گلوری کھاتے جائیے میاں, ورنہ طبعیت کسلمند ہی رہے گی۔۔۔غیور شاہ ترمذی

برصغیر پاک و ہند کے لوگ کب سے پان کا استعمال کررہے ہیں اس کا صحیح علم نہیں- لیکن اس بر صغیر پاک و ہند میں ہر مذہب کے امیر وغریب لوگ سب ہی پان کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

ملاتے ہی آنکھ خوں کیا دل، دکھا کے ہونٹوں پہ رنگ پاں کا
قسم ہے جوبن, غضب ہے چتون، یہ کون چلمن اٹھا کے جھانکا-

مغل شاہی حکومتوں کے دربار میں پان اور عطر تقسیم کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں انگریز وائسراؤں کی لاج میں مہمان کی پان اور عطر سے ضیافت کی جاتی تھی۔ جس سے اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ انگریزوں نے بھی مسلمان بادشاہوں کی اس قدیم روایات کو باقی رکھا-

قیام پاکستان کے بعد بھی پان کھانے کی روایت کی جڑیں ہمارے معاشرے میں آج تک مضبوط ہیں- پاکستان میں صنعتی ترقی تو شاید نہیں ہوئی مگر پان کی صنعت کی ترقی تو کراچی کے علاوہ لاہور میں بھی خوب ہوئی ہے- عام لوگ تو ایک طرف, قومی ہیرو اور پاکستان کے عظیم کرکٹر جاوید میاں داد نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے بھارت کے خلاف شارجہ کا تاریخی چھکا پان کھا کر لگایا تھا۔ واہ بھئی واہ جاوید میاں داد بھائی- آپ نے تو کمال ہی کر دیا:-

دست نازک بڑھائیے صاحب
پان حاضر ہے، کھائیے صاحب-

البتہ ہمارے استاد محترم زیدی صاحب کہتے ہیں کہ پان نہ غذا ہے نہ دوا ہے- کچھ کہتے ہیں کہ نشہ ہے, کچھ کہتے ہیں کہ بس پتہ ہے اور آپ کو اسے جنگلوں میں رہنے والے اپنے آبا و اجداد کی طرح چبانا ہے- زیدی صاحب نے کہا کہ شمالی ہند میں یہ ایک تہذیب کی علامت تھا بلکہ کئی جگہ  پہ ابھی بھی ہے- کچھ کہتے ہیں کہ اول اول کسی بادشاہ کو اس کے شاہی طبیب نے علاج کے طور پر تجویز کیا تھا- کتھا، چونا اور چھالیہ اس کے بنیادی اجزاء تھے اور ہیں- پھر اس میں انواع اقسام کے تمباکو اور قوام شامل ہوتے چلے گئے- گنبد نما قلعی کیا ہوا پاندان چاندی کے ورق والے پان تو میں نے اپنے گھر میں بھی دیکھے- اماں کہتی تھیں کہ بیٹا تقسیم کے وقت لوگ اپنی زمینوں کے کاغذات ہندوستان چھوڑ آئے لیکن پاندان لانا نہیں بھولے-

استاد محترم زیدی صاحب کا بیانیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ پان بنانا چنداں مشکل نہیں ہے- پان کا پتا لیجئے, اس پر تھوڑا کتھا٬ چھالیہ٬ سونف٬ سپاری٬ تمباکو لگائیے اور لپیٹ کر تکون شکل میں پان بنائیے- منہ کھولئے اور پان کے روایتی مزے میں کھو جائیے- واہ جی واہ – کافی صحت بخش اجزاﺀ سے تیار ہوا ہے نا؟

سچی بات تو یہ ہے کہ پان اور اس کے مروجہ ضروری مصالحہ جات کے خواص اور افعال کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر تمباکو کے پان کا استعمال منہ کے امراض کے لئے نہایت مفید ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ جو چیزیں نفع بخش ہوں ان کو مضر کیونکر کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ادویات کا استعمال مخصوص اوقات میں ہوتا ہے غیر اوقات میں ان کا استعمال کچھ ٹھیک نہیں۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ اگر پان کو درجہ اعتدال پر استعمال کیا جائے تو انسان بہت سے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے اور اس کا استعمال نہایت ہی فائدہ بخش ہے۔ بالخصوص قروم لثہ, درد داندان, گندہ دہنی اور مسوڑھوں کے لئے نہایت نافع ہے- اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں مثلاً ذائقہ کا درست ہونا, زبان اور مسوڑھوں کے زخم مندمل ہونا, حلق کی خرابی سے محفوظ رہنا, کھانا کھانے کے بعد منھ کو صاف کرنے اور اس کی تمام کثافت کو دور کرنا وغیرہ- پان کے بیڑے کے استعمال سے طبعیت کو فرحت ملتی ہے اور خصوصاً موسم سرما میں گرمی پہنچاتا ہے۔ نامرغوب چیز کے استعمال کے بعد کھانے سے کراہت دفع ہوجاتی ہے اور منہ  صاف ہوجاتا ہے۔ کھانے کے بعد پان کا استعمال ایک ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے۔ کھانے کے ساتھ اکثر نامعلوم طور پر کچھ جراثیم پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ پان کا عرق اور دوسرے اجزاء ان جراثیم کو مار ڈالتے ہیں اور اس طرح ہم بہت سی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔ پان کے کھانے کے بعد پیدا ہونے والی سرخی کی وجہ سے چہرے  پر خوبصورتی  بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے لوگ (خصوصاً صنف نازک) اس کو افزائش جمال کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں آج بھی پان ہی ایک ایسی مہذب اور کم خرچ تواضح ہے جسے غریب سے غریب پیش کر کے اپنے جذبات محبت ایک دوسرے پر آشکار کرسکتے ہیں۔

اوپر بیان کی ہوئی خصوصیات کے پیش نظر پان اعتدال حدود میں نہ صرف استعمال کیاجاسکتا ہے بلکہ دوسروں کو اس کے استعمال کرنے کی ترغیب بھی دی جاسکتی ہے۔ ہاں البتہ کثرت پان استعمال کرنے والوں اور چھالیہ و تمباکو کے استعمال کو حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تمباکو والے پان سے معدے کے ورم, منہ کے کینسر اور دوسری کئی بیماریوں کا راستہ کھل جاتا ہے- پان کے استعمال میں سب سے کریہہ النظر پان کی پیک کا جابجا پھینکا جانا ہے- پان کی پیک کا جگہ جگہ گرا ہونا دیکھنے میں بدنظری اور کراہت لاتا ہے- پاکستان کے پل, انڈر پاس, فٹ پاتھ پان کی پیک سے اٹے بھرے ہیں تو انڈیا میں بھی ویسا ہی حال ہے- کلکتہ کے 1943ء سے تعمیر کردہ مشہور زمانہ 730 میٹر لمبے ہاؤڑہ پل پر گزرنے والی ایک لاکھ گاڑیوں اور لاکھوں پیدل چلنے والوں کی پان کھانے والوں کی اکثریت نے پان کی پیک پھینک پھینک کر اس یک برجی پل کی بنیادوں کو زنگ آلودہ کر دیا ہے- ہاؤڑہ برج خلیج بنگال میں آئے متعدد طوفانوں کا سامنا کرچکا ہے۔ 2005ء میں ایک ہزار ٹن وزنی مال بردار جہاز کی ٹکر بھی اس برج کو بڑا نقصان نہیں پہنچا سکی تھی۔ تاہم چونے اور تمباکو کی آمیزش والی پان کی پیک کے سامنے یہ تاریخی برج بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ اس مشہور پل کی حفاظت کے پیش نظر اب پان کی پیک اس پل پر پھینکنے پر پابندی لگا دی گئی ہے- اور روزانہ کی بنیاد پر پان کی پیک کی صفائی کی جاتی ہے-

ہماری یہ درخواست ہے کہ پان کھائیے, ضرور کھائیے مگر خدارا اس کی پیک کو مخصوص کردہ جگہ پر ہی پھینکیں اور اس کی باقاعدہ صفائی کا انتظام بھی رکھیں- تہذیب کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں مگر دوسروں کے لئے اسے وبال جان تو نہ بنائیے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *