریت فکر کی پیکار ہر عہد میں لائق تقلید رہے گی۔ مجید امجد نے عالم اسلام کی اس عظیم ہستی کے حضور جو نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہے اس کی تاثیر پتھروں کو بھی موم کر دیتی ہے :

حضرت زینب ؑ

وہ قتل گاہ، وہ لاشے ، وہ بے کسوں کے خیام

وہ شب، وہ سینہ ء کو نین میں غموں کے خیام

وہ رات جب تیری آنکھوں کے سامنے لرزے

مر ے ہوؤں کی صفوں میں ڈرے ہوؤں کے خیام

یہ کون جا ن سکے ، تیرے دل پہ کیا گزری

لٹے جب آگ کی آندھی میں ، غمزدوں کے خیام

ستم کی رات کی، کالی قنات کے نیچے

بڑے ہی خیمۂ دل میں تھے عشرتوں کے خیام

تیری ہی برق صدا کی کڑک سے کانپ گئے

یہ زیر چتر مطلا شہنشہوں کے خیام

جہاں پہ سایہ کناں ہے ترے شرف کی ردا

اکھڑ چکے ہیں ترے خیمہ آنگنوں کے خیام

مجید امجد کی شاعری میں ایک نئے دور کی بشارت ملتی ہے۔ اس کے لیے ہر فرد کو اپنا خون پسینہ ایک کرنے کی ضرورت ہے۔ مجید امجد کا خیال ہے کہ نظام کہنہ کے سائے میں عافیت سے بیٹھنے کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ نظام کہنہ تو ایک ایسی گرتی ہوئی عمارت ہے جو سیل زماں کی مہیب موجوں کی تاب نہیں لا سکتی۔ جبر کاہر انداز مسترد کرتے ہوئے وہ ظالمانہ استحصالی نظام اور اس کے پروردہ مفاد پرست اور انسان دشمن مافیا کے قبیح کردار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے للکارتے ہیں کہ اگر ان میں اتنا دم خم ہے تو ان کا کام تمام کر دیں ۔ ان کی نظموں میں ایک تعمیری قوت ہے جو اصلاح کے متعدد پہلو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ قحط الرجال کے موجودہ دور میں معاشرتی زندگی کو شدید مصائب و مسائل کا سامنا ہے۔ انسانیت کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری کے باعث فرد کی بے چہرگی اور عدم شناخت کا مسئلہ روز بہ روز گمبھیر صورت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہلاکت خیزیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اس دنیا کو مقتل وقت کہنا غلط نہ ہو گا۔ مجید امجد کا خیال ہے کہ آج کے انسان کو استحصالی مافیا نے زندہ درگور کر دیا ہے مجبور، محروم اور مظلوم انسانیت ایک قبرستان میں دفن ہے جسے اپنی قبروں سے باہر جھانکنے کی بھی اجازت نہیں ۔ چلتے پھرتے ہوئے مردوں سے ملاقاتیں اب روز کا معمول بن گئی ہیں ۔ آنسوؤں ، آہوں اور اکھڑے دموں میں جینے والے بے بس و لاچار انسان اپنی زندگی کے مقدس غموں کی امانت کو سنبھالے سانس گن گن کر زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں ۔ یہاں بے گناہوں پہ ظلم کی شمشیر چل رہی ہے مگر جلتے روم کو دیکھ کر وقت کے نیرو چین کی بانسری بجانے میں مصروف ہیں یہاں غریب کی ہستی کو بے وقعت سمجھا جاتا ہے۔ ان لرزہ خیز حالات میں مدعی ء عدل کی پر اسرار خاموشی محروم اور مظلوم طبقے کو مکمل انہدام کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ ۔ مجید امجد نے جو فروش گندم نما، چربہ ساز، سارق اور کفن دزد عناصر کے مکر کی چالوں کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے :

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال

مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک، اے آدم کی آل

مجید امجد کو بچپن ہی سے اعلیٰ ترین علمی و ادبی ماحول میسر آیا۔ گورنمنٹ کالج جھنگ میں رانا عبدالحمید کی قیادت میں علم و ادب کا کارواں سوئے منزل رواں دواں تھا۔ اس زمانے میں اس شہر سدا رنگ میں فروغ ادب کے لیے جو اہم شخصیات فعال کردار ادا کر رہی تھیں ان میں محمد شیر افضل جعفری، خان محمد سرخوش، غلام محمد رنگین، سید مظفر علی ظفر، خادم مگھیانوی، کبیر انور جعفری، سید جعفر طاہر، سردار باقر علی خان، غلام علی چین، رانا سلطان محمود، صدیق لالی، صاحب زادہ رفعت سلطان، شیر محمد شعری، دیوان احمد الیاس نصیب، عاشق حسین فائق، امیر اختر بھٹی، راجہ اللہ داد، مہر بشارت خان اور ظہور احمد شائق کے نام قابل ذکر ہیں ۔ مجید امجد نے ان تمام ادیبوں کی صحبت میں رہتے ہوئے حالات و واقعات کی تہہ تک پہنچنے کی استعداد حاصل کی۔ ان کی چشم بینا نے سات پردوں میں پوشیدہ حقائق کی گرہ کشائی کی اور دنیا جسے شہر کوراں سے تعبیر کیا جاتا ہے اس پر تمام صداقتیں واضح کر دیں ۔ مجید امجد کی شاعری میں ان کی ذات، ماحول اور شخصیت کے تمام پہلو ایک دھنک رنگ منظر نامہ پیش کرتے ہیں ۔ وہ حریت فکر و عمل کے عملی پیکر تھے۔ جابر سلطان کے سا منے کلمۂ حق کہنا ان کا مطمح نظر رہا۔ انھوں نے صبر و رضا کا پیکر بن کر زندگی بسر کی۔ حریت ضمیر سے جینے کے لیے انھوں نے اسوۂ شبیر ؓ کی تقلید کو شعار بنایا۔ وہ یہ بات بر ملا کہتے تھے کہ زیر تیغ بھی کلمۂ حق پڑھنے والوں نے قیامت تک کے لیے فسطائی جبر کا خاتمہ کر دیا۔ زمین کرب و بلا کے بہتر جاں نثار نمازیوں کے امام کا ایک سجدہ متاع کون و مکاں ہے۔ نواسۂ رسول ﷺ نے پوری دنیا پر یہ بات واضح کر دی کہ صحرائے کرب و بلا اور فرات کے ساحل سے سلسبیل کی مسافت صرف ایک گام ہے۔ مجید امجد کی نظم چہرۂ مسعود اردو کے رثائی ادب میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے موضوع، مواد اور اسلوب کی ندرت، تنوع، تازگی اور تاثیر میں یہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے اسلوب سے متاثر ہو کر ان کے معاصرین نے ان کے شعری تجربات کو اپنے اسلوب کی اساس بنانے کی سعی کی۔ مجید امجد کی شاعری میں ایک آفاقی لب و لہجہ ہے جو ساری حیات و کائنات کے دکھ درد کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے رنگ جہان گزراں اور قسمت کج کلہاں اور تاج وراں کی بربادی کے بارے میں وہ کوئی ابہام نہیں رہنے دیتے۔ یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ آج بھی جس شہر پر نظر ڈالیں وہاں اہل کوفہ جیسی بے وفائی کے مناظر عام ہیں ۔ آج کا انسان زر و مال اور جان بچا کر بھی ذلت تخریب اور فنا کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے ا س کے بر عکس نواسۂ رسولﷺ نے جان قربان کر کے اور عزیزوں ، بچوں اور متاع بے بہا اسلام کی خاطر نثار کر کے مقاصد زیست کو رفعت میں ہم دوش ثریا کر دیا۔ انھوں نے مینارۂ عرش کو چھو کر اپنے عظیم منصب کو حقیقت ابدی بنا کر انسانیت کو نئی رفعتوں تک رسائی کی راہ دکھائی۔ مجید امجد نے کہا تھا :

سلام ان پہ تہہ تیغ بھی جنھوں نے کہا

جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے

لفظ کی حرمت، اسلوب کی ندرت، احترام انسانیت، وطن اور اہل وطن سے قلبی وابستگی اور جبر سے نفرت مجید امجد کی سرشت میں شامل تھی۔ زندگی کے جس قدر موسم انھوں نے دیکھے انھیں وہ صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتے رہے۔ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ روشنی کا یہ سفر بہ ہر صورت جاری رہے گا اور الفاظ و معانی کے جو گھروندے وہ تعمیر کر رہے تھے ان میں ارفع خیالات کا بسیرا ہو گا۔ ان کی انفرادیت نے ان کے اسلوب کو مثالی بنا دیا۔ انھوں نے جو طرز فغاں ایجاد کی وہی بعد میں آنے والوں کے لیے طرز ادا بن گئی۔ ضلع کونسل جھنگ کے دفاتر کے سامنے ایک خوب صور ت باغ ہے جو مجید امجد پارک کہلاتا ہے۔ اس باغ کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس کی تمام روشوں پر مختلف رنگوں کے سدا بہار گلاب کثرت سے اگے ہوئے ہیں ۔ کئی قسم کے اثمار و اشجار اس باغ میں موجود ہیں ۔ طیور اور تتلیاں یہاں کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔ کھجوروں کے جھنڈ ہیں جن پر شہد کی مکھیوں کے چھتے ہیں اور شہد کی مکھیاں پھولوں سے شہد کشید کرتی ہیں ۔ شہر کی واحد سیرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں سر شام ہی حسین و جمیل خواتین کا جمگھٹا لگ جاتا ہے۔ نامور ادیب اور دانش ور ڈاکٹر نثار احمد قریشی جب 2006میں پروفیسر غفار بابر کے ہمراہ جھنگ تشریف لائے تو مجید امجد پارک میں بھی گئے۔ انھوں نے آہ بھر کر کہا ’’ مجید امجد تمھارے خواب کی تعبیر بالکل درست نکلی۔ اور پھر مجید امجد کے یہ اشعار پڑھے تو سب لوگ بے اختیار رونے لگے :

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول

حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول

نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہم سب جھنگ کے جنوب میں نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارہ سو سال قدیم شہر خموشاں ’’ لوہلے شاہ ‘‘پہنچے جہاں مجید امجد آسودا ء خاک ہے۔ مجید امجد کی آخری آرام گاہ کے قریب گلاب کی ایک سدا بہار بیل اگی ہوئی تھی جس نے پوری قبر کو گلاب کے پھولوں کی چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ ہم سب محو حیرت تھے کہ تقدیر کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں ۔ دور زماں کی ہر کروٹ جب لہو کی لہر اور دلوں کا دھواں بن جائے تو حساس تخلیق کار کا زندگی کا سفر تو جیسے تیسے کٹ جاتا ہے مگر اس کا پورا وجود کرچیوں میں بٹ جاتا ہے۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ پھولوں پر شبنم کے قطرے پڑے ہوئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس مہیب سناٹے میں طائران خوش نوا، پیلوں کے اشجار، گلاب کے پھول اور شبنم کے قطرے اس یگانہ ء روزگار تخلیق کار کے حضور نذرانہ ء عقیدت پیش کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر نثار احمد قریشی کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ انھوں نے گلو گیر لہجے میں کہا:’’ مجید امجد ایک ایسا تخلیق کار تھا جو ایام کا مرکب نہیں بلکہ راکب تھا وہ مہر و مہ و انجم کا محاسب تھا۔ اس کی ہر بات کالنقش فی الحجر ثابت ہوئی۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ آسماں بھی اس کی لحد پہ شبنم افشانی کر رہا ہے۔ طائران خوش نوا اس لافانی تخلیق کار کی یاد میں احساس زیاں کے باعث گریہ و زاری میں مصروف ہیں ۔ مجید امجد کی یاد تا ابد ان کے مداحوں کے دلوں کو مرکز مہر و وفا کرتی رہے گی۔ ‘‘

گلاب کے پھولوں پر پڑے ہوئے شبنم کے قطرے سورج کی پہلی کرن پڑتے ہی موتیوں کی طرح چمکنے لگے۔ ڈاکٹر نثار احمد قریشی نے مجید امجد کا یہ شعر پڑھ کر اپنے جذبات حزیں کا اظہار کیا:

جہان گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھ

گزر رہے ہیں تبسم کنا ں ، گلاب کے پھول

مجید امجد کے لیے دعائے مغفرت کرنے کے بعد ہم واپس آئے تو دیر تک فرط غم سے نڈھال رہے۔ مجید امجد کی داستان حیات بلا شبہ عظیم ہے۔ اس داستان حیات میں محبت و مروت، حیرت و حسرت، درد و غم استغنا و انکسار اور صبر و تحمل کا جو دلکش امتزاج دکھائی دیتا ہے وہ اس بے مثال تخلیق کار کی عظمت کو چار چاند لگا دیتا ہے جس نے خودی کا تحفظ کرتے ہوئے انتہائی کٹھن حالات، جانگسل تنہائیوں میں بھی شہرت عام اور بقائے دوام حاصل کی۔ جب تک دنیا باقی ہے لوح جہاں پر مجید امجد کا عظیم الشان کام اور قابل صد احترام نام ثبت رہے گا۔ مجید امجد نے خود کہا تھا :

تیرے فرق ناز پہ تاج ہے ، مرے دوش غم پہ گلیم ہے

تری داستاں بھی عظیم ہے ، مری داستاں بھی عظیم ہے

Advertisements
merkit.pk

٭٭٭

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply