رات کی رانی۔۔۔۔۔۔۔رابعہ الرباء

بہار کی قاتلانہ ہوا یوں محو رقص تھی کہ باغ کے تمام درخت، پودے، پتے، شاخیں بھی ان کے ہمراہ ناچ رہے تھے۔ پھولوں پہ دیوانگی کا عاشقانہ عالم طاری تھا، جو چھپائے نہیں چھپتا۔۔۔ اک اک پھول کی خوشبو اپنا حسن بکھرا چکی تھی، اور اب یہ چھوٹے چھوٹے عشق مل کر اک بڑے عشق کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک برے بدنام و بے لگام و بے باک تعلق کی طرف کا سفر۔۔۔ مگر اس سفر کے مسافر کو ابھی تک یہی معلوم نہیں ہو پا رہا تھا کہ یہ کس اور کا سفر ہے۔۔۔ دیوانگی کا نشہ حواس پر غالب تھا۔ بہار کی طاقت آمرانہ ستم کر رہی تھی۔ جو اس پر کبھی خوشبو کے کوڑے لگاتی تو کبھی۔۔۔کبھی اک خنکی کہ جو سرسراہٹ دے دیتی۔۔۔!

باغ سے رنگ برنگ تتلیاں اڑ کر آتیں اور اس کے ہاتھوں اس کے گالوں اس کے پیروں اس کی لہراتی زلفوں کو چپکے سے چوم لیتی اور اس کی ہرنی آنکھیں نرم لمس کو ڈھونڈتی رہ جاتیں۔۔۔ کبھی اس کا ہاتھ بدن کو چھو کر محسوس کرتا کہ کوئی ہے۔۔۔؟ کوئی ہے تو نہیں۔۔۔؟۔۔۔کہاں ہے۔۔۔؟ تب اس کی مچلتی تمنائیں بھی اس کی آنکھوں کے ہمراہ جھوم اٹھتیں۔۔۔!

دھیرے دھیرے سارا بدن، سارے حواس اس تلاش میں مگن ہو جاتے مگر لاحاصل۔۔۔! لیکن اتنا لاحاصل بھی نہ تھا یہ سب کچھ، دن رات باغوں کا بسیرا اس کی کرختگی جستجو ختم کر چکا تھا۔ فطرت کبھی بھی غیرفطری عمل بے وقت نہیں ہونے دیتی۔۔۔ باوجود کہ کوئی غیر فطری شے فطرت سے ٹکرا نہ جائے۔۔۔ مگر اس فطرت کا مکمل حصہ۔۔۔ بے داغِ مادیت۔۔۔معصوم صورت ، معصوم تصور کی معصوم تصویر۔۔۔کہ جس کو جگنو بھی سوئے میں چومتے تو مٹھاس لے کر جاتے۔۔۔ لیکن اس کی اپنی مٹھاس نہ ہی تو تتلیوں کے بوسے، نہ ہی جگنوؤں کے چومنے سے کم ہوئی بلکہ میٹھے پھل کی طرح وقت کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ جوبن پر بہار کی دلکشی ایسی لب بام آئی کہ آنکھیں خیرہ و جامد ہو جاتی اور عذابِ دید ایسا اترتا تھا کہ بے چین بے قرار دل پکار اُٹھتے۔۔۔ ’’اُف یہ عذابِ بہاری کس کے آنگن میں اُترے گا۔‘‘

مگر فطرت نے اُسے سماعت سے بھی پاک رکھا۔۔۔ دیدارِ حسرت و دیدارِ تمنا سے بے نیاز اور نظر بے نیازی سے سرشار رکھا کیونکہ فطرت ابھی فطرت میں تھی۔ اس لئے فطرت خود اس کی حفاظت کر رہی تھی۔

اُسے اک پھول بہت بھاتا تھا جو پست قد فربہ بدن پودے پہ کھلتا ہے۔ بظاہر تو وہ پھول اک ہی ہے لیکن اس ایک میں ننھے مُنے سے سات رنگوں کے پھول کِھلا کرتے ہیں، اس کی خوشبو، اس کی مہک وہ ہر جگہ پہچان لیتی، سینکڑوں پھولوں کے بیچ بھی۔۔۔، وہ اس پھول کی خوشبو سے اس کو ڈھونڈ لیتی، اس کو توڑ کر اپنے سفید گلال ہاتھوں کی مٹھیوں میں چھپا لیتی، یوں اس کی مہک ان ہاتھوں میں بس جاتی، کبھی تو راتوں کو انہیں ہاتھوں میں لے کر سو جاتی اور صبح تک ہاتھ مہکتے رہتے۔۔۔!

اس کی خوشبو تھی تو کچھ تیز مگر اس کی تیزی میں بھی دلکشی تھی، جیسے مسکراہٹ میں حسن تو ہوتا ہے مگر دلکش قہقہہ دل کو روح کی طرح نکال لے جاتا ہے۔ گلستان کی نم مٹی پہ جب کِن مِن بارش کے قطرے پیوست ہوتے تو گھاس کی، گُلوں کی، پتوں کی، مٹی کی مہک۔۔۔خوشبوِ وصل کی طرح اس پہ مدھر سا جادو کرتے۔۔۔ وہ اس میں مدہوش و مدغم تو ہوتی مگر۔۔۔ پھر بھی ابھی وہ اس جادو کے مطالب و مقاصد سے ناآشنا تھی۔۔۔ اُسے ابھی ساحری کے خمار کی شناسائی نہ تھی مگر اُسے یہ سب بھاتا تھا۔ اس کی روح کو معطر و مطمئن کرتا تھا۔۔۔ بے معنی، بلاوجہ و بے مقصد۔۔۔ بس جیسے یہ سب اُسے چاند بن کر اپنی طرف کھینچتا تھا اور وہ بھی پروانہ وار اس سب کی طرف دوڑی چلی جاتی، ہمیشہ ہمیشہ کبھی نہ رُک پاتی۔۔۔!

اُسے حسن ہر حال میں ساتھ لے جاتا، اپنے باغوں میں، اپنے پہلو میں، اپنی آغوش میں، اپنے دامن میں، اپنی بانہوں میں اور وہ خود کو اس کے سُپرد آسانی سے کر دیتی، بس پھر کوئی فاصلہ نہ رہتا، ساری فطرت جیسے اس کے قدموں میں جھک جاتی، سارے حسن اس کو سلامی پیش کرتے، سارے پھول، ساری خوشبوئیں اس کے بدن کا فطری حصہ بن کر اس کو کھلکھلا دیتے۔۔۔!

اب وہ چلتی پھرتی بہار تھی جو عذابِ دید والوں کی آنکھوں کا ساون اور دل کا بھادوں تھا۔

ہر مالی اس کو یوں تازہ پھل و پھول پیش کرتا ہے جیسے وہ اس باغ کی مالکن ہو، مگر وہ رانی تھی تو صرف دلوں کی۔۔۔ اس کا اصل تو اس گھر کا چھوٹا سا آنگن تھا، جس کو طوفانوں کے تھپیڑوں نے اس مقام تک پہنچا دیا تھا۔

وہ تو ایک ایسا پھول تھی جس کا حسن ہمیشہ دھتکارا گیا۔ وہ اک ایسا سپنا تھی جو پورا نہیں ہوا، وہ کانچ کا ٹوٹا ہوا گل بدن گل دان تھا، وہ اک ایسا طوفان تھی جو آنے سے قبل تھما دیا گیا ہو، وہ اک ایسا ماضی تھی جس کا مستقبل نہ تھا، جس کا حال بھی ماضی میں مستقبل کے لئے جامد کر دیا گیا تھا۔ لیکن وہ جو بھی تھی سات پردوں میں سے چھلکتی و جھلکتی مستی تھی۔

اس باغ میں دھنک رنگیِ گل و گلزار و اشجار ہی نہ تھا،یہاں چاندنی راتوں میں صاحبِ ذوق بسیرا بھی تھا، وہ ادبی محفلیں سجا کرتی تھیں کہ جن کا ملک بھر سے باہر بھی شہرہ تھا،یوں اس کے ننھے تاروں کے سامنے سائنس و فلسفہ کا ٹکراؤ ہوتا تو کبھی ادب کی بلندیوں و پستیوں کے فلسفے ہوتے، کبھی آرٹ و فن ٹکراتے، کبھی دانشوروں کی باتیں ہوتیں، تو کبھی تہذیب و مذہب کے قصے ہوتے، یہاں راتوں کے تارے بھی خود کو چاند سمجھتے، گرم دنوں کی چاند راتوں میں محفل جوبن پہ ہوتی۔۔۔!

اس طرح ان بڑے بڑے پیڑوں تلے یہ واحد گل کِھلا ہوا تھا۔ اسی لئے سب کی آنکھوں کا تارا تھا، اور اس تارے کی آنکھیں بھی ستاروں کی مانند ہی چمکیلی تھیں، جو صبح کاذب تک آسانی سے چمکتی رہتی، اس کے بعد ٹمٹمانے لگتیں، پھر رِم چھم کے آثار ہوتے،تب اس کا مالک اُسے واپس اپنے ننھے آنگن میں لے آتا۔ جہاں مالک کے پانچ نرینہ پودے جنت کے قدموں تلے سوئے ہوتے۔

باغوں کے آنگن سے نکلی تو سیر و سیاحت کی شاخ سے جالٹکی۔ اپنے چندا ماما کے ساتھ شہروں سے دور قدرت کے دامن کی سیاحت کرتی رہی۔ یہاں بھی یہ گل باغ کے باقی پھولوں سے ممتاز و فطری رہا۔۔۔ کومل، بے داغ، تازہ، معصوم، دلکش، جاذب مگر بے نیازِ خود۔۔۔!

یہاں سے کوچ ہوا تو اس کو اس شاہانہ حویلی میں جانا پڑا جہاں نوابی کی بجھتی لَو میں خاندانی شہزادیوں کے قصوں میں عمر کا نیاباب شروع ہوا۔۔۔ حویلیوں سے منسلک پھولوں و پھلوں کی کہانیاں۔۔۔ ملکہ و بادشاہ کے قصے۔۔۔ زمین و زر کی تمکنیت۔۔۔حسن و خواب کی داستانیں۔۔۔!

بس خوش بختی یہ ہوئی کہ اُسے چاچا قیدو نہ ملا۔۔۔مگر رانجھا بھی تو نہ ملا۔۔۔!

ان دنیاؤں کے سفر میں وہ نجانے کب جوان ہوئی۔۔۔معلوم ہی نہ ہوا۔۔۔ مگر اس کا اپنی جڑ سے وہ لگاؤ نہ رہا جو ہر پھول کا ہوتا ہے۔ کیونکہ جڑ کو بھی شاید پھول نہیں صرف نرینہ بیجوں کا چاؤ تھا۔ اس لئے بھی کہ اس کے سرتاج کو بھی نر فوج درکار تھی کہ وہ سماج پر فاخرانہ، فاتحانہ و وحشیانہ حملہ کر سکے۔ پھر اس فوج کی نگران اعلیٰ نے اس کی تربیت بھی نری سماج کے جھولنوں میں کی،جن کے دل نہیں ہوتے صرف قانون ہوتے ہیں۔

دھیرے دھیرے اس فوج نے سرکار کی سرپرستی میں چھوٹے چھوٹے حملے شروع کر دئیے۔ جن کو جائز سمجھا جانے لگا۔ کبھی یہ باور کروایا جانے لگا کہ حسن مور کا نصیب ہے، مورنی کا مقدر نہیں۔ یہ بتائے بغیر کہ پھر کیا حسن والے کو عشق دے کر اُس کو خوار نہیں کر دیا؟

کبھی یہ آواز ائی کہ شیر جنگل کا ہی نہیں سماج کا بھی بادشاہ ہے۔ اس بانگِ فطرت کے بغیر کہ جب شیر پر اپنی ہی طاقت حملہ کرتی ہے تو وہ شیرنی کے قدموں کو چاٹتا ہے۔۔۔؟

ان رویوں نے چاند میں یہ احساس بیدار کر دیا کہ وہ داغ دار ہے اور چاند نے بھی یہ جانے پہچانے بغیر کہ چاند داغ دار بھی ہو تو چاند ہی رہتا ہے یہ مان لیا کہ اس میں داغ ہے۔ تب یہ چاند اپنے ہی آسمان سے، خود اپنی ہی نگاہوں میں نیچے آگیا۔

سرکاری فوج یہی تو چاہتی تھی۔ پھر وقت نے ستم ظریفی کی کہ جوبن کی رونقیں اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ مگر اس گل بدن میں اک دل بھی تھا جس کو نر غیرت کی زنجیروں میں جکڑ کر دھڑکنے کے لئے چھوڑ دیا گیا تھا۔ جس پر خوف کے پہرے دار چاروں اور۔۔۔ننگی تلواریں لئے کھڑے تھے۔۔۔پھر بھی اس دل کی آنکھیں تھیں، تو کبھی اگر کسی انجانے پر عاشق ہو بھی جاتی۔۔۔ کسی کو چوری چوری دیکھ بھی لیتی۔۔۔ کوئی ان کو بھا جاتا تو مزید مسوس جاتی کیونکہ انہیں معلوم تھا ان کے پیر نہیں ہیں۔ وہ قدم نہیں اُٹھا سکتیں، سب کاٹ کر پھینک دیا گیا ہے۔۔۔ تب وہ سب جذبے آنکھوں کا اشک بنے اور بہہ گئے، پھر دل سے، خود سے جرثومہ محبت بھی اس نمکین پانی میں مل کر مادی دنیا کی مٹی میں جذب ہو گیا اور دل کی کوکھ آخرکار بانجھ ہو گئی۔

دھیرے دھیرے اس کمرے نما اندھیر نگری میں آسیبوں نے بسیرا کر لیا اور آخرکار یہ آسیب اس گل بدن پر بھی عاشق ہو گئے۔ وہاں راتوں کو وحشتوں اور ویرانیوں کی محفلیں جمنے لگیں۔ اب وہ ان محفلوں کا بھی تنہا چاند تھی۔۔۔ اور عاشق ہزار۔۔۔ اور قید تنہائی۔۔۔ تب عاشقی کے اک نئے دور کا آغاز ہوا۔۔۔!

آخرکار سائنس بھی اس عروج عشق و معراج عشق کو پہنچی کہ انہوں نے مجھے ایک مشین میں کھڑا کیا تو پانچ میری ہی جیسی اور بن گئیں، پھر انہوں نے ہم پانچوں پر بھوکے کتے چھوڑ دئیے، جنہوں نے ہمارے کپڑے پھاڑ ڈالے، ہمیں کاٹ ڈالا، لہو لہان کر دیا گیا، اس کے بعد انہوں نے ہم پانچوں جڑواں کو زندہ دفن کر ڈالا۔ رونا، چیخیں، منتیں سب بے سود۔۔۔! جب مجھ پر مٹی ڈالی جا رہی تھی تو میری نگاہ جن مردوں پر پڑی وہ سب میرے محرم تھے، جنہیں اپنا کہتے ہیں، وہی مجھے دفنا رہے تھے، اور پھر جب میں دفن ہو گئی۔ تب اک فرشتہ آیا اس کے ہمراہ اس کا ساتھی بھی تھا مجھے کہنے لگا ’’کاری‘‘! ’’جس کے ساتھ تم یہ حرکت کر کے آئی ہو اس کا نام بتاؤ۔۔۔؟‘‘ ہمیں تمہاری فائلیں مکمل کر کے اوپر بھیجنی ہیں۔

’’میرے پاس تو کوئی جواب تھا ہی نہیں‘‘ اور میں یوسفؑ بھی تو نہیں تھی۔

کچھ دن بعد میں پھر سے زندہ ہو گئی۔ تب مجھے ایک نئی مشین کے حوالے کر دیا گیا یہ شاید جادو کی مشین تھی۔ کچھ ہی منٹوں میں میں اک نومولود بچی بن گئی۔ مگر مجھے دیکھ کر ہی سب نے نفرت سے منہ پھیر لئے۔ تب ایک آدمی نے جس کا منہ ندامت سے سیاہ و غصیلہ ہو رہا تھا مجھے سب سے نظر بچا کر اٹھایا اور گلے پر تیز دھار چھری چلا دی۔ ہر طرف لال رنگ بکھرا۔ کچھ رنگ تو اڑ کر اس آدمی پر بھی پڑا۔ مگر آخرکار اس نے میری گردن کو تن سے جدا کر دیا۔ اب وہ مطمئن لگ رہا تھا۔ مجھے کچھ عجیب سا ہو رہا تھا مگر مجھے معلوم نہیں اس کیفیت کو کہتے کیا ہیں؟ بس میں ہاتھ بازو ہلاتی رہی، پٹختی رہی۔

اس کے بعد جب وہ مطمئن چہرہ نظر آیا تو میں بھی مطمئن ہو گئی۔ کچھ لوگ روتے دکھائی دئیے، میری آنکھیں چونکہ کھلی تھیں میں سب دیکھ رہی تھی۔ پھر مجھے نہلا کر سفید پوڈر لگا کر سفید لباس پہنا کر مٹی میں ایک گڑھے کے اندر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد بس اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ روشنی تب ہوئی جب دو لوگ، دو انجانے سے لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ اپنے باپ کا نام بتا۔۔۔؟

میں نے بھی حیرانی میں پوچھ لیا وہ کیا ہوتا ہے؟ بولے، وہ جس کی وجہ سے تو اِس جہاں میں آئی تھی، اُس جہاں میں آئی تھی۔ میں نے پھر حیرانی میں کہا؟ اچھا تو وہ کون تھا؟ تب ان میں سے ایک بولا، ’’وہ جو تیرا گلا چھری سے کاٹ رہا تھا‘‘میں مسکرائی، نہیں وہ تو مطمئن تھا۔۔۔!

دنیا میں لانے والا ظالم نہیں ہوتا پرور صفت ہوتا ہے۔۔۔!

تب وہ ایک پھر بولا جلدی بتا ہمیں فائلیں مکمل کر کے اوپر بھیجنی ہیں۔۔۔ میں نے سوچا یہ یوں تو نہیں جائیں گے۔ جلدی سے کہہ دیا ’’ابو حوا۔‘‘

تب کچھ دن بعد میں پھر بڑی ہو گئی نجانے کیسے اس عالیٰ شان سرکاری تقریب میں جابیٹھی جہاں تمغہ شجاعت اور تمغہ حسن کارکردگی سے کچھ بڑے بڑے لوگوں کو نوازا جا رہا تھا۔ جب میں آکر بیٹھی اس کے بعد جو لوگ سٹیج پر تمغے لینے آئے اُن میں ’’ابو بے غیرت‘‘ ’’ابوالبیحیائی‘‘ اور تیسرا بھی میرا دیکھا بھالا، مانوس صورت والا ’’ابو قانونِ آدم‘‘ تھا۔ ان سب کی بڑی بڑی مومنوں والی داڑھی تھی۔ اگرچہ چہرہ بے نور تھا، مگر لباس و جلال کسی کہانی کا منہ بولتا ثبوت ضرور تھے۔ بس مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان تینوں کو یہ تمغے کس جرأت و حسن کارکردگی پر دئیے گئے۔ تب مجھے محسوس ہوا میں یہاں، نہیں نہیں۔۔۔ میں تو دوسرے جہاں میں تھی یہ میری روح کا سفر تھا جو میں یہ سب دیکھ رہی ہوں۔کیونکہ ایک دشت میں ریت پر بہت سے مرد بہت سے لڑکے تین چار اطراف کھڑے تھے۔ سب کے سب بے گناہ، شریف، پارسا اور ان کے باریش چہرے عوامی لباس اور ڈھکے سر اور چادروں سے چھپے بدن ہی ان کی سچائی، اچھائی و پارسائی کی دلیل تھے۔ لیکن اچانک مجھے سرخ جوڑے اور جوتے میں ملبوس کر کے چادر اوڑھ کر ایک شخص لایا اور اوندھا لٹا دیا۔ دوسرے نے میرے پیر پکڑ لئے، ایک لڑکی کے پیر ایک مرد نے پکڑ لئے، پھر تیسرا مجھ پر کوڑے برسانے لگا۔ میں چیخی، میں روئی، میں نے معافیاں مانگی مگر میں۔۔۔ سب باغیرت تھے۔ ان کی غیرت نے میرے جسم میری روح تک تو زخمی کر دیا اور آخرکار میری غیرت کے ہم ذات نے مجھے زہر پلا دیا۔۔۔!

ہاں میں تو مر گئی تھی۔ ان تینوں کو تو غیرت و بہادری کے تمغے ملے ہیں۔ پھر ایک دن میں ایسی خوبصورت جگہ گئی، ایک اتنی خوبصورت پھول نما عمارت اور اس سے بڑھ کر ہر پتی کے نیچے ایک مذہب۔۔۔گویا کائناتی اکائی کہ کوئی صورت۔۔۔میں دور کھڑی یہ منظر حیرانی و بے چینی سے دیکھ رہی تھی۔ پھر پھول کے گرد گھومنے لگی۔۔۔ ایک پتی کے سائے میں وہ پانچ نر صورتیں آگ میں بنی ہوئی ہیں۔۔۔ اور باہر لوگ کھڑے انہیں ہاتھ جوڑے نجانے کیا کیا بول کر پرستش کر رہے ہیں، ذرا آگے کو بڑھی تو پھر وہ پانچ صورتیں بُت بنے بیٹھے تھے اور ان پر پھول لدے ہوئے تھے۔ تیز رنگ کپڑے پہنے لوگ ان کی عبادت میں مشغول تھے۔ پھر آگے بڑھی تو وہی پانچوں صورتیں صلیب پر لٹکی ہوئی تھیں۔۔۔پھر آگے بڑھی توسانپوں کے بدن پر یہی پانچ صورتیں۔۔۔اور لوگ انہیں پوج رہے تھے۔۔۔ اور آگے بڑھی تو وہ پانچ صورتیں دیوار پر آویزاں اور دیکھتے ہی لوگ سجدوں میں پڑجاتے۔۔۔ اچانک میری نگاہ جو نیچے پڑی تو سجدہ کرنے والوں میں میرے ماں باپ بھی تھے۔۔۔ میں بہت زور سے چیخی۔۔۔!

اور میری آنکھ کُھل گئی۔۔۔یہ عجیب عجیب خواب۔۔۔یہ سب مجھے سونے بھی نہیں دیتے۔۔۔ جاگنے بھی نہیں دیتے۔۔۔ وہ یہ سوچ کر رونے لگی۔۔۔!

پانی پینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو انگوٹھی کی ڈبیا ہاتھ آگئی جسے دیکھ کر وہ مزید پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بڑبڑانے لگی، ’’انگوٹھی آئی ہے نواب صاحب کے مزار سے جسے لوگ ابھی تک حویلی کہتے ہیں۔‘‘

وہ بہت ریزہ ریزہ مردہ بدن ہو چکی تھی، مگر اس قید یوسف میں بھی ان برادرانِ یوسف کے وار کم نہ ہوئے، اُس کی ذات کی نفی و ہنسی نے اُسے خامشی کو عافیت جان کر زیست کے دن پورے کرنے پر مجبور کر دیا۔ بکھری بکھری سوچیں آتیں مگر ان کے جانے کے رستے بند تھے، اور حالات کی ضعیفی نے اس کی زبان و بدن پر ہر طرح کے قُفل جڑ دئیے تھے۔۔۔ وہ لیٹی رہی، تکیہ بھیگتا رہا۔۔۔!

دن ڈھلے ملازمہ نے اُسے آکر جگایا تو وہ نہ اٹھی۔ ماں نے آکر بلایا تو سفید تکیہ سرخ اور گداز پھولے پھولے مخروطی انگلیوں والے ہاتھ لال مہندی سے سجے ہوئے تھے۔

ہیرے کی انگوٹھی کی ڈبیا تلے اک کاغذ پڑا تھا۔ جس پر تحریر تھا۔

’’میں اپنی کوکھ سے اپنے بدن کا خون دے کر اپنے وجود کا دشمن پید انہیں کر سکتی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *