کتھا چار جنموں کی(نیا جنم)۔۔آخری قسط۔۔ستیہ پال آنند

راشد (مرحوم)، ساقی (مرحوم) اور میں (بقید ِ حیات)
ایک جھوٹ کا ازالہ
٭٭٭٭٭٭٭
میں اپنی خود نوشت ادبی سرگذشت “کتھا چار جنموں کی” ًمیں ن۔م۔راشد کی بے وقت مو ت پر لکھتے ہوئے مصلحتاً دروغ گوئی کا شکار ہوا تھا ۔ یعنی اس کے جسد خاکی کی تدفین کے بجائے کریمیشن کے فیصلے کے بارے میں کچھ بھی لکھنے سے گریز کیا تھا حالانکہ مجھے سب حالات کا علم تھا ۔۔۔ساقی فاروقی کے ایما پر (اور اپنی ادبی ایمانداری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے) میں نے بہانہ سازی کے طورپر یہ عذر لنگ پیش کیا تھا کہ میں اسی شام لنڈن سے انڈیا کے لیے پرواز کر چکا تھا۔ میرا یہ جھوٹ جسے میں نے ساقی کی ہدایت پر عذر لنگ کے طور پر استعمال کیا تھا، لنڈن میں رہنے والے میرے بہت سے دوستوں کو برا لگا تھا، لیکن میری دروغ گوئی کی تعریف مرحوم ساقی فاروقی نے کی ،جس نے “کتھا۔۔۔” کو پڑھنے کے بعد مجھ سے فون پر ایک گھنٹہ تک بات کی۔ ساقی نہیں چاہتے تھے کہ یہ اصلیت لوگوں کے سامنے آئے کہ جہاں راشد کو دفنانے کی جگہ نذر ِ آتش کرنے کا فیصلہ ان کی بیوی شیلا ؔ اور ان کے بیٹے شہر یارؔ کے ہاتھ میں تھا، وہاں ساقی خود بھی اس فیصلے میں برابر کے شریک تھے۔۔۔ اور اگربقلم خود یہ دروغ گو، یعنی ستیہ پال آنند سچ بات لکھ دیتا ، تو ساقی کے اسلامی یا اسلام پسند دوستوں میں اس کی مٹی پلید ہو جاتی۔آج یہ اقرار باللسان کرتے ہوئے مجھے شرمندگی کا احساس بھی ہو رہا ہےلیکن یہ بوجھ اتارنے کے بعد میں اپنے جھوٹ سے عہدہ برآ بھی ہورہا ہوں۔


راشد کی موت کے وقت ان کا بیٹا شہر یارؔ بلجییم گیا ہوا تھا۔ دس اکتوبر 1975ء کے دن مَیں ابھی ملٹن کینز Milton Kenyes میں ہی تھا کہ اتفاق سے ہی میں نے انجیلینا کو فون کیا ، یہ پوچھنے کے لیے کہ کیا راشد نیو یارک سے واپس آ گئے ہیں ۔ اُس نے جواب دیا کہ راشد کی آمد اُسی دن متوقع ہے ۔یاد رکھنے کی بات ہے کہ انجیلینا، مسز انجیلینی سے مختلف شخصیت تھی۔ مسز انجیلینی راشد کی موت کےوقت تقریباً ستربرس کی تھیں ، جبکہ یونیورسٹی میں ہماری رفیق کار انجیلینا تیس کے پیٹے میں تھی) اس خاتون کا تذکرہ میری کتاب “کتھا چار جنموں کی” میں موجود ہے، جہاں ن م راشد کی نظم “انتقام” (میرے  ہونٹوں نے لیا تھا رات بھراُس سے ارباب ِ وطن کی بے بسی کا ا نتقام) کے تناظر میں میری نظم “انتقام” موجود ہے ۔
اب میں راشد کی موت کا تذکرہ ساقی فاروقی کے الفاظ میں کرنا چاہتا ہوں جو حرف بحرف صحیح ہے۔ راشد کی کریمیشن Cremation کے بارے میں ساقی کے الفاظ بعد میں لکھوں گا، جو صحیح نہیں ہیں۔
ساقی سے اقتباس (ایک)
“میں مارننگ روم میں بیٹھا کافی پی رہا تھا ۔۔” ساقی لکھتے ہیں ۔ ” اور اخبار پڑھ رہا تھا کہ اور ٹیلی فون پر کان تھے کہ بیوی کی چیخ سن کر ایک دم سے ٹیلی فون کی طرف لپکا۔ میری بیوی کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی تھی۔ میں نے رسیور اپنے ہاتھ میں لیا اور فرش پر بیٹھ گیا اور مسز انجلینی سے پوچھا کہ کیا ہوا۔ وہ خاتون ڈبک ڈبک کر رونے لگیں اور مجھے ہچکیوں میں بتایا کہ راشد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ میرا دل بیٹھ گیا۔ بیوی کی چیخ سے میرے ذہن میں حادثہ، دل کا دورہ اور ہسپتال ابھرے تھے۔ اس لمحے تک موت کا لفظ میرے ذہن میں نہیں جاگا تھا۔ ایک لمحے کو میرے اعصاب سو گئے۔ پھر میں نے اپنے آپ کو سمیٹا اورتفصیل طلب ہوا۔ پتا چلا کہ بین سٹید شام کے سات بجے پہنچے اورپیدل چل کر کوئی بیس منٹ میں مسز انجلینی کے یہاں پہنچے۔ ان کا مکان خاصی بلندی پر واقع ہے۔ راستے ہی میں انہیں دل کی تکلیف محسوس ہوئی ہو گی کہ خاصے پژمردہ تھے ۔۔۔۔۔ صوفے پر بیٹھ گئے ۔مسز انجلینی نے کہا کہ وہسکی کا ایک گلاس مناسب رہے گا۔ کہنے لگے، “نہیں ابھی دل پر دباؤ کم کرنے والی دو گولیاں کھائی ہیں۔” پھر مسز انجلینی نے پوچھا، سفر کیسا رہاَ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا کہ وہ سوال اور جواب کی منزل سے آگے نکل گئے تھے۔ اتنی پُر سکون موت کم لوگوں کا نصیبہ ہے۔ جیسے کوئی بات ہوئی ہی نہیں۔
مجھے موت آئے گی، میں مر جاؤں گا

(ن۔م۔راشد)
(اقتباس القط)
( ساقی فاروقی : “پاپ بیتی” صفحہ 139-40)
ساقی سے اقتباس (2)
“۔۔۔۔ عبداللہ حسین میرے یہاں شام کو آ گئے۔ ہم صبح کے تین بجے تک راشد صاحب کی باتیں کرتے رہے اور شراب پیتے رہے ۔ دوسرے دن اتوار تھا۔ عبد اللہ اور ان کی بیوی میرے ہاں کھانے پر آئے ہوئے تھے کہ دو بجے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ یہ شیلا تھیں۔ رو ر رہی تھیں۔ کہنے لگی، ابھی پہنچی ہوں۔ یہ کیا ہو گیا؟ میں ان کے دہرے غم کے بارے میں ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں جانے کیا کچھ کہتا رہا۔ جب طوفان تھما تو میں نے پوچھا، راشد صاحب کب اور کہاں دفن ہوں گے؟ کہنے لگیں ۔ان کی خواہش تھی کہ انہیں نذر ِ خاک نہیں، نذر آتش کیا جائے، تم کیا کہتے ہو؟ ظاہر ہے، میں شہر یار سے مشورہ کیے بغیر کچھ نہیں کروں گی۔۔۔۔عبداللہ حسین میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہماری گفتگو سن رہے تھے۔ ہم دونوں کو ایک دھچکا سا لگا کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں تھے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اقتباس القط)
ستیہ پال آنند کا تبصرہ:
جو بات مجھے مرحوم ساقی فاروقی سے معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ ساقی اور راشد دونوں نے (ساقی کے ہی ایما پر ) دو تین برس پہلے یہ طے کیا تھا کہ ان کے جسد خاکی کو نذر آتش کیا جائے۔ راشد جنازوں میں بہت کم (بلکہ نہ ہونے کی حد تک) شریک ہوتے تھے۔ ایک بار جب گُنڈی (گُندیلینا کا مخفف۔۔۔۔ ساقی کی بیوی) کے ایک ایسے دوست کی موت ہوئی، جسے راشد اور اس کی بیوی بھی جانتے تھے، تو یہ لوگ کریمیشن ہال (South London Crematorium) میں اتفاق سے اکٹھے ہو گئے۔ تب دونوں منتظمین سے مصر ہوئے کہ وہ کریمیشن کے طریق کار کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس نوجوان نے انہیں تفصیل سے بتایا کہ دیکھنے کو تو کچھ بھی نہیں ہے۔ جب لواحقین شیشے کے پیچھے رکھی ہوئی مرحوم کی لاش کا چہرہ دیکھ کر اپنی دعاؤں کا عمل ختم کر لیتے ہیں، تو صرف ایک بٹن دبانے سے لاش (جو کہ لِفٹ کے فرش پر رکھی ہوتی ہے) نیچے تہ خانے میں چلی جاتی ہے، اور وہاں کچھ منٹوں میں ہی بجلی کی بھٹی میں جل جاتی ہے۔ لاش کو جلتے ہوئے دیکھا نہیں جا سکتا کہ تہ خانے میں بھٹی کے باہر کی دیوار شیشے کی نہیں ہے۔
جس شام ساقی فاروقی کے ساتھ میری یہ باتیں ہوئی تھیں، ہم دونوں اس کے گھر میں بیٹھے ہوئے وہسکی پی رہے تھے۔ تب یکا یک ساقی نے کہا، “تدفین؟ قبر کے اندر ہر لمحہ کیڑے مکوڑے آپ کی لاش کو چاٹتے رہیں، چہ آنکہ کچھ برسوں کے بعد ایک پنجر ہی رہ جائے؟ راشد تو اس خیال سے ہی کانپنے لگا تھا اور تب ہم دونوں نے یہ طے کیا تھا کہ ہمارے مُردوں کو کریمیٹ کیا جائے اور ہم اس کے لیے اپنی وصیتیں اپنی اپنی بیویوں کےحوالے کر جائیں گے۔”
میں نے کہا، لیکن ، ساقی یہ تو اسلام کا جزو ِ لائنفک ہے۔” کریمیشن؟ قبر میں مردے کے پاس منکر نکیر کا آنا، قیامت کے روز مُردوں کا اٹھنا۔۔۔” ساقی نے مجھے ٹوک کر کہا، “اگر عرب کے صحرا میں جنگل ہوتے، لکڑی کی بہتات ہوتی، تو یہ ممکن تھا ۔۔۔ لیکن وہاں تو جلانے والی لکڑی ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملتی۔ جہالت کے دور سےاسلام کے آنے تک ۔۔۔ اور پھر آج تک ۔۔۔ یہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے کے مقولے کا عملی روپ ہے۔” بات یہیں ختم ہو گئی کہ میں تو اس بات کا آخری فیصلہ کرنے والی مشین کا ایک فاضل پرزہ بھی نہیں تھا۔
ساقی کچھ جذباتی ہو گئے تھے اس کے بعد بات بدل گئی اور وہ ن م راشد کے الفاظ گنگنا کر دہرانے لگے تھے
آگ آزادی کا،دلشادی کا نام
آگ پیدائش کا، افزائش کا نام
آگ وہ تقدیس، دُھل جاتے ہیں، جس سے سب گناہ
آگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اک ایسا کرم
عمر کا اک طول بھی جس کا نہیں کافی جواب!
ستیہ پال آنند، بقلم خود
آج جب میں بیٹھا ہوا یادوں کے اس طوفانی سمندر میں غوطے کھا رہا ہوں تو مجھے ان سطروں میں مشمولہ لفظ “کرم” اپنی بغیر پلکوں کی گنجی آنکھوں سے گھور رہا ہے۔ میں اکیلا بیٹھا ہوا وہسکی پی رہا ہوں۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ میں گلاس میں انڈیلتے ہوئے ساقی کو لنڈن فون کرتا تھا (لگ بھگ ہر روز) اور جب تک اس کی “چیئرز” کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، پہلا sip نہیں لیتا تھا۔ لنڈن اور واشنگٹن کےوقت میں پانچ گھنٹوں کا فرق ہونے کے باوجود یہ سلسلہ اس دن تک جاری رہا جب اس نے خود کشی کو کوشش کی۔
مندرجہ بالا سطروں میں لفظ کرم بمعنی مہربانی نہیں ہے ۔ یہ وہ لفظ ہے جو ہندووں کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا سے لیا گیا ہے اور آجکل انگریزی میں عام ہے ۔۔۔۔
یعنی Karma
میرا خیال ہے کہ آج سےچالیس پچاس برس پہلے تک انگریزی میں یہ لفظ عام نہیں ہوا تھا،اور اردو شعرا نے اس لفظ کو ان معانی میں نہ ہونے کے برابر استعمال کیا ہے۔ اور پھر ن ۔م۔راشد سے اس لفظ کی توقع؟ ۔۔۔ راشد کے “فارسی گزیدہ” شعری طرز اظہار میں ایک خالصتاً سنسکرت لفظ ؟ جی نہیں، بالکل نہیں ؟یہ لفظ یقینا ًًً راشد کی بچپن کی یادوں کا حصہ ہے جو انہوں نے اپنے گائوں میں ہندوؤں کی ارتھی (جنازوں) کے وقت سوگواروں سے سنا ہو گا۔
“اُتھے کرماں دے ہون گے نبیڑے، تےذات کسے پُچھنی نئیں۔ ”
راشدؔ اور ساقیؔ کے کرموں کے نبیڑے تو ہو چکے ہوں گے؟ میری باری کب آئے گی؟

Facebook Comments

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply