کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط36

۵ جولائی ۲۰۱۸

میرا جی کے بارے میں
(وزیر آغا مرحوم کے نام میرے خطوط میں سے اقتباسات)
(اقتباس۔ مکتوب 13.5.98)
ڈاکٹر صاحب قبلہ…..آپ نے درست تحریر کیا ہے کہ دونوں کی رفاقت اور دوستی کو یگانگت کی وہ سطح دے دینا جس پر وہ ایک جیسے ہی نظر آئیں، غلط ہے۔ شاعر کے طور پر دونوں میں بُعد المشقرین ہے۔ راشد اور میرا جی کے درمیان دوستی ضرور تھی، خیر خواہی تھی لیکن اگر ہم کہیں کہ انٹیلیکچوئل لیول پر وہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے چلتے تھے، غلط ہے۔ کچھ برسوں کے بعد اس دوستی میں بھی صرف پاسداری کا عنصر رہ گیا، انس بھی رہا لیکن ’یک جان دو قالب‘ ہونے کی بابت جو کچھ بھی ان کے تذکرہ نویس لکھتے ہیں، حقیقت سے بہت دور ہے۔ رسم و راہ میں بھی اور نشست و برخاست میں بھی، وہ الگ الگ سمتوں میں چلے۔ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان کی باہم بات چیت کے دوران کوئی ادبی مسٗلہ اس طرح زیر ِ بحث لایا گیاہو کہ دیگر حاضرین بھی اس میں شریک ہو سکیں……
…..راشد سے ہوئی دو تین ملاقاتوں کے تاثرات میرے ذہن میں ابھی تازہ ہیں۔ وہ بہت پڑھے لکھے تھےٍ۔ انگریزی اچھی بولتے تھے اور واجبی لکھ بھی لیتے تھے۔ روشن دماغ تھے۔ فارسی میں صلاحیت رکھنے کی وجہ سے اپنا مخصوص شعری اسلوب بہت پہلے سے ہی ترتیب دے چکے تھے۔ چہرہ پر سکون رکھتے تھے، ان کی بات چیت میں توازن تھا، زود فہم تھے اور سنجیدگی سے گفتگو میں حصہ لیتے تھے……میرا جی ان سب امور میں ان کے ہم پلّہ تو کیا، کہیں قریب بھی نہیں پھٹک سکتے تھے۔ دونوں کی شاعری مختلف النوع تھی، زبان و بیان میں بے حد تفاوت تھی، اور راشد کے برعکس میرا جی کی پوشاک،(بمعہ جوتے) سہو ِ کاتب کی طرح غلط عبارت سے لگتے تھے، ان دونوں کے ما بین (یورپ، خصوصاً انگلستان) کے ادب پر ایسا بحث و مباحثہ ہونا جس پر اپنی تعلیم و تربیت کے حوالے سے میرا جی اپنی صائب رائے دے سکیں، مجھے کچھ بعید از قیاس لگتا ہے۔اس کا ذکر (عام طور پر دبی زبان میں) ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں نے کیا ہے، لیکن کسی نے اس موضوع پر کھل کر بات نہیں کی…..راشدؔ نے خود ایک انٹرویو میں کہا تھا، ”جن لوگوں سے مجھے رغبت رہی ہے یا جن کی رفاقت نے میری شاعری اور عادات پر خاطر خواہ اثر ڈالا ہے، ان میں آغا عبد الحمید، چراغ حسن حسرت، محمد وحید گیلانی (جنہوں نے مجھے راشدّ تخلص سے نوازا)، پروفیسر احمد شاہ بخاری، غلام عباس ہیں۔ اختر شیرانی سے میں نے اپنی شاعری کی شروعات کی….“ اس فہرست میں کہیں بھی میرا جی کا تذکرہ نہیں ہے، چہ آنکہ اپنی ’عملی تنقید‘ کی وساطت سے میرا جیؔ نے راشد کو ایک منفرد شاعر کے طور پر پیش کیا….

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط35
….فردیاتی سطح پر میراؔ جی پر ”خوف“ کی پرچھائیں ہر دم مسلط ہے۔ جیسے انہیں اپنی ہستی، اپنا وجود، حتےٰ کہ اپنا بدن بھی غیر معتبر لگتا ہو۔ فرد کی ناکامی اس کی ”جنسی ذات“ کی ناکامی سے مترشح ہے، یہ پورے معاشرے یا پوری نسل کی ناکامی نہیں۔میراؔ جی ”فرد“ کے طور پر اپنے اندر سے فرار کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک بیمار ذہن کی اپج ہے کہ جب دایاں ہاتھ ان کی جنسی ضرورت کی تکمیل نہیں کر سکتا تو وہ ذہنی عیاشی کے لیے اس قسم کی سطریں لکھتے ہیں۔
سنتا ہوں، شہر کے محلے میں
نفس کی پوجا کرنے والی ایک عورت ہے
اور سستا ہے اس کا کرایہ، ہاں سستے ہیں اس کے دام
راشد اس قسم کی جھنجھلاہٹ کا شکار نہیں تھے۔ جہاں میراؔ جی کی شاعری میں خوف ہے، وحشت کی فضا ہے، وہاں راشد کے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ان کی تشنگی بہت جلد تشفی میں تبدیل ہو جاتی ہے، جب کہ میراؔ جی اپنی ”جنس زدگی“ میں کوڑھ کے ایک مریض کی طرح تڑپتے رہ جاتے ہیں….

مزید میراؔ جی کے بارے میں
(ستیہ پال آنند کا مکتوب وزیر آغا کے نام 18-8-98)
آپ نے یہاں تک تو شاید درست ہی لکھا ہے کہ میرا جی تنقید کی technical parlance سے واقف نہیں ہیں، لیکن یہ بات صحیح نہیں دکھائی دیتی کہ اس ایک کمی کی وجہ سے ہی وہ”معروضی طریق ِ کار کے بجائے ذاتی زاویوں سے نظم کو دیکھتے ہیں، اور یوں نفس ِ مضمون کو ’فرض‘ کر کے اپنا مضمون لکھتے چلے جاتے ہیں“… یہ تو دیکھئے کہ اس سے پہلے اردو میں عملی تنقید لگ بھگ نا پید تھی میرا جیؔ نے ایک راستہ تو دکھایا. آپ چونکہ یونیورسٹی کی سطح پر ادب ِ عالیہ پڑھاتے ہیں اس لیے اپنے پیمانوں سے میرا جیؔ کو ناپ رہے ہیں۔ I.A. Richardsنے جو نمونے پیش کیے، میرا جیؔ نے کہاں دیکھے ہونگے؟ اور آج کل یورپ اور امریکا میں تو ادبی جرائد میں ریویوز کا معیار ہی وہ سند بن گیا ہے جس سے عملی تنقید کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ میرا جیؔ راشدؔ کے دوست تھے۔ نہ معلوم کہاں کہاں اور کیسے کیسے انہوں نے وہ نظمیں راشدؔ سے شاید سنی بھی ہوں گی اورموضوعات پر بحث بھی ہو گی۔ (مجھے یاد تو نہیں کہ کہاں مگر صفدر میرؔ صاحب نے کہیں اس بات کی نشان دہی بھی کی ہے۔)…..تنقید کی سکہ بند زبان کی بات کو اگر فی الحال بھول جائیں تو دوسرے نکتے پرآپ سے اختلاف رائے رکھتے ہوئے میں کہنا چاہوں گا، کہ اگر ان کی نظم ”رقص“ کو ہی لیں اور اس پر لکھے ہوئے میرا جیؔ کے تجزیاتی مضمون کو پڑھیں تو ظاہر ہو گا کہ اس میں ان کا اپنا زاویہ نگاہ کہیں نظر نہیں آتا۔ ذات کی تو بات ہی دوسری ہے! میرا جیؔ نے تو شاید کسی عورت کو بازوؤں میں بھر کر بال روم میں ڈانس کرنے کا خواب تک نہ دیکھا ہو گا…..
…. ”رقص“ کا مختصر تجزیہ اگر آپ ایک بار پھر پڑھیں تو آپ کو اس میں رقص کی صوتیات کے حوالے سے میرا جیؔ کی یہ قابل ِ ستائش سعی نظر آئے گی کہ وہ نظم کے وسط سے پہلے اور فوراً بعد اسی حوالے سے مصرعوں کے چھوٹا یا بڑا ہونے کی بات کہتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ کو چھوڑ کر، آج یعنی میرا جیؔ کے کئی برس بعد بھی، عملی تنقید لکھنے والے ان باریکیوں کو نہیں دیکھتے…
…. ”زنجیر“ کے تجزیے میں تو میرا جیؔ ایک ایسے نقاد کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں جو درسی یا نصابی تنقید کا ہنر بھی جانتا ہے.آپ ان کاتجزیہ سامنے رکھ کر دیکھیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ انہیں موضوع، عنوان، مضمون اور متن کو الگ الگ رکھ کر دیکھنے اور پرکھنے کا ہنر آتا ہے۔ متن کو پرکھتے ہوئے وہ مصرعوں کے مّجوزہ شمار اور موجودہ شمار میں تفریق کا ایک منظر نامہ پیش کرتے ہیں، جس کے آخر میں ”شاعر“ اور ”پیلہٗ ریشم“ کے مابین ایک مکالمہ ہے…..مجھے یاد ہے، جب پہلی بار میں نے میرا جیؔ کے اس تجزیاتی مضمون کو پڑھا تھا تو مجھے خود حیرت ہوئی تھی کہ اس مرنجاں مرنج قسم کے ”سائیں لوک“ نے کس باریک بینی سے راشد ؔ یا شاعر کے متکلم کی شعوری رو کو ہر سطر اور ہر لفظ کے ساتھ trace کیا ہے۔ البتّہ اس وقت بھی میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ مضمون کی آخری سطریں راشد ؔ سے کہیں زیادہ میرا جیؔ کی اپنی جنسی کج روی پر فِٹ آتی ہیں۔

نکی ہیلی،پٹیل اور یونٹ انچارج۔۔۔محمد اقبال دیوان
یہ تو تھا اس بھٹکے ہوئے جینیس کی زندگی کی ایک جہت۔ اب اگرجنسی کج روی کا ذکر آ ہی گیا ہے تو میں یہ لکھنے سے بھی گریز نہیں کروں گا کہ اپنے بمبئی میں قیام کے دنوں میں (یعنی وفات سے کچھ ماہ پہلے تک) وہ اس غلیظ غار میں گرتے ہی چلے گئے تھے۔ بقول اختر الایمان (جن سے میری بات چیت کچھ تفصیل سے ہوئی) غلاظت کی حد تک لباس، ہاتھ، چہرہ مہرہ اور سر کے بال ان کا ٹریڈ مارک بن چکے تھے۔آخری ہفتوں میں ثقیل خوراک ہضم نہیں کر سکتے تھے اور دستر خوان سے اٹھ کر سب کے سامنے ہی فرش پر قے کر دیتے تھے،۔ آتشک اور سوزاک (سِفلس اور گنوریا) دونوں امراض میں مبتلا تھے اور ان موذی بیماریوں کا اثر ان کے دماغ کے خلیوں پر ہو چکا تھا، تو بھی صبح و شام جلق سے باز نہیں آتے تھے۔(نعوذ باللہ)۔اختر الایمان کے علاوہ کرشن چندر کے چھوٹے بھائی مہندر ناتھ نے بھی اس بات کا ذکر مجھ سے کیا کہ کچھ دنوں کے لیے، خدا جانے کیوں، وہ اس کے پاس رہنے کے لیے آ گئے۔ اب انہیں گھر سے نکالا تو نہیں جا سکتا تھا، اس لیے مہندر ناتھ نے حتےٰ الحیثیت ان کی خاطر مدارت تھی۔ مہندر ناتھ کی رکھیل عورت جو ایک مراٹھا گھاٹن (سمندر گھاٹ کی عورت) تھی، ان کا کھانا وغیرہ بناتی تھی۔ اس نے ایک دن ایک ماں کی طرح میرا جی کو باندھ کر چوکی پر بٹھا دیا اور پھر کپڑے دھونے والے صابن اور کھارے سوڈے سے انہیں رگڑ رگڑ کر نہلایا، ان کے کرتے پاجامے کو کوڑے میں پھینک دیا اور مہندر ناتھ کی قمیض اور پینٹ کو ہاتھ سے سوئی دھاگے کے ساتھ ان کے سائز کے لیے فٹ بنا کر پہنایا۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ میرا جی کے جنازے کے ساتھ کل ملا کر آٹھ دس آدمی تھے۔۔۔اقتباس القط)

ایک ضروری نوٹ۔ آخری پیراگراف جو میں نے تحریر کیا تھا، اس کے بارے میں ڈاکٹر وزیر آغا کا ایک ٹک جواب یہ تھا: حق بہ حقدار رسید۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *