ہم بازار جاتے ہیں تو کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے دو تین دکانوں سے چیز کا معیار اور قیمت معلوم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک سستی سی سبزی یعنی آلو بھی خریدنے ہوں تو دو تین ٹھیلوں کا← مزید پڑھیے
اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں دو ہزار مکانات بناکر بے گھر یا غریب افراد میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کی حکومت سے “خالصہ”← مزید پڑھیے
ذرا سیاسی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر سوچئے کیا عمران خان صادق اور امین کہلانے کے لائق ہیں؟ کیا یہ توہین رسالت نہیں کہ جناب سید و مرشد محمّد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب القابات ایک ایسے انسان کے لئے استعمال ہوں جو اس معیار پر پورا نہیں اترتا؟ ← مزید پڑھیے
آج کا نوجوان چاہتا کیا ہے وہ کون کون سی خواہشات دل میں بسا کر کوئٹہ جیسے شہر کا رخ کرتا ہے جہاں مسائل ہی مسائل کا راج ہے۔ اندرونِ بلوچستان کا نوجوان کئی سو کلومیٹر کی مسافت طے کرکے← مزید پڑھیے
1991 ستمبر کی صبح قومی اخبارات میں ایک تین کالم کی خبر لگی،اسلام آباد ، نشے میں چُور لڑکی نے رات گئے اہسپتال سے واپس آتے موٹر سائکل سوار میاں بیوی کو کُچل دیا۔نیلور تھانے میں مقدمہ درج کر لیا← مزید پڑھیے
یقین مانیں کہ اگر آپ کو کوئی ایسا دوست میسر ہے، جو آپ کو خوش رکھتا ہے، آپ اس کی موجودگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں تو یہ بہت کمال کی بات ہے۔ اگر آپ ہنسنا جانتے ہیں اور دوستوں← مزید پڑھیے
دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں حالیہ کچھ برسوں میں ہونے والے جرائم کی نوعیت کا تجزیہ کیا جائے تو سرفہرست ڈکیتی اور چوری ہے – گلی, محلوں اور سوسائٹیوں میں رہنے والوں نے اگر ڈکیتی اور چوری سے← مزید پڑھیے
ایڈیٹر کا نوٹ: فاطمہ بھٹو کا دوسرا ناول ‘رن ایوئےز’ دنیا کے تین دور دراز گوشوں سے تین زندگیوں کو اکٹھا کردیتا ہے جن میں سے ہر ایک مختلف طریقوں سے تشدد اور دکھ کا متاثرہ ہے۔ انھوں نے ایک← مزید پڑھیے
اس ملک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوفت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، جہاں ہزاروں باتیں آپ کو ہر روز مختلف قسم کی ذہنی اذیتوں سے دوچار کرتی ہیں وہیں ایک بات معیار کی تنزلی بھی ہے← مزید پڑھیے
“چھوٹو اٹھو صبح ہوگئی” اسی طرح کے جملوں کے ساتھ میری صبح کا آغاز ہوجاتا ہے۔۔ اور آنکھ کھلتے ہی مجھے احساس ہوتا ہے کہ آج کا دن بھی مصروف گزرے گا۔ صبح اٹھو اسکول جاو اور پھر گھر آجاؤ← مزید پڑھیے
چند دن پہلے میری دادی اماں نے لگ بھگ سو یا ایک سودس سال کی عمر میں انتقال فرمایا وہ ایک ان پڑھ خاتون تھیں’مگر انہوں نے اپنی ساری کی ساری زندگی بھر پور طریقے سے گزاری’ اپنا بچپن انہوں← مزید پڑھیے
بجلی کی آنکھ مچولی جاری تھی بالآخر آنکھیں جھپکاتی ہوئی چلی گئی تھی۔ خاصے انتظار کے باوجود نہ آئی، ہمت فین جھلتے جھلتے کلائی دُکھنے لگی تو میں تنگ آ کر باہر نکل گیا۔ کیا دیکھتا ہوں ”میرا دوست باغیچے← مزید پڑھیے
فیس بک کو 2004 میں لانچ کیا گیا اور 2006 تک اس ایپلیکیشن کو ہر انٹرنیٹ رکھنے والے کے لیے عام کر دیا گیا, اس وقت پوری دنیا میں 2.23 بلین اور پاکستان میں تقریباً 35 ملین لوگ فیس بک← مزید پڑھیے
گھبرائیے نہیں، ہم آپ کو کہیں بھی ہزار بار یا بار بار نہیں بھیجنے والے۔ بس آپ کو یہ بتلانے والے ہیں کہ اگر آپ کو پیشاپ کے لئے بار بار واش روم جانے کی حاجت محسوس ہوتی ہو تو← مزید پڑھیے
عموماً لکھنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی والی قسم آپ کو بور کر دیتی ہے۔ دوسری آپ کو شدید بور کردیتی ہے۔ آج کل لکھنے والوں میں ایک اور صنف کا اضافہ ہوچکا ہے۔ جس کو طُفیلئے← مزید پڑھیے
جنرل ضیاالحق کی نام نہاد اسلامائزیشن کے بعد ریاست نے اظہار خیال پر قدغنیں لگا دیں، مذہبی تعصب اور فرقہ پرستی کی آبیاری کی، جہاد کے نام پر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم کی← مزید پڑھیے
تنہائی پسند انسان، مجالس اور اجتماعات میں شرکت سے اکثر دور بھاگتا ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں، مثلاً روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، ایک دن کا اجلاس پورے ہفتے پر اثر انداز ہو جاتا ہے، سفر کی صعوبتیں← مزید پڑھیے
روزمرہ معمولات کی انجام دہی میں ہم مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں گھٹنوں کا درد ایسا مرض ہے جو اگر شدت اختیار کر جائے تو انسان کی حرکات و سکنات کو محدود کرسکتا ہے۔ اگر یہ درد← مزید پڑھیے
پاکستان اور ہم سب ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔ کبھی یہاں پر بھی پرندے (سیاح) موسموں کے حساب سے آتے تھے، رہتے تھے، انجوائے کرتے تھے اور پھر چلے جاتے۔← مزید پڑھیے
1947 وہ سن عیسوی جب پاکستان وجود میں آیا ۔ اس وقت پاکستان بننے کی وجہ دراصل وہ نظریہ پاکستان تھا جس نے اس وقت کے مسلمانوں کے سینوں میں جدوجہد کی ایک آگ لگا دی تھی۔ اس وقت پوری← مزید پڑھیے