گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور تلواروں کی خودکلامی۔۔عدیل رضا عابدی

گھوڑوں کی لگاموں کو ایسے جھٹکا گیا
کہ حسین کا گھر خیموں میں
مشکیزہ انتظار میں
بوسہ بین میں
جوانی تابوت میں
مسکراہٹ صدمے میں
لوریاں سسکیوں میں
سہرا برچھی میں
بچپنہ یتیمی میں
یتیمی ٹکڑوں میں
رجز وصیت میں
اور بڑھاپہ مرثیے میں تبدیل ہو گیا

فرات کے کنارے سے خیمے اکھڑوا کر
کمر شکستہ بوڑھے حسین کا جوان عباس کی لاش سے فاصلہ بڑھا دیا گیا
حسین نہیں جان پائے کہ عباس کی
لاش تک پہنچنے میں ان کی کمر کیسے ٹوٹ گئی
حالانکہ لوگ جانتے ہیں کہ مدینہ سے کربلا تک
کا سفر زیادہ ہے
شاید صغریٰ کے پاس اس کا درست جواب ہو

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

فرات سے دوری کی طرف دھکیلے جانے والے خیمے
سکینہ کے انتظار میں اضافہ کر دیتے ہیں
خیمے فرات کے کنارے ہی رہتے تو سکینہ جلد دیکھ لیتی
کہ عباس بن بازوؤں کے کیسے مشکیزے کو تھامے
زمین پر نہیں بلکہ سکینہ کے خالی کٹورے پر گر رہے ہیں

فرات سے دور کئے جانے والے خیمے البتہ زینب
کی امید کو کچھ وقت اور دے دیتے ہیں
اگر خیمے فرات کے کنارے ہی رہتے تو زینب
شام غریباں سے پہلے ہی اپنی چادر
کو عباس کے کفن کے لئے استعمال کر لیتی
اور شمر کو زینب کے سر کا درست نشانہ
لینے کے لئے اپنا وقت چادر اتارنے میں ضایع
نہ کرنا پڑتا

خیمے گاڑنا اور انہیں اکھاڑنا عباس
کے بازوں کا آخری استعمال تھا
سکینہ کے مشکیزے کے لئے اسکے قدموں
تک سر کا جھکا لینا عباس کے سر کا آخری استعمال تھا
قاسم کے ٹکڑے چنتے ہوئے
اکبر کے سینے سے برچھی نکالتے ہوئے
حسین کو دیکھنا عباس کی آنکھوں
کا آخری استعمال تھا

فرات سے دور سرکائے جانے والے خیمے
نہیں دیکھ پائے کہ کیسے حسین نے
قاسم کی لاش کے ٹکڑے گٹھری میں جمع کئے
خیموں کے اندر موجود ام فروہ جانتی ہے
کہ خیمے اگر لاش سے دور ہوں تو
بیٹے ماؤں تک پہنچتے پہنچتے ریت
کے ذروں کی طرح اڑ جاتے ہیں
حسین کیسے قاسم کے ٹکڑوں کو
ریت سے جدا کرے اور ام فروہ کو
سمجھائے کہ اب تم کسی احتیاط کے
بغیر ریت پر قدم رکھتے ہوئے شام کا سفر کر سکتی ہو

فرات سے دور کئے جانے والے خیمے شیر خوار
اصغر کو لوریوں سے دور اور حرملہ کے سہ شاخہ
تیر کے نزدیک کر دیتے ہیں
ام فروہ رباب سے ہر گز نہیں پوچھے گی
کہ حسین نے قاسم اور اصغر کی لاش کو
ایک ہی طرح کیوں اٹھایا؟
رباب جانتی ہے کہ کربلا کی ریت پر
اس کی لوریاں کہاں کہاں بکھری پڑی ہیں
تلواریں اس لئے تو نہیں ٹوٹتیں کہ باپ
اپنے شیر خوار بچوں کی قبر بنانے میں
انہیں استعمال کر لیں

فرات سے دور دھکیلے جانے والے خیمے
حسین کی سکینہ سے الوداعی گفتگو
کا دورانیہ بڑھا دیتے ہیں
سکینہ یتیمی کی پہلی رات بہت مشکل
سے ڈھونڈے جانے والے پتھر کو
تکیہ کیوں بناتی ہے؟
تکیے کے لئے وہ پتھر تلاش کرنا جس پر خون کا
ایک نشان بھی نہ ہو سکینہ
کے لئے زیادہ مشکل ہو گا
یا خون آلود پتھروں کو اٹھا اٹھا کر
اپنے باپ کی چھاتی کو تلاش کرنا؟
باپ کی چھاتی کو کہاں تلاش کیا جائے؟
گھوڑوں کے سموں میں؟
پھوپھی کے بینوں میں؟
اماں کی بیوگی میں؟
یا اکبر کو لگی برچھی میں؟
ستر قدم پر کھڑی زینب سکینہ
کی مدد کیوں نہیں کرتی؟

Advertisements
julia rana solicitors

خیمے فرات کے کنارے ہوں یا فرات سے دور
زینب کو ایک ہی طرح سے لاشوں پر سے گزرنا ہو گا
کسی بھی عزیز کی لاش کو پہچانے بغیر
سروں کے بغیر لاشوں کو پہچاننا
یا گھوڑوں کی سموں میں کسی عزیز کو تلاش
کرنا شام غریباں کے دھویں میں سکینہ کو تلاش
کرنے سے زیادہ مشکل ہے
زینب بہت اچھی طرح پڑھنا جانتی ہے
سکینہ کے چہرے پر لکھی شمر کی ہدایات
سجاد کی کمر پر صادر ہونے والا
سپاہیوں کا حکم
بیوہ عورتوں کی کلائیوں میں
ڈالا جانے والا چوڑیوں نما سفر
یتیم بچوں کے خالی کٹوروں
پر سے مٹتا ہوا باپ کا نام
اور حسین کی سربریدہ لاش
پر واضح لکھا ہوا لفظ “شام”۔۔۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply