• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • استنبول کا ایشائی حصّہ ’اسکدار اور کیڈی کوئے۔۔۔سفر نامہ استنبول/سلمٰی اعوان۔قسط16

استنبول کا ایشائی حصّہ ’اسکدار اور کیڈی کوئے۔۔۔سفر نامہ استنبول/سلمٰی اعوان۔قسط16

اُسکداراستنبول کے ایشیائی حصّے کا سب سے بڑا ضلع ہے تو واقعی اس کے خدوخال میں بھی مشرقیت کے رچاؤ کا غلبہ ہے۔ایمی نو نوسے فیری کے ذریعے اسکدار پہنچنے میں کتنا وقت لگا ہوگا۔زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ کا۔فیری پانیوں کو چیرتی ہوئی اتنی تیز رفتاری سے آگے بڑھتی گئی کہ پانیوں میں کھڑا لینڈورس Leandrosٹاور کے بارے جنوبی ایشیا کے چپٹی ناکوں اور تکونی آنکھوں والے سیاحوں کے ٹولے کو انگریزی میں بتاتے گائیڈ کا بیان بھی ادھورا رہ گیا۔ ہم نے کف افسوس ملتے ہوئے سوچا ’’ہائے یہ تو بڑی رومانی سی داستان ہے۔‘‘
مزے کی بات کہ سب نے جیٹی پر آکر اُسے پھر دائرے میں لے لیا اور بیان جاری رکھنے کو کہا۔ سوچا آخر حرج کیا ہے کہ بہتی گنگا میں دو چار ڈبکیاں ہم بھی لگالیں۔سو ساتھ چپکے رہے۔
تینوں کہانیاں بڑی روایتی سی تھیں۔اس کے باوجود بیان میں جو زور شور اور اُتار چڑھاؤ تھا اُس نے بڑا مزہ دیا۔ بازنطینی شہنشاہ کی لاڈلی بیٹی جس کے بارے پشین گوئی تھی کہ وہ زہریلا سیب کھانے سے مر جائے گی۔سالوں رعنا سی شہزادی کو یہاں قید میں رکھا گیا۔چڑیل سیبوں کے ساتھ ایک دن نمودار ہوئی۔ زہریلا سیب لڑکی کو دیا اور وہ کھانے سے مر گئی۔
دوسری کہانی سانپ کے ڈسنے سے متعلق تھی۔شہزادی کا دل انگو ر کھانے کو چاہتا تھا۔انگوروں کی پیٹی لائی گئی جس میں کنڈلی مارے سانپ نے کام کر دکھایا۔
تیسری ہماری سوہنی مہینوال جیسی تھی مگر درمیان میں مشرقی محبوبہ کی دلیری اور جی داری ہے۔ جو اسے حاصل ہے کہ سوہنی محبوب سے ملنے جاتی تھی لہروں کو چیرتے پھاڑتے۔جبکہ حرا Hera جو ایک راہبہ تھی اُس سے ملنے اُس کا محبوب لیونڈورس Leandrosلہروں کا سینہ چیرتے ہوئے آتا تھا۔ایک رات جب سمندر میں طوفان تھا وہ اُس روشنی کو دیکھ نہ سکا جو اُسکی محبوبہ کنارے پر لئیے کھڑی تھی۔طوفان بڑا زبردست تھا۔ مقابلہ نہ کرسکا اور ڈوب گیا۔

ہاں البتہ تاریخ یہ کہتی ہے کہ ایتنھزAthensاور اسپارٹا کے درمیان جنگ ہوئی۔ال کلبیدسAlkibadesنے حکم دیا کہ یہاں قلعہ بنایا جائے۔بادشاہوں کو ریس کرنے کی تو بُری عادت ہوتی ہے نا۔جب سلطان محمد دوم نے قسطنطیہ فتح کیا تو اس نے بھی اِس ڈرسے کہ وہ کہیں پیچھے نہ رہ جائے۔ایک اور قلعے اور توپوں سے اسے بھی سجا لیا۔اِس سے لائٹ ہاؤس کا کام بھی لیا گیا۔وقتاً فوقتاً یہ جیل خانہ بھی بنا۔اسپتال جیسی خدمات بھی سرانجام دیں اور اب کنٹرول اسٹیشن کا کام کررہا ہے۔واقعی کیسی مزے کی داستان ہے اس کی۔
اب دائیں بائیں دیکھتے ہوئے جونہی ذرا آگے بڑھے ۔پہلا ٹکراؤ ایک پاکستانی لڑکے سے ہوا۔داستان غم بڑی غمناک سی تھی کہ دو سال ہوئے بے چارے کو استنبول سے آگے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔کِسی سٹور پر ملازم تھا۔رات کو سونے کی سہولت تھی۔مالک بھی اچھے تھے۔روٹی پانی کا خیال بھی کرلیتے تھے۔
لڑکے کا نام آصف تھا۔گو گریجوایٹ تھا مگر بہت ذہین اور سمجھدار لگتا تھا۔
اُسے اُسکدارسے واقفیت ہی نہ تھی بلکہ اسکی تاریخ سے بھی خاصا واقف تھا۔لوگوں کے بارے میں بڑا دوٹوک تھا۔ اچھے محبت والے لوگ ہیں۔
راہولی کے کسی پس ماندہ سے گاؤں کے لڑکے کے ان کی مسلمانیت پر تحفظات ضرور تھے۔لڑکے لڑکیوں کا راتوں کو شرابیں پینے اور موج مستی والے کام بھی اس کے نزدیک کچھ اتنے پسندیدہ نہیں تھے۔مگر تقابلی جائزوں میں اُسکی ذہنی بلوغت کا پتہ چلتا تھا کہ پاکستانی دیہاتی علاقوں میں مذہب کی آڑ اور تاریکیوں میں جو تماشے ہوتے ہیں وہ اُن سے آگاہ تھا۔اپنے معاشرے کی منافقتوں پر بڑا شاکی تھا۔ہم لوگوں نے مذہب کو بھی تجارت بنا لیا ہے۔یہاں کم از کم یہ چیز تو نہیں۔ اُسے اُنکا کاموں کو جلدی جلدی کرنا ،کاروباری اور ذاتی معاملا ت میں ایماندار ہونا بہت پسند تھا۔ہمارے جیسے نہیں ہیں یہ چھلّے ، سُستی کی پنڈیں اور بے ایمان۔

رمضان کی رونقوں کا اُس نے خصوصی ذکر کیا۔تراویح اور ستائیسویں کی رات کو مسجدوں میں بڑا رش ہوتا ہے۔ہماری طرح مولوی لمبے لمبے خطبے نہیں دیتے۔مختصر نماز اور مختصر خطبہ۔مولوی لوگ پڑھے لکھے ، صاحب علم، داڑھی مونچھ سے تقریباً بے نیاز ،پینٹ کوٹوں میں ملبوس بڑے خوبصورت لگتے ہیں۔
ہم نے اُسکدار میں ہوٹلوں کی بابت جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ یہاں معقول قسم کا کمرہ تقریباً نصف سے بھی کم قیمت پر دستیاب ہے جو اس وقت ہم سلطان احمد ایریا میں دے رہے تھے۔اب افسوس شروع ہوگیا کہ یہاں کیوں نہ آگئے؟میری چچ چچ پر سیما نے کہا۔
’’ارے ناشکری عورت بس بھی کر۔شہر کے مرکز میں بیٹھے ہیں۔یہاں پانیوں پرہی تیرتے رہنا تھا۔جتنی بچت ہوتی وہ لانچوں ،فیریوں کے چرنوں میں چڑھ جانی تھی۔‘‘
بس تو ناشکر ی عورت نے شُکر کیا۔
آصف نے محبت بھرا اصرار کیا کہ اُسے خدمت کا موقع دیں۔اب بہتیرا ٹال مٹول کی۔مگر وہ تو کچھ نہ کچھ کھلانے پر تلا ہوا تھا۔گھسیٹ کر ایک دوکان پر لے جانے کی کوشش ہم نے ناکام بنا دی۔منت ترلوں سے گویا ہم نے بھی قسم کھالی تھی کہ بیچارے پردیسی کا ٹکا نہیں خرچوانا۔ہاں البتہ قہوہ پینے پر آمادگی کا اظہار کردیا تھا۔
قہوہ خانہ بڑا روایتی تھا۔پیڑھے ٹائپ بیٹھنے کی کرسیاں آرام دہ تھیں۔چسکیاں لے لے کر قہوہ پینا اور اردگرد کے منظروں سے آنکھیں سیکنا بڑے مزے کا شغل تھا۔ لڑکے بالے حقّے اُٹھائے گاہکوں کے آگے رکھ رہے تھے۔بوٹ پالش کرنے والا ایک چھوکرہ ہمارے پاس آکر ہمارے پیروں کودیکھنے لگا۔کینوس کے جوتوں پر کیا پالش کرواتے۔ بل فوراً ادا کردیا۔لڑکے کا اصرار اور ہماری مزاحمت کو سروس دینے والے نے بڑی دلچسپی سے ہنستے ہوئے دیکھا اور کچھ کہا بھی۔ہمارے پلّے کیا پڑنا تھا۔آصف نے ہی بتایا کہ کہتا ہے۔آپ لوگ جھگڑا مت کریں۔دونوں پیسے مجھے دے دیں۔
آگے بڑھے تو سیل لگی ہوئی تھی۔بڑوں اور بچوں کے ریڈی میڈ کپڑوں،سوئٹروں،جیکٹوں ،سکارف،چمڑے کے بیگ،نقلی جیولری۔اب اللہ دے اور بندہ لے۔سیما تو یوں لپکی اور جھپٹی کہ مانو جیسے مال مفت تقسیم ہورہا ہو۔میں نے بظاہر رجی پُجی عورت کی طرح سب پر نگاہ ڈالی۔قیمتوں کا پاکستانی روپے سے جوڑ توڑ کیا اور دل ہی دل میں لعنت بھیجتے ہوئے ایک جرابوں کا جوڑا ایک لیرے کا ضرور اٹھا لیا کہ چلو انگلی کٹا کر شہیدوں میں تو شامل ہوجاؤں۔اُسکدار کی کوئی تو سوغات ہو۔
یہ سیما کی خواہش تھی کہ سلیمان ذی شان اور حورم کی لاڈلی بیٹی مہرماہ کی مسجد کی زیارت ضرور کرنی ہے اور نفل بھی پڑھنے ہیں۔یہ چاند چہرہ اور لاڈو مہرماہ رستم پاشا کی بڑی دلاری بیوی تھی۔مسجد سنان کے ہاتھوں کا شاہکار ہے۔اس کے اندر ہم داخل ہی ہوئے تھے کہ ہمارے پیچھے خواتین کا ایک بڑا سا ریوڑ ہاتھوں میں خریدوفروخت کے تھیلے اٹھائے ہنستے مسکراتے داخل ہوا۔ان میں اگر حجاب اور عبایا والی خواتین تھیں تو وہیں ننگی ٹانگوں اور اونچے سکرٹوں میں ملبوس نوجوان لڑکیا ں بھی تھیں۔میں نے قدرے حیرت سے اِس منظر کو دیکھا اور ذرا ایک جانب ہوئی کہ دیکھوں تو سہی مسجد کے اندر ان کا داخلہ کیسے ہوتا ہے؟
لڑکیوں نے کمال اطمینان سے اپنے تھیلوں میں سے ایک کُھلا کپڑا نکالا۔ٹانگوں پر لپیٹا ۔سروں پر رومال ڈالے مزے سے اپنے مخصوص حصّے میں چلی گئیں۔تعاقب میں ہم بھی آگے بڑھے ۔روشن خیالی،رواداری اور برداشت کا یہ بڑا پراثر سا منظر تھا۔حجاب والیوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا ان کے اس لباس پر اور نہ لڑکیوں کو کوئی شرمندگی محسوس ہوئی تھی۔اندر بھی ایسے ہی منظر تھے۔ ٹانگوں کو کور کرنے والیوں نے اگر فرض نماز پڑھی تو دو تین ویسے ہی بیٹھی بیج کھاتی رہیں۔کِسی کو کِسی پر اعتراض نہیں تھا۔بات چیت کی کوشش تو بہتری کی مگر سب انگریزی سے نابلد تھیں۔
آخر یہ جنوبی ایشیا کے عالم لوگ اتنے متعصب اور تنگ نظر کیوں ہیں؟مسجدوں میں خواتین کو گھسنے ہی نہیں دیتے۔دُردُر جیسا پوسٹر چہرے پر سجا کر دفع دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سری لنکا کے شہر انورادھا پور میں میرے ساتھ جو ہوا وہ تو کبھی بھولتا ہی نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تو چوتھا حصّہ خواتین کیلئے مخصوص ہے ۔ہمارے ہاں چوتھا چھوڑ پانچواں تو ہونا چاہیے۔آصف باہر ہمارے انتظار میں بیٹھا تھا۔
ہمارے یہ پُوچھنے پر کہ یہاں کی کوئی خاص چیزکوئی سوغات یا کوئی یادگار کیا چیز دیکھنے والی ہے۔اُس نے ہنستے ہوئے کہا۔
یہاں ختنے کی رسم بہت مزے کی ہوتی ہے۔دیہاتوں میں تو بہت دھوم دھام والا سماں ہوتا ہے مگر شہروں میں بھی اس کا بے حد اہتمام ہے۔
چھوٹا بچہ جسے زرق برق کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔چمکدار کپڑے کی ٹوپی، پشت پر لہراتا کڑھائی سے مزین ہڈ اور ہمارے ہاں کی جیکٹوں جیسی واسکٹیں جو شوخ چمکدار طلا کشی کے کام سے مزین ہوتی ہیں۔سجے سنورے گھوڑے پر بٹھا کر سواری کروائی جاتی ہے۔بڑا دھوم دھڑکا ہوتا ہے۔اگر بچہ بہت ہی چھوٹا ہو تو کوئی اُسکا چاچا ،ماما یا باپ گود میں لے کر گھوڑے پر بیٹھتا ہے۔ کھانے بھی پکتے ہیں اور رشتہ دار بھی مدعو ہوتے ہیں اور اجنبی بھی چاہیں تو شوق سے شامل ہوجائیں۔
دور دراز کے دیہاتوں میں کشتی بھی بہت پسند کی جاتی ہے۔میرے مالکوں کا آبائی گھر انقرہ کی طرف ہے۔دونوں میٹھی عیدوں پر وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔کشتی کے منظر ہمارے ہاں جیسے ہی تھے۔ڈھول کا بجنا،جسموں پر تیل کا ملنا ،لوگوں کے جمگٹھے شور، تالیاں اورسیٹیاں بہت مزہ آتا ہے۔مجھے تو اپنا وطن رہ رہ کر یاد آیا تھا۔
آصف بڑا جذباتی سا ہوگیا تھا۔ہم نے بھی اُس کی ہوم سکنس کو محسوس کیا۔دلداری کی۔اچھے دنوں کی نوید سنائی۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ اِس جذباتی کیفیت سے نکلا تو بولا۔دوسرے یہاں خاص طور پر اُسکدار میں درویشوں کا ایک ناچ ہوتا ہے۔
میں نے بات کاٹی وہ مولانا رومی کے درویشوں والا۔
’’نہیں نہیں۔یہ ایک اور طرح کا ہے ۔اس کے درویش اونچے اونچے روتے اور شور مچاتے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے اُن پر پاگل پن کا دورہ پڑگیا ہو۔ان کے چہروں کو بھیڑ کی کھالوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ان کا قائد شیخ پھر ان کے جسموں کے اوپر سے گزرتا ہے۔ یہ پیروں کی برکت کا عمل ہے۔
درویشوں کے ناچ کا وقت رات کو تھا اور ختنے کی رسم دیکھنے کیلئے ہمارے بچپن کے زمانوں کے خسروں جیسا صبر اور گلی گلی ،کوچہ کوچہ خواری کی ضرورت تھی جو وہ کرتے تھے یہ جاننے کیلئے کہ منڈا کِس گھر ہوا ہے؟
نہ بابا نہ جوانی ہوتی تو نکل پڑتے اورڈھونڈلیتے کہ ختنے کی رسم کِس گھر میں منائی جارہی ہے۔
ایک دلچسپ اور مزے کی بات اُس سے اور بھی سُنی کہ جب کبھی حکومت یا ضلعی انتظامیہ کے خلاف کوئی احتجاج کرنا ہو تو گھروں میں برتن بجائے جاتے ہیں۔
ارے ہم دونوں ہنس پڑی۔بڑی مزے کی بات ہے۔
اس نے قبرستانوں کی بھی بڑی تعریف کی۔بلکہ ایک میں تو لے بھی گیا۔یہ قریب تھا۔ وہاں تو فنکاری کے نمونے تھے۔استنبول کے مسلمان اسکدار کے قبرستانوں میں دفن ہونا پسند کرتے تھے۔سرو کے درختوں کی ایک طرح باڑھوں میں،گلاب کے پُھولوں میں آرام کرتے بہت بڑے لوگ ،چھوٹے لوگ سب جائے عبرت ہوئے پڑے ہیں۔کِسی کو فرصت ہو ،اس کے پاس وقت ہو تو وہ ان کے درمیان گھوم پھر کر کتبوں پر لکھے ان کے نام پڑھے اور سرہانے ٹنگی پگڑیوں سے ان کے عہدوں اور مرتبے جان لے۔چند لمحوں کیلئے رُک کر انگریزی کی وہ لازوال نظم اگراُسے یاد ہے دہرائے۔
old and young and rich and poor
we all end up under this green floor
some of us come and lay some flowers
some even lay under tall marble towers
Names on the stones nearly worn away
what a sad end to a perfect day.
نہیں تو دنیا کی بے ثباتی پر نم گیر آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں سے دو لفظ کہہ کر باہر نکلے اور دنیا کی بھیڑ میں کھوجائے۔
اسکدار تاریخ اس کی بھی بہت پرانی ہے۔زمانوں پہلے عیسائیوں کی آبادی تھی۔رومن اور بازنطینی ادوار میں یہ شہر کی حدود سے باہر کا علاقہ تھا۔ایک طرح سے اسے فوجی چھاؤنی کہہ سکتے ہیں۔اس کا نام بھی سکوتری اسی بنیاد پر پڑا تھا۔تھوڑے بہت ردّوبدل سے اسکدار ہوگیا۔یہاں بہت سے محلات ہیں۔آصف کی خواہش پر بھی ہم نے دیکھنے سے انکار کیا۔مسجدیں تو قدم قدم پر نظر آتی تھیں دراصل اتنی مسجدیں دیکھ چکے تھے اور ان کے اندر کے حُسن اور فنکاری کی بہتی بہتات سے گلے گلے تک سیراب ہوچکے تھے۔
اتنے بڑے اُسکدار کی سیر کا بہترین اور سستا طریقہ جو ہمارے ذہن میں آیا وہ بس پر چڑھ جانے کا تھا۔اور ہم چڑھ گئے۔نہ لوگوں کو انگریزی آئے اور نہ ٹکٹ کاٹنے والوں کو۔جو میں نے لمبے لمبے اشارے اور تمثیل کاری کی وہ بھی لاجواب تھی۔ایک لڑکا کچھ کچھ سمجھا۔کہیں نہیں اُترنا۔کیڈی کوئے جانا ہے سیدھا ۔وہاں بھی سیر کرنی ہے۔اب یاد نہیں کتنے لیروں کا ٹکٹ خریدا۔مگر مزہ آیا۔حُسن اور خوبصورتی دیکھی۔
منظروں کی ایک لکن میٹی تھی جو ہمارے ساتھ کھیل رہی تھی۔نیلگوں بہتے پانیوں کے ساتھ ساتھ ایک بہاؤ سبزے کا بھی تھا۔مزے کی بات یہاں کے سدا بہار دیودار ہمارے ہاں کی طرح دراز قامت نہیں۔پستہ قامت ہیں۔ہمارے تو ماشاء اللہ سے لگتا ہے جیسے اللہ میاں سے رازو نیاز کرنے کیلئے سروں کو آسمان میں گھسیڑ رہے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال چیڑ کے پیڑوں کا ہے۔ جن کے درمیان سُرخ چھتوں والے گھر،سفید گنبدوں اور بلند مینار والی مسجد یں لشکارے سی مارتیں۔سہ منزلہ ،چہار منزلہ فلیٹوں کے سلسلوں کا بھی بڑا پھیلاؤ تھا۔سلطانوں کے سفید محلات کی اپنی شان تھی۔صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں متوسط آبادیوں میں اڑتے پھرتے آوارہ کاغذوں کے ٹکڑے ،شاپر اور گند مند بھی نظرآئے۔
اب بس بھوک سے بُرا حال تھا۔ جگہ جگہ کافی شاپ اور قہوے کے خوبصورت کھوکھے تھے۔واضح رہے کہ یہ بڑے ماڈرن کھوکھے ہیں ہماری کڑک چائے جیسے نہیں۔
بسکٹ کھائے ۔قہوہ پیا۔تازہ دم ہوکر تھوڑی سی سیر کی۔ایک کھلے میدان میں بچوں کو فٹ بال کھیلتے دیکھا۔سُرخ و سفید رنگوں والے بچے کِس والہانہ جوش و خروش سے کھیلنے میں مگن تھے۔فٹ بال ترکی کا قومی کھیل ہے۔ یہاں بہت سبزہ تھا ۔کیڈی کوئے میں چوبی مکان بڑے منفرد سے دکھائی دئیے۔حیدر پاشا کا ریلوے اسٹیشن دیکھا مگر دور سے۔پانیوں میں کھڑی ایک عظیم الشان سی عمارت جسکا طرز تعمیر کچھ کچھ گو تھک سٹائل جیسا نظرآتا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *