واہمے۔۔۔۔مریم مجید

دہر و آنات کے طلسم سے نکل کر وہ دونوں زمانی جکڑبندیوں کی آخری فصیل پر بیٹھے تھے۔
سرخ، بوسیدہ اینٹوں کی فصیل کے سب اطراف کو ایک ہلکا نیلگوں دود گھیرے ہوئے تھا اور اس میں فصیل پر پاوں لٹکا کر بیٹھی ہوئی، ازمنہ قدیمہ کی اس ساحرہ کے لباس کا گھیر دار حصہ مدغم ہوتا تھا۔
شاعر اس سے ذرا فاصلے پر نشست انداز تھا۔۔
“تو تمہارا گمان ہے کہ وقت کے پیدا کنندہ نے یہ ارض و سما کی مہیب وسعتیں محض وجود آدم اور اس کی بقا کے لیے ہی تشکیل دی ہیں”؟
اس نے ساحرہ کی جانب تکتے ہوئے، اگرچہ کہ وہ اسے تکتا نہ تھا، اپنا سوال لبوں کی دہلیز کے پار دھکیلا۔
وہ اس کے سوال پر دھیمے سے ہنس دی۔
“یہ گمان نہیں ، کائناتی حقیقت ہے! کائنات کی ہر مخلوق، ہر عظیم سمجھے جانے والی مخلوق کا نشان بھی اب ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔
چاہے وہ دیوہیکل چھپکلیاں(ڈائنو سارز) ہوں یا طویل قامت و جبھریلے فیل نما(میمتھ)  ۔ سب ہی معدوم ہوئے یا کائناتی قہر سے بچنے کے واسطے اپنی نسلوں کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے گئے۔ ”
وہ  بول رہی تھی اور شاعر، جو درحقیقت اس کی مانند ہی وقت کے کارخانے میں قرنوں پہلے تیار ہو چکا تھا، آنکھیں ترچھی کیے بحث کے نکات جمع کر رہا تھا اور اسے دیکھتا تھا، جبکہ درحقیقت وہ اسے نہ دیکھتاتھا کہ ساحرہ کے بدن اور نیم شفاف لبادے میں نیم دائروی لہروں میں اڑتے صدیوں، قرنوں اور دہر کے سفید ذروں کے سوا کچھ نہ تھا۔

“سنو! توقف کرو”! وہ یکدم نگاہ پھیر کر  سیدھا ہوا اور اپنے دھیان میں محو کلام ساحرہ ٹھٹک کر خاموش ہو گئی۔اسے شاعر کے اس طرز سلوک سے شکایت تو تھی مگر جانتی تھی کہ  اس کو بہتر بنانا ممکن نہیں ہے ۔وہ جن جہتوں کو پار کرکے فصیل زمانی پر مل بیٹھنے پر قادر ہوئے تھے،  ان کے پھیر نے شاعر کو آداب بیانی اور مجلسی رکھ رکھاؤ  کے تکلفات سے آزاد کر دیا تھا۔ اور ساحرہ تو یوں بھی شاعر ہی کی اک اختراع تھی جسے اس نے فلسفہ و صعنت کے مال کے طور پر اپنے ذہن سے یوں تخلیق کیا تھا کہ وہ اس کی تخلیق ہونے کے باوجود ایک الگ وجود و حیثیت رکھتی تھی ۔یوں سمجھیے  کہ شاعر کی پرچھائیں قادرالکلامی کا جیتا جاگتا ثبوت تھی۔

“اب بھلا یہ سرپھرا مزید کب تک خاموش رہے گا”؟ ساحرہ نے اسے دیکھا جس کے کاندھوں تک آتے بال اس کی مانند ہی الجھے ہوئے تھے اور پیشانی پر سوچ کی شدت سے رگیں گچھوں میں بدل رہی تھیں۔
فصیل زمانی سے وقت کا کہرا گرتا اور پھیلتا رہا اور شاعر اسے اذن گویائی دینا بھول گیا تھا۔

“گویا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ کائنات کی اس سب سے کم عمر مخلوق کی خاطر مادہ تاریک کے اس گولے کو لٹو کی مانند یوں گھمایا گیا کہ دست یزداں کا وہ تحرک اور وہ گھماؤ  ہر ذرہ کائنات میں سرائیت کر گیا؟ تا ازل؟؟ اس دو گھڑی کی پیدا مخلوق کی خاطر ؟چہ خوب”؟ بالاخر شاعر نے استغراق میں آواز سے نقب لگاتے ہوئے سوال کیا اور شانے اچکا کر منتظر نگاہوں سے ساحرہ کو دیکھا جو اب اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کر کے اس کے قریب ہو گئی تھی۔

“ہاں!یہ درست ہے! اگرچہ تم اسے تسلیم نہیں کرتے مگر تاریخ انسانی اور مطالعہ کائنات سے اس کا ظہور ہوتا ہے کہ بساط کائنات ہمارے تمہارے واسطے بچھائی گئی۔ ” ساحرہ نے اسے جواب دیا اور وہ تمسخرانہ ہنس دیا۔

اس کا قہقہہ  فصیل سے نیچے گرا اور لامتناہی چھناکوں میں تقسیم ہو گیا۔ “اس کائناتی دن میں، انسان کی عمر ابھی چند گھڑی بھی طے نہیں ہوئی اور تم اس کی تاریخ کے مطالعے کو بطور ثبوت پیش کرنا چاہتی ہو؟ سنو! تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ کائنات کے مکمل پھیل کر سمٹ جانے تک کے دورانیے  کا دائرہ صرف انسان کی بقا تک محدود رہے گا”؟ اس نے بوسیدہ اینٹ کا ایک ٹکڑا فضا میں اچھالا اور لطف لیتے انداز میں ساحرہ کو تکنے لگا ۔
“کیونکہ اس دو گھڑی کی پیدا مخلوق کو جو طاقت و قوت اور اختیار دیا گیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی  بقا کی جنگ کو کمال خوبی سے جاری رکھے! اور یہ تو تم بھی خوب جانتے ہو کہ آدم وہ تنہا مخلوق ہے جو قدر و قضا کے جھگڑوں سے ابتدا سے ہی برسرپیکار و مصروف کار جدل رہا ہے۔ اور عظیم کائنات کا اگر اسے مٹا کر کوئی اور طاقتور مخلوق بسانے کا ارادہ ہے بھی تو وہ اسے کامیاب نہ ہونے دے گا۔ “۔ اس نے شانوں سے ڈھلک جانے والا لبادہ برابر کیا۔

شاعر خاموش تھا۔ ساحرہ نے کچھ توقف کیا اور پھر دوبارہ محو کلام ہوئی۔ “تم جانتے ہو کہ آدم کی لامحدود قوت کو صرف ایک شے شکست سے دوچار کرتی ہے” وہ ذرا ٹھہری”اجل” اس نے اپنے سوال کا گویا خود ہی جواب دیا تھا۔”اور کائناتی دن کی اس سب سے کم عمر مخلوق نے سب سے زیادہ جدوجہد ہی اجل کو شکست دینے کے لیے کی ہے۔ ہمیشہ کرتا رہے گا اور ایک دن کامیاب ٹھہرے گا۔ جب اس نے وائرس کے منجمند برگ کی تحقیق کی تو جانتے ہو اس نے کیا رمز کھوج نکالی تھی؟ اس نے یہ راز جان لیا تھا کہ اگر تم کسی طور اپنے جینیاتی خلیوں کی دھڑکنوں کو روک دینے پر قدرت پا لو تو ہمیشہ ہمیشہ کی حیات پا سکتے ہو۔

“وہ خاموش ہوئی تو دھیان سے سنتا شاعر چونک اٹھا۔ “یعنی ؟ حیات کی گردش کو سست کرنے سے دوام حاصل کیا جا سکتا ہے؟” وہ کچھ کچھ قائل ہونے والے انداز میں خود کلام ہوا۔ “ہاں! ہم سے پہلے یہاں جس قدر مخلوقات بھی آباد ہوئیں، وہ طاقت بدنی کے اعتبار سے انسان سے بہت عظیم تھیں شاعر! اور اسی مناسبت سے ان کی فنا کا عمل تیز رفتار تھا۔ ان کے جینیاتی خلیوں کی دھڑکنیں برق رفتار تھیں اور گردش حیات کی اس تیزی کے باعث وہ ماحول و کائنات کے ہر آن وقوع پذیر ہوتے تغیرات کے ساتھ تال میل نہ بنا سکیں اور انجام کار فنا پذیر ہوئیں۔” ساحرہ نے بات مکمل کی اور اسے مسکرا کر دیکھا۔۔۔

اس نے اپنے الجھے ہوئے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑا اور پھر آزاد کر دیا۔ اسے ساحرہ کا یہ نرم انداز گفتگو بہت پسند تھا اور اپنی بدہیتی کی چڑ نے، جس کا اسے بخوبی احساس بھی تھا، ساحرہ کو تخلیق کرنے پر مجبور کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ماسوائے ساحرہ کے، کائنات کی کوئی عورت اسے اس قدر تحمل مزاجی سے برداشت نہ کر سکے گی۔
آج اس نے ساحرہ کو جس کائناتی مسلے پر گفتگو کے لیے بلایا تھا وہ آدم و بقائے آدم کا ثقیل موضوع تھا ۔ دراصل اسے آئندہ چند ایام میں اپنی آخری تصنیف کے چند آخری اوراق تحریر کرنے تھے اور وہ اپنی الجھنیں، سوالات و خیالات کی پیچیدہ گرہیں ساحرہ سے گفتگو کے ذریعے سلجھانا چاہتا تھا۔

“گویا ہم اس نتیجے پر مطمئن ہو جائیں کہ کائناتی دن کے خاتمے تک بقا محض بنی نوع انسان کا ہی مقدر ہے” وہ دھیمے سے گویا ہوا اور بغل میں رکھی ایک صخیم کتاب پر، جس کے کناروں سے بوجوہ قدامت زرد پن جھلکتا تھا، اپنے سیاہ قلم سے کچھ تحریر کرنے لگا۔ ساحرہ اسے دیکھتی رہی۔ کہرا گرتا رہا اور شاعر اپنی آخری تصنیف کے آخری صفحات قلمبند کرتا رہا۔

“مجھے اجازت ہے”؟؟ بالآخر ساحرہ اس کی بے توجہی سے اکتا کر لبادہ سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی تو شاعر کی محویت اور ارتکاز ٹوٹ گیا۔ اس نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
“نہیں!! ” اس نے بس ایک لفظ ادا کیا اور پھر سے اپنی کتاب پر جھک گیا۔ ساحرہ دوبارہ فصیل کے کنارے جا بیٹھی۔ خاموشی کی سرسراہٹیں اس عجیب پراسرار ماحول میں گونجتی رہیں۔

آخر اس نے آخری صفحہ پر لفظ” محفوظ” تحریر کیا اور قلم و کتاب سمیٹ کر ایک جانب رکھ دئیے۔
“یہ میری آخری تصنیف ہے” شاعر نے طمانیت کے گہرے احساس کے ساتھ کہا اور ساحرہ کو دیکھا جو اپنے لبادے کے کنارے پر لگی سنجاف کے ساتھ کھیل رہی تھی۔

“تو اس کے بعد تمہارے ہونے کا مقصد اختتام پذیر ہو جائے گا”؟ وہ استفہامیہ انداز میں ابرو اٹھا کر گویا ہوئی  ۔

شاعر اس کی اس کم فہمی پر مسکرا دیا۔  ۔ “نہیں!! میں اس آخری تصنیف کے ساتھ ہی اپنے شاعر و فلسفی ہونے کے واہمے کو اور شاید تمہیں بھی سمیٹ کر سکندریہ کے گلی کوچوں میں لے چلوں گا جہاں معجزے کچھ یوں موت کے گھاٹ اتارے گئے تھے کہ مہینوں تک سکندریہ کی سرزمین پر راکھ کی دبیز تہہ تھی اور نیل میں آب اسود بہا کرتا تھا۔”شاعر کی آواز غم کے بوجھ سے چٹخنے لگی۔

ساحرہ بھی اس عظیم نقصان کے سانحے کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گئی۔ “آہ! انسانیت کو اس کے جوہر کے ایک بہت بڑے حصے سے محروم کر دیا گیا ” اس نے سرد آہ بھری۔  “انسانیت اور تحقیق و کھوج پر کیسے کیسے تاریک زمانے گزرے ہیں۔ کبھی کتابیں اور مخطوط فنا کیے گئے تو کبھی خدائی کے نام نہاد مذہبی فوجداروں نے زندہ و تابندہ اذہان کو گلوٹین کی دھار کے حوالے کیا، کانسی کے بیلوں میں قید کر کے زندہ بھون دئیے گئے اور کبھی تاحیات زنداں کی تنہائی میں جھونک دئیے گئے۔ ” ساحرہ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں رکھ لیا اور شاعر کی جانب دیکھا۔ “میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ انسانیت کی ترقی کو مذہبی رکاوٹوں سے معزول کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی رہی ہے؟ ” وہ خودکلامی کے سے انداز میں بڑبڑایا۔ “آخر کلیسا کو سب سے زیادہ خطرہ کتب خانوں اور تجربہ گاہوں و رصد گاہوں سے ہی کیوں لاحق رہا ہے؟ ”
دکھ کے گہرے احساس کے تحت اس کی سوزش زدہ آنکھوں سے دو قطرے ٹپک گئے۔ اسے وہ سیاہ دور یاد آنے لگا جب ماہیت دانوں، سائنس دانوں اور فلسفیوں کو اس بنا پر اجل کے حوالے کر دیا گیا تھا کہ وہ زمین کی ماہیت کو کروی و دائروی کہتے تھے اور سورج کو نظام شمسی کا مرکز قرار دیتے تھے۔

وہ اسے تشفی دینے اس کے قریب کھسک آئی۔ اس نے اس کے شانے پر نرمی سے ہاتھ رکھا اور حلیمانہ گویا ہوئی۔ ” کیونکہ شروعاتی دنوں میں ہی کچھ چالاک اور مفرد سوچ کے افراد نے یہ راز جان لیا تھا کہ انسانیت پر،انسانوں اور خیال و تفکرات پر جس قدر قدغن لگائی جا سکتی ہے، اسی قدر ان کی حکومت، شہنشاہی اور حاکمیت کو دوام حاصل رہے گا اور اس مقصد کے لیے  سب سے نازک نکتہ مذہب ہی تھا شاعر!!۔ وگرنہ کلیسا کو اس بات سے کیا غرض کہ زمین و نظام شمسی کی ماہیت کیا ہے؟ اگر سوچ پر،کھوج پر اور تحقیق پر پابندی نہ عائد کی جاتی تو انصاف سے کہو، مٹھی بھر دماغی حاکموں کا خاتمہ نہ ہو جاتا؟ اور یہ خدائی فوجدار محض بپتسمہ دینے تک محدود نہ ہو جاتے؟

” شاعر نے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا لیا۔ “تم درست کہتی ہو! مگر خوش آئند امر یہ ہے کہ بالاخر اس سحر کا خاتمہ ہوا، اگرچہ کہ سکندریہ کی راکھ میں بہت سے سربستہ راز دفن ہیں مگر اس راکھ سے، ان سوز زدہ بدنوں سے، سر کٹے جسموں سے علم و حکمت اور تحقیق کے جو دیوتا جنم لے چکے ہیں وہ ان دعویداروں اور سحرکاروں کا طلسم باقی نہ رہنے دیں گے۔ ” وہ مایوسی کی کیفیت سے نکل آیا۔

“ہاں شاعر!! اسی راکھ سے بارکلے پیدا ہوتا ہے، جو فلسفہ تصوریت کا موجد ہے اور جس کی مہربانی کے طفیل تم مجھے تخلیق کرنے پر قادر ہوئے۔ اسی سر کٹے وجود سے کانٹ، ہیگل، ارسطو اور ہیوم جنم لیتے ہیں جو خدا کو ایس و لیس سے منزہ کہتے ہیں اور بالاخر منصور حلاج کے اناالحق تک کا سفر طے ہوتا ہے۔ ” اس کی نرم و شیریں آواز شاعر کے زخموں پر اس کے جھلستے دکھوں پر ٹھنڈک بھرے مرہم کا کام کر رہی تھی۔ اس کے دل و دماغ میں امید کی شمع ایک بار پھر سے روشن ہونے لگی۔

وہ اک نئے عزم و ارادے کے ساتھ اٹھا، ساحرہ کا ہاتھ تھاما اور کتاب و قلم سنبھالے فصیل پر چلنے لگا۔ ” کائنات آدم، اہرمن اور یزداں کا ثلاثہ ہے۔ ایک روز اس کو مستطیل میں ڈھالنے کی کوشش کرنے والے عظیم ناکامی سے دوچار ہوں گے! چلو ساحرہ! اب ہماری آئندہ ملاقات برج بابل پر طے ہو گی۔ میں اپنی آخری تصنیف کے ساتھ تمہیں وہیں ملوں گا اور کائناتی مسائل و فلاسفہ کی گھٹڑی کا بوجھ تمہارے شاعر کو تا ابد اٹھائے رہنا ہے! فصیل زمانی سے کوچ کی گھڑی آن پہنچی!

” ساحرہ کا لبادہ معدوم ہونے لگا اور وقت کے نیلگوں کہرے میں دھیرے دھیرے دونوں واہموں کا وجود تحلیل ہوتا گیا۔ فصیل پر کہرا گہرا ہو چکا تھا اور “محفوظ” میں ایک مزید صفحے کا اضافہ ،ایک صدی کا اضافہ ہو چکا تھا۔۔!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *