“یونان کا زوال ہو رہا ہے کیونکہ لفظ اپنے معنی کھو رہے ہیں -” (سقراط 469- 399 ق م ) میں آج سے تین سال پہلے ایک ایسے نوجوان سے ملا جو لوگوں کو اپنی “لفاظی” کے جال میں پھنسا← مزید پڑھیے
میں نے شام کی ٹرین کی ٹکٹ لی اور ریل میں سوار ہوا (کہ سب ہی پرندے شام کو گھر لوٹتے ہیں) جب انجن مین نے وِسل پر ہاتھ رکھا، میں اپنا سفری بیگ سیٹوں کے نیچے دبا رہا تھا← مزید پڑھیے
(تبدیلیوں کی کتاب ) اندازاً 1500 قبل مسیح یی چنگ کو انگریزی میں I Ching لکھا جاتا ہے جس کا مطلب تغیرات یا تبدیلیوں کی کتاب ہے۔ یہ کتاب خود چین جتنی ہی قدیم ہے۔ کتاب کے مختلف متن بتاتے← مزید پڑھیے
جب معاشرے کے مسیحا، سماج سدھار کی بجائے سماج بگاڑ کا باعث بننے لگیں، جب اپنے منتخب کردہ نمائندے ایوانوں میں بیٹھ کر اپنے ہی لوگوں کے حقوق غصب کرنے لگیں، جب محافظ ہی ڈاکہ زنی پر اتر آئیں اور← مزید پڑھیے
اختر رضا سلیمی صاحب کے ناول “جندر” سے واقفیت عامر خاکوانی صاحب کے کالم سے ہوئی۔ پھر کچھ وجوہات کی بنا پر اس وقت ناول تو نہ خرید سکا مگر پختہ ارادہ تھا کہ اس کو ضرور پڑھوں گا۔ پھر← مزید پڑھیے
“Nineteen Eighty-Four ” جارج آرویل جارج آرویل کی ضد یوٹوپیا ، ( جہاں ہر چیز خوفناک ہے ) ” انیس سو چوراسی کی منصوبہ بندی 1943ء میں یورپ کا آخری آدمی کے زیر عنوان ہوئی ۔ چنانچہ یہ اس کی← مزید پڑھیے
اقتباسات سے ابتدا کرتے ہیں : “جس عورت کو کبھی حمل نہ ہوا ہو وہ اولاد کے لئے اتنا نہیں روتی ہے جتنا وہ جس کا حمل ضائع ہو گیا ہو!” “دنیا میں ہر کام کی فیس ہوتی ہے کام← مزید پڑھیے
ساٹھ کی دہائی میں جب فروخت ہونیوالی کتابوں کے اعداد و شمار جمع کیے گئے تو اک سنسنی خیز نتیجہ سامنے آیا تھا۔ڈی ایچ لارنس کا ناول ”Leady cheterly lovers“ بائیبل سے زیادہ خریدا گیا تھا۔جس طرح مذہبی،سماجی،خاندانی اور← مزید پڑھیے
حوزے ساراماگو پرتگالی ادیب تھے۔ جن کو ۱۹۹۸ میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ نوبیل انعام کے بعد بھی ساراماگو نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ناول لکھا جس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوا۔← مزید پڑھیے
سیمون دی بووار کی “دی سیکنڈ سیکس” مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب فیمینزم اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب میں دی بووار نے خواتین کی سماجی حیثیت، تاریخ، اور ان کے ساتھ ہونے← مزید پڑھیے
معروف صحافی معصوم مرادآبادی کے سفرِ حج کی روداد ’ جہاں نور ہی نور تھا ‘ کے مطالعہ نے مجھے تین طرح سے متاثر کیا ، ایک تو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت← مزید پڑھیے
تحریر ہماری ایکٹیوٹی ہے، یا پھر کتھارسس یا تخلیق، کبھی ایسا سوچا ہے کہ ایک ہی تحریر دو مختلف الخیال افراد یا دو افراد کی مجموعی سوچ کی تخلیق ہو؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ اک ایسی تحریر لکھی جائے،← مزید پڑھیے
اکثر ماں باپ اور بزرگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہماری نئی جنریشن ہماری بات نہیں سمجھتی یا بات نہیں سنتی، اس مسئلے کو ہم “جنریشن گیپ” کہہ کر سر سے اُتار دیتے ہیں۔ اسی جنریشن گیپ کے بارے میں← مزید پڑھیے
“وقت کی قید میں” از قلم “خالد فتح محمد”، نو افسانوں پر مشتمل مختصر کتاب ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہانیاں قاری پر جو تاثرات قائم کرتی ہیں اُن میں سر فہرست انسانی نفسیات، نفسانی خواہشات کی پیچیدگیاں، معاشرتی و← مزید پڑھیے
“Critique of Pure Reason ” کانٹ کے مداح آرتھر شو پنہاور نے کہا تھا ، کسی عظیم ذہن کی تخلیق میں غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کر دینا بہت آسان لیکن اس کی قدرو قیمت کے بارے میں وضاحت کرنا← مزید پڑھیے
جب میں نے یہ کتاب پڑھنی شروع کی تب میں بیس صفحات کے بعد قصداً سو گیا، میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں سے ایک لڑکی بُنی اور اس سے کہا : “میں زندگی میں پہلی بار ایک ایسی کتاب← مزید پڑھیے
حامد یزدانی صاحب شاعر تو اچھے ہیں ہی، کچھ عرصے سے محفلوں میں ان کی وہ سنجیدہ تحریریں بھی سننے کو مل رہی ہیں جن میں نمکین ذائقہ جا بجا ہوتا ہے۔ یہ تحریریں ان کی سنجیدگی کے پیچھے چھپی← مزید پڑھیے
لویا تھن “Leviathan ” تھامس ہوبز (ایک مختصر تعارف)انگلش سیاسی اور اخلاقی ) فلسفے کے بانی تھامس ہوبز (1588ء تا 1679ء) نے تقریباً ہر موضوع پر قلم اٹھایا۔ نا صرف فلسفہ ، بلکہ مذہب ، ریاضی ، منطق ، نفسیات،← مزید پڑھیے
خالد جاوید صاحب کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں پروفیسر ہیں۔ موت کی کتاب ان کا مختصر ناول ہے جس کو پاکستان میں سٹی بک پوائنٹ نے شائع کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک← مزید پڑھیے
مارک مینسن کا تعلق امریکہ سے ہے ان کی کتاب The Subtle art of not giving a f*ck نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتابوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس کتاب کا موضوع Behavioral Science ہے۔ کتاب پر گفتگو← مزید پڑھیے