دانت کا درد۔۔۔قراۃ العین حیدر/افسانہ

SHOPPING
SHOPPING

جب مجھے یہ احساس ہوا کہ مجھے واقعی اس سے محبت ہے تو ہماری طلاق کو 23 دن گزر چکے تھے۔

ان 23 دنوں میں مَیں خاصا مصروف رہا اور کچھ سوچنے کا وقت ہی نہ ملا۔ طلاق کے پیپرز سائن کرکے اس کا لفافہ خود بنا کے ڈسپیچر کو دیا کہ کہیں کسی کو پتا نہ چل جائے کہ اس لفافے میں کیا ہے؟ اسی دن میں دفتری کام سے پشاور چلا گیا اور 5 دن وہیں رہا۔ ویک اینڈ پہ والدین کے پاس پنڈی چلا گیا۔ شکر ہے کہ اب ابو جی کی طبعیت بہتر ہے۔ دو دن بعد واپس کوئٹہ آیا تو وہاں وہیں روٹین چل رہی تھی۔ گھر کا ماحول، بیوی، بچے اور دفتری مصروفیات۔۔۔۔

چند دن اور گزرے تو میں دفتری کام سے گوادر چلا گیا اور دس دن تک وہاں  رہا۔ ابھی سی پیک کا منصوبہ   اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ دن رات روٹ کی حفاظت کرنی پڑتی ہے کہ کہیں باغی بلوچ رستے کو نقصان نہ پہنچادیں۔ ان 22 دنوں میں مجھے  ذرا بھی اس بیوقوف عورت کا خیال نہیں آیا۔۔۔۔

آج میری بہت دنوں کے بعد چھٹی ہے اور جھٹپٹے کے وقت میری آنکھ کھل گئی۔ کمرے کے سکوت میں مجھے cool water کی خوشبو محسوس ہوئی۔ مجھے لگا کہ شاید میں لاہور میں ہوں۔۔۔۔کیونکہ یہ اس کی پسندیدہ خوشبو ہے اور وہ یہی استعمال کرتی ہے۔ ادھ کھلی آنکھوں سے بائیں جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ وہاں اس کی جگہ سارہ منہ کھولے سو رہی تھی۔ دماغ نے دل کی سنی ان سنی کردی اور مجھے حقیقت کی دنیا میں لے آیا۔ شاید سارہ نے لیا ہو اور لگایا ہو۔۔۔ یہ خوشبو نیند نہیں کسی اور طلب کو  بڑھاتی ہے۔ کروٹ لے کے تکیہ بازوؤں میں بھینچا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔

دفعتاً کسی کے ہاتھوں کا لمس مجھے چہرے پر محسوس ہوا یکدم  آنکھیں کھولیں تو کوئی نہ تھا۔ کوئی اچانک پاس آکے چلا گیا اور اب مجھے محسوس ہوا کہ صرف اسے ہی نہیں مجھے بھی اس سے محبت ہے۔۔۔۔

لیکن یہ کیسا احساس ہے جو اس سے بچھڑنے کے بعد شروع ہوا۔ جب تک وہ میرے نکاح میں تھی، اس کی محبت بھری نظریں، شوخیاں، التجائیں، رونا اور معصوم خواہشیں مجھ پر کچھ  اثر نہ کرسکے۔۔۔ پر اس کے جانے کے بعد سب کچھ زندہ ہوگیا۔ میں ابھی سونے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ بیوی کے موبائل کا الارم بجنے لگا اور حیرت انگیز طور پر  وہ  الارم بند کرنے کے بعد اٹھ گئی۔

“خیریت تو ہے۔۔۔۔۔ اتنی صبح کیوں جاگ گئی  ہو؟”

وہ انگڑائیاں لیتے ہوئے بولی “آج بچوں کا سپورٹس ڈے ہے جلدی جانا ہے ان کے ساتھ۔”

سارہ صبح جلدی نہیں اٹھتی، بچوں کو ملازمہ تیار کرتی ہے اور سکول بھیجتی ہے۔ اگرچہ کہ مجھے اس بات سے اختلاف ہے لیکن پچھلے تیرہ سالوں میں بیوی کی عادتیں بدلنے میں خاصا ناکام رہا ہوں۔ اگلے دس منٹوں میں بیوی تیار ہوکے کمرے سے نکل گئی۔ اب میں پوری طرح آزاد تھا۔ میں ان لوگوں کے جانے کا انتظار کرنے لگا، باہر بچوں کے بولنے کی آواز آرہی تھی۔

جونہی گاڑی کے گیٹ سے باہر ہونے کا اندازہ ہوا، میں نے موبائل بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے اٹھایا اور لاکڈ تصویریں دیکھنے لگا۔ وہ ہر تصویر میں منفرد تھی۔ زیادہ تر تصاویر اس نے اپنے دفتر میں لی تھیں۔ یہ موبائل بھی کمال کی ایجاد ہے۔۔۔ نہ کیمرے کی ضرورت، نہ پرنٹ کروانے کا جھنجھٹ اور بندہ آپ کے سامنے۔۔۔۔ کوئی تین سو تصویریں دیکھنے کے بعد اس کے میسیج پڑھنے لگا۔ کئی بار مسکراتا اور کئی میسیجز پڑھنے سے آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔ کئی جگہ التجائیں تھیں کہ صرف ایک بار شکل دکھا جاؤ۔ اور کئی  جگہ مجھے باور کرایا گیا کہ تمہیں دیکھے 605 دن ہوگئے ہیں۔

میں نے حساب لگایا تو پتا چلا کہ میں لگ بھگ 20 مہینے پہلے اسے ملنے گیا تھا۔ جس دن میری سالگرہ تھی اس دن رات کے کھانے کے بعد میری واپسی تھی۔ ہم نے کھانا ڈیفینس کے ایک مشہور چائنیز ریسٹورنٹ میں کھایا۔ پچھلے دو دن سے وہ چہکتی پھر رہی تھی لیکن اب کھانے کے درمیان وہ بالکل خاموش تھی۔ میں نے اسے ٹوکا تو کہنے لگی “مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ آج ہماری آخری ملاقات ہے”۔

میں اس کے خدشے پہ خاموش ہوگیا۔ اور اسے سمجھانے لگا کہ مجھے جب بھی وقت ملتا ہے میں ملنے چلا آتا ہوں۔ لیکن وہ اپنی ہی دُھن میں بول رہی تھی ایسا بھی کیا تعلق ہے جس میں منتیں ترلے کرنے پڑیں کہ اپنی شکل دکھا جاؤ۔ کیا کبھی آپکا دل نہیں کرتا کہ میرے بغیر کہے مجھے آکے مل جائیں؟

میں نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میرے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہ تھا۔ میں آج تک اپنے جذبات کا کبھی ڈھنگ سے اظہار ہی نہ کر پایا۔

میں بھی کتنا عجیب ہوں نا۔۔۔اس ملاقات کے بعد دل کی خواہش کے باوجود اسے ملنے نہ جاسکا۔ میری  صبح ہر روز  اس کے  میسیج سے ہوتی تھی۔ صبح بخیر کے ساتھ اس کی دل موہتی ہوئی سیلفی مجھے تروتازہ کردیتی۔ میں اپنی مصروفیات میں الجھا رہا اور پچھلی ملاقات کو دس مہینے گزر گئے۔ پھر میں ایک آفیشل کورس پر آٹھ مہینے کیلئے ماسکو چلا گیا۔ جانے سے ایک ہفتہ پہلے اسے بتایا تو وہ تڑپ اٹھی اور بولی “مجھے صرف یہ احساس زندہ رکھتا ہے کہ ہم ایک ہی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ آپ بھی اسی چاند کو تکتے ہیں جسے میں تکتی ہوں۔ میں آٹھ مہینے کی دوری سہہ سکتی ہوں لیکن پانچ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ شاید نہیں سہہ سکونگی۔”

اس نے کرب میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا ہماری اگلی ملاقات شاید اب اگلے سال ہوگی ایک دفعہ مجھے مل جائیں مجھے سکون آجائے گا۔ ایک ہفتہ پلک جھپکتے گزر گیا اور باوجود خواہش کے میں اسے ملنے نہیں جا سکا۔ نہ صرف یہ ۔۔۔۔ میں نے اسے فون بھی نہیں کیا۔ اس کے الوداعی پیغام آئے تھے۔ اور میں اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔ میں نے ماسکو پہنچتے ہی اسے محبت بھرے میسیجز بھیجے تاکہ وہ میرے کال نہ کرنے کو زیادہ محسوس نہ کرے۔

میں پچھلے سال کے واقعات سے بھی کہیں پیچھے نکل گیا تھا۔ کوئی اٹھارہ سال پہلے جب ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس کی معصوم شکل نے میرا دل موہ لیا۔ وہ بہت حسین نہیں تھی لیکن پتا نہیں کیا تھا اس میں کہ وہ مجھے بہت اچھی لگنے لگی۔ میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا رہتا۔ اگلی بار اس کے گھر گیا تو محبت کا اظہار بھی کردیا اس نے اقرار یا انکار کے بجائے صرف اتنا کہا اپنے والدین کو میرے گھر بھیج دیں پھر سوچوں گی۔ امی کو منانا مشکل کام تھا کیونکہ ان کا پہلے ہی جھکاؤ خالہ کی بیٹی کی جانب تھا۔ ابو اور نانا ابو کو بیچ میں ڈال کر امی کو آمادہ کر ہی لیا اور ہماری شادی ہوگئی۔ شادی کے وقت میری پوسٹنگ سکردو میں تھی وہ گیارہ مہینے جو ہم نے اکٹھے گزارے وہ وقت اس سے الگ ہونے کے بعد کبھی یاد نہیں آیا لیکن اب ہر بات اتنی تفصیل سے یاد آرہی ہے کہ مجھے اپنے حافظے پہ شُبہ ہورہا ہے کہ جیسے آنکھوں کے آگے فلم چل رہی ہو۔

شادی کی بیس چھٹیاں اتنی جلدی   گزریں ۔۔۔۔۔ پہلے شادی، پھر ہنی مون کے چند آسودہ دن اور پھر دعوتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ اچانک وہ چھم سے میرے سامنے آکھڑی ہوئی۔ کامدار سبز لباس میں۔۔۔سجی سنوری۔ مجھے یاد آیا جس دن ہم دونوں ہنی مون سے نتھیاگلی سے واپس آئے تھے تو نانا ابو کے گھر ہماری پہلی دعوت تھی، اس نے یہی لباس پہنا تھا وہ اتنی ہی حسین لگ رہی تھی جتنی شادی کے دن لگ رہی تھی۔ میرا تخیل ایسے کیسے کام کر رہا تھا۔ پھر ہم سکردو چلے گئے شروع کے چند دن تو ہم نے میس میں گزارے پھر مجھے بھی گھر مل گیا اور ہم وہاں شفٹ کرگئے۔ کچھ دن بہت مصروفیت میں گزرے وہ سارا وقت اپنا گھر سیٹ کرنے میں لگی رہتی تھی۔ پھر سب کچھ ایک نارمل روٹین میں آگیا۔

ان دنوں میں نیا نیا ایوی ایشن میں گیا تھا۔۔۔پہلے فلائنگ اور پھر نوٹس بناتا رہتا تین ساڑھے تین بجے تھکا ہارا گھر لوٹتا تو وہ باہر برآمدے میں ہاتھ میں کتاب لئے میرے انتظار میں ہوتی۔ اس کا تروتازہ چہرہ میری تھکن اتار دیتا۔ ایک دو ہفتے بعد وہ کھانا پہلے سے بہتر بنانے لگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے سارا وقت گزارتے۔ اسے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا میں یونٹ کی لائبریری سے اس کی تجویز کردہ کتابیں ایشو کروا لاتا۔ آفیسرز میں میرا مذاق اڑایا جاتا کہ شادی کے بعد کتابوں کا شوقین ہوگیا ہے اور میں مسکرا کے بات ٹال جاتا۔ یہ عقدہ اس دن کھلا جس دن آفیسرز میس میں ڈنر تھا اور وہ کرنل احمد اور ان کی بیگم سے اردو ادب کے مشہور ناولز پر بات کررہی تھی تو سب کو معلوم ہوا کہ اصل میں میری بیگم صاحبہ کتابیں پڑھنے کی شوقین ہیں۔ میں اپنا ہونڈا 125 ساتھ لے گیا تھا چھٹی کے دن ہم ارد گرد کا علاقہ ایکسپلور کرتے۔ پکنک باسکٹ تیار کرنا اس کیلئے پانچ منٹ کا کام تھا۔ ہم دونوں موٹر سائیکل پر سکردو میں گھومتے رہتے۔

میری آنکھوں کے سامنے گھر کا نقشہ آرہا ہے۔۔۔۔گیٹ کے ساتھ چھوٹا سا لان دو سیڑھیاں چڑھ کر برآمدہ۔۔۔۔ ایک لابی جس میں ایک بڑا آئینہ لگا ہوا تھا اور اس کے دونوں اطراف میں منی پلانٹ کے گملے دیوار پر فیملی کی کئی تصویریں جن میں ہم دونوں کے بچپن سے لے کر میری پاسنگ آؤٹ اور اس کے کانووکیشن اور شادی کی کئی تصویریں آویزاں تھیں۔ بائیں جانب چھوٹا سا ڈرائنگ روم تھا جس کی کھڑکیاں باہر کھلتی تھیں۔ دائیں جانب ایک بیڈ روم تھا جسے لوونگ روم کی طرح سنوار رکھا تھا اس کے پیچھے ایک اور بیڈروم تھا جسے ہم سونے کیلئے استعمال کرتے تھے۔ انتہائی صاف گھر کو وہ روز بہت پریت سے صاف کرتی۔ میں منع کرتا تو کہتی کہ کرنے کیلئے ہے ہی کیا؟ میں ان چھوٹے موٹے کاموں سے مصروف رہتی ہوں۔

کچھ دن سے اس کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں چل رہی تھی۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا تو معلوم ہوا ہم دو سے تین ہونے والے ہیں۔ خوشی سے زیادہ ٹینشن تھی کہ دونوں کی فیملی دور ہے اس کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ اور اب سے اٹھارہ سال پہلے میڈیا اتنا سٹرانگ نہیں تھا۔ میں نے بھی انٹرنیٹ سے اسے ان دنوں   کرنے اور نہ کرنے کے کچھ  کام سمجھائے۔ دن بڑے ہی خوبصورت تھے اور ان دنوں پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوتی جارہی تھی۔

اس کے بعد سارہ کو بھی تین بار اس کیفیت میں دیکھا لیکن اتنا حُسن نظر نہیں آیا۔ شاید اس حُسن میں اسکا اخلاق، اس کی مجھ سے بےلوث محبت تھی جو اسے اتنا حسین بنا رہی تھی۔ آخر 21 اگست کا منحوس دن آگیا کھانا بنانے کے دوران اسے اوپر کی کیبنیٹ سے کچھ چاہیے  تھا۔ پہلے وہ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی رکھ کے سامان اوپر کے کیبنیٹس سے نکال لیتی تھی اب بھی اس نے یہی کیا۔ لیکن بدقسمتی سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی اور زمین پر گر پڑی۔ اکیلے گھر میں کوئی بھی اس کو دیکھنے والا نہ تھا۔ ہمارے ہمسائے کیپٹین طاہر کی بیگم اس کیلئے کچھ بناکر لائی تھیں بار بار بیل بجانے پر دروازہ نہ کھلا تو انہیں تشویش ہوئی۔ انہوں نے اپنے ملازم سے کچن کا پچھلا دروازہ کھلوایا تو وہ کچن میں نہ جانے کب سے بےہوش پڑی تھی۔

میں اس دن فلائنگ پر تھا اور انسٹرکٹر کے ساتھ گلگت گیا ہوا تھا۔ میری واپسی شام میں ہوئی اور دفتر سے ہی پتا چلا کہ بیوی ہسپتال میں ہے اور بیٹی کا انتقال ہوچکا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دونوں میں سے کس کا ماتم کروں۔ لیکن ہماری عسکری تربیت ہمیں خود پر قابو رکھنا سکھاتی ہے۔ بچی کو دفنا کر جب میں ہسپتال اس کے پاس پہنچا تو وہ نارمل نہیں تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ بیٹی دِکھنے میں کیسی تھی جس کی پیدائش میں دو مہینے باقی تھے۔ اوپر سے ڈاکٹر اس کی جسمانی حالت کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے اس طرح گرنے سے اس کا جسمانی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اگلے بچے کی دفعہ کچھ پیچیدگیاں ہوں۔وہ بہت کڑا وقت تھا اور ہم دونوں مایوس۔۔۔۔۔ میری ساس بیمار تھیں اس لئے میری والدہ چند دن بعد ہماری طرف آگئیں۔ میرا خیال تھا کہ امی کے آنے سے وہ بہل جائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ یہ ایک حادثہ تھا لیکن امی یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھیں۔ لیکن ایک ماں کیسے اپنا اتنا بڑا نقصان کرسکتی ہے۔ اس بات نے اسے توڑ دیا ۔۔۔۔

بجھی بجھی تو وہ پہلے ہی تھی ایسی باتوں سے وہ بالکل خاموش ہوگئی۔ میں نے یہ سوچا کہ یہ کچھ دنوں کیلئے اپنے مائیکے چلی جائے گی تو بہل جائے گی۔ یہی سوچ کر اسے امی کے ساتھ پنڈی بھیج دیا۔ کچھ دن بعد وہ اپنے مائیکے چلی گئی۔ میرے سی او میرے کام سے خوش تھے کچھ نئے پائلٹس کو ایک سال کی ٹریننگ کیلئے امریکہ بھجوایا جارہا تھا انہوں نے مجھے ریکمینڈ کردیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں اپنی نوکری کے پہلے پانچ سالوں میں ہی باہر چلا جاؤنگا۔ مگر مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے  گھر والے میرے باہر جانے کو ایک  مقصد کے طور پر لیں گے۔

میرے باہر جانے کے بعد اس کا تمام سامان اس کے والدین کے پاس بھجوادیا گیا۔ اور اسے جتا دیا گیا کہ میرے آنے پر طلاق کے کاغذات اسے مل جائیں گے۔ اس وقت آج کی طرح موبائل عام نہیں تھے۔ میں فلوریڈا میں تھا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ وہیں سے مجھے اگلی اٹیچمنٹ پر ساؤتھ افریقہ بھیج دیا گیا میں تین سال بعد واپس آیا تو مجھے مجبور کیا گیا کہ اس معاملے کو ختم کردوں مجھے کچھ سمجھ ہی نہ آیا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ جب ہماری ملاقات ہوئی تو وہ خوشگوار ماحول میں نہیں ہوئی۔ اسے بھی مجھ سے بےحد شکوے تھے اس نے صاف کہہ دیا کہ آپ سے طلاق نہیں چاہیے  لیکن آپ کے ساتھ رہنا بھی نہیں ہے۔ میری طرف سے آپ دوسری شادی کرلیں۔۔۔۔ اور یہیں بات ختم ہوگئی۔

کچھ مہینے بعد میرے والدین نے میری شادی خالہ کی بیٹی سے کردی اور ایک نئی زندگی شروع ہوگئی۔ میں کسی حد تک اسے بھول گیا تھا اور پھر دو بچوں نے مجھے نوکری اور گھر تک محدود کردیا۔ وہ کیسے اپنی زندگی گزار رہی ہے مجھے کوئی خبر نہیں تھی۔

شادی کے چھ سال بعد وہ اچانک مجھے سوشل میڈیا کے ایک فورم پہ دِکھ گئی جہاں ایک بحث چل رہی تھی۔ میں نے اس کی پروفائل دیکھی تو معلوم ہوا کہ وہ اب ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی ہے۔ میں نے اس سے رابطے کا فیصلہ کرلیا۔ میری منکوحہ تھی کوئی بھی روک نہیں سکتا تھا۔ میں لاہور گیا تو اس کے دفتر چلا گیا۔ وہ مجھے دیکھ کے ششدر رہ گئی۔ وہ اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام رہی تھی۔ ہاف ڈے کرکے میرے ساتھ چل پڑی۔ کس وقت اسکے آنسو بہنے لگے مجھے تو اس وقت اندازہ نہ ہوا جب وہ ہچکیاں لے رہی تھی۔ وہ شام کتنی عجیب تھی بےحد اداس اور تنہا۔ میں نے اسے چپ نہیں کرایا اسے دیکھ کے میں بھی خاصا مغموم تھا۔ اس کے بعد میں وقتاً فوقتاً اسے ملتا رہا۔

شروع میں اس نے اپنے گھر والوں سے چھپایا لیکن بہرحال یہ کچھ غلط نہیں تھا۔ مجھے بھی احساس ہوا کہ وہ خاصی میچور ہے۔ میرے گھر کے وہی مسائل تھے جو شادی کے بعد گھروں کے ہوجاتے ہیں۔ میری بیوی کی توجہ کا مرکز صرف اولاد اور اس کے اپنے والدین تھے۔ مجھے اس کی جانب سے توجہ ملنے لگی تو میں بیوی بچوں سے غافل ہوتا چلا گیا۔

میرا زیادہ تر وقت اس کے ساتھ فون پر بات کرنے میں گزرنے لگا۔ بات کہاں تک چھپتی میری بیوی نے اعتراض شروع کردئیے اور گھر میں اس معاملے کو لے کر بحث ہونے لگی۔ والدین نے صاف کہہ دیا کہ جس بیوی سے اولاد ہے اسے رکھو۔ تاکہ وہ بھی اپنا گھر بسا سکے۔ میں کوئی بھی فیصلہ نہ کرسکا۔ ادھر اس کے گھر والے بھی اعتراض کرتے لیکن وہ معاملہ سنبھال لیتی۔

اصل بات یہ تھی کہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ ہماری دوستی تھی۔۔۔ ہم میں محبت تھی۔ اگرچہ بیچ میں فاصلے تھے لیکن وہ گھٹ بھی سکتے تھے۔ اسی امید پہ ہم نے چھ سال گزار لیے۔۔۔ اصل معاملہ میری ماسکو سے واپسی پر ہوا مجھے میری بیوی نے دھمکی دی کہ اگر میں نے اسے طلاق نہ دی تو وہ تینوں بچوں کے ساتھ اپنے والدین کے پاس چلی جائے گی۔

میں دل سے ایسا نہیں چاہتا تھا لیکن میں نے جب اسے اپنی مشکل بتائی۔ کچھ دن بعد میرے دفتر کے پتے پر مجھے خلع کے کاغذات مل گئے۔ ساتھ ایک خط بھی تھا جس میں اس کا اعتراف تھا کہ وہ میرے گھر کو بسانے کیلئے یہ قدم اٹھا رہی ہے۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ اس نے کہیں پڑھا ہے کہ:
“مرد کی محبت دانت کے درد کی طرح ہوتی ہے۔ مرد جب محبت کرتا ہے تو بہت شدت سے کرتا ہے اور جب خاموش ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اُس نے محبت کبھی کی ہی نہیں۔”۔۔۔۔۔۔۔۔اور مجھے تو تمہاری خاموشی کی اتنی عادت ہوچکی ہے کہ میں تمہاری توجہ سے ڈر جاتی ہوں۔

SHOPPING

لیکن میں اسے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں کبھی بھی خاموش نہیں تھا میرے دانت کے درد کی شدت میں کمی پہلے بھی نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے۔۔۔۔!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دانت کا درد۔۔۔قراۃ العین حیدر/افسانہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *