• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ابھی ہم زندہ ہیں۔۔ تو کیوں نہ مل لیا کریں کبھی کبھی ۔۔۔۔۔۔ابن آس محمد

ابھی ہم زندہ ہیں۔۔ تو کیوں نہ مل لیا کریں کبھی کبھی ۔۔۔۔۔۔ابن آس محمد

عزیز دوست، بچوں کے اہم ادیب، اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر ظفر احمد خان سے آخری ملاقات اس انداز میں ہوئی کہ وہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا تھا، نہ جواب دے رہا تھا، بلکہ سن ہی نہیں رہا تھا ، پلٹ کر دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔نہ کوئی طنز کر رہا تھا، نہ کوئی جوابی جملہ،جیسا کہ اس کی عادت تھی، نچلا بیٹھتا ہی نہیں تھا، ہر بات کا دل چسپ جواب دینے کی کوشش کیا کرتا تھا ۔
لیکن اب وہ چپ ہو گیا تھا، بے حد سنجیدہ ۔ خاموشی سے گہوارے میں لیٹا تھا، اب اسے کسی بات کی پرواہ بھی نہیں تھی کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے یا نہیں ، کوئی اس سے بات کر رہا ہے یا نہیں ۔۔۔۔ اس کے دوستوں میں سے کون کون اسے آخری سفر پر الوداع کرنے آیا ہے ،کون نہیں ۔۔
اس نے سب کی طرف سے منہ موڑ لیا تھا ،کہ تم لوگ بھاڑ میں جاؤ ،میں تو اب وہاں جا رہا ہوں جہاں مجھے اللہ نے بلایا ہے، تم لوگ پیچھے رہ گئے، میں تم سے بہت آگے نکل گیا۔
پچھلے سات آٹھ برسوں سے وہ مجھے جب بھی ملتا تھا ، یہ ضرور کہتا تھا ،
’’ابن آس یار تو بہت آگے نکل گیا ۔ ہم تجھ سے بہت پیچھے رہ گئے ،دھیان نہیں دیا لکھنے پر ٹھیک سے ۔‘‘
اور میں اسے اکساتا تھا کہ:
’’ چل پھر سے لکھنا شروع کر ۔ تو کسی سے پیچھے نہیں ہے ،۔ تو بہت اچھا رائٹر ہے ،ہم سب میں سب سے اچھا مزاح نگار ہے تو ۔۔۔ تجھے کم از کم مزاح لکھنا تو آتا ہے‘‘
وہ ہنس پڑتا تھا   اور آج وہ مزاح لکھنے والا سنجیدگی میں ہم سب سے آگے نکل گیا، ہم کو بہت پیچھے چھوڑ گیا، اور ہم دیکھتے رہ گئے ۔
وہ سچ میں اتنا زیادہ آگے نکل گیا کہ ہم بہت زیادہ پیچھے رہ گئے ۔

میں جب کمرشل انداز میں لکھنے کی طرف آیااور باقاعدہ طور پر رسائل میں ابن آس کے نام سے چھپنا شروع ہوا تو ابتدائی لکھنے والوں میں علی مرتضٰی،ذیشان ہاشمی اور چند دوستوں کے علاوہ ظفر احمد خان وہ دوست تھا جس سے میری ملاقات اسی روز ہوئی تھی ،جس روز میں پہلی بار کسی رسالے کے دفتر میں گیا تھا ۔
وہ ماہ نامہ چائلڈ اسٹار کا دفتر تھا ،پینو راما سینٹر میں بنایا گیا تھا اور اسی دفتر سے ماہ نامہ پازیب بھی شایع ہو رہا تھا ،شاید ان دونوں رسائل کے بھی یہ پہلے شمارے تھے ،اور چائلڈ اسٹار کے پہلے ہی شمارے میں ،بہ طور ابن آس میری پہلی کہانی شایع ہوئی تھی ۔ ان دونوں رسالوں کے مالک اور چیف ایڈیٹر معروف اداکار ،سلیم ناصر مرحوم تھے ،اور ان سے بھی پہلی اور آخری ملاقات اسی دفتر میں ہوئی تھی ( وہ الگ قصہ ہے )
یوں میں کہہ سکتا ہوں کہ ابن آس کی پہلی کہانی شایع کرنے کے لیے قدرت نے ایک نئے رسالے کا اہتمام کیا تھا۔
ان دنوں میں ایک موٹا سا پانچ سو صفحے کا رجسٹر خرید لیا کرتا تھا ،اور ان میں ایک کے بعد ایک کہانی لکھا کرتا تھا ،ایک رجسٹر چند ہی دن میں بھر جاتا ،تو دوسرا رجسٹر خریدلیتا تھا ،اور ہر کہانی پر جلی حروف میں :
تحریر: محمد اختر آس ۔۔۔۔ لکھا کرتا تھا ،
ان ہی دنوں کاوش صدیقی سے اپنی ہی لائبریری ( واقع اور نگی ٹاؤن دس نمبر )پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ رسالوں اور ڈائجسٹوں میں لکھتے ہیں ۔
ان کے دوست طارق صدیقی نے بہت لمبا چوڑا تعارف کرایا کہ ان کا نام تو ہاشم ہے ،مگر یہ کاوش صدیقی کے نام سے پاکستان کے بہت بڑے رائٹر ہیں ،
انگریزی لفظ writer کے معنی اس وقت مجھے معلوم نہیں تھے ،میں نے پوچھا : ’’کرتے کیا ہیں ۔۔۔؟‘‘
جواب ملا : کہانیاں لکھتے ہیں ۔۔ کہانیاں ۔۔۔‘‘
میرے دوست طارق صدیقی نے مجھے خاصا مرعوب کرنے کی کوشش کی اور کاوش صدیقی کا ایک لمبا چوڑا تعارف بھی کرایا۔
میں نے مرعوب ہوئے بغیر کیا :
’’ کہانیاں لکھنا کون سی بڑی بات ہے‘‘
کاوش صدیقی نے چونک کر کہا : اچھا ۔۔تم لکھ سکتے ہو کہانی ۔۔۔؟‘‘
میں نے کہا: ہاں ۔۔۔۔بہت ساری کہانیاں لکھی ہوئی ہیں ۔بہت ساری چھپ بھی چکی ہیں ،مگر میرے نام سے نہیں چھپیں ۔۔۔دوستوں کے ناموں سے چھپی ہیں بہت پہلے ۔۔۔۔‘‘
کاوش صدیقی نے سوچا کہ ایویں بڑ ہانک رہا ہے ۔مجھ سے کہا : دکھاؤ ۔۔۔‘‘
میں اپنے رجسٹر دکھانا شروع کر دیئے ۔۔۔‘‘
وہ قطعی متاثر نہ ہوئے کہ ڈائجسٹوں میں ،رسالوں میں چھپنے والے مشہور رائٹر تھے ،پھر سرسری انداز میں کہا :
’’ میں دو دن بعد آؤں گا ۔۔۔کوئی جاسوسی کہانی لکھ کر رکھنا ‘‘
میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔کاوش صدیقی چلے گئے ۔
میں اسی وقت جاسوسی کہانی لکھنے بیٹھ گیا اور ایک ہی دن میں رات تک دکان پر بیٹھے بیٹھے ،رجسٹرکے بتیس صفحوں پر مشتمل ایک جاسوسی کہانی ’’ جیل سےفرار ‘‘ لکھ کر رکھ لی ۔
کچھ دنوں بعد کاوش صدیقی آئے تو کہا : ہاں بھئی ،کچھ سوچا کہانی کے بارے میں ۔۔۔؟
ان کا خیال تھا کہ میں نے ابھی تک کہانی نہیں لکھی ہو گی ،میں نے اثبات میں سر ہلا کر کہا : وہ تو اسی دن لکھ دی تھی ۔۔۔‘‘
کاوش صدیقی کو وہ کہانی دی تو انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت طویل ہے ۔ خیر میں پڑھ کے دیکھتا ہوں ۔۔ اور یہ محمد اختر آس ۔کون ہے ؟‘‘
’’ یہ میرا نام ہے ؟‘
’’ شاعری بھی کرتے ہو ؟
میں نے انکار میں سر ہلادیا :’’ نہیں ۔۔ شاعری نہیں آتی‘‘
’’ تو پھر یہ آس کیا ہے ۔۔۔محمد اختر تو سمجھ میں آگیا ۔۔۔ آس سمجھ میں نہیں آیا ۔۔۔؟‘‘
میں نے جواب دیا : ’’ آس میرے ابو کا نام ہے ۔ آس محمد ۔۔۔ اس لیے اپنے نام کے آخر میں آس لکھ دیا ۔۔۔‘‘
’’ خوب ۔۔۔۔‘‘ کاوش صدیقی نے سرہلایا اور کہا : ’’ کہانی پڑھ کے بتاتا ہوں ۔۔۔‘‘
اس کے بعد کاوش صدیقی غائب ہو گئے ۔
کچھ دنوں بعد ،میری لائبریری کے سامنے والی گلی میں رہنے والے کاوش صدیقی کے کزن،ریحان صدیقی ،اور اسی گلی میں رہنے والے ایک لڑکے شبلی نے بتایا :
’’ اختر بھائی ،آپ کی کہانی چھپ گئی ہے ۔۔۔؟‘‘
’’ کہاں ۔؟‘ میں نے بے ساختہ پوچھا ۔
’’ رسالے میں ۔۔‘‘ انہوں نے جواب دیا ۔
’’ کون سے رسالے میں ۔؟‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا ۔
’’ نام تو یاد نہیں ۔۔۔۔ گھر پہ پڑا ہے رسالہ ۔نماز پڑھ کے آجاؤں ،پھر لا کر دیتا ہوں ۔ ہاشم بھائی آئے تھے کل وہ دے کر گئے ہیں ۔۔۔‘‘
خیر ،قصہ مختصر ۔۔۔۔
وہ کہانی بہت کاٹ پیٹ کے بعد چند صفحات میں ’’ جیل سے فرار ‘‘کے نام سے چھپ گئی ۔۔۔اور اس پر رائٹر کا نام محمد اختر آس کی بہ جائے ’’ ابن آس ‘‘لکھا تھا ۔ یوں کاوش صدیقی نے مجھے محمد اختر آس سے ابن آس بنا دیا تھا ۔اور اس کے بعد حنیف سحر( چائلڈ اسٹار کے ایڈیٹر ) مجھے ڈھونڈتے ہوئے میرے گھر تک پہنچ گئے ۔ حنیف سحر ہر اس نئے قلم کر کو تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے تھے جس کی کہانی میں انہیں دم دکھائی دیتا تھا ۔۔۔۔
انہوں نے مجھے اپنے آفس بلایا ،اور جب میں پہلی بار کسی رسالے کے آفس ( پینو راما سینٹر پہنچا ،تو وہاں میری ملاقات سلیم ناصر ،کاوش صدیقی ،اور حنیف سحر کے علاوہ علی مرتضی اور ذیشان ہاشمی سے ہوئی ۔ اس پہلی ہی ملاقات میں ہماری تصویریں بھی کھینچی گئیں ،اور وہ اس رسالے کے اگلے شمارے میں شایع بھی ہوئیں ،ہمارے مختصر سے انٹرویو کے ساتھ ۔۔۔۔ اس روز میرے ساتھ میرے اسکول کا بہت کم سن دوست عامر فاضل بھی میرے ساتھ تھا (ان کی شاہین یوپی بیکری پورے اورنگی ٹاؤن میں مشہور ہے )
رسالے کے دفتر سے نکلے تو پینو راما سینٹر کی لفٹ کے پاس ایک پتلا،دبلا ،کم زور سا ،میرے جیسا کالا سا لڑکا ملا ۔۔۔۔
علی مرتضی اورذیشان ہاشمی اسے جانتے تھے ،وہ ظفر احمد خان تھا ۔ہاتھ میں پلندہ لیے ہوئے جس میں اس کی نئی کہانی تھی جو وہ چائلڈ اسٹار کے دفتر میں دینے آیا تھا ۔
یہ میری ظفر سے پہلی ملاقات تھی ،جو اسی روز دوستی میں بدل گئی ۔
وہ دفتر میں چلا گیا اور ہم نیچے اس کا انتظار کرتے رہے ۔
کچھ دیر بعد ظفر آیا تو ہم ہوٹل پہ بیٹھ گئے ،اور اس نے اپنے بارے میں بتایا ،اور ہم نے اپنے بارے میں ۔۔۔۔
اس نے یہ بتا کر مجھے حیران کر دیا کہ اسے کہانی لکھنے کے پیسے ملتے ہیں ،علی مرتضی اور فیاض ہاشمی بھی چھوڑنے لگے کہ ہمیں تو پانچ سو روپے ملتے ہیں ایک کہانی کے ۔۔۔۔ میرا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا ،میں ان دنوں شام کو لائبریری چلانے کے ساتھ ساتھ میں دن میں مزدور ی کیا کرتا تھا،اور ایک دن کی دیہاڑی مجھے پچاس روپے ملنے لگی تھی ۔۔۔۔ پانچ سو روپے کا سن کر تو میری رال ٹپکنے لگی ۔۔۔ لیکن ظفر نے بڑی مایوسی سے کہا :
’’ مجھے ڈیڑھ سو ملتے ہیں ایک کہانی کے اور جتنے صفحات کی کہانی ہوتی ہے ،اس کی فی صفحہ کتابت کے تیس روپے ملتے ہیں ۔۔۔۔‘‘
( ظفر کو کتابت آتی تھی ،یا شاید ا س نے کچھ اضافی آمدنی کے لیے کتابت سیکھ لی تھی کہ کتابت شدہ کہانی فورا چھپ بھی جاتی تھی اور پیسے بھی مل جایا کرتے تھے )
ظفر بھی میری طرح انتہائی غریب گھرانے کا محنت کش قلم کار تھا ،قلم کی روزی کماتا تھا ،اس زمانے میں ا س کی شادی نہیں ہوئی تھی،لائنز ایریا میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی امی اور شاید ایک بہن کے ساتھ رہاکرتا تھا ۔
وہ میرے جیسے ہی حالات سے للڑ رہا تھا ،میرے جیسے بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتا تھا ،اس لیے میری اس سے دوستی ہو گئی ،اور ہم اکثر ملنے لگے ۔۔۔ کہ وہ مجھے اپنے جیسا لگتا تھا،اور لکھتا بھی بہت اچھا تھا ۔
میں کئی بار اس کے گھر بھی گیا ،اس کی امی سے بھی ملا ۔۔۔وہ مجھے کہنے لگیں کہ اس کو سمجھا ؤ کچھ اور کرے ۔۔۔۔ اتنے تھوڑے سے پیسے کمانے سے اس کی زندگی کیسے گزرے گی ۔۔۔
مگر وہ کیا کرتاکہ اسے بھی میری طرح لکھنے یا مزدوری کرنے کے سوا کچھ اور نہیں آتا تھا ۔۔۔۔
بہر طور زندگی گزرتی گئی ۔۔۔۔ میں کلی طور پر لکھنے ہی کی طرف راغب رہا ،اور ظفر نے کتابت اور ہیڈنگز لکھنے میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ پاکستان چوک پر ایک چھوٹی سے دکان کھول لی ۔
وہاں وہ دن بھر شادی کارڈ لکھا کرتا اور چھوٹی موٹی کتابت کر لیا کرتا تھا ۔ میں وہاں بھی اس سے ملنے جایا کرتا تھا ،ان ہی دنوں میرا ایک دوست سی ڈی کے کور بنایا کرتا تھا ،میں نے اس کی کتابت کا سارا کام اپنے ایک کاتب دوست مظہر شکیل کو دلایا تھا ۔ جب ظفر کو معلوم ہوا تو اس نے مجھ سے کہا :
’’ یار سی ڈی کور کا کام مجھے بھی دلا دو ۔ مظہر شکیل اتنا بہت سا کام کیسے کرتا ہو گا ۔‘
میرے لیے یہ آسان کام تھا ۔۔۔ میں اسٹار اینڈ اسٹائل کا ایڈیٹر بن چکا تھا ،اور ساؤنڈ ماسٹر میوزک کمپنی کے شجاع سے بھی میر دوستی ہو گئی تھی اور دو نئی کیسٹ کمپنیوں کے مالک عباس ( مرحوم ) سے میری بہت اچھی دوستی تھی ۔
میں نے ان تینوں کمپنیوں کے آڈیو ،وڈوی کیسٹوں کے کور کا کام اسے دلا دیا ۔۔۔۔ اور اس نے ایسی ایسی شان دار سرخیاں لکھیں کہ وہ جلد ہی اس کام کا مارکیٹ میں کنگ بن گیا .
اسی دوران اسے ہومیوپیتھک کا چسکا لگا ،اور ایسا لگا کہ کچھ ہی عرصہ میں کتابت کا کام چھوڑ کر ہومیو پیتھ ڈاکٹر بن گیا ،شادی بھی ہو گئی تھی ،بچے بھی ہو گئے تھے اور اب وہ اچھا کھاتا پیتا ڈاکٹر بن کر ایک بڑا کلینک اور ایک میڈیکل اسٹور چلانے لگا تھا ۔۔۔۔ کوٹ پینٹ پہننے لگا تھا ، کاتبوں کی بہ جائے ،ڈاکٹروں کی طرح بات کرنے لگا تھا .۔۔
جب مجھے ہارٹ اٹیک ہوا تو ، مجھ سے زیادہ پریشان تھا ،میرے لیے دوائیں بناتا تھا ،مشورے دیتا تھا ،اورسمجھاتا رہتا تھا کہ سگریٹ چھوڑ دے ۔ یہ ہارٹ اٹیک کا سبب ہے ۔۔۔
مجھ سے ملنا کم تو ہو گیا تھا ،ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ میں اکثر اس کے کلینک پہ چلا جاتا ۔۔۔۔ اور گپیں مارا کرتا تھا۔۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ یہ ملاقاتیں کم ہوتی چلی گئیں ،
میں جن دنوں لائنز ایریا میں رہ رہا تھا ( روزنامہ امت کی ملازمت کے دوران ) تو ان نو برسوں میں تو ہر دوسرے تیسرے دن اس سے ملاقات ہو جایا کرتی تھی ۔۔۔۔ لیکن جب میں ڈراما رائٹنگ کی طرف آیا تو کچھ ہی عرصہ بعد گلستان جوہر شفٹ ہو گیا،اور یوں ملاقاتیں کم سے کم ہو تی چلی گئیں ۔۔۔۔۔ البتہ سال میں دو ملاقاتیں ضرور ہونے لگیں ،ایک ملاقات ایکسپو پر ۔۔۔اور ایک ملاقات محمود شام جی کی سال گرہ پر ۔
لیکن اس سال وہ نہیں آیا ۔۔
ہم نیپا پہ کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے ۔علی حسن ساجد نے کہا کہ بس ظفر آجائے تو نکلیں گے ۔
سب گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ،مگر ظفر فون نہیں اٹھا رہا تھا ،حالاں کہ کہہ چکا تھا کہ میں گھر سے نکل گیا ہوں ،راستے میں ہوں ۔
پھر کچھ دیر بعد الطاف قادری پاریکھ کے فون پر اس کی کال آئی کہ میں نہیں آسکوں کا ،میری بیوی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔
یہ پانچ فروری کی بات ہے ۔۔ اس وقت بھی احساس نہیں ہوا کہ اب ظفر سے کبھی ملاقات نہیں ہو گی ۔۔۔۔
کل اچانک ایک اداکار دوست ’’ باواجی ‘‘ نے ان باکس میسج کیا کہ اپنا فون نمبر دیجیے ۔۔۔۔ میں ابھی فون نمبر لکھ ہی رہا تھا کہ اس کا وائس میسج آیا جس میں بتایا گیا کہ آپ کے ایک دوست ہیں ڈاکٹر ظفر ۔۔۔ میں ان کے بچپن کا دوست ہوں ۔۔۔ ان کا انتقال ہو گیا ہے ۔۔۔۔ آپ کا تذکرہ اکثر ہوتا تھا باتوں میں تو میں آپ کو اطلاع دے رہا ہوں ۔۔۔۔ آپ دیگر دوستوں کو اطلاع کردیں کہ ہمارے پاس کسی کا نمبر نہیں ہے ۔۔۔ اور کل ان کی تدفین ہے ۔‘
میں سکتے میں آگیا ۔مجھے یقین ہی نہیں آیا ۔۔۔۔ فورا باواجی کو فون کیا تو انہوں نے تصدیق کی ،۔۔۔۔ میں اب بھی یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ مذاق کر رہے ہیں ۔۔۔ بھلا ان کا ظفر احمد خان سے کیا تعلق ظفر نے کبھی مجھ سے باواجی کا تذکرہ نہیں کیا ۔۔ خیر، انہوں نے ظفر کے بہنوئی کا نمبر دیا ،میں نے انہیں فون کر کے تصدیق کے بعد علی حسن ساجد کو بتایا ارو کئی دوستوں کو فون کیا ،پوسٹ لگادی کہ باقی سب کی نظروں سے خبر گزر جائے ۔
میں رات بھر سو نہیں سکا ۔۔۔۔۔ برسوں کی رفاقت اور دوستی کے لمحے آنکھوں کے سامنے گھومتے رہے ۔
بنوری ٹاؤن کی مسجد میں ظفر کی نماز جنازہ تھی ،میں سب سے پہلے پہنچ گیا کہ مجھے سوا ایک بجے کا وقت بتایا گیا تھا ۔۔ مگر نماز دو بجے ہوئی ،ایسے میں میرے فورا بعد شوکت علی مظفر آگیا ۔۔۔۔۔ اس کی ظفر سے زندگی میں پہلی ملاقات زندگی میں ہوئی اور دوسری ملاقات ا س کی تدفین کے موقع پر ۔۔۔۔۔ پھر جمال صدیقی ،الطاف قادری پاریکھ ،،مصطفی ہاشمی ،فرخ اظہار ،محبوب الہی مخمور ،جعفر خون پوریہ ( جس سے ۱۹۹۰کے بعد آج ملاقات ہوئی )
اور ۔۔ یوں باتوں باتوں میں میرے منھ سے نکلا کہ یار۔ پچھلے سال فروری میں آخری ملاقات ہوئی تھی ظفر سے ۔ فیس بک پہ ہر ہفتے ہی بات ہو جایا کرتی تھی ،اس لیے ملنے کا خیال ہی نہیں رہا ۔۔۔۔ ہمیں فیس بک پر ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں ایک آدھ بار ان سے ضرور مل لینا چاہینے ۔۔۔۔ جن سے ملتے رہنا ضروری ہو ۔
میں نے کہا کہ :
’’ اب بہت سے دوستوں سے کسی کے جنازے پہ ملاقات ہوتی ہے ۔۔۔ کیوں نہ ہم کسی اڈے پہ ہفتے میں ایک آدھ بارزندگی میں مل لیا کریں ۔‘‘
شوکت نے تائید کی اور کہا : ضرور ۔۔۔۔۔‘‘
یوں طے پایا کہ اب ہم اپنے دوستوں سے کسی ایک پوائنٹ پر ہفتے میں ایک آدھ بار ملنے کے لیے دستیاب ہوا کریں گے ۔ جس کے پاس وقت ہو گا ،آکر مل لیا کرے گا ۔۔کہ جانے کون کب اچانک بہت آگے چلاجائے اور ملنے کی کسک رہ جائے دل میں ۔ اس اڈے کا پتا جلد ہی سب دوستوں کو بتادیا جائے گا ۔ اور کس دن ملا کریں گے وہ بھی ۔
مجھے بارہ سال پہلےہارٹ اٹیک کے بعد سگریٹ چھوڑنے کا مشورہ دینے والا ،خود ہارٹ اٹیک سے چلا گیا ۔۔۔
وہ تو سگریٹ بھی نہیں پیتا تھا ۔۔۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *