صادق اور امین ۔۔۔ حارث خان

SHOPPING
SHOPPING

صادق اور امین، یہ ایسے لقب ہیں جن کو مدینے کے باسیوں نے جناب سید و مرشد محمّد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب رکھا۔ وجہ یہی تھی کے لوگ اپنی امانتیں رکھواتے تو بلا خوف و خطر مطمئن رہتے کہ کوئی خیانت نہیں کی جا سکتی۔ اس بھروسے کی دلیل آپ جناب سید و مرشد محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و عمل تھا۔ آپ جو فرماتے وہی کرتے، جو وعدہ کرتے اسے پورا کرتے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین نے ان القابات کو ریاست کا سربراہ ہونے کی شرائط میں شامل رکھا۔ تاریخ گواہ ہے کے سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہر الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور بعدازاں حکومت ملتے ہی اپنی باتوں سے یوں مکرتے ہیں جیسے ان کا شیوا ہو۔ عدالت عظمی نے صادق اور امین کے پیمانے کو کسی ایسے ترازو میں تولا ہے جس کا قول و فعل اور حالات زندگی سے کچھ لینا دینا ہی نہیں ہے۔ 

ہر دعویٰ دلیل پر منحصر کرتا  ہے۔ موجودہ حالات میں دعوے، دلیل اور نتائج کا اک بیہودہ رشتہ قائم ہو چکا ہے۔ دعویٰ کچھ ہے، دلیل کچھ اور نتائج کا تو پوچھئے ہی مت۔ بلند و بانگ دعوے کرنا جیسے ہر سیاسی جماعت کا وطیرہ ہو۔ دعویٰ یہ ہے کے ہم نے ایک ارب درخت لگا دیے۔ دلیل ایک فیس بک پر شائع ہونے والی پوسٹ کے سوا کچھ نہیں۔ دعویٰ یہ ہے ہم نے خیبر پختون خواہ کا نقشہ بدل دیا ہے لیکن حقیقت اسکے بر عکس ہے۔ غریبوں کے ہمدرد ہونے  کے دعوے تو کے گئے لیکن جب حکومت ملی تو “میں انہیں رلاؤں گا” کا مفہوم کھلا۔ اسد عمرجس سے ہر آس وابستہ تھی، جس کا کہنا تھا دنیا بھر میں گیس کی قیمت اک چوتھائی رہ گئی ہے، وہ جیسے ہاتھ دھو کرگیس کی قیمتیں بڑھانے کے پیچھے پڑ گیا ہو۔ ١٤٣ فیصد اضافے کے بعد کنکشن رینٹ کی مد میں ٣٥٠ فیصد اضافہ قول و فعل کا تضاد ہی تو ٹھہرا۔ گویا جہاں پچھلی حکومتوں نے بخش بھی دیا تھا ہم وہاں بھی تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ 

دوسری جانب سوشل میڈیا پر  گردش کرتی وہ ویڈیوز ہیں جن میں قائد عصر حاضر عمران خان صاحب کے قول و عمل کا تضاد واضح دکھایا جا رہا ہے۔ ذاتی آفشور کمپنیز ہونے کے اقرار کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی۔ اپنے دعووں سے پھر جانا اور پھر صادق اور امین کہلانا یہ صرف مملکت اسلامیہ پاکستان میں ہی ممکن ہے۔ پاکستان کو ریاست مدینہ سے تشبیہ دینا اور خود کو خلیفہ سمجھنے والے عمران خان صاحب شاید یہ بھول رہے ہیں کہ دین اسلام میں سود کو الله تعالیٰ سے جنگ قرار دیا گیا ہے۔  گزشتہ حکومتوں کا لیا گیا سودی قرض آپ پر نہیں لیکن ہاں آپ کا لیا ہوا ایک ایک روپیہ آپ کو خدا سے جنگ کی جانب لے کر چل رہا ہے۔ اگر قرض لینے کے بجائے آپ صرف کراچی جیسے شہر کے ہر چھوٹے بڑے کاروبار کو ٹیکس فریم میں لے آتے تو آپ کو قرض لینے کی ضرورت نہ پڑتی۔ افسوس یہ ہے کہ آپ کا وزیر خزانہ بھی اس مشکل مگر فائدہ مند ضرورت کو نظر انداز کر کے آسان حل کی جانب چل پڑا۔ بلند و بانگ دعووں کا تسلسل ہے کہ تھمنے کو ہی نہیں آرہا۔ ٤٥ دن میں ٩ ایسے منصوبے متعارف کروائے گئے کہ عقل حیران ہو جائے۔ اپنے ماضی کے دعووں سے سبق کیا سیکھا ؟ کچھ نہیں۔ 

غرضیکہ چاول کی بوری کے یہ دو دانے چکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے قول و فعل کا تضاد کس حد تک پایا جا رہا ہے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ سپریم کورٹ عمران خان صاحب کو صادق اور امین ٹھہرانے کے درپے ہے۔ ذرا سیاسی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر سوچئے کیا عمران خان صادق اور امین کہلانے کے لائق ہیں؟ کیا یہ توہین رسالت نہیں کہ جناب سید و مرشد محمّد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب القابات ایک ایسے انسان کے لئے استعمال ہوں جو اس معیار پر پورا نہیں اترتا؟ 

SHOPPING

ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کے صادق اور امین سواے جناب سید و مرشد محمّد صلی اللہ علیہ وسلم، اولاد جناب سید و مرشد محمّد صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر پیغمبران کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ بندہ بشر ہے غلطیاں کرتا ہے اور غلطیوں کا پیکر صادق و امین کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ 

SHOPPING

حارث خان
حارث خان
ایک عام آدمی، معاشرے کا چلتا پھرتا نمائندہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *