گرمیوں کے روزے، “چند خوشگوار یادیں”۔۔۔۔۔طاہر حسین

عمر ہماری یہی کوئی چھ سات برس کی ہوگی جب اپنے ہوش میں پہلی دفعہ گرمیوں کے روزوں سے واسطہ پڑا۔ یہ تو معلوم نہ تھا کہ روزے سے پہلے سحری بھی ہوتی ہے مگر یہ منظر یاداشت پر نقش ہے کہ تپتی دوپہروں میں گھر کے جملہ روزہ دار گیلی سوتی چادریں اوڑھے اور چہروں پر ایک قابل رحم ایکسپریشن لئے پنکھوں کے نیچے لیٹے پائے جاتے۔ گرمیوں کی سالانہ چھٹیاں تھیں اور کرنے کو اور کوئی کام تھا نہیں۔ گھر میں چونکہ کسی بھی روزہ دار میں ہمت نہیں تھی کہ ہم سے بات بھی کرے تو ایسے میں بوریت کھانے لگتی تھی۔ بچپن کی وہ معصوم خطائیں جن پر ماں صدقے واری جایا کرتی اور والد محترم مہمانوں کے سامنے ہر بار پرفارم کرنے پر اصرار کرتے۔ پتہ نہیں کیوں ماہ رمضان میں بدتمیزی اور شوخی کے زمرے میں گنی جاتیں۔ ذرا سے کھٹکے پر بھی گھر کا کوئی بڑا بزرگ اپنا روزہ بہلانے لگتا۔ اب آخر کب تک کھرلی میں لیٹ کر اپنے پسندیدہ “وچھے” کے ساتھ یاری نبھاتے ہوئے ٹانڈوں کی گنڈیریاں چوسی جا سکتی تھیں۔ ایسے میں “کھوہ والی مسیت” میں جائے امان دیکھنے کو نکل جاتے جہاں کسی اللہ والے نے نمازیوں کی سہولت کے لئے ائر کولرز کا بندوبست کر رکھا تھا۔ لیکن یہاں کا منظر بھی موت کے منظر جیسا دکھائی دیتا۔ محلے کے مردم بیزار بابے اور نوجوان کنوئیں سے ٹھنڈے پانی کے ڈول نکال کر خود کو گیلا کرتے اور مسجد کے مرکزی ہال میں ائر کولر کے سامنے بیہوش گر جاتے۔ مسجد میں اپنے کچھ ہم عمر بھی مل جاتے اور مشغلہ یہ تھا کہ برآمدے کے کچے صحن میں پھدکتے ہوئے مینڈکوں پر کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھ دی جائیں اور جب ٹوپی میں قید مینڈک پھدکتے تو صحن میں بھاگتی دوڑتی ٹوپیاں ٹھیک ٹھاک قسم کی انٹرٹینمنٹ کی چیز بن جاتیں۔ ایسی ایکسائٹمنٹ میں بچے شور نہ کریں یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ تب محلے کے سب سے جلالی بزرگ اٹھ کر تشریف لاتے اور ہر کسی کو ایک ایک چپت لگا مسجد سے نکال باہر کرتے۔

عصر کی نماز کے بعد گھر میں افطاری کی تیاری شروع ہو جایا کرتی۔ بادام کی سردائی، روح افزاء، برف میں لگا ہوا تربوز، خربوزے، پکوڑے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی کے نحیف سی آواز میں استفسار کہ کتنا ٹائم باقی ہے۔ مگر ہمارا مسئلہ پھر وہی رہتا کہ تمام روزہ دار بیزار کیوں ہیں۔ ہم سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا۔ گھر کے سب بڑے ہمیں اس بات کے بھاشن کیوں دیتے ہیں کہ سارا دن کھاتے پیتے رہے ہو اور اب خدا کے لئے نچلے بیٹھ جاؤ۔ یہ خواہش دل میں مچلنے لگتی کہ پتہ نہیں کب بڑے ہو کر روزہ دار بن کر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کریں گے۔ دوسری طرف افطاری کے لوازمات پر ہاتھ صاف کرنے کو انگیلیاں مچلنے لگتیں۔ افطاری کے اعلان کا گولا چھوٹنے کی آواز سن کر کھل گیا کا نعرہ لگاتے کہ شائد کوئی شاباش دے گا مگر کہاں؟

tripako tours pakistan

ایک روز تو حد ہی ہوگئی۔ بڑی بہنوں کا پہلا روزہ تھا اور سب گھر والوں کو ان کے چاؤ اٹھاتے دیکھا مگر ظلم کی انتہاء یہ ہوئی کہ ہم پر چٹور پن کا الزام لگا کر ایک گلاس روح افزاء، تربوز کی قاش اور کچھ پکوڑے تھما کر چھت پر چڑھنے کا حکم دیا گیا کہ جیسے ہی افطاری کا گولا چھوٹنے کی آواز آئے تو اطلاع کریں اور ہم جیسے ہی چھت پر پہنچے تو نیچے سے بانس کی سیڑھی ہٹا دی گئی۔ اس بے عزتی کا بدلہ رو کر اور صحن میں افطاری پر ہاتھ صاف کرتے بزرگوں پر پتھر پھینک کر لیا اور دل میں تہیہ کر لیا کہ جو بھی ہو کل ہم بھی روزہ رکھ کر ہی چھوڑیں گے کہ یہ بے عزتی مزید برداشت نہیں ہو سکے گی۔ بڑی بہن کو اپنے منصوبے کی پیشگی اطلاع بھی کردی مگر پھر شائد بھول بھال گئے۔

اسی رمضان کا آخری عشرہ تھا۔ عید کے نئے جوڑے رات کا سل کر آئے اور نئے کپڑوں کی خوشی میں سرشاری کا عالم تھا کہ آدھی رات کو آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سارا گھر جاگ رہا ہے اور پراٹھوں کے ساتھ گھی شکر اور لسی اڑا رہے ہیں۔ پوچھا کہ یہ کیا ہے تو پتہ چلا کہ روزہ رکھنے کیلئے سحری ہے۔ بس یہی تو وہ موقعہ تھا جسکی مدتوں سے تلاش تھی۔ ہم نے بھی روزہ رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ والدین نے بہت سمجھایا کہ بہت گرمی ہوتی ہے مشکل ہو گی مگر ہم یہ جان چکے تھے کہ اس معاشرے میں عزت پانے کیلئے روزہ رکھنا ناگزیر ہے۔ چارو ناچار سب نے ہتھیار پھینک دیئے اور خصوصی توجہ سے سحری کروائی گئی جس سے کھوئی ہوئی عزت تیزی سے بحال ہونے کا انتہائی محسورکن احساس ہوا۔ روزہ تو رکھ لیا مگر یہ کیا، صبح 9 بجے ہی ایمان ڈولتا ہوا محسوس ہوا مگر ضد کے پکے تھے۔ تمام گھر میں ہمارے روزے کا چرچا اور پھر لاڈ و پیار کی برسات۔ سارا دن خوب پروٹوکول ملا اور ہم اس بات پر نازاں کہ آج سے ہمارا شمار بھی معززین میں ہوگا۔ عصر کے وقت تک نڈھال سے ہو گئے مگر خوشی یہ کہ آج سب کا مشترکہ موضوع ہمارا پہلا روزہ ہے۔ افطاری میں بھی ہماری مرضی کا اہتمام اور ہر طرف داد و تحسین کے ڈونگرے۔ اس کامیابی کا اثر کچھ ایسا خوشگوار تھا کہ اگلی سحری پر پھر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ لیکن حصول توجہ کے تمام منصوبے تب خاک میں مل گئے جب پھر ڈانٹ کر سلا دئیے گئے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *