قاتل۔۔اسامہ ریاض

’’میں نے کوئی قتل نہیں کیا جج صاحب۔ میں بے قصور ہوں‘‘
تیسری دفعہ یہی بڑبڑاتے ہوئے میری آنکھ کھل گئی تھی۔چاروں طرف اندھیرا تھا۔ چھت پر بنے روشن دان سے ہلکی سی چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی۔ وہ اب بھی مجھ سے چند قدم دور دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے مسلسل مجھے گھور رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب وحشت تھی۔ ایسی دردبھری آنکھیں میں نے کبھی نہیں دیکھیں تھیں۔اُس کے گھورنے سے اب مجھے الجھن ہو رہی تھی ۔
’میں نے کوئی قتل نہیں کیا۔ میں بےقصور ہوں ‘‘ میں نے اپنی وضاحت پیش کی۔
ؒخاموشی کے ایک لمبے وقفے  کے بعد وہ بڑبڑایا ’’ یہاں آنے والے سبھی یہی کہتے ہیں ، لیکن میں ایسا نہیں کہتا۔ میں مجرم ہوں ‘‘
اس کے بعد وہ پھر خاموش ہو گیا۔ اُس کی خاموش مجھے کاٹ رہی تھی۔ جیلر نے مجھے بتایا تھا کہ تمہارے ساتھ والے کو موت کی سزا ہوئی ہے۔ اور کل صبح اُسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا ۔ مجھے اُس کا جرم نہیں معلوم تھا۔ لیکن اب جرم کے پتا ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا تھا ۔
چاند کی کرنیں اب ترچھی ہوتی جا رہی تھیں۔ صبح ہونے میں کچھ ہی وقت رہتا تھا لیکن وہ دیوار کے ساتھ ویسے ہی ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں موت کا خوف نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی انتہائی درد بھری آنکھیں تھیں اُس کی۔
’’ تم کال گڑھ سے ہو کیا؟ ‘‘ خاموشی کے وقفے کو توڑتے ہوئے وہ بولا
’’ہاں ۔ تمہیں کیسے پتا چلا ‘‘ میں نے اُس کی آنکھوں کی وحشت کو نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا ۔
’’ ایسے ہی مجھے لگا۔ چھوڑو یہ۔۔ تم یہاں کیسے آئے ؟ کیا کیا ہے تم نے ‘‘ وہ آنکھیں چھپکے بغیر بولتا چلا گیا۔
’’ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ۔ میں بےقصور ہوں۔ لیکن تمہاری آنکھوں سے مجھے ایک اور انسان یاد آ رہا ہے۔ وہ سارا دن پھٹے پرانے کپڑے پہنے ننگے پاوں میرے گاوں کی گلیوں میں آوارہ پھرتی رہتی ہے۔ اُس کے پاس کھڑے ہو کر غور سے دیکھو تو اُس کی آنکھوں میں بالکل تمہارے جیسی وحشت ہے۔ کہتے ہیں وہ جوانی میں بہت خوبصورت تھی۔ بہت لوگ مرتے تھے اُس کی ایک جھلک دیکھنے کو۔ قیامت خیز ادائیں تھیں اُس کی۔ ایک بہت امیر زادے سے شادی بھی ہوئی تھی اُس کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی مگر پھر بھی حسن کا شہکار تھی وہ۔ سبھی اُسے اکبری کہتے ہیں ‘‘
وہ بےچینی سے پہلو بدلتے ہوئے بولا ’’ لیکن تمہارا جرم کیا ہے ؟ وہ نہیں بتایا تم نے ‘‘
’’ میرا جرم ؟ میں تو بےقصور ہوں ۔ہاں وہ میں تمہیں اکبری کا بتا رہا تھا ۔ کہتے ہیں بہت خوبصورت تھی وہ ۔ بس کسی ظالم کے وعدوں پر اعتبار کر بیٹھی۔ شاید محبت کر بیٹھی لیکن چند گھنٹوں کی محبت۔ ہمارے ہی گاوں کا ایک شخص اُسے بھگا کر اپنے ساتھ دھرم کوٹ لے گیا ۔ کہتے ہیں اُس کا نام شاید اصغر تھا، مجھے ٹھیک سے پتا نہیں ہے کیونکہ یہ بات دس سال پرانی ہے۔ دھرم کوٹ میں اصغر کے دوست پہلے سے ہی اُن کا انتظار کر رہے تھے۔ وہاں نورانی شاہ کا میلہ لگا ہوا تھا ۔ رش بہت تھا اس لیے لوگوں نے اُن کی طرف دھیان نہیں دیا ‘‘
کمرے میں چاند کی روشنی اب پہلے کی نسبت بہت کم ہوتی جا رہی تھی۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا۔ اُس کا چہرہ اب نڈھال ہو چُکا تھا۔ وہاں اب پہلے جیسی وحشت نہیں تھی۔ خاموشی کے ایک وقفے کے بعد میرے بولنے سے پہلے وہ بولا
’’ تم نے اپنا جرم تو بتایا ہی نہیں ابھی تک۔ تم یہاں جیل کس وجہ سے آئے ہو ‘‘
ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ہوئے میں بولا ’’ جرم ! خاندان کا بٹوارا ہو رہا تھا۔ گھر کا جب بٹوارا ہونے لگا تو گھر میرے حصہ میں آیا اور زمین بھائی کے حصہ میں۔ اس بات پر ہم دونوں بھائیوں میں لڑائی ہو پڑی۔ وہ مجھے مارنے کے لیے برچھی اُٹھا لایا۔ اپنا دفاع کرتے کرتے وہ برچھی میرے ہاتھوں سے اُس کے سینے میں پیوست ہو گئی اور وہ موقع پر ہی مر گیا۔ میں اُسے مارنا نہیں چاہتا تھا۔ میں صرف اپنا دفاع کر رہا تھا ۔ مجھے پولیس پکڑ کر لے گئی اور   موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ چھوڑو مجھے۔۔ میرے پاس تو اب بس چند دن باقی ہیں۔ میں تمہیں وہ اکبری کا بتا رہا تھا ۔ نورانی شاہ میلہ پر اصغر اور اُس کے چار دوست۔۔ساری رات اکبری کی عزت لوٹتے رہے۔ اگلی صبح وہ اُسے وہیں نیم بہوشی کی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اکبری واپس گاوں آ گئی۔ اُس دن سے لے کر آج تک وہ گاوں کی گلیوں میں سارا دن آوارہ پھرتی ہے۔ سردی کی ٹھندی راتیں سڑک پر پڑے گزار دیتی ہے۔ اصغر کا پھر کوئی پتا نہیں چلا ‘‘
چاند کی کرنیں اب ختم ہو چکی تھی۔ جیلر نے آ کر دروازہ پر دستک دی۔
قیدی نمبر ۲۱۲ اُٹھ جاو۔ قیدی نمبر ۲۱۲ اُٹھ جاو۔۔
وہ بوجھل قدموں کے ساتھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔ اب پہلی بار مجھے اُس کی آنکھوں میں موت کا خوف نظر آ رہا تھا۔
میں نے چھٹ سے آگے بڑھ کر اُس سے پوچھا ’’ تمہارا جرم کیا تھا ؟ تمہیں سزائے موت کیوں ہوئی ؟ ‘‘
آنسووں کے نہ رکنے والے طوفان کو تھامتے ہوئے وہ بولا ’’ موت کی سزا تو ایک اور جرم پر ملی لیکن ناقابلِ معافی جرم تو میرا کوئی اور تھا ‘
میں الجھن سے اُسے دروازے کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
دروازے سے ایک قدم باہر نکل کر وہ میری طرف دیکھ کر بولا ’’ میرا نام اصغر ہے۔ اور میں کال گڑھ سے تھا ‘‘
جیلر اب دروازے کو بند کر چُکا تھا۔ کمرہ پھر ایک بار اندھیرے میں ڈوب گیا تھا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *