میں دو جنما۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کا دن اور کل جو گزر گیا

یہ دونوں  میرے شانوں پر بیٹھے ہیں
کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا
میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے
چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے
’’میں زندہ ہوں! بائیں جانب کندھا موڑ کے دیکھو مجھ کو!‘‘
آج کا دن جو
دائیں کندھے پر آرام سے پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہے
بار بار دھیمے لہجے میں ایک ہی بات کو دہراتا ہے
’’مت دیکھو اس اجل رسیدہ کل کو
جو اب کسی بھی دم اٹھنے والا ہے!
مجھ کو دیکھو، بات کرو، میں چلتا پھرتا آج کا دن ہوں
سانس کی ڈوری مجھ سے بندھی ہے
کیا لینا دینا ہے اک آسودۂ خاک سے ہم زندوں کو؟
ستیہ پال جی،حال اور مستقبل کو دیکھو !‘‘

دائیں بائیں گردن موڑ کے دونوں کی باتیں سنتا ہوں
گردن میں بل پڑ جاتا ہے
کچھ سستا کر پھر سننے لگتا ہوں ان کی رام کہانی!
شاید سچ کہتے ہیں دونوں!
ماضی بھلا کہاں مرتا ہے؟
زندوں سے بھی بدتر ، یہ مردہ تو ذہن میں گڑا ہوا ہے
جیسے کالے مرمر کی سل کا کتبہ ہو
اور پھر آج کا زندہ پیکر؟
آنے والے کل کے دن تک اس کو میں کیسے جھٹلاؤں؟

Advertisements
julia rana solicitors

کوئی بتائے
میں دو جنما
اپنے دو شانوں پر بیٹھے آج اور کل سے کیسے نپٹوں؟
(1999)

Facebook Comments

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply