پاک سرکار کا خالصہ رقبہ۔۔۔ مشتاق احمد

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں دو ہزار مکانات بناکر بے گھر یا غریب افراد میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کی حکومت سے “خالصہ” رقبہ جات کی نشاندہی اور تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ وہاں پر منصوبے کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا جاۓ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “خالصہ سرکار”نام سے وہ  زمینیں کہاں ہیں جو بلا مالک اور سرکاری ملکیت ہوں؟ جہاں پر مجوزہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام عمل میں لیا جا سکے ؟

گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے نام سے وہ تمام بنجر زمینیں سرکار کی ملکیت ہونے کا ایک تصور پایا جاتا ہے حو زیر کاشت نا ہو ں،جسے سرکار کسی بھی شخص کو الاٹ کرنے کی مجاز تصور کی جاتی  ہے ۔ یہ تصور بندوبستی علاقوں میں پختہ ہے اور اس قانون کے سب سے زیادہ متاثرین بھی بندوبستی اضلاع کے عوام ہوئے ہیں خصوصا ًًً ڈسٹرکٹ گلگت سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں زمین بلا آباد یعنی بنجر پڑی  زمین کا سرکاری ملکیت ہونے کا تصور انصاف اور حقیقت کے برخلاف ہے یہاں پر کسی بھی موضع میں موجود قدرتی وسائل بشمول بنجر اراضیات وہاں کے پشتینی باشندگان کی مشترکہ ملکیت ہے نہ کہ سرکار کی۔ سرکار چونکہ ایک تنظیم کا نام  ہے جو اپنے عوام کے مفادات کی نگران اور محافظ ہوتی ہے نہ کہ مالک اور نہ ہی حصہ دار۔ حکومت اپنے ذرائع آمدن عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے رو بہ عمل میں  لاتی ہے تو اس مقصد کے لئے درکار زمین متعلقہ مالکان سے مروجہ نرخ پر بہ ادائیگی معاوضہ حاصل کرتی ہے۔ جبکہ بنجر پڑی اراضی متعلقہ موضع کے باشندوں  کی چراگاہ کے طور پر مشترکہ عوامی ملکیت ہوتی ہے جس میں تصرف عوامی اجازت کے بغیر نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر شرعی بھی ہے۔

دراصل “خالصہ سرکار” کا تصور سکھوں کی حکومت سے آیا ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ “خالصہ سرکار” سکھّاشاہی یعنی سکھوں کی حکومت کو کہتے ہیں جو کہ 1846ء تک گلگت بلتستان میں قائم تھی جہاں پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا وہ قانون لاگو تھا جس کے تحت تمام غیر آباد زمینیں خالصہ سرکار یعنی سکھ حکومت کی ملکیت ہوتی تھیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ آف پنجاب کی حکومت 1846ء میں ریاست کشمیر سے ختم ہوئی اور اسی سال معاہدہ امرتسر کے تحت یہ پورا خطہ انگریزوں نے جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کردیا اور گلگت بلتستان کی جانب دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کو حد بندی قرار دیا گیا۔ یہ معاہدہ مارچ 1846ء میں امرتسر میں انگریز سامراج، آنجہانی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی جانشین حکومت پنجاب کی سکھا شاہی اور جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ کے مابین طے ہوا اور بذریعہ بیع قطعی دریائے سندھ کے مشرقی کناروں تک کا علاقہ غرض پوری ریاست کشمیر کو جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کے حوالہ کیا گیا۔

اسی بیک گراونڈ کی بنیاد پر آج جبکہ نہ پنجاب کی خالصہ سرکار ہے اور نہ ہی گلاب سنگھ جموں وال کی حکومت ہے مگر اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ نگران حکومت پاکستان، رنجیت سنگھ کے ظالمانہ قوانین کا تسلسل چاہتی ہے ۔لیکن یہ بات کسی بھی جہت سے گلگت بلتستان کے عوام کو منظور نہیں، یہاں کی عوام اپنے قدرتی وسائل کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے اور ایسا سوچنے میں یہ اس لئے بھی حق بہ جانب ہیں کہ یہاں کی عوام اپنے اپنے مواضعات کی حدود کے اندر موجود جملہ قدرتی وسائل کے اس وقت سے مالک و مختار چلے آرہے ہیں جب یہاں کے لوگ ہندوستان کے وجود تک سے بھی واقف نہیں تھے اور نہ ہی دنیا کو پہاڑوں کے بیچ اس خطے کی کوئ جانکاری تھی۔ رہ گئے پاکستان اور بھارت کا تذکرہ تو یہ کل پرسوں کی بات ہے۔ ہم تو اپنے وسائل پر کلی طور ہر صدیوں سے قابض و متصرف چلے آرہے ہیں۔ یہاں کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انکے اس حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے اور طاقت کے زور پر مرضی کے حالات پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس قسم کی کوشش کا تسلسل شدید عوامی مزاحمت کے حالات پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

حکومت پاکستان واقعی عوامی فلاح و بہبود کی خاطر بےگھر افراد کو مکانات کی تعمیر کرکے نوازنا چاہتی ہے تو بجاۓ اسکے کہ کسی ایک موضع کی حدود میں مشترکہ عوامی چراگاہی زمیں جبراً اٹھانے کے مجوزہ تعداد مکانات یعنی دو ہزار مکانات کو آبادی کے حساب سے گلگت بلتستان کے سارے دس اضلاع میں آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا جائے اور ہر ضلع کے مستحق افراد کو انکے مقررہ تعداد کے مکانات کی لاگت بطور قرض یا امداد کے دے دی جاۓ تاکہ وہ شخص اپنی غیر متنازعہ اراضی پر مکان تعمیر کرے اور متعلقہ سرکاری اہلکار اس کام کی تصدیق کریں۔

اس طریقہ کار سے زیادتی کا احتمال ختم اور آباد کاری بھی یقینی ہو جاۓ گی ۔ کہیں حکومت اپنا نمبر بنانے کے چکر میں اہالیان گلگت یا کسی اور موضع کی زمین پر جبراً تعمیرات کرکے مکان کسی ایسے شخص کو ملے جس کا اس موضع میں کسی قسم کا قانونی حق ہی نا ہو۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *