ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 176 )

مُنڈاسہ۔۔۔۔۔علی آریان/افسانہ

کمرے میں ’’ چوبٹ ‘‘ ابھی جاری تھی کہ مسعود نے دوستی پہ بحث کا آغاز کر دیا اور اُس کی دیکھا دیکھی ریاست ‘ عارف ‘ فضل داد ‘ طارق اور راجا صاحب بھی اِس بحث میں شامل ہو←  مزید پڑھیے

جدائی کی پانچویں سالگرہ پر۔۔۔۔خالد سہیل

وہ میرے دل میں بستی تھی وہ میرے گھر میں رہتی تھی وہ میری زندگی میں بھی مرے ہمراہ چلتی تھی نجانے اب کہاں ہے وہ وہ کس کے دل میں بستی ہے وہ کس کے گھر میں رہتی ہے←  مزید پڑھیے

رات کی رانی۔۔۔۔۔۔۔رابعہ الرباء

بہار کی قاتلانہ ہوا یوں محو رقص تھی کہ باغ کے تمام درخت، پودے، پتے، شاخیں بھی ان کے ہمراہ ناچ رہے تھے۔ پھولوں پہ دیوانگی کا عاشقانہ عالم طاری تھا، جو چھپائے نہیں چھپتا۔۔۔ اک اک پھول کی خوشبو←  مزید پڑھیے

میرا چاند۔۔۔۔۔۔۔۔مونا شہزاد

میں تیار ہوکر ڈریسنگ روم میں سے نکلا تو کشف کو تیار ہوتے دیکھ کر میرے قدم رک سے گئے ،آج کشف تیار ہوکر بہت حسین لگ رہی تھی ،اس نے سیاہ رنگ کا مکیش سے بھرا جوڑا زیب تن←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر بارہ۔۔۔۔۔۔فاروق بلوچ

ہم صبح سے واٹس ایپ پہ میسج کر رہے ہیں، بلکہ لگے ہوئے ہیں. کبھی سِم پہ میسج تو کبھی واٹس ایپ تو کبھی فیس بک میسنجر پہ لگے ہوئے ہیں. فلمی گیتوں کے مختصر ٹیزر سے لیکر چیف جسٹس←  مزید پڑھیے

یہ جو ٹھہرا ہوا سا پانی ہے۔۔۔خالد سہیل/غزل

یہ جو ٹھہرا ہوا سا پانی ہے اس کی تہہ میں عجب روانی ہے ایک عورت جو مسکراتی ہے اس کی غمگیں بہت کہانی ہے کتنی محنت سے ہم نے حاصل کی ایسی ہر چیز جو گنوانی ہے ایک چاہت←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 11۔۔۔۔فاروق بلوچ

میرے ذہن میں ابھی تک نیاز بھائی کی کہانی گھوم رہی ہے. نیاز بھائی ابھی کنوارے تھے، شاید اٹھارہ انیس سال عمر تھی جب وہ اسلام آباد گئے تھے. بس پھر وہیں کے ہو رہے. مجھے کہتے تھے کہ خوش←  مزید پڑھیے

قاتل۔۔اسامہ ریاض

’’میں نے کوئی قتل نہیں کیا جج صاحب۔ میں بے قصور ہوں‘‘ تیسری دفعہ یہی بڑبڑاتے ہوئے میری آنکھ کھل گئی تھی۔چاروں طرف اندھیرا تھا۔ چھت پر بنے روشن دان سے ہلکی سی چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی۔←  مزید پڑھیے

منادی ہے۔۔۔۔۔فیصل عظیم/نظم

منادی ہے کہ اب حکمِ بہاراں ہے منادی ہے کہ اب پتّوں کی رنگت بس ہری کہلائے زباں پر زرد کا قصّہ نہیں ٹھہرے جو ہو اب شاخ پر، سب گل کہیں اُس کو زبانوں پر کوئی کانٹا نہیں ہوگا←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی(نیا جنم)۔۔آخری قسط۔۔ستیہ پال آنند

راشد (مرحوم)، ساقی (مرحوم) اور میں (بقید ِ حیات) ایک جھوٹ کا ازالہ ٭٭٭٭٭٭٭ میں اپنی خود نوشت ادبی سرگذشت “کتھا چار جنموں کی” ًمیں ن۔م۔راشد کی بے وقت مو ت پر لکھتے ہوئے مصلحتاً دروغ گوئی کا شکار ہوا←  مزید پڑھیے

فرعون کے دو بدو: پانچواں (آخری) حصہ ۔۔۔ میاں ضیاءالحق

  97 لاکھ آبادی والے ہنگامہ خیز قاہرہ میں دودن گزارنے کے بعد 5 لاکھ آبادی والے لکسر میں آیا تو یہ شہر پرسکون سا لگا۔قیمتوں کے لحاظ سے بھی سستا ہے۔ مشرقی افریقی حصہ ہونے کی وجہ سے لوگوں←  مزید پڑھیے

تخلیقی محرک۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/افسانہ

ماہرِ نفسیات نے اپنے چہرے پر حیرت کے تاثرات کو مزید گہرا کیا اور سامنے بیٹھے مشہورِ زمانہ ادیب و شاعر، عالمگیر شناس، کو سوال داغا۔۔۔۔ تو آپ کی بیوی نے آپ پر چھری سے حملہ کرنے کی کوشش کیوں←  مزید پڑھیے

اُمید کا چاند۔۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء/نظم

ہر بچہ اُمید ہے مستقبل کی نوید ہے ظلم تمھارا شدید ہے کیسے خزاں تم لاؤ گئے؟ کتنے دریا تم روکو گے؟ کتنے چاند کرو گے تسخیر؟ کتنے سورج جلاؤ گے؟ آخر ہار ہی جاؤ گے! کیونکہ ہر بچہ اُمید←  مزید پڑھیے

محبت کی پانچویں کہانی: خیال ۔۔۔ مریم مجید ڈار

  شام کا گلابی پن دھیرے دھیرے رات کی سیاہی میں ڈھل رہا تھا اور بہت دیر سے ایک ہی پہلو پر بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ سی گئی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی کے بیچ گزرتی نہر کے کنارے گیلی مٹی کی←  مزید پڑھیے

مولانا، آپ نے اچھا کیا! ۔۔۔ حافظ صفوان

مولانا کی خوبیوں کی اس گوناگونی نے ہیئتِ مقتدرہ کو اس بات پر مائل کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت "ریاستِ مدینہ" کو مستقبل کے پاکستان کا منشور بنایا جائے اور اس کے لیے اچھی شہرت کے حامل اور مثبت سوچ رکھنے والی مذہبی مقتدرہ سے کام لیا جائے۔ محسوس ہوتا ہے کہ قومی تاریخ کے اس نازک موڑ پر اس بار تبلیغی جماعت کے وسیع ترین حلقہ اثر کو کام میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مولانا موصوف سے ریاستِ مدینہ کے حق میں بیان دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ ←  مزید پڑھیے

لکھاریوں کا تخیل ۔۔۔۔۔نذر محمد چوہان

آ ج کل میں زیادہ تر وقت مختلف لکھاریوں کے حالات زندگی اور خیالات کے مطالعہ پر صرف کرتا ہوں، خاص طور پر ماضی جدید کے امریکی لکھاری ۔ ہر لکھاری کی اپنی دلچسپ کہانی ہے اور بہت خوبصورت زندگی۔←  مزید پڑھیے

کتب خانہ ۔ ایک خبر ایک افسانہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

سفید پوش شخص کے پاس کھونے کے لیے عزت کے سوا کچھ نہیں ہوا کرتا۔ عزت پر حرف لانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اس کے بس میں نہ تھا۔ وہ سوچ میں غرق تھا کہ کیا کرے۔ لیکن حل بھلا کہاں ذہن میں آنا تھا کہ تھا ہی نہیں۔ وہیل چئیر بھی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے اپنا بستر اپنی لائبریری ہی میں لگوا لیا تھا۔ ←  مزید پڑھیے

زرد روشنی میں خواب۔۔۔۔۔۔ابوبکر

جب میں نے اسے دیکھا تب دراصل میں خواب دیکھ رہا تھا۔ تمام انسانوں کی طرح میرے خواب بھی میری پسند سےنہیں آتے۔ میں نے دیکھا کہ اس مانوس کمرے میں مدھم زرد روشنی ہے۔ میں اس منظر کی ابتدا←  مزید پڑھیے

سمندر اور جوہڑ۔۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

سمندر کے کنارے ریت پر لیٹا بڑی حیرت سے لہروں کو میں تکتا ہوں وہ لہریں رقص کرتی ہیں خوشی کے گیت گاتی ہیں بڑی اپنائیت سے مجھ سے کہتی ہیں سمندر کی یہ طغیانی ہمیں آزاد رکھتی ہے ہمیں←  مزید پڑھیے

اللہ میاں واٹس ایپ پہ آؤ ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

اللہ میاں واٹس ایپ پہ آؤ یا فیس بک کا اکاؤنٹ بناؤ اپنا ہر اک سٹیٹس ڈالو خموشی سے سب کچھ نا سنبھالو کبھی تو کوئی کام لیٹ کرو کُن بولو تو اپ ڈیٹ کرو ہر ملحد کو مینشن کرو←  مزید پڑھیے