اُمید کا چاند۔۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء/نظم

ہر بچہ اُمید ہے
مستقبل کی نوید ہے
ظلم تمھارا شدید ہے
کیسے خزاں تم لاؤ گئے؟
کتنے دریا تم روکو گے؟
کتنے چاند کرو گے تسخیر؟
کتنے سورج جلاؤ گے؟
آخر ہار ہی جاؤ گے!
کیونکہ
ہر بچہ اُمید ہے
اجالے کی دید ہے
مستقبل کی نوید ہے
بادشاہ تم برزخ کے۔۔۔ ہم تارے آسمان کے
تاریکی کے مینار تم۔۔۔ ہم اجالے دو جہان کے
تم بات اک پل کی۔۔۔ ہم کہانی عرفان کے
معصومیت سے چہرہ چھپاؤ گے
آخر ہار ہی جاؤ گے
ہر بچہ اُمید جو ہے
ہر بچہ اُمید جو ہے
عمل و محنت کو رکھنا ہے پہیم
ضرورتِ وقت کو دنیا نہیں تازہ زخم
شمشیر وقت کو پھر سے کرنا ہے ہمیں ہی رقم
کیونکہ
ہم اُمید کا چاند ہیں
ہم تو عید کا چاند ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *