دورِ آسماں ۔۔۔۔۔ ایڈووکیٹ محمد علی جعفری

ہاتھ میں جو نہیں، ہے جام مِرا!
یوں ہے لکنت بھرا، کلام مِرا!
وہ حسیں ہے، جلو میں اب تیرے،
مجھ کو یاد آگیا مقام مِرا
بے بسی میں کمال ہے حاصل
عاشقی تو ہے ،ایک کام مِرا
ایک ٹک دیکھ کے،وہ چل نکلے
اب گرادیجیئے ناں دام مِرا
میں گنہگار جو ہوا سوہوا،
دیکھتا ہوں میں انتظام مِرا
تیرے منصب پہ مسکرتا رہا
یہ تیرا در ہے، یہ نظام مِرا
آج تو نے بھری عدالت سے
کردیاثبت،اہتمام مِرا
اب تو زنداں میں دعوتیں ہونگی
ہے لہو دل کا، اب طعام مِرا
آپ سے کب ہوئی کہاں بیٹھک؟
حافظہ ہوگیا ہے عام مِرا
بامشقت ہی قید کاٹی مگر
ہے یہاں سقف و در، و بام مِرا
موت کا انتظار کرتا ہوں،
ہے وظیفہ یہ صبح و شام مِرا
سب غموں کو بھلا دیا میں نے
جام کیجے ناں لالہ فام مِرا
میری زیارت کو آپ آہی گئے
لیجئےدار پر سلام مِرا
بے نشاں لاش کی یہ خواہش ہے
درج ہو مقبرے پہ نام مِرا
ایک بد بیں نے مجھ کو کیا گھورا
اب سلامت نہیں دوام مِرا
حافظا، جی نہیں ہوا اچھا
پھر بھی لب پر ہے ابتسام مِرا

حافظ علی پہرسری
31دسمبر 2018

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *