شاعری    ( صفحہ نمبر 5 )

آؤ گائیں ذات کا نوحہ/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آؤ  گائیں ذات کا نوحہ دانتوں میں اک تنکا رکھ کر روتے روتے سوگ منائیں آؤ گائیں اشک بہائیں خود کو پُرسا دیں رک رک کر دیتے جائیں سبک سبک کر پھوٹ پھوٹ کر روئیں دھاڑیں مار مار کر ٹھنڈے←  مزید پڑھیے

تاریخ کا اک نا نوشتہ باب ہوں میں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اس جگہ ڈوبا تھا میں۔۔۔ ہاں، تین چوتھائی صدی پہلے یہیں ڈوبا تھا میں آج بھی میں تہہ میں اپنی آنکھیں کھولے ایک ٹک تکتا ہوا اس آسماں کو دیکھتا ہوں جس میں بادل کا کوئی آوارہ ٹکڑا ایک لمحے←  مزید پڑھیے

سیل خواب آشوب۔۔ محمد نصیر زندہ

دیدۂ عصر میں بہتے ہوئے مزدور کے خواب جملہ مقدور گناہوں کی سزا چاہتے ہیں موجہء بحرِ توکل کی جفا چاہتے ہیں خواب ہیں تختِ گماں کا سروسامان شکوہ شوکتِ جاہ و حشم سے آگے ہیں تو کیا طرہء نازشِ←  مزید پڑھیے

ابلیس کون تھا؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 پہلا موحد (فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں سے الگ رہا۔ بولا، مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں ،جسے تُو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ بودے گارے کی تھی۔ فرمایا تُو جنت←  مزید پڑھیے

سارتھی (رتھ بان)/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ڈھیلی ڈھالی انگلییوں سے اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھام کر اک سارتھی ٹھہرا ہوا ہے راستہ بھولا ہوا ہے دھول سے چہرہ اٹا ہے دھوپ کی ناقابلِ برداشت حدت خشک پیاسے ہونٹ آنکھوں میں کھلے سورج مکھی کے پھول (دو←  مزید پڑھیے

آسمانی ایلچی سے ایک مکالمہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

انت ہے کیا اب ہمارا؟ ہم جو ناطق ہیں ، مگر حیواں بھی ہیں ؟ حالِ حاضر سے پسِ ِ فردا، بالاآخر؟ کیا ہم اپنے ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاوں رکھ چکے ہیں؟ کیا یہی کچھ حاصل ِ لاحاصلی←  مزید پڑھیے

خاموشی ۔۔روبینہ فیصل

‎ہر موت پر آپ نوحہ نہیں لکھ سکتے ‎کوئی موت ایسی بھی ہو تی ہے جو آپ کے الفاظ کے، ‎آپ کے جذبات کے احاطے سے باہر نکل جاتی ہے ‎اورآپ خاموشی کے سمندر میں ‎خاموشی سے اُتر جاتے ہیں←  مزید پڑھیے

میں دو جنما۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کا دن اور کل جو گزر گیا یہ دونوں  میرے شانوں پر بیٹھے ہیں کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے←  مزید پڑھیے

مانند اور بے مانند/ اقلیدس اور الجبراء۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کیسے ہو سکتے ہیں ’بے مانند‘ او ر ’مانند ‘۔۔ایک؟ ایک یعنی ایک جیسے؟ ہاں ۔۔مگر، اک دوسرے کی حدّ و ضد بھی میر و غالب کو ہی دیکھیں ذرا ۔۔۔پرکھیں کہ دونوں میں کہیں ّ”مانند” ہونے یا نہ ہونے←  مزید پڑھیے

ہر دَور کی کربلا۔۔انعام رانا

اک ہی کہانی کہی جا رہی ہے سُنی جا رہی ہے مگر یہ کہانی پرانی نہیں ہے کہانی ہے ایسی کہ ہر دَور کی ہے کردار ایسے کہ ہر دَور میں ہیں کہانی مسلسل بُنی جا رہی ہے، ایک جانب←  مزید پڑھیے

مرثیے،نوحے،قصیدے۔۔سیّدمہدی بخاری

نوحے، قصیدے، منقبتیں، مرثیے، سلام بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے  واقعہ کربلا اور امام عالی مقام کی لازوال قربانی نے اردو ادب پر بھی گہرے اثرات ثبت کیے  ہیں ۔ میدانِ  کربلا میں حضرت امام حسین نے←  مزید پڑھیے

گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور تلواروں کی خودکلامی۔۔عدیل رضا عابدی

گھوڑوں کی لگاموں کو ایسے جھٹکا گیا کہ حسین کا گھر خیموں میں مشکیزہ انتظار میں بوسہ بین میں جوانی تابوت میں مسکراہٹ صدمے میں لوریاں سسکیوں میں سہرا برچھی میں بچپنہ یتیمی میں یتیمی ٹکڑوں میں رجز وصیت میں←  مزید پڑھیے

اپنی تصویر دیکھ کر روئیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

سوال مسخ شدہ، بد زیب،اُوپرا چہرہ بد وضعی، بد زیبی کی تزئین میں اجبک کل کا حسن مثالی آ ج کا بد ہیئت، بے ڈھنگا بول آ ئینے، کیا پیری کا یہی ہے چہرہ؟ جواب حجریات سے باہر نکلو، دیکھو←  مزید پڑھیے

غزل/فیصل فارانی

ہوا کے چلتے ہی پھولوں نے کی ہے من مانی کسی کی راہ میں بکھرنے کی جانے کیا ٹھانی؟ ہجوم ایساکہ گُھٹنے لگا تھا دَم میرا سو اُس کے دل سے نکلنے میں عافیت جانی ہَوا مزاج تھا محصور مُجھ←  مزید پڑھیے

پیاس میں جیون ، سیلاب میں موت۔۔وقاص رشید

ماں ! ابا کہتا تھا کہ ہر بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے مقدر کا لکھا پیتا ہے کھاتا ہے۔ ماں! مجھےبہت بھوک لگتی تومیں وہ رزق تلاش کرتا تھا۔ دن بھر اسکی تلاش میں بھوکا پیاسا←  مزید پڑھیے

درد اِک نقاش۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

درد ، اک نقاش اس کے جسم پر تصویر سازی کے عمل میں پھیلتا رکتا، تڑپتا، سرسراتا جونک سا مکڑی کے جالے کی طرح تن سا گیا ہے! کسمساتا، درد سے بے حال، وہ اک بے زباں نادر نمونہ بن←  مزید پڑھیے

بول کر بھی کیا کروں گا ؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گو مگو کی کیفیت محسوس ، نا محسوس، ہونے یا نہ ہونے کا اعادہ سوچنے اور کر نہ سکنے کا ہراس و وسوسہ ماضی کی دادیں بھول جانے کی سزا میرا مقدر تو نہیں تھا! میں کوئی دُشینت یا ہیملٹ←  مزید پڑھیے

​مالادی دامور( Maladie D Ámour) مرض ِ عشق۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آپ کے شہر میں سنا تھا، بہت پھول ہوتے ہیں، پھولوں کی مانند تازہ مُسکان، ادھ کھلے غُنچوں کا تبسم ہے۔۔۔چاند راتوں کی دھوپ ہے اور چاندنی کی تپش میں تو لمبے سفر پہ نکلا ہوا اک مسافر تھا، ایک←  مزید پڑھیے

نور کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​یہ نظم کئی برس پہلے لکھی گئی تھی ۔ بوجوہ مکمل نہ ہو سکی کہ مدرسہ ہائے تصوف کے بارے میں جن کتابوں کی مجھے ضرورت تھی وہ امریکا میں دستیاب نہیں تھیں۔چھ  سات علما کو ، پاکستان اور ہندوستان←  مزید پڑھیے

میں دو جنما۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کا دن اور کل جو گزر گیا۔یہ دونوں میرے شانوں پر بیٹھے ہیں کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے ’’میں←  مزید پڑھیے