ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 172 )

انٹرویو: نہرو نے سید شہاب الدین کو ’بہا ر کا شرارتی لڑکا‘ کیوں کہاتھا

میرا سیاسی نصب العین یہ تھا کہ ملّتِ مسلمۂ ہند اور قومی سیاست کے مابین حائل خلیج کو پُر کیا جائے اور دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے۔ فوٹو: مشاورت انڈین فارین سروس کے ایک سابق رکن ،←  مزید پڑھیے

ابھی ہم زندہ ہیں۔۔ تو کیوں نہ مل لیا کریں کبھی کبھی ۔۔۔۔۔۔ابن آس محمد

عزیز دوست، بچوں کے اہم ادیب، اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر ظفر احمد خان سے آخری ملاقات اس انداز میں ہوئی کہ وہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا تھا، نہ جواب دے رہا تھا، بلکہ سن ہی نہیں رہا تھا←  مزید پڑھیے

الوداع استنبول۔۔۔سفرنامہ/سلمٰی اعوان۔آخری قسط

توآج شام اندھیرے اُجالے کے کِسی لُکن میٹی لمحے میں استنبول سے رُخصت ہوجانا ہے۔دنیا کی حسین ترین مسجدوں والا یہ شہر جس کے چپے چپے پر ماضی کی عظمتوں اور تہذیبوں کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ میں ایک عجیب←  مزید پڑھیے

جادو کی چھڑی۔۔۔۔قمر سبزواری

جنگ کے لیے وہ بھی تیار ہیں اور ہم بھی اتاولے ہو رہے ہیں کوتاہ نظر کہتے ہیں جنگ کا کوئی فائدہ نہیں وہ شاید نہیں جانتے کہ جنگ جرائم کو چھپاتی اور ناکامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے کوئی←  مزید پڑھیے

شہزی آپا۔۔۔۔رفعت علوی/دوسری،آخری قسط

شہزی آپاکو میک اپ اور بننے سنورنے کی ضرورت نہیں تھی، ہر رنگ میں دلکش لگتیں مگر جانے ان دنوں ان کو کیا ہوگیا تھا کہ انکا زیادہ وقت آئینے کے سامنے گزرنے لگا، گرامو  فون پر گانوں کی دھنیں←  مزید پڑھیے

جینٹلمین۔۔۔۔۔ مدثر بشیر

کسی سرکاری دفتر میں سائل کی چائے سے تواضع بذاتِ خود الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے لیکن یہاں انوکھا پن اس لئے بھی سوا تھا کہ یہ دفتر تھا بھی محکمہ بجلی کا ۔بلوں نے لوگوں کا دماغ الٹا←  مزید پڑھیے

شہزی آپا۔۔۔۔رفعت علوی/قسط 1

برف زاروں میں لگنے والی محبت کی آگ کا قصہ۔۔۔۔ بطور خاص دلداروں اور شہریاروں کے لئے ۔۔۔ میرے دل پہ گرفتگی نے حملہ کردیا تھا، ملگجی سی شام ویران لگ رہی تھی فضا پر جیسے جمود سا طاری تھا،←  مزید پڑھیے

وقت اے وقت! ٹھہر جا (ڈاکٹر انور سجاد سے ایک ملاقات)

بعض واقعات انسان پر کچھ ایسے اثرات چھوڑ جاتے ہیں جو بظاہر محسوس نہیں ہوتے لیکن جن پر گزرتے ہیں وہ اس کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد سے ہونے والی ملاقات بھی ایک ایسا  ہی واقعہ  ←  مزید پڑھیے

ہوٹلوں میں موت کا کاروبار۔۔۔۔۔ طاہر حسین

ج دل بہت اداس ہے اور اداسی کا سبب معصوم بچوں کے وہ چہرے جو رہ رہ کر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ اولاد سے بڑھ کر ہے بھی کیا کہ جو قدرت کا وہ تحفہ جو جان نچھاور کرنے←  مزید پڑھیے

جون ایلیا سے ملیے۔۔۔۔انور احسن صدیقی کی خود نوشت سے انتخاب

سید محمد تقی اور رئیس امروہی کے تذکرے کے بغیر کراچی کی تہذیبی اور مجلسی زندگی کا ذکر نامکمل رہے گا۔لہذاا س موقع کی مناسبت سے اس احوال کو میں بیان کردینا چاہتا ہوں۔ وہ چار بھائی تھے۔ سب سے←  مزید پڑھیے

گرمیوں کے روزے، “چند خوشگوار یادیں”۔۔۔۔۔طاہر حسین

عمر ہماری یہی کوئی چھ سات برس کی ہوگی جب اپنے ہوش میں پہلی دفعہ گرمیوں کے روزوں سے واسطہ پڑا۔ یہ تو معلوم نہ تھا کہ روزے سے پہلے سحری بھی ہوتی ہے مگر یہ منظر یاداشت پر نقش←  مزید پڑھیے

نئی صبح۔۔۔۔عامر صدیقی/مختصر کہانی

موسمِ بہار کے پہلے روز، سُونی، سخت، کٹھور اور بنجر زمین نے ایک طویل، مدہوشی بھری نیند سے بیدار ہوکر، سبز رنگ کے کپڑے پہن لئے۔موسمِ بہار کی نرم گرم، زندگی بھری اور خوشبودار ہوا، ایک مہربان ماں کی طرح←  مزید پڑھیے

ابوجی کے نام۔۔۔۔طاہر حسین

مجھے آپ سے بہت شکائتیں ہیں اور بہت شکوے کرنے ہیں۔ آپ نے مجھ سے مرد بننے کی امید کیوں رکھی جبکہ آپ خود ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ جذبات کے اظہار کو کیوں آپ مردانگی کے خلاف جانتے تھے۔←  مزید پڑھیے

استنبول کا ایشائی حصّہ ’اسکدار اور کیڈی کوئے۔۔۔سفر نامہ استنبول/سلمٰی اعوان۔قسط16

اُسکداراستنبول کے ایشیائی حصّے کا سب سے بڑا ضلع ہے تو واقعی اس کے خدوخال میں بھی مشرقیت کے رچاؤ کا غلبہ ہے۔ایمی نو نوسے فیری کے ذریعے اسکدار پہنچنے میں کتنا وقت لگا ہوگا۔زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ←  مزید پڑھیے

دکھی ایکسپریس “صحرائے تھر، ہائے تھر”۔۔۔۔۔طاہر حسین

فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کیسے ہوا کرتی ہے اس کا علم تو نہیں لیکن اقبال کا شعر سنتے ہی گردن اس غرور سے تن جایا کرتی کہ کسی حد تک بندہ کوہستانی تو میں تھا لیکن مردان صحرائی کے←  مزید پڑھیے

جنم ۔۔۔انور زاہد

ہم ایسے لوگوں کا ۔۔۔۔۔۔۔کوئی جنم نہیں ہوتا ہمارا کام ہے، رکھنا چراغ رستوں پر ہمارا کام ہے راتوں کی روشنی بننا ہمارا کام ہی خوابوں کی پہرے داری ہے ہم ایسوں کے لئے راتیں ہی کام ہوتی ہیں ہمارے←  مزید پڑھیے

دشمن کے سپاہی کے نام۔۔۔۔انعام رانا

دشمن کے سپاہی مرے دشمن کے شہید تری بے وقت موت پہ افسردہ ہوں تو بھی تو فقط ایک غریب میرے فوجی جیسا جسکی تنخواہ سے تھے وابستہ نہ جانے کتنے خواب تری پنشن پہ پلیں گے اب جینے کے←  مزید پڑھیے

ببلی / بابر۔۔۔۔۔قربِ عباس

لکڑی کے فریم میں بڑا آئینہ لگا ہوا تھا، جس میں نیچے سے اوپر تک ایک لمبی دراڑ تھی جو کہ اُس کے عکس کو دو حصوں میں بانٹ رہی تھی۔ آنکھوں کا کاجل جو نمکین پانی کے سا تھ←  مزید پڑھیے

غالب انکل۔۔۔ستیہ پال آنند

آج مرزا غالب کی برسی پر ایک نظم دوستوں کی نذر ہے ۔۔۔ میں اس بات کی سچائی سے کبھی منحرف نہیں ہوا کہ غالب ایک عظیم شاعر تھا ۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ ایک عظیم←  مزید پڑھیے

لذتِ آشنائی ۔۔۔۔طاہر حسین

جیسے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ابن آدم اور بنت حوا ایک دوجے کے لیے لازم ملزوم ہیں’ اسی طرح یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کون الزام علیہ اور کون ملزم۔ اس طرح کے کردار دنیا←  مزید پڑھیے