قارئین کرام کی مختلف اقسام ۔۔۔ معاذ بن محمود

پچھلے چند سالوں میں انٹرنیٹ پر اردو لکھت پڑھت کے حوالے سے کافی مثبت پیش رفت ہوئی۔ تیزی سے معدوم اور رومن رسم الخط کے ہاتھوں برباد ہوتی اردو نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے ذریعے عام آدمی تک رسائی حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں کئی نئے پراجیکٹ سامنے آئے جن کے ذریعے مین سٹریم میڈیا کے اکابرین سے کٹ کر میرے اور آپ میں سے کئی عمومی اشخاص کا قلم باقی عوام کے سامنے آیا۔ یوں ناصرف موجودہ نسل کے نمائیندہ قدرے براہ راست لہجے کے حامل لکھنے والے سامنے آئے بلکہ انہیں پڑھ کر اپنی رائے دینے والے قاریوں کا بھی ایک نئے انداز سے سامنا کرنے کا تجربہ دیکھا گیا جو پہلے کی نسبت کہیں کھل کر پہلی بار عوامی سطح پر دنیا کی نظروں کے سامنے آئے۔ 

انٹرنیٹ پر ایک طرف لکھنے والے کو کسی لگی لپٹے بغیر اپنا ذہن دنیا کے سامنے لانے کا موقع ملتا ہے تو دوسری جانب اس لکھے کو پڑھنے والوں کی اس سے بڑھ کر کھلی ڈلی رائے دینے کا بھی اتنا ہی موقع ملتا ہے۔ یوں جہاں لکھنے کے لیے جدید خطوط پر استوار نت نئے موضوعات زیر قلم رہتے ہیں وہیں اس سے بڑھ کر بھانت بھانت کے ردعمل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہماری اس تحریر کا مقصد اس تمام جوابی تنقید و تائید کے خالق جملہ قارئین کو مختلف اقسام میں تقسیم کر کے ایک جائزہ ترتیب دینا ہے تاکہ ہر قسم کے قاری کا تجزیہ کیا جاسکے۔ ذیل میں ان قارئین کی ردعمل کی بنیاد پر کئی اقسام پر بحث کی جارہی ہے جو مکمل طور پر عاجز کی ذاتی رائے ہے اور جس کی بنیاد ذاتی مشاہدات و تجربات ہیں۔ 

۱۔ پراسرار قاری

یہ وہ قاری ہیں جو تحریر پڑھتے ہیں مگر کوئی ردعمل دینے سے پرہیز کرتے ہیں۔ تحریر اگر سوشل میڈیا پر ہو تو یہ لوگ پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے سے بھی گریز کیا کرتے ہیں۔ اس کی ممکنہ وجہ کسی بھی قسم کے تنازعے سے دور رہنے کی خواہش ہے کیونکہ حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ کئی اکابرین ناپسندیدہ تحریر کی پسندیدگی پر بھی نالاں ہو جایا کرتے ہیں اور اس بنیاد پر قاری کو اپنی فہرستِ احباب سے خارج کیا کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے قاری اپنی موجودگی کا احساس اکثر کئی ہفتوں، مہینوں یا سالوں بعد دوران گفتگو یہ کہہ کر دلایا کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ کی فلاں تحریر پڑھی اور خوب پسند کی۔ پڑھنے والے افراد کا یہ گروہ کسی بھی لکھاری کا قیمتی سرمایہ ہوا کرتے ہیں۔ 

۲۔ زندہ دل قاری

یہ قارئین کی وہ قسم ہے جو قلمکار کی ہر طرح کی تحریر خاص کر مزاح کو بھرپور طریقے سے پڑھا کرتے ہیں بلکہ اس سے پوری طرح محظوظ بھی ہوا کرتے ہیں چاہے تحریر ان کے سیاسی یا مذہبی مکتبہ فکر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے قاری تعداد میں معدودے ضرور ہیں تاہم کسی بھی لکھاری کے لیے ایک قیمتی سرمائے سے کم نہیں۔ یہ لوگ عام زندگی میں بھی بہترین دوست بنائے جانے کے قابل ہوتے ہیں جن میں برداشت کا مادّہ اوسط سے کہیں زیادہ ہوا کرتا ہے۔

۳۔ مفتی قاری

یہ قارئین کی وہ قسم ہے جن کا کام بلا تفریق ہر قسم کی تحریر کو مذہبی ترازو میں تول کر فتوی دینا ہوا کرتا ہے۔ ایسے مجاہدین ہر لکھاری کے قارئین کا حصہ ہوا کرتے ہیں۔ یہ بھنڈی آلو بنانے کی ترکیب سے لے کر ناسا کے مریخ مشن تک میں حرام حلال کی بحث کا موقع بنانے کے ماہر ہوتے ہیں اور اس سے کہیں بڑھ کر اس بحث میں دلچسپی نہ رکھنے والوں کو الجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ 

۴۔ سنجیدہ قاری

پڑھنے والوں کی یہ وہ قسم ہے جو صرف سنجیدہ اور قابل بحث موضوع پر لکھی شائستہ تحریر کو پڑھتے ہیں اور پڑھ کر ایک مثبت سمت میں ایک مثبت بحث کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ قارئین اپنا ردعمل دینے میں انتہائی محتاط ہوتے ہیں اور اس بات کا پوری خوبی سے خیال رکھتے ہیں کہ کوئی ایک فرد بھی اسے پڑھ کر غصہ محسوس نہ کرے اور ان کی موضوع پر بحث بھی ہوجائے۔ 

۵۔ جلالی قاری

یہ قارئین کی وہ قسم ہے جو اختلاف کی صورت میں پچھلے تین ہزار سال کے مسائل شدت بھرے جذبات کے ساتھ لکھاری کی تحریر پر یوں ڈالتا ہے گویا یہ سارا گند لکھاری کا ہی پھیلایا ہوا ہو۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ جلالی قاری کے ساتھ کبھی بھی بحث میں مت پڑیے، ان کا کی بورڈ کچھ ہی دیر میں آپ کے بزرگوں کے ہجو سرائی میں استعمال ہو رہا ہوگا۔ 

۶۔ تاتاری قاری

پڑھنے والوں کی یہ قسم درجنوں بلکہ کئی مقامات پر سینکڑوں کی تعداد میں فیک پروفائلز پر مبنی ہوتی ہے اور ان کا کام نظریاتی اختلاف پر لکھاری کی آئی ڈی غول در غول رپورٹ کروانا ہوتا ہے۔ فیس بک انفرادی رپورٹ پر کاروائی میں عموماً ہفتوں لگا دیتی ہے تاہم کسی وجہ سے جوو در جوق رپورٹنگ ہونے پر فوری طور پر آئی ڈی عارضی طور پر بلاک کر دیتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے قاری عام طور پر ناموس مذہب کے جذبات کے تحت کولڈ بلڈڈ کاروائی کیا کرتے ہیں۔ 

۷۔ سڑیل قاری

یہ وہ قاری ہیں جو کسی بھی وجہ سے لکھاری سے سڑے بیٹھے ہوتے ہیں اور منتظر ہوتے ہیں کہ کب لکھاری کوئی تحریر پیش کرے اور یہ اپنے عنادی مواد جواباً پیش کرے۔ اس قسم کے قاری ہمیشہ موقع کی تاک میں بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کی صحت عموماً سوکھی سڑی ہوا کرتی ہے جو اس بات کا عندیہ ہوتی ہے کہ حقیقی زندگی میں بھی ان کا رویہ کچھ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ قاریوں کی یہ قسم ویسے تو کسی بھی صنف پر صف ماتم بچھانے کی اہل ہوا کرتی ہے تاہم طنز و مزاح پر ان کا چڑھتا پارہ دیکھنے کے لائق ہوا کرتا ہے۔ یہ قاری عام طور پر ایک مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے پائے گئے ہیں۔ 

۸۔ خودکش قاری

قارئین کی یہ قسم سیدھا سیدھا لکھاری کے ڈی این اے میں مبینہ غیر خالص آمیزش سے بات شروع کرتے ہیں اور زیادہ تر ایک کمنٹ کر کے بلاک ہوجایا یا کر دیا کرتے ہیں۔ ان قارئین کا تعلق زیادہ تر مذہبی پیشواؤں یا ان ان کے مقلدین سے ہوتا ہے۔ ان قارئین کی اکثریت بھی جعلی پروفائل سے اپنا کام کرتی ہے۔ 

۹۔ عاشق قاری

قارئین کرام کی یہ قسم ہر لکھاری کی محبوب ترین ہوا کرتی ہے۔ یہ لکھاری سے خالص محبت کرتے ہیں اور اس کی اچھی بری ہر طرح کی تحریر کو لائیک اور شئیر ضرور کرتے ہیں۔ یہ قاری لکھاری کی محبت میں کسی بھی مخالف سے بھڑ جانے کو تیار رہتے ہیں اور اکثر صبح اٹھنے پر پہلے ہی انہیں آڑھے ہاتھ لیے ساڑھے تین سو کمنٹس پر مبنی بحث کر چکے ہوتے ہیں۔ 

۱۰۔ مسلکی قاری

یہ وہ قاری ہے جو ہر تحریر کا مسلکی بنیادوں پر جائزہ لے کر مسلکی اظہار خیال کرتا ہے۔ یہ قاری اس بات کا اہل ہوتا ہے کہ پیزا بنانے کی ترکیب میں بھی اپنے مسلک کی عظمت اور ناپسندیدہ مکتبہ فکر پر تبرے کا طریقہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ اس قسم کے قاری کی جانب سے دوسرے سے تیسرا کمنٹ آپ کی تحریر کو پانی پت کا میدان بنا سکتا ہے۔ 

۱۱۔ سلجھے قاری

قارئین کرام کی انمول ترین قسم جن کی جانب سے اظہار رائے عموماً لکھاری بطور ٹرافی سجا لیا کرتا ہے۔ یہ قاری لکھاری کی تحریر پر ہر کسی سے سینگ پھنسانے سے گریز کیا کرتا ہے اور اگر اسے اسی کی قسم کا ایک اور قاری اس کی رائے سے اختلاف کرتا مل جائے تو ایک مہذب ترین مکالمہ جنم لیتا ہے۔ 

۱۲۔ لنگوٹیا قاری

یہ لکھاری کے قریب ترین لنگوٹیے دوستوں پر مبنی قارئین ہوتے ہیں اور تحریر کے چیدہ نکات اگلی محفل کے ایجنڈے کے طور پر اپنے دماغ میں محفوظ کر لیا کرتے ہیں۔ اس کے بعد اگر لکھاری خوش قسمت ہے تو یہ ریکارڈ ایک بہترین گفتگو کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے جبکہ اگر قلمکار کے ستارے گردش میں ہوں تو یہ محفل لکھاری کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا جگتوں کا سلسلہ بن جاتا ہے۔ 

۱۳۔ سپرمین قاری

قارئین کے اس گروہ کی خاصیت مثبت تنقید یا اظہار خیال کی بجائے عجیب و غریب قسم کی بھڑکیں مارنا اور طرح طرح کی دھمکیاں دینا ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر اس قسم کے قاری اپنے جذبات اور انا کو اپنے نظریات اور سوچ کے ساتھ اس طرح نتھی کر لیتے ہیں کہ ایک کو ہلانے پر دوسرا بگڑنا لازم ٹھہرتا ہے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ کسی وجہ سے ایسے قاری ایک زعم میں ہوتے ہیں جس کا اظہار وہ اکثر تڑیوں اور دھمکیوں کی شکل میں دیا کرتے ہیں۔ شریف النفس لکھاری عموماً اس قسم کی گیدڑ بھپکیوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے جبکہ کاٹ دار قلمکار اپنے قلم کی تیزی ان پر بھی آزمانا شروع کر دیتا ہے۔ 

۱۴۔ معزز قاری

یہ قاری عقل و دانش کے اصل محور ہوا کرتے ہیں اور ان کی تعریف اور پہچان ہر لکھاری اپنے حساب سے خود کرتا ہے۔ ایسے قارئین کا ردعمل اوّل تو شاذ ہی سامنے آتا ہے مگر جس دن آجائے لکھاری کے لیے باعث فخر دن ہوا کرتا ہے۔ معزز اور سلجھے ہوئے قارئین کے درمیان فرق فقط یہ ہے کہ معزز قارئین عوامی سطح پر جانے پہچانے ہوتے ہیں جبکہ سلجھے قارئین عموماً اپنے سوشل میڈیا پر موجود دوستوں کے علاوہ دنیا بھر سے مخفی ہوتے ہیں۔ 

۱۵۔ خود ساختہ معزز قاری

یہ وہ قاری ہیں جو عموماً اندھوں میں کانے راجہ کی طرح خود ساختہ گیان کا منی پلانٹ دکھائی دیتے ہیں۔ ان قارئین کے کمنٹ میں لکھاری کو جھلک ملتی ہے کہ انہوں نے اپنا ردعمل دے کر گویا ایک احسان کر ڈالا ہے لکھاری جس کے بوجھ تلے اب ہمیشہ دبا ہی رہے گا۔ ان کا ردعمل عموماً مقبول بیانیے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جو انہیں تحصیل سے ضلع کی سطح پر لے جانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ قارئین کسی بحث میں الجھ بھی جائیں تو پندرہ منٹ میں ان کی بحث ان کی عظمت تک ہی محدود رہ جاتی ہے۔ یہ قارئین اکثر سپرمین بن کر اڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعد ازاں اسی کوشش میں اپنے اندر کا انسان باہر لاتے ہوئے اپنی بدزبانی کو پیارے ہوجایا کرتے ہیں۔ 

قارئین کو پڑھ اور سمجھ کر ان کی نفسیات پڑھنا ایک دلچسپ سرگرمی ہے۔ ان تمام اقسام سے قطع نظر، میرے لیے تمام قاری ایک جیسی عزت اور محبت کے قائل ہیں کہ انہی کے دم سے لکھنے والا اپنی پہچان رکھتا ہے اور انہی کی وجہ سے یہ بزم ادب قائم و دائم رہتی ہے۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *