آج کا کالم کچھ کتابوں سے سجاؤں گا’ایسی کتابیں جو رواں ماہ ڈاک سے موصو ل ہوئیں ۔آج صرف تین کتابوں کا ذکر کروں گا’ایک سنجیدہ شعری مجموعہ اور دو مزاح نامے۔
← مزید پڑھیے
انسان دنیا کی مخلوقات کے لیے اجنبی ہے کیونکہ یہ کسی اور سیارے سے آیا ہے ۔یہ اجنبی جب پہلی بار اس اجنبی سرزمین پر آسمان کی کھڑکی سے نیچے پھینکا گیا تو اسے بقول اقبال کہا گیا : کھول← مزید پڑھیے
چند دِن اُدھر کا ذکر ہے، ہم نے لاہور کے سماگ سے اپنی بیگم کے سہاگ کو مردانہ وارکھینچ دھروکرلا جامشورو کی ریتلی ہوا میں پٹخا ہی تھا ، سانسیں ابھی تک بے قابو اور سماعتیں ہنوز بے ترتیب ہی← مزید پڑھیے
‘‘مولاچھ’’-ایک خوبصورت پہاڑ ی ناولٹ۔۔قمر رحیم خان/انسان نے کم و بیش تین ساڑھے تین ہزار قبل مسیح میں مٹی سے اعدادو شمارکی باقاعدہ شکلیں بنانے کا آغاز کیا۔پھر ان شکلوں کو مٹی کی تختیوں پر منتقل کیااورایک وقت ایسا آیا کہ ان شکلوں نے حروف تہجی کی معراج حاصل کر لی۔← مزید پڑھیے
" عورت ہو ں نا۔۔۔" چند ما ہ قبل یہ کتا ب ملی ، لکھا تھا ‘‘ پیاری رابعہ کے لئے،، ۔ دیکھ کر ایک لمحہ کو خاموشی میرے اندر طو اف کر نے لگی ۔ خو د کلامی سی ہو ئی‘‘ عارفہ سے مجھے کم از کم یہ امید نہیں تھی۔ جس عارفہ کو میں جا نتی تھی ، وہ تو ایسی نہیں تھی۔ ← مزید پڑھیے
ریگل صدر کراچی میں پرانی کتابوں کا بازار جو ہر اتوار کو سجتا ہے وہاں ہم جیسے کچھ کم علم بھی قلیل رقم میں علم کی پیاس بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ فُٹ پاتھی← مزید پڑھیے
جو ہم سوچتے ہیں،یا لکھتے ہیں، وہ انہی خیالوں کی کاپی پیسٹنگ ہے جو اس سے پہلے سوچے جاچکے ہیں ۔ المیے اور خوشیاں ہر خطے کے سماجی رحجان کی وجہ سے مختلف تو ہو سکتے ہیں،مگر لکھنے والوں کے← مزید پڑھیے
ایامیٰ نذیر احمد کا چھٹا ناول ہے ۔یہ ناول 1891ء میں منظر عام پر آیا ، اس ناول میں انھوں نے ایک شرعی مسئلےسے متعلق عدم تعمیل کی بنِا پر پیدا شُدہ سماجی تشدد کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول← مزید پڑھیے
بیگم نصرت بھٹو سے بی بی شہید کو کربلا ورثے میں ملی تھی اور جب اس کربلا تک جانے والے امام مظلوم کے لشکر کا بچھڑا سپاہی “ذوالفقار علی ” راولپنڈی کے کوفے میں سولی پہ چڑھا دیا گیا جو← مزید پڑھیے
بینائی کے بین۔۔آغرؔ ندیم سحر/ احمد حماد نے جس تیزی سے ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنائی ہے‘یہ اللہ کی عطا ہے۔شاعری ہو یا میڈیائی دنیا‘دونوں شعبوں میں کامیابیوں کی ایک طویل فہرست اپنے نام کی‘ایک زمانہ احمد حماد کے علم و فن کا معترف ہے← مزید پڑھیے
ایک غیر معمولی ناول کیا ہوتا ہے ؟شاید ایک ایسا ناول جو سب زوائد کی نفی کرتا ہو۔ جسے پہلے کہا اور لکھا جا چکا ہے،یا جس خاص اسلوب میں لکھا اور کہا جا چکا ہے، وہ نئے ناول نگار← مزید پڑھیے
ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی امسال تین کتب زیورِ طبع سے آراستہ ہوئی ہیں۔ نوے برس کی عمر میں اگر انسان کا تخلیقی وفور اس قدر توانا ، بھرپور و متنوع ہو تو انسان کو اپنی خوش نصیبی پر نازاں← مزید پڑھیے
ایک انتہائی باکمال قلم کار شہزاد روشن گیلانی اور ان کے ساتھی نوید اسلم ملک نے نہایت خوبصورت کتاب رقم کی ہے اور قرطاس پر لے آئے ہیں، جس میں ملک کے 30 ایسے کامیاب لوگوں کی داستان زیست ہے← مزید پڑھیے
ڈاکخانے والوں نے نیا طریقہ ڈھونڈھ لیا ہے،جس پارسل پہ فون نمبر لکھا ہو اسے کال کرکے کہتے ہیں کہ ” آپ کا گھر نہیں مل رہا ،پوسٹ آفس آکر کتاب لے جائیں۔” جس وقت کال آئی سارے بچے کالج← مزید پڑھیے
ہندو کش کے دامن میں۔۔پروفیسر محمد ایاز کیانی/معروف ادیب اور متعدد سفر ناموں کے خالق مستنصر حسین تارڑ نے سفر نامے کے بارے میں لکھا ہے کہ"سفر نامہ ایسی آوارہ صنف ہے جسے محض قادر الکلامی اور زبان دانی سے نہیں لکھا جا سکتا,جب تک لکھنے والےکے اندر جنون جہاں گردی نہ ہو, حیرت کی کائنات نہ ہو اور طبع میں خانہ بدوشی اور آورگی نہ ہو"۔← مزید پڑھیے
جب تک میں نے خود لکھنا شروع نہیں کیا،تب تک مجھے پتہ نہیں تھا کہ بہترین تحریر بہترین مشاہدے کا نچوڑ ہوتی ہے ۔پھر جیسے جیسے لوگوں کی مجھ سے توقعات بڑھتی گئیں، مجھے ہر جملے ہر لائن پہ توجہ← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا پہ بلاوجہ عورتوں کے حقوق پہ بات ہورہی ہو تو یقین کریں لکھنا، بولنا تو دور کی بات ، جس عورت کو کھانسنا بھی آتا ہے ۔وہ بھی مردوں کے خلاف کھانس رہی ہوتی ہے ۔ اور مردوں← مزید پڑھیے
یہ کتاب ڈاکٹر فرزانہ کوکب کی طنز و مزاح پر ایک شاہکار تصنیف ہے۔ادب میں طنز و مزاح کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔بعض ناقدین ادب نے تو یہاں تک کہا ہے کہ کس زبان کا ادب ترقی یافتہ ہے یہ← مزید پڑھیے
میں ڈاکٹر بلنداقبال کو’جو ادیب بھی ہیں’طبیب بھی ہیں اور بہت سوں کے حبیب بھی ہیں’ اردو کا ایک کامیاب ناول لکھنے کی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال کی کرونا وبا کی پابندیوں اور جکڑبندیوں کے بعد جب← مزید پڑھیے
پروفیسر راشد شاز کا شمار ان روایت شکن مصنفین میں ہوتا ہے جو مشہور و مقبول ہیں اور متنازع و مطعون بھی۔ انہیں عام ڈگر پر چلنا قطعاً پسند نہیں۔ اپنی خود نوشت لایموت لکھتے ہوئے بھی شاز صاحب نے← مزید پڑھیے