زرد روشنی میں خواب۔۔۔۔۔۔ابوبکر

جب میں نے اسے دیکھا تب دراصل میں خواب دیکھ رہا تھا۔ تمام انسانوں کی طرح میرے خواب بھی میری پسند سےنہیں آتے۔ میں نے دیکھا کہ اس مانوس کمرے میں مدھم زرد روشنی ہے۔ میں اس منظر کی ابتدا سے ہی کمرے میں موجود تھا لیکن وہاں بکھری چند چارپائیوں پر سوئے لوگ میری آمد سے پہلے ہی سورہے تھے۔ میں باہر سے نہیں آیا تھا لیکن نجانے کیوں میرا خیال تھا کہ ابھی رات کا وقت ہوگا۔ اسی طرح میرا خیال تھا کہ لحاف اور کمبل اوڑھ کر سوئے ان تمام لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ ان میں سے کسی کا چہرہ بھی باہر نہ تھا لیکن میرا خیال تھا کہ میں انہیں پہچان سکتا ہوں۔۔۔۔

وہیں ایک چارپائی پر لحاف لیے وہ بھی سورہی ہے۔ اور اسے میں سب سے بہتر پہچان سکتا ہوں۔ بند احاطوں کی زرد روشنی میں ٹہلنا مجھے بالکل پسند نہیں۔ خواب میں میرے احساسات کچھ یوں ہی تھے۔ میں اس کے ساتھ آکر لیٹ جاتا ہوں اوراس ہموار رخ سے اس کی طرف دیکھتا ہوں۔ وہ سورہی ہے اور لحاف تلے یوں نظر آتی ہے جیسے کسی نے گھاس پر چادر پھیلا رکھی ہو۔ساتھ لیٹو تو کچھ نہ چھپے۔ مجھے زرد روشنی میں گھاس پر لیٹنا پسند نہیں اور یہ میرے حقیقی تاثرات ہیں۔ میں یہیں لیٹا سو جاتا ہوں لیکن اپنے اصلی خواب میں خود کو یوں سوئے بھی دیکھ رہا ہوں۔ میں وہ واحد ہوں جو لحاف میں نہیں ہے۔ پھر وہیں سوئے میری آنکھ کھلتی ہے تو وہ میری طرف کروٹ لیے جاگ رہی ہے ۔ اس کی آنکھوں میں اُنس ہے اور اس کے ہونٹ گہرے سرخ۔ اتنے سرخ کہ زرد روشنی کا انس دبا جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ سرخی میری آنکھوں میں اتر رہی ہے ۔ میں کسی بیماری کی طرح اس سے گھبرانے لگتا ہوں اور وہ انس بھول جاتا ہوں۔ مجھے اصل میں بھی یہی لگتا ہے کہ میری آنکھیں بیمار ہیں۔

پھر میں اس خواب سے جاگ جاتا ہوں ۔ میرا خیال ہے کہ سانسوں کی بے ترتیبی بھی شور کی اک قسم ہے جو مریض بستروں کو آلودہ رکھتی ہے۔ میں سوچتا ہوں   کہ میں کیسے خواب دیکھنے لگا ہوں اور پھر میں اس پر غور کرنے لگتا ہوں۔ اچھی طرح یاد نہیں کہ یہ یکسوئی کب ایک دوسرے خواب میں بدل گئی۔ ( اور اکثر یکسوئی خواب میں بدل جاتی ہے)

میں دیکھتا ہوں کہ ہم سرسبز مضافات میں پاس پاس کھڑے ہیں۔ چند بڑے پتھر اردگرد فطری انداز سے بکھرے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھ رہے لیکن منظر کی ابتدا سے جانتے ہیں کہ ساتھ ساتھ ہیں۔ زرد روشنی بھی نہیں ہے۔
پھر میں دیکھتا ہوں کہ دور سے کہیں پیلے دھبوں والا ایک سیاہ کتا اسی طرف بھاگتا آرہا ہے۔ وہ بہت دور ہے لیکن نجانے کیوں اس کا چہرہ مجھے بہت صاف دکھائی دے رہا ہے۔ پھر اچانک ہی اس کے پیچھے تیز بھاگتے اور غصے میں غراتے کتوں کا ایک غول نظر آتا ہے۔ میں نہیں جانتا یہ غول اس کتے کا پیچھا کیوں کررہا ہے۔ اس غول سے ذرا ہی پیچھے ان گنت اجنبی لوگ ہاتھوں میں لٹھ لیے ہاؤ ہو مچاتے آرہے ہیں۔ اور ان سب کا رخ ہماری طرف ہے۔ میں اس کا ہاتھ تھام لیتا ہوں۔ وہ جس کا چہرہ میں نے ابھی تک نہیں دیکھا لیکن جسے میں خوب پہچانتا ہوں۔

بھاگتے لوگوں میں سے کوئی صدا لگاتا ہے۔ ‘یہ کتا باؤلا ہے۔ راہ سے ہٹ کر بچ جاؤ۔’

وہی کتا جس کا چہرہ مجھے شروع سے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بھاگتے ہوئے کچھ قریب آچکا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جو مجھے اتنی ہی نزدیک دکھائی دیتی تھیں۔ اس کی آنکھیں شدید سرخ تھیں جن میں بیماری کی وحشت کے سوا کچھ نہ تھا۔ میں ایک لمحہ یہ سوچنے لگتا ہوں کہ اس باؤلے کتے کو مڑ کر کم از کم پیچھا کرتے کتوں پر حملہ کرنا چائیے تھا اور پھر یہ لوگ باقی کتوں کو کیوں نہیں روک رہے۔

پھر اچانک میں نے دیکھا کہ ہم دونوں وہیں ساتھ پڑے ایک بڑے پتھر کے اوپر آن کھڑے ہوئے ہیں اور میں نے اب تک اس کا ہاتھ پکڑ رکھا ہے۔ شاید میں ہی اسے یہاں لایا ہوں گا۔ وہ سارا مجمع وہاں پہنچ چکا ہے جہاں پہلے ہم کھڑے تھے اور وہ مقام اس پتھر کے عین سامنے ہے۔ باؤلا کتے کسی اور سمت غائب ہوچکا ہے اور پیچھا کرتے کتوں کے غول سے کچھ کتے اس کے پیچھے چلے گئے ہیں جبکہ اکا دکا کتے وہیں کھڑے بھونک رہے ہیں اور باری باری منظر سے ہٹ رہے ہیں۔ لوگوں کے ہجوم کے سامنے ایک جوان لڑکا پاگلوں کی طرح بھاگ رہا ہے۔ اس کو وہی باؤلا کتا کاٹ گیا ہے۔ ہجوم چاہتا ہے کہ اس لڑکے کا سانس بھی ان تک نہ پہنچے۔ لمبی اور مضبوط لاٹھیاں کام آنے لگیں۔ لوگ اس لڑکے کے گرد دائرہ وار اکٹھے ہوگئے ہیں اور منہ پر رومال لیے بے دریغ لاٹھیاں چلا رہے ہیں۔ مسلسل پڑتی لاٹھیوں سے وہ لڑکا بازو پھیلائے کسی لٹو کی طرح گھوم رہا ہے۔ ایسے ہی ایک چکر میں اس کی نظر مجھ سے ملتی ہے۔ (میں جو سامنے کچھ بلندی پر کھڑا ہوں) اور ابھی ایسا ہوا ہی تھا کہ مجمع سے ایک شخص تیزی سے چند قدم آگے بڑھتا ہے اور اس گھومتے لڑکے کی پشت میں ایک بڑا سا خنجر اس شدت سے گھونپ دیتا ہے کہ خون کی پھوار سینے کی طرف جاری ہوجاتی ہے۔ گھومتے لڑکے کا خون گرد کی طرح اس کے ساتھ گھومتا ہوا زمین کی طرف گر رہا ہے اور اسی چکر میں اس کی نظریں دوبارہ مجھ سے ملتی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی آنکھیں شدید سرخ ہیں۔ وہ گھومتے ہوئے آخری بار رک گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ مجھ سے سوال کر رہا ہو کہ آخر کیوں !

شاید پھر وہ گر کے مرجاتا ہے اور پتھر اور اس پر کھڑے ہم دونوں کے سوا سب غائب ہوچکا ہے۔ میں شدید خوفزدگی کے عالم میں ہوں۔ مرتے ہوئے لڑکے کا آخری سوال اب بھی میری روح میں گردش کررہا ہے۔ میں مڑ کر اس کی طرف بھی نہیں دیکھنا چاہتا جو میرے ساتھ کھڑی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اس رات لحاف میں اس کے ہونٹ شدید سرخ تھے۔

میں اس کریہہ خواب سے جاگ چکا ہوں اور کافی دیر سے جاگ رہا ہوں۔ میں نے صبح دوبارہ غور کیا ہے۔ میری آنکھیں بیمار ہیں اور مجھے زرد روشنی کے سرخ سوالوں سے خوف آتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *