تاریکی میں ہلتے سائے برفیلے رنگوں پر چاند کی ہلکی، نیلی چادر اوڑھے جھینگر کی آواز کی سنگت، سانپوں کی پھنکاریں، سانسوں کی غرّاہٹ غار، افق، احساس، جبلّت کے سب محضر اور ہر محضر کا سرنامہ، بھٹ کے اندر، حدِّ← مزید پڑھیے
آتش دان میں دہکتے ہوئے کوئلوں کی حرارت محسوس کرتے وزیر طلسمی امور نے ڈرائی فروٹ سے چند کاجو، چن کر منہ میں ڈالے قہوہ کی چسکی لی۔ بادشاہ سلامت نے فائل سے سر اٹھایا اور کہا۔ ’’وہ آج کل← مزید پڑھیے
لمبی قطار میں کهڑی عورتوں میں اس کا کوئی پنتیسواں نمبر ہوگا… سخت دهوپ کے باوجود وہاں سے کوئی جانے کو تیار نا تها… یہ قطار کسی حکومتی ادارے کی نہیں تهی.. بلکہ خیرات و زکوٰۃ کی تقسیم کے لئے← مزید پڑھیے
ککو سدا خوش رہو تمہارا ۲۳ مارچ ۱۹۸۶ کا لکھا ہوا خط مجھے پورے ایک مہینے کے بعد ملا تھا۔ اپنے گاؤں میں اپنی وا وا ہے پر یہ لاہور شہر ہے، یہاں گاؤں والوں کو کوئی نہیں پوچھتا ۔← مزید پڑھیے
دس اقساط کی دوسری قسط ٹیکسی سٹیشن کے حدود سے نکل کر کھلی سڑک پر چلتی اپنے مقام کی طرف بڑھ رہی ہے پیچھے بیٹھا شخص ٹیکسی کے شیشوں سے باہر کے مناظر دیکھ رہا ہے اس کی نگاہیں سامنے← مزید پڑھیے
تانیہ کی گفتگو میں بہت آسانی، بہت روانی اور بہت استدلال آ گیا ہے. شاید یہ اُس کی علم بینی کا نتیجہ ہے. میں نے اُس کو پہلی مرتبہ ایسی سنجیدگی سے دیکھنے پہ تب مجبور ہوا جب وہ کچن← مزید پڑھیے
جان بکر اڑھائی سال سے اس شہر میں مقیم ہوں مگر اس ولی کی طرح جس نے منکروں کی بستی میں ٹھکانہ کررکھا ہو۔جس محلہ میں رہتا ہوں وہ وزیر خزانہ اسد عمر کے حلقہ انتخاب کا مرکز ہے۔ ملکی← مزید پڑھیے
میں ابھی چوک سے بس میں چڑھ کے سیٹ پہ سنبھل ہی رہا ہوں کہ کنڈیکٹر نے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کر دیا ہے. کنڈیکٹر میرے پاس سے گزرا تو بہت غور سے دیکھ کر گیا. مجھے اندازہ ہوا← مزید پڑھیے
اٹھارہ جنوری 1955 کو اردو ادب کے ایک عظیم، منفرد، ہنگامہ خیز، جرات مند اور بہادر افسانہ نویس سعادت حسن منٹو اپنے گھر لکشمی مینشن ہال روڈ سے چند قدم کے فاصلے پر میو ہسپتال جاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ منٹو← مزید پڑھیے
٭جتنا پڑھتا ہوں اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔۔ ٭”بجنگ آمد“ کو اردو کی سب سے بڑی کتاب مانتا ہوں۔۔۔ ٭ کوشش کے باوجود ”یولیسس“ نہیں پڑھ سکا۔۔۔ ٭ اردو ادب بہت مختصر ہے۔۔۔ ٭اردو کے ابتدائی ناولوں کو← مزید پڑھیے
آج مجھے ریٹائر ہوئے بارہ دن ہوگئے ہیں میں لان میں ہلکی دھوپ میں بیٹھی کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک پیراگراف پہ اٹکی ہوئی تھی کہ میرا دفتر کا چوکیدار میرے نئے اور ذاتی گھر کی نیم پلیٹ← مزید پڑھیے
برصغیر پاک و ہند کے لوگ کب سے پان کا استعمال کررہے ہیں اس کا صحیح علم نہیں- لیکن اس بر صغیر پاک و ہند میں ہر مذہب کے امیر وغریب لوگ سب ہی پان کا استعمال کرتے رہے ہیں۔← مزید پڑھیے
شہرِ آذر کے یہ مصائب ہیں سارے بت، معبدوں سے غائب ہیں وہ جو اک جام ہی سے بہکے تھے آج تک اس ادا سے تائب ہیں حضرتِ شیخ اب ہیں آسودہ واعظوں کے امیر نائب ہیں! ہم تو پیرِ← مزید پڑھیے
جب بات کرتے کرتے ہمارے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہوجاتا، زبان پیار و محبت کا اقرار کر کر کے تھک جاتی، لیکن ہمارا مقصد باتوں کا سلسلہ منقطع کرنا بھی نہیں ہوتا تھا۔ ذہن کو عہدوپیماں کی برہنہ تلوار← مزید پڑھیے
ناظرین ابھی آپ کوئل کی مدھر آواز میں خوبصورت گیت سن رہے تھے جس نے یقیناً آپ کی سماعتوں کو گدگدایا ہوگا۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ آج حشرات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس خوبصورت← مزید پڑھیے
دس اقساط کی پہلی قسط غازی آباد ایک چھوٹا سا گاوں ہے، گاوں کے چاروں طرف سبز لہلہاتے کھیت ہیں کھیتوں کے درمیاں ایک کچی سی سڑک گزرتی ہے جو شہر کی طرف جاتی ہے، دن جب چڑھتا ہے تو← مزید پڑھیے
پچھلے چند سالوں میں انٹرنیٹ پر اردو لکھت پڑھت کے حوالے سے کافی مثبت پیش رفت ہوئی۔ تیزی سے معدوم اور رومن رسم الخط کے ہاتھوں برباد ہوتی اردو نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے ذریعے عام آدمی تک← مزید پڑھیے
اے خدا سن صدا بن کے انساں کبھی تو زمیں پر تو آ آج دنیا میں انسان کے روپ میں اِس طرف اُس طرف ہر طرف ہیں خدا ہی خدا وہ جو رہتا تھا دنیا میں انساں کبھی اب نہ← مزید پڑھیے
آگ اُگلے پھرے ہے انگارے آشیاں پل میں جل گیا پیارے آج کا دن بہت گراں گزرا آج، جھرمٹ سے مِٹ گئے تارے اس طرح کر ،نہ قتلِ عام مِرا تو نے اصحاب سب، میرے مارے آسمانوں سے اک صدا← مزید پڑھیے
ہاتھ میں جو نہیں، ہے جام مِرا! یوں ہے لکنت بھرا، کلام مِرا! وہ حسیں ہے، جلو میں اب تیرے، مجھ کو یاد آگیا مقام مِرا بے بسی میں کمال ہے حاصل عاشقی تو ہے ،ایک کام مِرا ایک ٹک← مزید پڑھیے